Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کا ملک کی موجودہ صورتحال پر نجی نیوزچینل کے نیوز اینکرز کو دیئے گئے اہم اور فکر انگیز انٹرویو کا مکمل متن


 Posted on: 12/26/2014
ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کا ملک کی موجودہ صورتحال پر نجی نیوزچینل کے نیوز اینکرز کو دیئے گئے اہم اور فکر انگیز انٹرویو کا مکمل متن 
مورخہ:26، دسمبر2014ء 
نیوز اینکر:
ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین آج ہمارے ساتھ ٹیلی فون لائن پر موجود ہیں اور وزیراعظم نواز شریف نے اے پی سی میں جو فیصلے کئے اور قوم سے خطاب کیا ، فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے ایک لائحہ عمل کا اعلان کیا ہم جانیں گے کہ جناب الطاف حسین صاحب ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں ، کیا فرماتے ہیں۔ جی السلام و علیکم !الطاف بھائی ! 
جناب الطاف حسین :
وعلیکم و السلام! دیکھیں وزیراعظم پاکستان محمد میاں نواز شریف صاحب نے آج ابھی چند منٹ پہلے قوم سے جو خطاب کیا ہے وہ حسب روایت بہت اچھا تھالیکن انہوں نے جتنی باتیں کیں وہ سب کی سب تقریباً پرانی باتوں کا Repeatation تھیں کیونکہ کوئی بات نئی اس میں انہوں نے نہیں کی ماسوائے فوجی افسران کی نگرانی میں عدالتوں کا قیام عمل میں لایاجائے گا ۔ یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ ہماری سول حکومت ، سول عدالتیں ملک میں دہشت گردوں کے خلاف گرفت کرنے یا انہیں روکنے یا ان سے باز پرس کرنے میں قطعی ناکام ہوچکی ہیں۔ 
نیوز اینکر:
جی الطاف بھائی! آپ نے خدشات ، تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ خطاب روایتی تھا ۔ آپ نے خود آج پریس کانفرنس میں فرمایا کہ فوجی عدالتیں بنانی ہیں تو بہتر ہے مارشل لاء کا اعلان کردیاجائے ۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اگر فوجی عدالتیں بنیں گی تو کیا یہ Political victimisation کریں گی ۔ 
جناب الطاف حسین :
دیکھئے !آدھا تیتر آدھا بٹیر اس کا میں قائل نہیں ہوں یا تو آپ پورا تیتر کھائیں یا پورا بٹیر کھائیں ۔ تو اگر فوجی افسران کو عدالتوں میں بیٹھا کر دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے اُن کی خدمات کی ضرورت پیش آرہی ہیں اور سول عدالتیں ناکام ہوچکی ہیں تو حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ پھر عدالتوں کی کیا ضرورت ہے ، دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ایکشن تو چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب نے اور فوج کے دیگر افسران نے مل کر شمالی وزیرستان میں از خود شروع کیا تھا بعد میں سول حکومت نے اسے OWN کیا ہے تو بہتر تو یہ ہے کہ فوجی افسران کے تحت عدالتیں لگانے کے بجائے پورا نظام ہی اگر دو سال کیلئے فوج کے حوالے کردیاجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے زیادہ موثر ثابت ہوگا ، فوج کی حکومت کے ہاتھوں پورا اختیار دینا تاکہ وہ جہاں جہاں کمزوریاں دیکھیں وہا ں وہاں مداخلت کرسکیں باقی ویسے خطاب الفاظوں اور جملوں کے اور یقین