Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے خلاف دیئے گئے متعصبانہ بیان کے خلاف سندھ کے عوام اپنے پرامن احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک سندھ اسمبلی حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور نہیں کرلیتی، ڈاکٹر فاروق ستار


حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے خلاف دیئے گئے متعصبانہ بیان کے خلاف سندھ کے عوام اپنے پرامن احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک سندھ اسمبلی حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور نہیں کرلیتی، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 2/24/2013
حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے خلاف دیئے گئے متعصبانہ بیان کے خلاف سندھ کے عوام اپنے پرامن احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک سندھ اسمبلی حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور نہیں کرلیتی، ڈاکٹر فاروق ستار 
پیپلزپارٹی اور پیر مظہرالحق کی سوچ کو تعلیم کی مقدس وزارت بھی تبدیل نہیں کرسکی ، وسیم آفتاب 
پیر مظہر الحق اور پیپلزپارٹی سن لے کہ ہم حیدرآباد میں یونیورسٹی قائم کرکے رہیں گے ، اشفاق منگی 
جناب الطاف حسین نے سندھی عوام کی آواز پر نہ صرف لبیک کہا بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا ہے ، ہیر اسماعیل سوہو 
کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیوایم کے زیرا ہتمام سندھ کے وزیرتعلیم پیر مظہر الحق کے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے 
متعصبانہ بیان کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء سے خطاب 
کراچی ۔۔۔24، فروری 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے خلاف دیئے گئے متعصبانہ بیان کے خلاف سندھ کے عوام اپنے پرامن احتجاج کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک سندھ اسمبلی حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور نہیں کرلیتی۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اگر حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل جلد پیش نہیں کیا گیا تو ہم عہد کرتے ہیں کہ یہ احتجاجی مظاہرین سندھ اسمبلی کی طرف مارچ کریں گے اور سندھ میں نفرت پیدا کرنے والے نام نہاد سیاستدانوں کو یونیورسٹی کے قیام پر مجبور کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈی نینس کے بلدیاتی نظام کا قانون برائے 2012ء ایم کیوایم کے حکومت سے نکلنے سے پہلے دنیا کا بہترین قانون تھا اور ایم کیوایم کے حکومت سے نکلتے ہیں اس نظام میں ساری خرابیاں نکل آئیں ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی شام ایم کیوایم کے زیراہتمام کراچی پریس کلب پر پیر مظہر الحق کے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے مخالفانہ بیان کے خلاف منعقد بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں نوجوانوں ، بزرگوں ، خواتین ، طلبہ و طالبات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔ احتجاجی مظاہرے سے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان وسیم آفتاب ، اشفاق منگی اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی ہیر اسماعیل سوہو نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، رابطہ کمیٹی کے اراکین ، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ اگر سندھ کی تقسیم کی سازش کو ناکام بنانا ہے تو پھر کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور ہوجانا چاہئے ، یہ بل پیپلزپارٹی نہ لائی تو کل سندھ اسمبلی ایم کیوایم حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کا بل پیش کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ کل کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ناخواندگی کی شرح باعث شرم ہے اور ایسی شرمناک صورتحال میں سندھ کے وزیر تعلیم کا متعصبانہ بیان علم دشمنی ہے ، تعلیم دشمنی ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسا عمل سندھ دشمنی اور پاکستان دشمنی بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان سے پاکستان پیپلزپارٹی کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوا ہے اور پاکستان کے عوام اب واضح طور پر یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ جمہوریت کی آڑ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء کیا