Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

متحدہ قومی موومنٹ نے ملک میں جاری دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ’’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم‘‘ پالیسی کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کردیں


متحدہ قومی موومنٹ نے ملک میں جاری دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ’’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم‘‘ پالیسی کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کردیں
 Posted on: 12/27/2014
متحدہ قومی موومنٹ نے ملک میں جاری دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ’’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم‘‘ پالیسی کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کردیں
سانحہ پشاور پاکستان کا نائن الیون ہے دہشت گردی کے اس واقعے نے ہر پاکستانی کو افسردہ کردیا ہے، قمر منصور 
سانحہ پشاور صرف پشاور میں دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ اب یہ پورے پاکستان کا مسئلہ بن گیا ہے دہشت گردوں کی جانب سے آج بھی اسکولوں میں دھمکیاں دی جارہی ہیں، انچارج رابطہ کمیٹی قمر منصور
ملٹری کورٹس کاقیام مسئلے کامستقل حل نہیں،مقامی حکومتوں کے نظام،کمیونٹی پولیسنگ سٹم کے قیام اورچوکیداری نظام کے بغیرملٹری کورٹس بھی غیر موثر ثابت ہونگی، ڈاکٹر فاروق ستار، حق پرست رکن قومی اسمبلی 
ایم کیوایم نے ہمیشہ اصولوں پر سیاست کی ہے اور اب آدھا تیتر، آدھا بٹیر والا نظام نہیں چلے گا
دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ٹھوس، موثر اور جامع اقدامات کرنے ہونگے
قائدتحریک الطاف حسین نے 2004ء میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، انتہاء پسندی اور کراچی میں طالبائزیشن کے بڑھتے ہوئے عنصرکی جانب توجہ مبذول کرائی اور قومی انسداد دہشت گردی ڈاکومنٹ پیش کیا
دہشت گردوں سے مذاکرات کاراگ آلاپنے کے بجائے ایم کیوایم کے اس ڈاکومنٹ پرمن وعن عمل کیاجاتاتوآج سانحہ پشاور پیش نہ آتا، ڈاکٹر فاروق ستار 
آج سانحہ پشاورکے معصوم بچوں کی روحیں فریادکررہی ہیں کہ الطاف حسین کی بات مان لو، ڈاکٹر فاروق ستار 
فوجی عدالتیں مستقل حل نہیں ہیں حکومت کو اپنی پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا اور ججوں، گواہوں کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، حق پرست سینٹر بیرسٹر فروغ نسیم 
انچارج رابطہ کمیٹی پاکستان قمر منصور ، ڈاکٹرمحمدفاروق ستار،بیرسٹرفروغ نسیم ،سیدسرداراحمدکی رابطہ کمیٹی اورحق پرست اراکین سینیٹ،قومی وصوبائی اسمبلی کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیزآبادمیں پریس کانفرنس میں نیشنل کاؤنٹرٹیررازم پالیسی کے حوالے سے سفارشات
کراچی: ۔۔۔27دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ نے ملک میں جاری دہشت گردی اورانتہائی پسندی کے قلع قمع اوراسے جڑسے ختم کرنے کے لئے’’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم‘‘ پالیسی کابغورجائزہ لینے کے بعداس حوالے سے اپنی سفارشات پیش کردی ہیں۔خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیزآباد میں ایم کیوایم رابطہ کمیٹی پاکستان کے انچارج قمر منصور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور(آرمی پبلک اسکول) پاکستان کانائن الیون ہے دہشت گردی کے اس واقعے نے ہرپاکستانی کو افسردہ کردیا ہے ،سانحہ پشاورصرف پشاورمیں دہشت گردی کاواقعہ نہیں بلکہ اب یہ پورے پاکستان کامسئلہ بن گیاہے دہشت گردوں کی جانب سے آج بھی اسکولوں میں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس کاقیام مسئلے کامستقل حل نہیں،مقامی حکومتوں کے نظام، کمیونٹی پولیس سسٹم کے قیام اورچوکیداری نظام کے بغیرملٹری کورٹس بھی غیرموثرثابت ہونگی۔