دہانیوں کیلئے تو ہمیشہ کی طرح بہت اچھا تھا لیکن جس نے وزیراعظم صاحب کا خطاب لکھا اس نے پھر لفظ طالبان کا استعمال نہیں کیا ، القاعدہ کا استعمال نہیں کیا ، داعش کا لفظ استعمال نہیں کیا ، لال مسجد کا نام استعمال نہیں کیا ، مدرسہ حفصہ کی لڑکیوں کا نام استعمال نہیں کیاجنہوں نے سوشل میڈیا پر الحسینی القریشی ابو بکر البغدادی کی خلافت کو تسلیم کیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ہم بدلہ لیں گے اسامہ بن لادن کے قتل کا اور ہم داعش کی خلافت کا نظام پاکستان میں نافذ کریں گے اس بارے میں تو ایک لفظ انہوں نے نہیں کہا ۔ جی جناب ۔
نیوز اینکر:الطا ف بھائی ، ساری پولیٹیکل قیادت موجود تھی کوشش کی گئی کہ پولیٹیکل اونر شپ دی جائے ملٹری کو ۔ لیکن آپ نے جس پوائنٹ کی طرف اشارہ کیا وہ بڑا ٹھوس ہے کہ ان دہشت گرد قوتوں کے نام نہیں لئے گئے جس پر آپ کو ریزرویشن ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سب روایتی خطاب تھا لیکن یہ کیسے ممکن ہے آپ کے پاس کیا لائحہ عمل ہے ۔ جیسے آپ نے اعلان کیا کہ فوج کو دیدیا جائے لیکن جمہوری قوتوں کے پاس ایسا کونسا طریقہ کار ہے کہ وہ فوج سے درخواست کرے کہ جناب آپ آئیں اور آکر اقتدار سنبھال لیں ۔ 
جناب الطاف حسین : 
وزیراعظم پاکستان ، صدر پاکستان کے نام خط لکھیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ججوں سے کہیں کہ ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اس کے مد نظر آپ حکومت کو حکم دیں آرٹیکل 190کے تحت کہ وہ فوج کو طلب کرکے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ ملک کا نظم ونسق سنبھال لیں ۔ جی جناب ۔
نیوز اینکر:
تو الطاف بھائی اس طرح تو یہ ہوگا کہ جو جمہوری قوتیں ہیں جنہوں نے بڑی طویل جدوجہد کی آمریت سے نجات حاصل کرنے کیلئے ، کیا وہ اپنی ناکامی کا کھلم کھلا اعتراف کرلیں ؟ 
جناب الطاف حسین : 
دیکھئے ! آپ کا انٹرویو اور سوال یہ بڑھتا جائے گا اس کا جواب کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ جمہوریت کے نام پر ملک میں آنے والی جتنی جمہوری حکومتیں ہیں اس میں جمہوریت ، لوکل باڈیز سسٹم ، گھر گھر انصاف کی فراہمی کہاں ہوئی ہے ۔ لوکل باڈیز کا سسٹم جب نافذ ہوا ہے وہ فوجی حکومتوں کے زمانے میں ہوا ہے آپ کسی ایک جمہوری حکومت کا تذکرہ نہیں کرسکتے جس کے دورمیں لوکل باڈیز الیکشن کرواکر، کونسلر سسٹم، ٹاؤن ناظم سسٹم ، تعلقہ ناظم سسٹم آیا ہوکہ بارش ہو ، پانی بھر جائے ، گٹر ابلنے لگیں یا کوئی اور آفت آجائے تو پہلے لوگ کونسلر کا دروازہ کھٹکھٹائیں کیونکہ وہ گلی میں رہتا ہے ، محلے میں رہتا ہے ۔ وہ یوسی کے پاس جائیں یوسی کا دروازہ کھٹکھٹائیں ، وہاں ٹاؤن ناظم کا دروازہ کھٹکٹھائیں تو ایک ہی محلے کے اندر رہنے والے عام آدمی کی اپروچ ہوتی ہے ۔ ایم پی ایز ، ایم این ایز سے تو ملنے میں فرشتوں کو دشواری ہوتی ہے انسان تو کجا ۔ 
نیوز اینکر:
