Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کل فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کرنے والے عمران خان، پیپلزپارٹی اور اے این پی آج فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کررہے ہیں۔ الطاف حسین


کل فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کرنے والے عمران خان، پیپلزپارٹی اور اے این پی آج فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کررہے ہیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/30/2014
کل فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کرنے والے عمران خان، پیپلزپارٹی اور اے این پی آج فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کررہے ہیں۔ الطاف حسین
اگر ہمارے رہنماؤں کا یہی حال رہا تو اس ملک میں مارشل لاء کے آنے کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ الطاف حسین
ایک جماعت کے سابق امیر نے کہا کہ ملک میں قتال فی سبیل اللہ کا کلچر عام ہونا چاہیے، اس کے ایک ہفتہ بعد آرمی پبلک اسکول میں اللہ اکبر کہہ کر معصوم بچوں کو بیدردی سے شہید کیاگیا
جو لوگ اس درندگی اور معصوم بچو ں کے وحشیانہ قتل عام کو درست اور جائز قراردیں تمام شہریوں کو ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے
پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج کے ساتھ ہے
ابھی تک وزیراعلیٰ سندھ اور ان کے وزراء نے ٹمبر مارکیٹ کا دورہ تک نہیں کیا، ابھی تک آصف زرداری کا اظہار
افسوس کا کوئی بیان نہیں آیا، ٹمبر مارکیٹ کراچی اور انارکلی بازار لاہور میں آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے 
ربیع الاول کے سلسلے میں علمائے کرام، مشائخ عظام، مذہبی اسکالرز اور ذاکرین کے بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب
تصاویر
وڈیو پہلا حصہ دوسرا حصہ
لندن۔۔۔30، دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ دوروزقبل تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین کااجلاس ہواجس میں وزیر اعظم، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف موجودتھے جس میں عمران خان، پیپلزپارٹی اوراے این پی نے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی۔ ایم کیوایم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور سب سے آخرمیں فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی ۔ آج عمران خان، پیپلزپارٹی اور اے این پی سب بدل گئے اوراب وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کررہے ہیں۔ اگرہمارے رہنماؤں کا یہی حال رہاتواس ملک میں مارشل لاء کے آنے کوکوئی نہیں روک سکے گا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مسلمانوں کے سفاک قاتل طالبان کو ہرگز مسلمان قرارنہیں دیاجاسکتا ،یہ خوارج اور منافقین ہیں اور ان سفاک قاتلوں کو صرف دہشت گرد نہیں کہاجائے بلکہ کھل کرظالمان اور قاتل طالبان کہہ کرپکارا جائے۔ جو لوگ اس درندگی اورمعصوم بچو ں کے وحشیانہ قتل عام کودرست اورجائزقراردیں تمام شہریوں کوایسے لوگوں کابائیکاٹ کرناچاہیے۔ جولوگ معصوم شہریوں اورفوجیوں کے گلے کاٹنے والے ، ان کے سروں سے فٹبال کھیلنے والے، طالبان دہشت گردوں کو شہیداورشہید فوجیوں کو ہلاک کہنے والوں،مساجد،امام بارگاہوں، بازاروں اورفوجی تنصیبات پر خودکش حملے کرنے والے طالبان دہشت گردوں اور القاعدہ اورداعش کی حمایت کرنے والوں اورانہیں اپنابھائی اوربچہ کہنے والوں کاسوشل بائیکاٹ کیاجاناچاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ماہ ربیع الاول کے سلسلے میں منعقد تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام ، مشائخ عظام ، مذہبی اسکالرز اور ذاکرین کے بہت بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ، حق پرست ارکان سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی، ایم کیوایم کی علماء کمیٹی سمیت مختلف تنظیمی شعبہ جات کے ارکان بھی موجود تھے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات اور سیرت طیبہؐ کے بارے میں پڑھتے، سنتے اوربیان بھی کرتے ہیں لیکن ہم خود حضوراکرم ؐ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔ حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایاجھوٹ مت بولو، بے ایمانی مت کرو، دوسروں کے رازوں پر پردہ رکھو اور ملاوٹ مت کرو لیکن ہم جھوٹ بولتے، بے ایمانی کرتے ہیں ، دوسروں کے رازوں کا چرچا کرتے ہیں اور ملاوٹ بھی کرتے ہیں۔ نبی کریمؐ کی تعلیمات ہے کہ پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو، بچوں سے شفقت سے پیش آؤ، والدین، بزرگوں اور اساتذہ کااحترام کرو لیکن بدقسمتی سے ہم نبی کریم ؐ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ نبی آخرالزماں ؐ نے ایمان کے تین درجے بیان فرمائے ہیں کہ اگر کو ئی اللہ تعالیٰ ، قرآن مجید اور نبی پاک ؐ کی تعلیمات کے خلاف بات کرے اور بے گناہوں پر ظلم کرے تو طاقت کے ذریعہ اس کی زبان اور ہاتھ کو روکو، اگر یہ طاقت نہ ہو تو زبان سے اس عمل کو روکو اور اگر زبان سے منع نہیں کرسکتے تو دل میں اس عمل کو برا تصور کرو کہ یہ غیراسلامی عمل ہے ۔ کسی بھی غیراسلامی عمل کو دل میں برا تصورکرنا ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے عملی جدوجہد کررہا ہوں اورتمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا دل سے احترام کرتا ہوں ۔ پاکستان کی 67سالہ تاریخ میں الطاف حسین کے علاوہ پاکستان کے کسی بھی لیڈر نے محرم الحرام اور ماہ ربیع الاول کے موقع پر تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اکٹھا کرکے اتحاد ومحبت ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اوربھائی چارے کیلئے عملی اقدام نہیں کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے ، امام الانبیا ؐ کی ولادت کا مہینہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام عالمین کیلئے رحمت بناکر بھیجا، اس بابرکت محفل میں شرکت کرنے والے تمام افرادپر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں اوربرکتیں نازل فرمائے ۔ آج اس بابرکت محفل میں فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ ہم تیسرے نہیں بلکہ پہلے درجے کے مسلمان بنیں گے اور بے گناہ شہریوں کے گلے کاٹنے والوں کو صرف دہشت گرد نہیں بلکہ کھل کرطالبان کہہ کرپکاریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے طائف میں نبی کریم ؐ پر سنگ باری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ جب حضرت جبرائیل نے نبی کریم ؐ سے کہاکہ اگرآپ حکم دیں تو میں ان مشرکین کو پہاڑوں کے درمیان دباکر ماردوں تو آپ ؐ نے فرمایا انہیں مت مارنا ، یہ نادان ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ جوسفاک عناصر اسلام کی آڑ میں معصوم بچوں کے گلے کاٹیں ، ان پر گولیاں برسائیں ، مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات،غیرمسلموں کی عبادت گاہوں، اسکولوں ، بازاروں اور سرکاری تنصیبات پر خودکش حملے اوربم دھماکے کریں ، وہ ہرگز مسلمان نہیں ہوسکتے ، علمائے کرام کافرض ہے کہ وہ منبر پر بیٹھ کر کھل کرکہیں کہ سفاک طالبان کو ہرگز مسلمان قرارنہیں دیاجاسکتا ،ان طالبان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ،یہ خوارج اور منافقین ہیں، انہیں صرف دہشت گرد نہیں کہاجائے بلکہ کھل کرظالمان اور قاتل طالبان کہہ کرپکارا جائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بحیثیت مسلمان ہم سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ختم نبوتؐ اور قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں، نبی کریم ؐ نے حالات کے تناسب سے کبھی ہاتھ باندھ کر ، کبھی ہاتھ چھوڑکر، کبھی رفع دین ،کبھی ناف سے نیچے اور کبھی ناف سے اوپر ہاتھ باندھ کر نماز ادا کی اورہرطریقہ سے نماز کی ادائیگی کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی تھا۔ نعوذباللہ ۔۔۔