اس موقع پر ان کے ہمراہ س موقع پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر نصرت شوکت، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، سید حیدر عباس رضوی، غازی صلاح الدین ، عارف خان ایڈوکیٹ، گلفراز خان خٹک ، اسلم آفریدی، بیرسٹر فروغ نسیم ، حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد فاروق ستار ، سندھ اسمبلی میں حق پرست پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد اور حق پرست اراکین سینیٹ ، قومی و صوبائی اسمبلی ، خواتین کی مخصوص نشستوں سے منتخب حق پرست اراکین اسمبلی پریس کانفرنس ہال میں موجود تھے۔ انچارج رابطہ کمیٹی قمر منصور نے کہاکہ بحیثیت قوم پاکستان حالت جنگ میں ہے اور اس صورتحال میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف اجلاس بھی بلایا گیا ، ایم کیو ایم ملک کی واحد جماعت ہے جس نے سب سے پہلے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی سفارشات پیش کیں تھیں جسکا گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثا رعلی خان نے اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی سفارشات پیش کرنے جارہی ہے امید ہے حکومت ہماری سفارشا ت پر نہ صرف عملد آمد کرے گی بلکہ اسکے اہم نکات پر عمل درآمد کرا کر ملک کو دہشتگردی سے پاک کرنے کی کوشش بھی کرے گی ، سانحہ پشاور پاکستان کا نائن الیون تھا جس میں 130سے زائد معصوم بچے بے دردی سے شہید کر دئیے گئے پورا ملک ماتم کدہ بن گیا ہے لیکن ابھی تک بات صرف اجلاسوں اور کمیٹیوں تک محدود ہے ، انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے اپنی تجویز پیش کی ہے کہ اگر حکومت ایم کیو ایم کے کارکنان کو اسلحہ لائسنز فراہم کرے تو کارکنان تمام اسکولوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے اپنی خدمات بغیر کسی معاوضے کے فراہم کریں گے ، جناب الطاف حسین نے دہشت گردوں کے خلاف 1لاکھ کارکنان فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کیلئے پیش کرنے کی تجویز بھی دی تھی ،جناب الطاف حسین واحد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے محلہ کمیٹیوں کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا، آج اساتذہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں ، اسکولوں پر حملے ہو رہے ہیں لیکن حکومت بے بس ہے ، انہوں نے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی کا بننا اور اس پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس پالیسی کا نفاذ کرے جبکہ ایم کیو ایم بھی کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی کیلئے اپنی سفارشات پیش کر رہی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں قمر منصور نے کہا کہ 92ء میں 72بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن کی یقین دہانی اس حکومت کے وزیراعظم اور وزراء نے کروائی تھی لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ شہری علاقوں کی جانب آپریشن کا رخ موڑ دیا گیا تھا ، حکومت اپنی بات فوج کے سرڈالنا چاہتی تھی جس کی وجہ سے جناب الطاف حسین نے فوج کو دو سال کے لئے کمان سنبھالنے کی بات کی تھی ، لیکن حکومتی عہدیداران کی جانب سے فوجی کورٹس کی صرف دہشتگردوں کے خلاف اقدام کی یقین دہانی کے بعد ایم کیو ایم نے حمایت کی لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے واضح بیان سامنے نہیں آیا، امید ہے جنرل راحیل شریف ملٹری کورٹس کی نگرانی کرکے اسے سیاسی بنیادوں پر استعمال کرنے سے روکیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ کو درست سمت فراہم کی ہے اور آج انسداد دہشتگردی کیلئے ایم کیو ایم کی پالیسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جناب الطاف حسین ملک کی فلاح و بہتری چاہتے ہیں ، ایم کیو ایم اصولی فیصلے کرنے والی واحد جماعت ہے ، جو لوگ طالبانائزیشن کے متعلق جناب الطاف حسین کا مذاق اُڑاتے تھے آج وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہم جلد سیاسی جماعتوں کے حوالے سے پروگرام کا اعلان کریں گے ، انہوں نے کہا کہ قوم کے سامنے ایک صاف منظرنامہ ہے کہ وہ دیکھیں کو ن طالبان کے حامی اور کون مخالف ہیں ؟،جب تک ملک میں مسجد ضرار جیسی لال مسجد اور جامعہ حفصہ جیسے مدرسے موجود ہیں ہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ ایم کیوایم نے ہمیشہ اصولوں پرسیاست کی ہے اور اب آدھاتیتر،آدھابٹیروالانظام نہیں چلے گاہمیں دہشت گردی اورانتہاء پسندی کوجڑسے ختم کرنے کے لئے ٹھوس ،مؤثراورجامع اقدامات کرنے ہونگے،ایسے مدارس کی اصلاحات کرنی ہونگی اورسامنے موجودمولانا عبد العزیزاورپس پردہ رہ کرکام کرنے والے مولانا عبد العزیزکوبے نقاب کرناہوگااورفیصلہ کرناہوگاکہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیںیاہمارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین واحدرہنماء ہیں جنہوں نے آج سے دس سال قبل 2004ء میں ہی ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اورانتہاء پسندی اورکراچی میں طالبائزیشن کے بڑھتے ہوئے عنصرکی جانب توجہ مبذول کرائی تاہم اس وقت کسی نے ان کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیااور اب جبکہ پانی سرسے انچاہوتاجارہاہے تودہشت گردی کے خلاف جنگ کوہماری جنگ کہاجارہاہے۔نیشنل کاؤنٹرٹیررازم‘‘ پالیسی کے حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے 2013ء میں انسداددہشت گردی پر مبنی جامع دستاویز تیارکرکے حکمرانوں کے سامنے رکھااگردہشت گردوں سے مذاکرات کاراگ الاپنے کے بجائے ایم کیوایم کے اس دستاویز پرمن وعن عمل کیاجاتاتوآج سانحہ پشاوراوراس جیسے دیگر واقعات پیش نہ آتے۔انہوں نے مزیدکہاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن’’ ضرب عضب ‘‘گوکہ تاخیرسے شروع کیاگیاتاہم اب اس میں کامیابی اس وقت ہی ممکن ہے جب اس کادائرہ پاکستان کے کونے کونے تک وسیع کردیاجائے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے انسداد دہشت گردی پالیسی کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ 16دسمبر2014ء آرمی پبلک اسکول کا سانحہ انتہائی افسوسناک تھا جس کے اثرات ہماری قومی زندگی اور معاشرت میں عیاں ہیں ، اس واقعے کے بعد ملک بھر میں والدین ذہنی اضطراب اور فکر کا شکار ہیں اور اپنے بچوں کے جان و مال کے حوالے سے شدید خدشات سے دوچار ہیں جو شاید نائن الیون سے بھی زیادہ ہے ، ایسی صورتحال میں ایم کیوایم پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے جناب الطاف حسین کے نظریے پر چلتے ہوئے گزشتہ برس 14اگست2013ء میں قومی انسداد دہشتگردی پالیسی میں سب سے پہلے سفارشات پیش کیں لیکن ملک کی کسی اور سیاسی جماعت نے یہ عمل نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے 2004ء سے ملک میں سراُٹھانے والی انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے خطرے کے خلاف قوم اور حکمرانوں کی توجہ مبذول کروائی اور 2008ء میں کراچی میں