اچھا الطاف بھائی ! آج جو اے پی سی ہورہی تھی ایم کیوایم کی نمائندگی تھی ، اجلاس میں کوئی اس قسم کی بات نہیں کی گئی اگر یہ معاملات وہیں اٹھائے جاتے وہاں یہ کہہ دیا جاتا کہ آپ نام لیں تو بات بنیں گی ۔کیا وہاں یہ سوال اٹھایا گیا یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ یکطرفہ کوئی ایسا اسٹیٹمنٹ تھا جو کسی دباؤ کے تحت وزیراعظم نے بوجہ مجبور ی کیا ۔ ممکن ہے کہ ان پر کوئی ملٹری پریشر آیا ہو جس کی وجہ سے وہ یہ تمام باتیں کرنے کو تیار ہوئے ہوں ان کا دل شاید اس کے ساتھ نہیں ہو؟
جناب الطاف حسین : 
دل تو پہلے بھی کہیں اور تھا ۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ اور ہمیشہ جب کوئی بات کہنی پڑی تو اشارے کہیں اور سے ہی آئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے ۔ جی جناب ۔ 
نیوز اینکر:
اچھا الطا ف بھائی ! اس میں پوری پورلیٹیکل اونر شپ شریک ہے ۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس پر آپ کی بہت سی ریزو یشن ہیں لیکن جب پوری قومی قیادت جمع ہوتی ہے آپ کی ماضی کی حلیف جماعت پیپلزپارٹی تھی ، عمران خان اور لوگ بھی تھے ۔تمام لوگوں نے یہ پولٹیکل اونر شپ کے تحت اس اعلامیئے پر اتفاق رائے کیا ہے ،۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہئے ؟ 
جناب الطاف حسین : 
میرے بھائی ! سوائے ایم کیوایم کے باقی اونر شپ جو پولیٹیکل پارٹیز نے دی جب ایم کیوایم اور الطاف حسین چلا چلا کر دس سال سے ، پندرہ سال سے کہہ رہا ہے جاگ اٹھو ، سونے والوں جاگ اٹھو ، طالبانائزیشن ہورہی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ ان سے نمٹنا مشکل ہوجائے گا تو قہقہے لگتے تھے ہا ہا ہا ہا ۔ الطاف حسین پاگل ہوگیا ہے ۔ لوگوں کو ڈرا رہا ہے ۔ لوگوں کوورغلا رہا ہے ۔ لوگوں کو بہکا رہا ہے ۔ کوئی طالبانائزیشن نہیں ہورہی ۔ حکومت کی رٹ قائم ہے ۔ حکومت کے علم میں کہیں ایسی کوئی بات نہیں کہ طالبانائزیشن ہورہی ہے ۔ آج وہی حکومتیں اور وہی پولیٹیکل پارٹیز ، وہی جمہوریت کے چیمپئن کہ جو میری سچی باتیں جو میں کہتا تھا کہ فوج آجاؤ تو کہتے تھے کہ یہ فوج کی پیداوار ہیں اس لئے کہہ رہے ہیں ۔ پلے تم ہو ، پیدا تم ان کے گھر پیداہوئے ہو ، دودھ کی بوتلیں پی کر فوجیوں کی گود میں جوان تم ہوئے ہو، تمہیں شرم بھی نہیں آتی کہ تم الطاف حسین پر یہ الزام لگاتے ہو لیکن اُس وقت عوام کو یہ حکمران بیوقوف بناتے تھے آج یہی حکمران جو ہیں سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس اجلاس میں کہ جس میں چیف آف آرمی اسٹاف ، آئی ایس آئی کا چیف بیٹھا تھا اور فوجی بیٹھے تھے وردی میں ۔ وردی دیکھ کر دل دھڑ دھڑ کررہے تھے ان نام نہاد جمہوریت کے چیمپئنوں کے ، بڑی بڑی تقریریں کرنے والوں کے اور وہ بلا کسی اعتراض کے جی ، ہاں ٹھیک ہیں ، فوجی عدالتیں ٹھیک ہیں ۔ کیا بات کررہے ہیں آپ میرے افتخار کاظمی صاحب اور اعجاز احمد صاحب کیا بات کررہے ہیں آپ ۔ آپ خود حقائق سے نظریں چرا رہے ہیں مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے یہ جھوٹے چمپئن ہیں ۔ جان دینے والے مجنوں اور ہوتے ہیں اور دود ھ پینے والے مجنوں اور ہوتے ہیں یہ دراصل جمہوریت کے چیمپئن دودھ پینے والے مجنوں ہیں ، خون دینے والے مجنوں نہیں ہیں ۔ جی جناب !
