Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنرل راحیل شریف دوسال کیلئے پاکستان کی کمان سنبھال لیں اور قومی دولت لوٹنے والوں کابے رحمانہ احتساب کریں۔الطاف حسین


جنرل راحیل شریف دوسال کیلئے پاکستان کی کمان سنبھال لیں اور قومی دولت لوٹنے والوں کابے رحمانہ احتساب کریں۔الطاف حسین
 Posted on: 12/24/2014
جنرل راحیل شریف دوسال کیلئے پاکستان کی کمان سنبھال لیں اور قومی دولت لوٹنے والوں کابے رحمانہ احتساب کریں۔الطاف حسین
فوجی عدالتوں کے قیام سے بہتر ہے کہ حکومت ، ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردے، الطاف حسین
اگرمیری جانب سے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا مطالبہ کیاجاتاتومجھے سب کی مخالفت کا سامنا کرناپڑتا، الطاف حسین
دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں ان میں فوج کے افسران کا ہاتھ رہا ہے ، الطاف حسین
قائداعظم محمد علی جناح ؒ خوجہ اثناء عشری شیعہ تھے لیکن بعض علماء اپنے مدارس میں’’ شیعہ کافر ‘‘کادرس دیتے ہیں،الطاف حسین
ایم کیوایم ،پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے جدوجہد کررہی ہے لیکن ملک کے دانشوروں، تجزیہ نگاروںاور اینکرپرسنز کی اکثریت ایم کیوایم کی مخالفت کرتے نہیں تھکتے، الطاف حسین
ہمارے شہیدوں کے جنازے خواتین نے اٹھائے اس کے باوجود ہم نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا نہیں چھوڑا، الطاف حسین
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں علمائے کرام،تاریخ دانوں، دانشوروں، کالم نگاروں ، اینکرپرسنزسے خطاب
لندن۔۔۔24، دسمبر2014ء
تصاویر
وڈیو حصہ پہلا حصہ دوسرا
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی فوج ،تنہااپنے ملک کو نہیں بچاسکتی جب تک ان ممالک کے عوام اپنی فوج کے ساتھ نہ ہوں، فوجی عدالتوں کے قیام سے بہتر ہے کہ حکومت ، ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردے۔ یہ بات انہوں نے آج لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام،تاریخ دانوں، دانشوروں، کالم نگاروں ، اینکرپرسنزاور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آج وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ،آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان اختر اور دیگر فوجی افسران بھی شریک ہیں ۔ اس اجلاس میں بحث کی جارہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فوجی عدالتیں لگائی جائیں یا نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر غیرجمہوری راستہ اختیار کرنا ہے اور سول حکومت سے امن وامان کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تو فوجی عدالتیں قائم کرنے کے بجائے جہاں سو مارشل لاء دیکھے ہیں وہاں ایک اور سہی۔ فوجی عدالتوں کے قیام سے بہتر ہے کہ حکومت ، ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردے۔ انہوں نے کہاکہ ملک انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے اور مسلح افواج انتہاء پسند دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے لہٰذا آج ملک بھرکے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کو قائم ودائم دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج اکیلئے پاکستان کوبچاسکتی ہے تو وہ غلط ہے ، دنیا کی کوئی بھی فوج اپنے ملک کواس وقت تک بچانہیں سکتی جب تک کہ اس ملک کے عوام فوج کا ساتھ نہ دیں۔ دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں ان میں فوج کے افسران کا ہاتھ رہا ہے ، ترکی ، فرانس ، کیوبا ،کوریامیں انقلاب اور امریکہ میں آزادی لانے والے فوج سے تعلق رکھتے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے کہا کہ آپ کے ماموں اور بھائی نے ملک وقوم کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور نشان حیدرحاصل کیا، آپ بھی بہادر جرنیل ہیں لہٰذا آپ دوسال کیلئے پاکستان کی کمان سنبھال لیں اورملک میں مارشل لاء نافذ کرکے قومی دولت لوٹنے والوں کابے رحمانہ احتساب کریں اورجس کسی نے بھی قومی دولت لوٹی ہو اس سے ایک ایک پائی وصول کی جائے ۔