طالبا نائزیشن کے خدشے سے قوم کو آگاہ کیا لیکن جناب الطاف حسین کی بار بار تنبیہ کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اگر قومی انسداد دہشت گردی پالیسی کے تمام نکات کوقومی پالیسی کا حصہ بنا دیا جاتا تو شاید آج حالات اتنے خراب نہ ہوتے ، حکومت نے تمام وقت ریاست دشمن عناصر کے ساتھ مذاکرات میں سرف کردیا ، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا آپشن اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ریاست کے دشمن ہتھیار ڈال کر ملک کے آئین و قانون کو مانتے لیکن جب مذاکرات ناکام ہوگئے تو ضرب عضب کا آغاز کیا گیا اور تمام تروسائل ضرب عضب میں سرف کر دئیے گئے ، جناب الطاف حسین نے بارہاکہا کہ دہشتگردی کی اس جنگ کو اپنی جنگ کے طور پر تسلیم کر لیا جائے لیکن اب 16دسمبر2014ء کے افسوسناک واقع نے قوم اور پالیسی بنانے والوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے جو بات جناب الطاف حسین 2004سے کرتے آرہے ہیں وہ بات اب حکمران کرنے پر بھی مجبو ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں فوجی عدالتوں کی بات کرکے قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فوجی عدالتیں ہی ہمارے مسئلے کا حل ہے جو سراسر غلط ہے ، انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں وقتی حل ہیں اور ایم کیو ایم نے کئی یقین دہانیوں کے بعد اس کی حمایت کی ہے لیکن مذہبی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مؤثر طریقہ کار اپنانا ہوگا۔انہوں نے انسداد دہشت گردی پالیسی کیلئے ایم کیو ایم کے سفارشی نکات پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملٹری کورٹس عارضی ہونی چاہئیں اور انکی مدت مقرر ہونی چاہئے ، ہمیں کئی اقدام اور اصلاحات ایک ساتھ کرنے ہوں گے ،مقامی حکومتوں کے موثر نظام ، کمیونٹی پولیس کے قیام کے بغیر ، اور محلوں میں چوکیداری نظام کے بغیر ملٹری کورٹس بھی ناکام ثابت ہوں گی اب تک محلوں ، گلیوں، ضلعوں میں عوام کو اس جنگ میں شامل نہیں کیا گیا ، دوسری بات یہ کہ9/11کے بعد پوری دنیا میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے انسانی معلوماتی نظام کو اہمیت دی جاتی ہے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کے آپکے محلے اور اطراف میں کون رہتا ہے ، علاقائی مساجد میں مولوی کیا واعظ کر رہا ہے ؟ آپ کے ملک میں تعلیم کا تناسب کیا ہے ؟ غربت او ر مہنگائی پر آپ کی کتنی توجہ ہے ؟ ، پولیس کو جدت سے آراستہ کرنا ہوگا ، فارنسکس، ڈی این اے ٹیٹسنگ ، باؤمیٹرک کے نظام کے اقدام کو بھی ساتھ لیکر چلنا ہوگا ، ججوں اور گواہوں کو تحفظ دینے کی ذمہ دار حکومت ہے ،انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ایک اہم نکتہ رکھا گیا ہے کہ جس طرح پاکستان القاعدہ کے خلاف جنگ کا مقام بنا تو ہمیں دہشت گردوں کے حمایتوں ، انکو اپنے گھروں میں پناہ دینے والوں اور انکے سر پرستو ں کے سامنے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا آ پ دہشتگردی کی جنگ میں ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں ؟ ،ہمیں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اندر موجود مولانا عبدالعزیز کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا ، ہمیں اسپیشل ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لانا ہوگا ، پورے ملک کو ناجائز اسلحہ سے پاک کرنا ہوگا اور ملک میں جہاں جہاں سے اسلحہ تیار کرکے فراہم کیا جاتاہے ان کو لگام دی جائے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بھی کار روائی ہونی چاہئے ، مدرسوں میں کیا نصاب پڑھایا جارہا ہے انکے مالی ذرائع انکے اکاؤنٹس کا آڈٹ اور یہاں کے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، NACTAکو فعال بنانا ہوگا ، نیشنل کمیٹی کاؤنٹر ٹیرارزم NACTAکو پالیسی فراہم کرے جو پارلیمان کے ہمراہ NACTAکے اوپر دباؤ اور نگرانی کریں تاکہ NACTAمیں موجود سولین وفوجی عہدیداران کی نگرانی کی جاسکے،قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان رابطوں کا مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا ، قومی نصاب میں موجود انتہا ء پسندی اور دہشتگردی کے رجحان کا خاتمہ کرنا ہوگا، میڈیا جس طرح دہشتگردوں کو ہیرو بناتا ہے اس سلسلے میں میڈیا کو بھی پابند کرنا ہوگا اور میڈیا بھی اپنی ذمہ داری ادا کرے ، قومی سلامتی پالیسی کی کامیابی کیلئے مردم شماری اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بھی ضرورت ہے ، انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم صرف دہشتگردی کے خلاف نہیں بلکہ قومی سلامتی کیلئے پالیسی کا اعلان کر رہی ہے اور اگر ان پر عمل کیا گیا تو پشاور سانحہ جیسے بہیمانہ واقعات کا سدبا ب ممکن ہے ورنہ ہم ایک وقت میں ایک اقدام کے ذریعے قوم کو دھوکے میں رکھیں گے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج محتر مہ بینظیر بھٹو شہید کو بھی دہشتگردوں نے بیدردی سے شہید کیا تھا لہٰذا پیپلز پارٹی اور صوبائی حکومت کو ہماری پالیسی کو سنجیدگی سے لیکر اس پر عملدرآمد کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ طہ کرنا ہوگا کہ جو دہشتگرد جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں اور ملک کے آئین و قانون کو نہیں مانتے تو انکے بنیادی حقوق کس اصول کے تحت دئیے جائیں ؟، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ملک کے کسی بھی کونے سے بھاگنے والے دہشتگردوں کے خلاف بھی کار روائی کرنی چاہئے اور ضرب عضب کے دائرہ کار کو ملک کے کونے کونے میں پھیلایا جانا چاہئے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹرفاروق ستار کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم تمام مدارس کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار نہیں دیتی لیکن چند مدرسے اس کا حصہ ہیں ، انہوں نے کہا کہ مدرسہ اصلاحات در اصل تعلیمی اصلاحا ت کا لازم جز، جبکہ ہم سیاسی جماعتوں کیلئے سفارشوں کا دوسرا مواد دیں گے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایم کیو ایم نے صرف اس بنا پر ملٹری کورٹس کی حمایت کی ہے کہ یہ بات لکھی جائے کہ ملٹری کورٹس صرف کالعدم دہشتگردو ں کے خلاف استعمال ہوں گی اگر یہ کورٹس ایم کیو ایم ، کسی عام شہری یا سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کی جائیں گی تو ایم کیو ایم عدالتوں سے رجوع کرے گی ، پاکستا ن کے قانون میں بنیادی طور پر پھانسی کی سزاہے ، ایم کیوا یم سمجھتی ہے کہ جو 140بچوں کو اس طرح بیدردی سے قتل کرے تو اس کے خلاف پھانسی کی سزا ہونی چاہئے ، ملٹری کورٹس کی معیاد بڑھانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں مستقل حل نہیں ہیں حکومت کو اپنی پولیس کو جدید خطوط پر استوا ر کرنا ہوگا اور ججوں ، گواہوں کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کسی آئینی ترمیم کے بغیر فوجی عدالتیں بنائی گئیں تو ایم کیوا یم اس کی مخالفت کریگی اور کورٹ بھی اس کو کالعدم قرار دے دیں گی، انہوں نے کہا کہ آئین کی مختلف شقوں میں ترمیم کرکے واضح کرنا ہوگا کہ ملٹری کورٹس کس قسم کے عناصر کے خلاف کام کریں گی۔

12/5/2016 6:27:49 AM