نیوز اینکر:
الطاف بھائی آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ جو موجودہ ایکشن پلان دیا گیا ہے اس کے تحت آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی وہ کامیاب ہوگی یا مشکل ہوگا ۔
جناب الطاف حسین : 
جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں فوج تو کرے گی لیکن عوام بھی ساتھ میں ہیں لیکن حکومت کہاں کہاں تعاون کرے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا اگر حکومت تعاون کرے گی خلوص نیت کے ساتھ تو میں حکومت کی اور جو ساتھ سچائی کے ساتھ دے گا میں ان کی تعریف بھی کروں گا۔ 
نیوز اینکر:
آنے والے وقت میں پاکستان کی کیا صورتحال دیکھ رہیں ؟
جناب الطاف حسین :
مستقبل مجھے تو بالکل اچھا نظر نہیں آتا اگرایماندار لوگ حکومت میں نہیں آئے اور ملک میں کمال اتاترک کی طرح سے کوئی فوجی جنرل آکر حکومت نہ سنبھا لے اور وہ ایک ڈنڈا ہلا کر اور ڈنڈا دکھا کر اور آرڈر دے کر کہ جاؤ جاگیرداروں کو گھر سے باہر نکال کر پھینک دو اور ان کے گھروں پر قبضہ کرلو اور پھر قانون نافذ کرے ۔ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سرمایہ دارانہ سسٹم ، قرضے لیکر ہڑ پ کرنے والوں کو گھر سے نکال دو جنہوں نے قرضے واپس نہیں کئے معاف کرالئے ان سب کو لاک اپ میں بند کردو۔ تو اگر کوئی کمال اتاترک کی طرح فوجی جرنیل آئے وہ جاگیرداروں کو گھروں سے نکال کر باہرپھینک دے ، سرمایہ داروں کو ، قرضے لیکر معاف کرانے والوں کو ، راتوں رات امیر ہونے والوں کو گھروں سے نکال کر لاک اپ کردے ۔اور جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سرمایہ دارانہ سسٹم کے خاتمے کا اعلان کردے تو پاکستان محفوظ ہوسکتا ہے، خوشحال ہوسکتا ہے تاقیامت قائم رہ سکتا ہے انشاء اللہ تعالیٰ لیکن وڈیرہ سسٹم ، جاگیردارانہ سسٹم بھی چلتا رہے ، دولت قرضے لیکر ملک کا خزانہ لوٹ کر معاف بھی کرواتے رہیں اور پھر آپ یہ بھی کہیں کہ ملک قائم رہے اس طرح ملک خاکم بدہن قائم نہیں رہ سکتا ہے ۔ جی جناب !
نیوز اینکر:
جی الطاف بھائی آپ نے بڑی اہم بات کی اور آپ بڑے عرصے سے یہ بات کرتے آئے ہیں اس ملک کو جاگیردارانہ ، سرمایہ دارانہ نظام نے جکڑ رکھا ہے ۔ یہ آپ کی ہی واحد آواز ہے الطاف بھائی جو اب تک ہم سنتے آئے ہیں باقی دیگر پولیٹیکل جماعتوں کو دیکھیں تو وہاں تو یہ سارے لوگ ایک غلبے اور اکثریت کے ساتھ ہیں اور وہ تبدیلی جس کا خواب بیس تیس سال سے ہمیں دیکھا رہے ہیں اور ہم بھی دیکھ رہے ہیں تو ان کو بھی لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی قوت آپ کی بات پر کان دھرے گی اور کوئی اتاترک آئے گا۔ کیا آپ موجودہ آرمی چیف کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پچھلے آرمی چیف سے کچھ الگ ہیں اور ایک مضبوط ذہن اور اعصاب کے مالک ہیں اور پاکستان کو درست سمت میں لے جاسکتے ہیں ؟ 