میں پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں اورملک کو بچانا چاہتا ہوں اوراپنے ان الفاظوں پر یقین بھی رکھتاہوں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ جس پر احسان کرو اس کے شرسے بچو، بانی پاکستا ن قائداعظم محمد علی جناح ؒ خوجہ اثناء عشری شیعہ تھے لیکن آج بعض علماء اپنے مدارس میں’’ شیعہ کافر ‘‘کادرس دیتے ہیں، جس شیعہ کی قیادت میں پاکستان قائم ہوا آج انہیں اہل تشیع کو کافرقراردیا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ نے قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دیالیکن بعض عناصر کی جانب سے جی ایم سید اور صوبہ سندھ کو غدار کہاجاتا ہے ، بانیان پاکستان کی اولادوں کو بھارت کا ایجنٹ کہاگیا۔اس کے باوجودہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کی جماعت ایم کیوایم ،پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے جدوجہد کررہی ہے لیکن ملک کے دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور اینکرپرسنز کی اکثریت ایم کیوایم کی مخالفت کرتے نہیں تھکتے ، بعض دانشور،تجزیہ نگار اور اینکرپرسنز ایم کیوایم کی تعریف میں ایک جملہ کہتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے نام کے آگے سرخ دائرہ نہ لگادیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم مہاجروں کی حب الوطنی کے باوجود ہماری وفاداری مشکوک بنادی گئی ہے اور ہم آج سوچتے ہیں کہ اگرہم ہندوستان میں ہوتے تو تسلی ہوتی کہ ہمیں مارنے والا غیرمسلم ہے لیکن پاکستان میں نہ صرف ہمیں ہم مذہب اورہم وطن قتل کررہے ہیں بلکہ ہمارے لیے اپنے شہیدوں کے جنازے اٹھانا بھی مشکل بنادیا گیا اور شہیدوں کے جنازے خواتین نے اٹھائے اس کے باوجود ہم نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا نہیں چھوڑا اور صوبہ سندھ میں خود کوسندھی کہتے رہے لیکن جب دو روٹی تقسیم کرنے کا وقت آیا تو ہم سے کہاگیا کہ روٹی کھانے کاحق صرف مقامی لوگوں کا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انصار ومہاجر کو الگ رکھیں ، حقیقت یہ ہے کہ اگرآپ اپنی سگی اولادمیں بھی تفریق کریں گے تو ان میں بھی جھگڑا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کو سب سے خراب جماعت مان کرایک جانب رکھ دیں اور بتایاجائے کہ پاکستان کی کونسی جماعت ہے جو نیکوکار ہے ، جس نے قومی دولت لوٹ کر سوئس بنکوں میں جمع نہ کرائی ہو ، برطانیہ ، امریکہ اوردیگر ممالک میں کاروبار کو نہ پھیلایا ہواور جو جمہوری سوچ رکھتی ہواور وہ کونسی جماعت ہے جس کے سربراہ کا براہ راست فوج سے واسطہ نہ رہا ہو؟ اس پر شرکاء نے کہاکہ ’’ کوئی بھی نہیں ‘‘جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بعض لوگوں کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ ماضی کوچھوڑ کرآگے بڑھاجائے اور اصل جھگڑا اسی بات کا ہے ۔ بعض لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ نعوذباللہ ۔۔۔استغفراللہ ۔۔۔قرآن مجید 1400 سال پہلے آیا تھااور نبی کریم ؐ نے 1400 سال قبل تعلیمات دی تھیں توکیا میں قرآن اور نبی کریم ؐ کی تعلیمات کاتذکرہ کرناچھوڑدوں؟ اس پر علمائے کرام نے کہاکہ ’’ہرگز نہیں‘‘۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے 19،دسمبر2014کو تبت سینٹر کراچی میں قومی یکجہتی ریلی سے خطاب میں قرآنی آیات اور سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات کاحوالہ دیا تھا تو میرے بارے میں کہاگیا کہ میں ملا عبدالعزیز کے بارے میں جوچاہیں کریں لیکن لال مسجد کوڈھانے کی بات کرکے آپ نے کفر بکا ہے۔ لہٰذا آپ تجدید اسلام کیجئے ،دوبارہ مسلمان ہویئے تو کیا اس قسم کی باتوں پرمیں نعوذباللہ ۔۔۔قرآن مجید اور رسول اکرم ؐ کی تعلیمات کامطالعہ کرنا بند کردوں؟اس پر علمائے کرام نے جواب دیا ہرگز نہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرا ایمان ہے کہ قرآن مجید ،اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو قیامت تک ایسی ہی رہے گی ، قرآن مجید برحق تھا،برحق ہے اور تاقیامت برحق رہے گا۔ میراایمان ہے کہ صرف لاالہ الااللہ کہنے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اس کے ساتھ محمد الرسول اللہ نہ کہے ۔ انہوں نے کہاکہ میرے نزدیک قرآن مجید کاانکار ،اللہ تعالیٰ کاانکار ہے اور نبی کریم ؐ کا انکار ، اللہ تعالیٰ کاانکار ہے۔ لال مسجد کی بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی تھی ،مسجد ،اللہ کا گھر ہوتی ہے ،اللہ کے گھر میں کسی کے بارے میں کھسر پھسر کرنا ،کسی کے خلاف بغض وعداوت کی بات کرنا، کسی کے خلاف سازشیں کرنااوروہاں بیٹھ کر دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی بات کرناکیا مسجدکی حرمت اورتقدس کے صریحاًخلاف نہیں ہے ۔ مساجد میں نیکی کی تعلیم دی جاتی ہے بدی کی نہیں ، وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی جاتی ہے کسی سے نفرت کا درس نہیں دیا جاتا۔ جناب الطا ف حسین نے قرآن مجید کی 63 ویں سورۃ المنافقون کاترجمہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ مسجد ضرار منافقین نے بنائی تھی جنکی لمبی داڑھیاں ،لمبے بال اور ماتھے پر نشان ہوتا تھا ،وہ دنیا کو بہکاتے تھے کہ یہ اللہ کے پکے ماننے والے ہیں لیکن دراصل یہ منافقین تھے اورجب انہیں موقع ملتا وہ اپنے سردار عبداللہ بن ابی کی سربراہی میں مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں دیر نہیں لگاتے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ لال مسجد کا ملا عبدالعزیز ، منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کا ماننے والا ہے جو جنگ احد میں اپنے ساتھیوں کو ساتھ لیکرمسلمانوں کو تنہاچھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شومیں یہ کہاگیا کہ الطاف حسین ،ملا عبدالعزیز کی مخالفت ضرورکریں مگر لال مسجدکو ڈھانے یا جلانے کی بات نہ کریں،اس پر وہ اسلام سے خارج ہوگئے اورانہیں دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ جب میں نے کہاکہ طالبانائزیشن ہورہی ہے تو سب نے میری مخالفت کی ،میرا مذاق اڑایا گیا، جب میں نے کہاکہ ایسی حکومت سے مارشل لاء بہتر ہے تو ہرجانب سے مجھ پر تنقید کی گئی ، اگرمیری جانب سے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا مطالبہ کیاجاتا تویقیناًمجھے سب کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا لیکن آج وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں ملٹری کورٹس کے قیام کی باتیں کی جارہی ہیں، وزیراعظم ،آرمی چیف اورآئی ایس آئی کے چیف یقین دلارہے ہیں کہ اصل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیجائے گی ،ایم کیوایم اور اے این پی کے سوا تمام جماعتوں نے بغیرچوں چراں کیے ملٹری کورٹس کے قیام پر رضامندی ظاہرکی ہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے تمام مسجدوں کوجلانے یاڈھانے کی بات قطعاً نہیں کی بلکہ سورہ ء المنافقون اورسورہ توبہ کاحوالہ دے کر مسجدضرارکی بات کی ۔منافقوں کی قائم کردہ اس مسجدضرارکوحضورؐ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر جلانے اورڈھانے کاحکم دیا تھا۔اس کاذکرقرآن مجید کی سورہ توبہ کی آیت نمبر 107سے 110تک میں موجود ہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ لال مسجد کو ڈھانے کے میرے مطالبہ پر بعض مخالفین خصوصاً جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی جانب سے بہت تنقید کی گئی اوریہ کہاگیاکہ مسجدتو اللہ کاگھرہوتی ہے لہٰذا مسجدکوڈھانے کی بات کرنے والادائرہ اسلام سے خارج ہوتاہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی والوں کیلئے میں کہتا ہوں کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے ’’ تفہیم القرآن ‘‘ کی جلددوم کے صفحہ 173پر مسجدضر ار کوڈھانے کے واقعہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ کیا جماعت اسلامی کے لوگ اس سے انکارکریں گے؟ انہوں نے سوال کیاکہ کیالال مسجدمیں اسلحہ خانہ نہیں تھا ؟ کیا اس کے میناروں سے فوجیوں اور پولیس والوں پر فائرنگ نہیں کی گئی تھی؟ کیالال مسجد کے لوگوں اورمدرسہ حفصہ کی طالبات نے گن پوائنٹ پر اسلام آبادکویرغمال نہیں بنایاتھا؟انہوں نے سی ڈی شاپس پر توڑپھوڑ کی، مساج سینٹرپر کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کواغوا کرکے تشدد کانشانہ بنایا۔کاریں چلانے والی عورتوں کوماراپیٹا،کاروں کو توڑا، آخریہ کونسااسلام ہے؟انہوں نے کہاکہ مولانا عبدالعزیز بہادر ہوتاتو بہادروں کی طرح جام شہادت نوش کرتا، بزولوں کی طرح برقعہ پہن کرکیوں بھاگتا ؟ لال مسجد سے خودکش حملوں کادرس دیا گیا ، بزرگان دین کاکونسامزارہے جسے ان دہشت گردوں نے دہشت گردی کانشانہ نہ بنایا ہو ۔ انہوں نے سوال کیاکہ مسجد تو عبادت کی جگہ ہے اس میں اسلحہ کاکیاکام ہے؟ انہوں نے کہاکہ جامعہ حفصہ کی طالبات کا وڈیو پیغام سوشل میڈیا پرموجود ہے جس میں انہوں نے داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کومسلمانوں کاخلیفہ قراردیتے ہوئے پاکستان میں داعش کی خلافت قائم کرنے کی بات کی۔انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اورآئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اخترسے اپیل کی کہ ایسے تمام مدرسے جہاں لوگوں کودہشت گردی، خودکش حملوں، بم دھماکوں اورمذہبی اقلیتوں کومارنے کادرس دیاجاتاہو انہیں بند کرایا جائے، جب تک ایسے تمام مدرسوں کوبندنہیں کرایاجائے گااس وقت تک پاکستان سے طالبان اوردہشت گردی کاخاتمہ نہیں ہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مذہبی انتہاپسنددہشت گردوں نے ملک میں مساجد، امام بارگاہوں،بزرگان دین کے مزارات کو اڑادیا ، کوئٹہ میں اہل تشیع افرادکوشناخت کرکے قتل کیاگیا، انکے گلے کاٹے گئے،عیسائیوں،سکھوں اوردیگرمذہبی اقلیتوں کوقتل کیاگیا،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرہندوؤں، سکھوں ، عیسائیوں،احمدیوں،پارسیوں اوردیگرمذہبی اقلیتوں کو پاکستان میں رہنے کاحق نہیں توکیا مسلمان پاکستانیوں کوبرطانیہ، امریکہ اوریورپ میں رہنے کاحق ہے؟اگرآپ غیرمسلموں سے پاکستان میں رہنے کا حق چھینیں گے اورجواب میں امریکہ ، برطانیہ اوریورپ کے ممالک نے وہاں آبادمسلمانوں کونکال دیاتوکیاوہ غلط ہوں گے؟جناب الطا ف حسین نے اجتماع میں موجود تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہم میں کوئی سنی ،شیعہ، دیوبندی،بریلوی ، مسلمان ، ہندو،عیسائی،سکھ نہیں بلکہ ہم سب پاکستانی ہیں اورہمیں اس وقت متحد ہوکرپاکستان کودہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے ایک ہونا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن شروع کیا، آج پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحدہوگئی ہے تواس میں جنرل راحیل شریف بہت بڑاہاتھ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے عوام اورعلمائے کرام سے ا پیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ جنرل راحیل شریف کاساتھ دیں کیونکہ وہی طالبان،القاعدہ اورداعش کابہادری سے خاتمہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ میں کب سے دعاکررہاتھاکہ کمال اتاترک کی طرح کوئی جنرل آگے آئے اورملک کوبہتری کی طرف لے جائے۔انہوں نے جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ملک کے نظام کی کمان سنبھال لیں اورملک میں ایسانظام قائم کردیں کہ دہشت گردی کامکمل خاتمہ ہواورسب امن سے رہ سکیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، ڈیموکریسی چاہتے ہیں، یہ ڈیموکریسی بھی اسلام کی پیداوارہے جوشورائی نظام کی شکل میں اسلام نے دیا۔جناب الطاف حسین نے آخرمیں دعاکرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے تمام لوگوں کوایک کردے ، ملک کومضبوط ومستحکم کرے، جوگمراہ لوگ ہیں ان کونیک ہدایت دے اورجن کی اصلاح نہیں ہوسکتی پاکستان کوایسے لوگوں سے پاک کردے۔انہوں نے شہیدوں کیلئے بھی دعائے مغفرت کی ۔
 
     

12/4/2016 8:27:26 PM