ہاتھ چھوڑکر یا رفع دین کرکے نماز پڑھنے سے نبی کریم ؐ کاہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ استغفراللہ آپؐ کسی اور کی عبادت کرتے تھے ۔ ہرطریقہ سے نماز کی ادائیگی کرنا، عبادت کرنا اوررکوع وسجود کرنا صرف اللہ تعالیٰ کیلئے تھا، ہے اور تاقیامت رہے گا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مختلف امامین اور محدثین جو دوردراز سے آیا کرتے تھے انہوں نے سرکاردوعالم ؐ کو جس طرح نمازادا کرتے دیکھا وہی طریقہ دوسروں کوبتایالیکن ہرطریقہ سے نماز کی ادائیگی میں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاجاتا ہے اور قرآن کی آیات پڑھی جاتی ہے لہٰذا نماز کی ادائیگی کے طریقہ کارپر اختلاف کرنے کے بجائے قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کو سمجھا جائے کہ ترجمہ : ’’سب تعریف اس رب کیلئے ہے جوتمام عالمین کا رب ہے ۔۔۔اوراللہ تعالیٰ روزمحشر کا مالک ہے ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ قرآن مجید کی ان آیات کی روشنی میں ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے ، نعوذ باللہ زمین پر خدا نہیں بننا چاہیے اور کسی بھی بنیاد پر کسی کو کافر قراردینے کافتویٰ نہیں دینا چاہیے اور نہ مخالف عقائد اور مسلک رکھنے والوں کی مساجد پر سنگ باری کرنی چاہیے، علمائے کرام اپنے اپنے طلباء کو بھی درس دیں کہ وہ کسی بھی مسلمان کو کافر قرارنہ دیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوفروغ دیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملت اسلامیہ پہلے ہی تباہی کا شکارہے ، پارہ پارہ ہوچکی ہے ۔ میں گنہگار برسوں سے پاکستان میں مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کی کوشش کررہاہوں۔انہوں نے کہاکہ میراایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ روزمحشرکا مالک ہے جو روزحشر ہمارے اعمال کا حساب لے گا۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ، اسے صرف اللہ کا ہی حق رہنے دیا جائے اور کسی پر کفر کے فتوے نہ لگائے جائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ امریکہ،چائنا ، برطانیہ سپرپاور نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کریمہ ہی سپرپاور ہے ، آپ کسی سے خوف کا شکارہوئے بغیر کھل کر ظالم کو ظالم کہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں موروثیت کی بات نہیں کررہا لیکن تاریخی حقائق ہیں جن پر تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام متفق ہیں کہ جب نبی کریم ؐ پر غارحرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو سب سے پہلے آپؐ کی زوجہ حضرت خدیجہ الکبریٰؓ نے گواہی دی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ؐ ہیں اور بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی کرم اللہ وجہ تھے جوآپ کے چچا زاد بھائی تھے جنکی شادی حضرت فاطمہؓ سے ہوئی جو آپ ؐ کی صاحبزادی تھیں اور ان کے بطن سے پیدا ہونے والے حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ اولاد رسولؐ ہیں۔ جب آپ ؐ نماز اداکیاکرتے تھے تو حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ آپؐ کی پشت پر سوار ہوجایا کرتے تھے تونبی کریم ؐ ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا سجدہ طویل کرلیا کرتے تھے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب خلافت ، ملوکیت میں داخل ہوئی ،یزید ملعون نے خود کوبادشاہ کہلوانا شروع کیا بیت تو صرف خلیفہ کی ہوتی ہے ، بادشاہ کی نہیں ہوتی ، دین اسلام ، بادشاہت کی نفی کرتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے سرکاردوعالمؐ کی شان رسالت کے بارے میں فرمایا ’’وما ارسلنا کَ الا رحمت اللعالمین ‘‘ ۔ ’’ اور ہم نے تمہیں تمام عالم کیلئے رحمت بناکر بھیجا ‘‘ ۔ یعنی سرکاردوعالم ؐ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام عالم کیلئے۔۔۔ تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکربھیجے گئے ۔۔۔ تمام عالم میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو، سکھ ، عیسائی ، یہودی تمام غیرمسلم بھی رہتے ہیں۔ حضورؐ سب کیلئے رحمت ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم نے حضورؐ کوبھی مسلمانوں تک سکیڑدیاہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ نبی کریم کااصل درس، اصل تعلیم آخری خطبہ حجتہ الوداع ہے ، جس میں انہوں نے فرمایاتھا،’’ ۔۔۔تم میں کوئی چھوٹابڑانہیں۔۔۔عربی کوعجمی پر ۔۔۔عجمی کوعربی پر۔۔۔گورے کوکالے پر۔۔۔کالے کوگورے پر ۔۔۔ امیرکوغریب پر ۔۔۔ غریب کو امیر پر ۔۔۔کوئی فوقیت نہیں ۔۔۔ فوقیت اس کوہے جوتقوے میں اعلیٰ ہے ۔۔۔‘‘ گویافوقیت کامعیار عربی یاعجمی ہونانہیں ۔۔۔ پنجابی ،سندھی،بلوچ ،مہاجرہونا نہیں بلکہ تقویٰ ہے ۔ میرٹ ہے۔۔۔اس خطبہ میں میرٹ کادرس دیاگیاہے لہٰذا ہمیں تمام شعبوں میں میرٹ پر عمل کرنا چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ طالبان انسانوں کے روپ میں درندے ہیں جوعورتوں کوگھروں میں بندکرنے ،انہیں رسیوں سے باندھ کررکھیں،جولڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کے مخالف ہیں اورلڑکیوں کے اسکولوں کوبموں سے اڑارہے ہیں جبکہ حدیث شریف کی ہرکتاب میں حضورؐ کی یہ حدیث مبارکہ ہے کہ ’’ علم حاصل کرناہرمسلمان مرداورعورت پر فرض ہے ‘‘ ۔۔۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں مذہبی انتہاپسندعناصر کاایک گروپ لڑکیوں کے اسکولوں کوبموں سے اڑارہاہے۔۔۔ اسکولوں کے معصوم معصوم پھول سے بچوں کوخون میں نہلارہاہے ۔۔۔اوراسے اسلام کی تعلیمات کے مطابق قراردے رہاہے۔۔۔آخریہ کونسا اسلام ہے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ پشاورمیں آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں کوبیدردی سے شہیدکیاگیا،خاتون پرنسپل کوزندہ جلایا گیا مگرلال مسجد کے مولوی عبدالعزیزسے جب پوچھاگیاتواس نے کہاکہ ’’جب طالبان کے خلاف کارروائی کی جائے گی تویہ ردعمل ہوگا، بچے مریں گے، مجھے توافسوس ہے کہ اس واقعہ میں کم بچے مرے ہیں،اس میں زیادہ بچے مرنے چاہیے تھے ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ اس درندگی اورمعصوم بچو ں کے وحشیانہ قتل عام کودرست اورجائزقراردیں تمام شہریوں کوایسے لوگوں کابائیکاٹ کرناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ ایک جماعت کے سابق امیرنے جلسہ میں اپنی تقریرمیں کہا کہ ملک میں قتال فی سبیل اللہ کا کلچر عام ہوناچاہیے ، اس تقریرکے ایک ہفتہ بعد پشاورمیں آرمی پبلک اسکول میں اللہ اکبرکہہ کر معصوم بچوں کوبیدردی سے شہیدکیاگیا۔ایسے لوگوں کے بارے میں قوم کیاکہے گی؟ انہوں نے کہاکہ جولوگ معصوم شہریوں اورفوجیوں کے گلے کاٹنے والے ، ان کے سروں سے فٹبال کھیلنے والے، طالبان دہشت گردوں کو شہیداورشہید فوجیوں کوہلاک کہنے والوں،مساجد،امام بارگاہوں، بازاروں اورفوجی تنصیبات پر خودکش حملے کرنے والے طالبان دہشت گردوں اور القاعدہ اورداعش کی حمایت کرنے والوں اورانہیں اپنابھائی اوربچہ کہنے والوں کاسوشل بائیکاٹ کیاجاناچاہیے۔ انہوں نے یہ قراردادپیش کی جس کی تمام علمائے کرام نے تائیدکی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ دوروزقبل تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین کااجلاس ہواجس میں وزیراعظم ،آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف موجودتھے جس میں عمران خان، پیپلزپارٹی اوراے این پی نے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی۔ ایم کیوایم نے اپنے تحفظات کااظہارکیااورسب سے آخرمیں فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی ۔ آج عمران خان، پیپلزپارٹی اوراے این پی سب بدل گئے اوراب وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کررہے ہیں۔اگرہمارے رہنماؤں کایہی حال رہاتواس ملک میں مارشل لاء کے آنے کوکوئی نہیں روک سکے گا۔ آرمی چیف کی موجودگی میں ہاں اوران کی غیرموجودگی میں ناں، یہ منافقت ہے ، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام مسالک کے علمائے کرام کوبٹھاکرقرآن مجیدکی سورہ المنافقون اورسورہ توبہ کوپڑھالیاجائے اوریہ ثابت ہوجائے کہ اسلام آبادکی لال مسجد ، مسجدضرارکی طرح منافقوں کی مسجد ہے جہاں اسلام کی تعلیمات کے بجائے اس کی تعلیمات کے خلاف درس دیاجاتاہے اسی طرح جامعہ حفصہ بھی منافقوں کامدرسہ ہے توپھرلال مسجد اورجامعہ حفصہ پر تالالگادیاجائے ، اسے گندے لوگوں سے پاک کیاجائے اوراس کی جگہ ایسی مسجدبنائی جائے جہاں سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات کی روشنی میں امن وآشتی، پیارمحبت اورانسانیت کادرس دیا جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہماری مسلح افواج آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں،یہ بہادرجرنیل ہیں، اللہ انہیں اورہمت عطاکرے۔اس موقع پر اجتماع میں موجودتمام مکاتب فکرکے علمائے کرام، مشائخ اورزاکرین نے دہشت گردوں سے نبردآزماچیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، پاک فوج، فضائیہ ، نیوی، پیراملٹری فورسز ، رینجرزاورپولیس سے اظہاریکجہتی کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں ٹمبرمارکیٹ میں آگ لگی ، میں پوری رات ایک ایک منٹ کی خبرلیتارہا، میں نے اپنے سب لوگوں کوسوتے سے اٹھایاکہ وہاں جاؤاورمددکرو،میرے ساتھی گئے اورلوگوں کی مددکی۔لیکن یہ افسوس ہے کہ ابھی تک وزیراعلیٰ سندھ اوران کے وزراء نے ٹمبرمارکیٹ کا دورہ تک نہیں کیا، ابھی تک آصف زرداری کااظہارافسوس کاکوئی بیان نہیں آیا۔انہوں نے علمائے کرام سے بھی شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کوبھی وہاں جاکر متاثرین کی دلجوئی کرناچاہیے تھااورانکے زخموں پر مرہم رکھناچاہیے تھا۔ انہوں نے انارکلی بازارلاہور میں چارمنزلہ عمارت میں آتشزدگی کے واقعہ اوراس میں 13افراد کی شہادت پردلی افسوس کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کواس کے دوسرے پہلوپرغورکرناچاہیے کہ انارکلی بازارکے پلازہ کے چارمنزلوں میں چارسے پانچ منٹ میں اتنی شدت سے آگ پھیلی۔آج کل ایسے پاؤڈرملتے ہیں کہ اس کے چھڑکتے ہی آگ لگ جاتی ہے،لہٰذا اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اسی طرح کراچی کی ٹمبرمارکیٹ میں بھی آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیق ہونی چاہیے کہ آگ لگی ہے یالگائی گئی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ افسوس ہے کہ ابھی تک وزیراعلیٰ سندھ اوران کے وزراء نے ٹمبرمارکیٹ کا دورہ تک نہیں کیا، ابھی تک آصف زرداری کااظہارافسوس کاکوئی بیان نہیں آیا۔انہوں نے علمائے کرام سے بھی شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کوبھی وہاں جاکر متاثرین کی دلجوئی کرناچاہیے تھااورانکے زخموں پر مرہم رکھناچاہیے تھا۔انہوں نے انارکلی بازارلاہور میں چارمنزلہ عمارت میں آتشزدگی کے واقعہ اوراس میں 13افراد کی شہادت پردلی افسوس کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کواس کے دوسرے پہلوپرغورکرناچاہیے کہ انارکلی بازارکے پلازہ کے چارمنزلوں میں چارسے پانچ منٹ میں اتنی شدت سے آگ پھیلی۔ اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اسی طرح کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں بھی آتشزدگی کے واقعہ کی تحقیق ہونی چاہیے کہ آگ لگی ہے یالگائی گئی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے طالبان، القاعدہ اور داعش کے لوگوں سے کہاکہ وہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکے لوگوں سے بحث ومباحثہ ضرورکریں لیکن انہیں دھمکیاں دینے کاعمل بندکریں۔تمام اخبارات اورٹی وی کے عملے خصوصاًخواتین صحافیوں کوتحفظ فراہم کیاجائے، سندھ، پنجاب، بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں لڑکیوں کے اسکولوں کوجلانے والوں کوسرعام پھانسی پرلٹکایاجائے، انہوں نے تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام سے کہاکہ وہ اس بات کویقینی بنائیں کہ آج کے بعد اپنے خطابات میں کسی دوسرے فقہ اورمسلک پر تنقیدنہیں ہوگی اورکسی کی دل آزاری نہیں ہوگی۔




12/7/2016 10:02:36 PM