جناب الطا ف حسین : 
حضور والیٰ ! دیکھئے امید پر دنیا قائم ہے اور سرکار دو عالم ﷺ کی تاکید اور تعلیمات یہ کہ مایوسی کفر ہے ۔ کما ل اتاترک موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب اگر نہیں ہیں تو میں دعا کروں گا کہ اے اللہ یہ بہادر جنرل ہے اس کے گھر میں دو نشان حیدر ہیں تو اس کے اندر بھی اور بہادری پیدا کردے تو یہ یقیناًملک کا نقشہ بدل سکتے ہیں جہاں تک اس کا تعلق ہے کہ وہ جنرل کیانی سے مختلف ہیں تو جنرل کیانی تو خود ایک بزدل اور طالبان کا حامی ، پیسے کا لالچی جرنیل تھا اس سے کہاں آپ جنرل راحیل شریف کو ملا رہے ہیں ۔ زمین اور آسمان کو کیسے ملا سکتے ہیں آپ ۔ 
نیوز اینکر: 
تو الطاف بھائی اگر ہم یہ سمجھیں کہ آپ ہائی پولیٹیکل سوچتے ہیں، کھلے دل و دماغ کے مالک ہیں اور ویژن بہت اسٹرونگ ہیں آپ یہ بتایئے کہ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ ہے اس میں کونسے اقدامات کرنا ضروری ہیں ۔ ایک تو آپ نے کہاکہ مینشن کریں کہ کون ملوث ہے ۔ دوسرا مجھے آپ یہ بتایئے گا کہ پاکستان کے کونسے شہر یا علاقے ہیں جہاں سب سے پہلے ان کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا آغاز کیاجائے اور اس کے بعد ان کو انجام تک پہنچایاجائے ۔ 
جناب الطاف حسین : 
اس میں نام لکھئے ! القاعدہ ۔ دوسرا نام لکھئے طالبان اور تازہ ترین نام لکھئے آئی ایس آئی آیس یعنی داعش ۔پرانے ناموں میں لکھیں لشکر جھنگوی ۔ سپاہ صحابہ ۔ سپاہ محمد ۔ مین مین تو یہ ہیں ۔ اور پس پردہ جماعت اسلامی ۔ اسلامی جمعیت طلبہ ۔ جماعت اسلامی کے گھر سے تمام القاعدہ کے بڑے بڑے لیڈر کیا گرفتار نہیں ہوئے ؟ 
نیوز اینکر:
درست ہے ۔ 
جناب الطاف حسین : 
یا تو کہئے افتخار قاضی صاحب اور اعجاز احمد صاحب کہ الطاف حسین آپ غلط کہہ رہے ہیں یا پھر کہیں You are right ۔ 
نیوز اینکر: 
آپ بالکل درست فرما رہے بھائی ۔ یہ حقیقت ہے جو آپ فرما رہے ہیں اس پر تو یہ اوپن سیکریٹ ہے ۔ 
جناب الطاف حسین : 
کیا منور حسن نے پبلک جلسہ عام میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ حکیم اللہ محسود اور دیگر طالبان جو مارے گئے ہیں وہ شہید ہیں اور جو فوجی شہید ہوئے ہیں وہ شہید نہیں وہ ہلاک ہوئے ہیں ۔ آپ نے کیا سابق امیر جماعت اسلامی کا یہ بیان نہیں سنا کہ ملک میں جب تک قتال فی سبیل اللہ نہیں ہوگا ملک کا نظام صحیح نہیں ہوگا ۔ دو مہینے بعد پشاور میں معصوم بچوں کا قتل عام ہوگیا ۔ پھول جیسے بچے ، معصوم بچے ، معصوم کلیاں جو کھلے بھی نہیں تھے پھول بھی نہیں بنے تھے وہ کلیاں مسل دی گئیں ان کے استادوں کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا گیا کیا اس کی تبلیغ دو ماہ قبل جماعت اسلامی کے سابق امیر نے دی تھی کہ جب تک ملک میں قتال فی سبیل اللہ نہیں ہوگا یہ ملک صحیح نہیں ہوگا اور دو مہینوں بعد آرمی پبلک اسکول میں بچہ بچہ کاٹ دیا گیا ، ذبح کردیا گیا ۔ اللہ آپ کے بچوں کو محفوظ رکھے ، اللہ آپ کی بہن بیٹیوں کو محفوظ رکھیں لیکن سچ کو سچ کہنا پڑے گا ۔ دن ٹیلی ویژن والو ۔ اور جو جو دن دیکھ رہے ہیں ان کی بھی بچیاں ہیں ، ان کے بھی بچے ہیں اگر بچے نہیں ہیں ، بیٹیاں نہیں ہیں تو بہن بھائی تو ہوں گے ۔ سوچوں ذرا صبح ناشتہ کرکے وہ نکلتے ہیں خدا حافظ کہہ کر اور دوپہر کو تم لوگ انتظار کرتے رہتے ، جب نہیں آتے اسکولوں میں جاتے تو پتہ نہیں چلتا تو پھر معلوم ہوتا کہ فلاں اسپتال جاؤ ، مردہ خانے میں لاشیں رکھی ہوتی کہتے تلاش کرلو کہ اس میں کوئی ہو اور جب تم اپنے بیٹے بیٹی ، بہن بھائی کا کٹا گلا یا گولیوں سے چھلنی بدن دیکھتے تو ہم پوچھتے تمہارے اوپر کیا گزر رہی ہے اب بتاؤ ۔ یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھی ہزاروں شہید ہوچکے ہیں ، میرا سگا بھائی ستر سالہ جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ، میرا28سالہ بھتیجا لاالہ اللہ محمد الر سول اللہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کو پانچ اور چھ دسمبر کو گرفتار کیا گیا 1995کو اور 9دسمبر 1995ء کو بیدردی سے ٹارچر کرکے ، جگہ جگہ سے گوشت نکال کر وہاں لیجا کر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا اور پھر میرے بھتیجے کے سرپر کلہاڑی کے وار مار کر دو ٹکڑے کردیئے ۔ میں اس درد کو محسوس کرتا ہوں ۔ 
نیوز اینکر:
جی بھائی ۔ یقینی طور پر یہ درد ہم بھی محسوس کرتے ہیں مجھے یاد ہے جس سانحہ کا آپ نے ذکر کیا ، ان کی ڈیڈ باڈیز ملی تھیں ان پر بہت ٹارچر ہوا تھا ، تشدد کے نشانات تھے اور آپ نے اس وقت بھی بڑی ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کیا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ عوام صبر کریں اور خود صبر کا دامن تھامے رہے اس وقت کراچی جل سکتا تھا آگ سکتی تھی لیکن آپ نے بڑے صبر وتحمل سے اس سانحہ کو برداشت کیا اورنیشن کو بھی اور عوام کو بھی گائیڈ کیا اور ان کو کہا کہ آپ صبر و تحمل سے کام لیں اور آج جو موقع ہے جہاں معصوم بچے مارے گئے الفاظ نہیں ہیں اس سانحہ کیلئے لیکن آپ کے صبر و ہمت کی میں داد دیتا ہوں کہ آپ اس کو بیان بھی کرتے ہیں اوراپنے صبر و ہمت کے ساتھ اور عزم کے ساتھ اس ملک کیلئے اچھے خیالات بھی رکھتے ہیں ۔ سوال یہ ہے بھائی کہ یہ جو سانحہ ہوگیا ہم بچوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، بچے ہم سے سوال کرتے ہیں اور وہ معصوم بچے جن کیلئے ہالی ڈے ایک مقدس دن ہوتاوہ سمجھتے ہیں کہ جب ایسا سانحہ ہوتا ہے تو چھٹی ہوجاتی ہے ،ہالی ڈے ہوتا ہے ان کے ذہنوں کو ہم کیسے پاک کریں گے کہ نہیں یہ ہالی ڈے نہیں تھا بد ترین دن تھا ان کے ذہنوں کو کس طرح پا ک کریں گے ۔ ؟ 
جناب الطاف حسین : 
میرے بھائی افتخار احمد ، اعجاز احمد ۔ اللہ بہتر جانتا ہے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے باپ سے نہیں ڈرتا ۔ برطانیہ میں میرے اوپر مقدمے قائم کردیئے گئے ، مجھے جیل لے گئے ۔ میرے ساتھیوں سے پوچھو میرے حوصلے کیا تھے ۔ مجھے پکڑ کر یہاں مار بھی دیاجائے تو بھی میرا سر اللہ کے علاوہ ان برطانوی حکمرانوں کے یا پولیس کے آگے نہیں جھکے گا ۔ میں پاکستان میں تین مرتبہ گرفتار ہوچکا ہوں ۔ میں نے فوجی سمری ملٹری کورٹ کی نو مہینے پانچ کوڑے کی سزا بھی بھگتی ہے ۔ میں نے سر نہیں جھکایا ۔ مجھے پیشکشیں کی گئی سی آئی اے کے افسر بن جاؤ ، کسٹم کے آفسر بن جاؤ، بینک کی نوکری لے لو بڑی بڑی لالچیں دی گئیں میں نے قبول نہیں کیں۔میں بڑا بہادر آدمی ہوں لیکن میرے بھائیوں مگر جب انسان مرتا ہے لاشیں دیکھ دیکھ کر میرا دل اس معاملے میں اب برداشت کا ذرا حوصلہ کم ہوگیا ہے ۔ میں ڈرتا نہیں ۔ مجھے یاد آجاتا ہے ۔ مجھے رونا آجاتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے والدین ، بیچاری ماؤں کے اوپر کیا گزر رہی ہوگی ۔ میں نے دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے ، بھائی میرے میں نے اپنی آنکھوں سے یہ مناظر دیکھے ہیں تو دل پسیج جاتا ہے باقی کوئی مائی کا لال آئے ایک گن خود پکڑے ، ایک گن مجھے دے آئے مقابلے پر ۔ الطاف حسین ڈرنے والوں سے نہیں ،اللہ نے بنایا ہی نہیں ورنہ کب کا الطاف حسین چھوڑ کر جا چکا ہوتا ۔ میں فوج کے سہارے بیساکھیوں پر چلنے والا نہیں اسی لئے پچیس سال سے میں جلا وطن ہوں اپنے وطن سے دور میرے پنجابی بھائیو! اے اہل پنجاب ، مجھے اپنے وطن سے دور کررکھا ہے اس لئے کہ میں پنجابی نہیں کہہ لینے دو مجھے ۔ کہہ لینے دو مجھے میرے پنجابی بھائیوں میں پنجابیوں سے مخاطب ہوں ۔ ہندوستان سے میرے ماں باپ نے ہجرت کی ۔ میں نے تو ہجرت نہیں کی تھی ۔ میرے ماں باپ کا جرم تھا ، میرے گھر والوں کا جرم تھا لیکن انہوں نے بھی پاکستان کیلئے قربانیاں دی تھیں لے کر رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان آج ان کی اولادوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے میں سہ رہا ہوں اور سہتا رہوں گا آخر ی سانس تک میں پورے پاکستان کے مظلوموں اور محروموں کا میں صرف حامی ہوں،للہ نے مجھے طاقت دی تو لڑتا رہوں گا تمام پاکستان کے مظلوم پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، پختون ، سرائیکی ، گلگتی ، ہزارے وال غرض کہ کشمیری میں ہر کسی کو غربت کی دلدل سے نکال کر ان جاگیرداروں ، وڈیروں اور موروثی سیاست کرنے والوں سے نجات دلاؤں گا ۔ میں نہ دلا سکا تو میری یہ وصیت کارکنوں اور رہنماؤں کیلئے ہے کہ تم میں اگر حلال کا خون ہے تو تم میرے اس مشن کو اسی طرح لیکر چلنا ۔ 
نیوز اینکر:
آپ سے بھائی آخر میں یہ جاننا چاہوں گا کہ قوم آپ کو سن رہی ہے رات کے اس پہر میں ۔ آپ آبدیدہ ہیں ، ہم آبدیدہ ہیں ، پوری قوم آبدیدہ ہے ۔ آپ ایک درد مند دل رکھنے والے انسان ہیں آپ کیا مسیج دیں گے اس قوم کو ۔ اگر آپ جیسے بہادر رہنما اس قوم کا مورال ہائی کرسکیں تو آپ کس طرح ہائی کریں گے اس کو ۔ 
جناب الطاف حسین : 
میں پوری قوم سے کہتا ہوں دیکھو ! میرے پاکستانی بھائیوں ، ماؤں، بہنوں ، بزرگوں ، نوجوانوں ، طالب علموں آنکھیں بند کرلینے سے یا زمین میں منہ چھپا لینے سے خطرہ ٹلتا نہیں ہے سب کے سب ملک دشمنوں کا نشانہ اورنوالہ بن جاؤ گے اگر عزت کے ساتھ جینا ہے اگر عزت و غیرت کے ساتھ جینا ہے تو تمہیں بہادر بننا ہوگا ، غیرت مند بننا ہوگا ، تم اپنی جان دیکر اپنی بہن کی عزت بچا سکتے ہو ، ڈر کر خود بھی مرو گے اور بہن کی عزت بھی گنواؤں گے ۔ ڈر کر خود بھی مرو گے اور اپنے بچوں اور بچی اور معصوم بچوں کو اغواء بھی کرادو گے ۔ بہادر بنو بہادر بنو۔ ہم لڑیں گے ، ڈاکوؤں ، چوروں سے ، ملک دشمنوں سے ۔ اس ملک پر ظلم کرنے والوں سے ۔ اس ملک پر جنہوں نے 67برسوں سے قبضہ کررکھا ہے اس سے ملک کو نجات دلائیں گے اور اس ملک میں انصاف کا نظام قائم کریں گے جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی اسکول میں تعلیم حاصل کرے ۔ جہاں امیر اور غریب کا بچہ ایک اسپتال میں جاکر علاج کروائے ۔ غریبوں کے اسکول ، امیروں کے اسکول الگ الگ نہیں ہوں گے ۔ تعلیمی نصاب الگ الگ نہیں ایک ہی ہوگا جو غریب کا بچہ بھی پڑھے گا اور صنعتکار پیسے والے کا بچہ بھی وہی نصاب پڑھے گا ۔ دوائی کی گولی جو امیر کے بچے کو ملے گی وہی تمہیں بھی ملے گی ۔ تمہیں چاک پیس کر جس سے بلیک بورڈ پر لکھتے ہیں اس کی گولی نہیں ملے گی ایسا جو کرے گا اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے اس کو سولی پر لٹکایاجائے گا لہٰذا میری قوم کے لوگوں اٹھو ، ہمت کرو ان نام نہاد طالبا ن کا مقابلہ کرو ، ان نام
نہاد وڈیروں جاگیرداروں اور نام نہاد جمہوریت پسند وں کا قصور جاگیرداروں ، وڈیروں کا قصور کم ہے تمہارا ہمارا قصور زیادہ ہیں ہم ہی ان کے نعرے لگاتے رہے ہم ہی انہیں کنڈھوں پر بٹھاتے ہیں ، جاگو ، بیدار ہو ، ذرا دیکھو ان کے بچے گھر سے نکلتے ہیں تو سو گاڑیاں ان کی حفاظت کرتی ہیں اور تم انہی کے نعرے لگاتے ہو اور تمہارے بچے کو کچھ ہوتا ہے تو روتے ہیں کاہے کو روتے ہیں خیرات سے عزت نہیں ملتی ذلت ملتی ہے ۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جرات ہمت سے عزت ملتی ہے اس بات کو یاد رکھو ۔ 
نیوز اینکر:
جی الطاف بھائی ، آپ نے قوم کو بڑا اہم پیغام دیا ہے ، آپ کے الفاظ بڑے معنی خیز ہیں اور اس حالت میں جب پولیٹیکل قیادت اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہے آپ نے پوری قوم کیلئے الگ سے جو مسیج دیا ہے یہ یقینی طور پر ایک ٹانک کا کام کرے گا ۔ بہت شکریہ الطاف بھائی ۔ 
جناب الطاف حسین : 
بہت شکریہ ۔ اللہ آپ کا حامی وناصر ہو ۔ 


12/8/2016 8:14:30 AM