عزائم رکھتے ہیں وہ سندھ و پاکستان کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کراچی کے بعد سندھ کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے ، حیدرآباد سیاسی شعور رکھنے والے علم و ادبی اور تعلیم سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے اور آج پورا سندھ چاہے وہ شہری سندھ ہو یا دیہی سندھ ہو وہ سراپا احتجاج ہے ، صرف کراچی اور حیدرآباد میں یہ مظاہرے نہیں ہورہے ہیں بلکہ لاڑکانہ ، جیکب آباد، خیر پور ، ٹھٹھہ ، بدین میں سندھ دبھر میں سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیرتعلیم کی طرف سے تو یہ اعلان ہونے چاہئیں کہ ہم سندھ بھرمیں سینکڑوں یونیورسٹیاں بنائیں گے ، تعلیمی درستگاہوں کا جال پھیلائیں گے ، علم کے چراغ جلائیں گے مگر یہاں علم کے چراغ گل کئے جارہے ہیں، جہالت کے اندھیروں کو فروغ دیاجارہا ہے ، ستم بالائے ستم یہ کہ اسے جمہوریت قرار دیاجارہا ہے یہ کس قدر آمرانہ ذہنیت ، غیر جمہوری طرز عمل ہے ، ہم تو تعلیم کیلئے لیاری کے عوام کو بھی سینے سے لگایا ۔اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے حیدرآباد یونیورسٹی کا بل سندھ اسمبلی سے منظور کرانے کیلئے سندھ اسمبلی کو مجبور کرنے کی قرار داد بھی پیش کی جسے احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء نے ہاتھ بلند کرکے منظور کرلیا ۔رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم آفتاب نے کہا کہ سندھ کے دانشور فیصلہ کریں کہ سندھ کے حقوق کے لئے قربانیاں کس جماعت نے دی ہیں، ایم کیوایم اورجنا ب الطاف حسین نے سندھ دھرتی کو اکٹھا کرنے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا ، پیپلزپارٹی اور پیر مظہرالحق کی سوچ کو تعلیم کی مقدس وزارت بھی تبدیل نہیں کرسکی ۔ پیپلزپارٹی کہتی ہے کراچی کے وسائل سندھ کے ہیں، یہاں کی ہر شے سندھ میں شمار کی جاتی ہے لیکن اسی شہر کی تعلیم و ترقی کیلئے پیپلزپارٹی نے شہر کو کچھ نہیں دیا ، پانچ سال کے دور اقتدار میں یہاں کے عوام کو نوکریاں تک نہیں دیں ۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا نام تبدیل کرکے سندھ بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی رکھ کر تعصب کو ہوا دی گئی اگر یہ سمجھا جارہا کہ کراچی کے وسائل پرقبضہ کرکے شہر کراچی کے عوام کو دیوار سے لگا دیاجائے گا تو یہ سراسر بھول کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن اشفاق منگی نے کہا کہ آج کا تاریخی اجتماع پوری دنیا دیکھ رہی ہے ، آج الطاف حسین کی تعلیمات نے سندھ کے سپوتوں کو نفرتوں سے نکال محبتوں کے درمیان اکٹھا کردیا ہے ، پانچ سالوں میں پیپلزپارٹی نے سندھ دھرتی کو کوئی ایک پروجیکٹ نہیں دیاجو سندھ کے عوام کے مفاد میں ہو ۔ پیپلزپارٹی نے دیہی علاقوں میں اسکول و کالج نہیں بننے دیئے جبکہ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی حکومت آئی تو پورے سندھ میں یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے قائم کریں گے ، پیر مظہر الحق اور پیپلزپارٹی سن لے کہ ہم حیدرآباد میں یونیورسٹی قائم کرکے رہیں گے ۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر سوہو نے کہاکہ جب جب سندھ کے خلاف سازش ہوئی ہے تو قائد تحریک جناب الطاف حسین نے سندھی عوام کی آواز پر نہ صرف لبیک کہا بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا ہے ، حیدرآباد جناب الطاف حسین کے چاہنے والوں کو شہر ہے اسی لئے صوبائی وزیر تعلیم نے متعصبانہ بیان دیا ہے ۔
 
سندھ کے وزیرتعلیم کے متعصبانہ بیان پرمشترکہ طورپرپرامن احتجاج کرنے پر سندھ کے شہری اوردیہی عوام کوالطاف حسین کی زبردست مبارکباداورخراج تحسین
اب سندھ کے عوام کو ایک دوسرے سے لڑانے اور ایک دوسرے کے خلاف کرنے کی تمام سازش ناکام ہوگی۔الطاف حسین
سندھ کی تقسیم ہرگزنہیں ہوگی ،ان کااتحادمضبوط سے مضبوط تر ہوتارہے گا۔الطاف حسین
لندن ۔۔۔ 24 فروری 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے سندھ کے وزیرتعلیم کے متعصبانہ بیان پرمشترکہ طورپرپرامن احتجاج کرنے پر سندھ کے شہری اوردیہی عوام کوزبردست مبارکباداورخراج تحسین پیش کی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج سندھ کے شہری اوردیہی عوام نے صوبائی وزیرتعلیم کی جانب سے دیئے گئے متعصبانہ بیان پر مشترکہ طورپر پرامن احتجاج کرکے ثابت کردیاکہ اب سندھ کے عوام کو ایک دوسرے سے لڑانے، انہیں ایک دوسرے کے خلاف کرنے کی تمام سازش ناکام ہوگی ، سندھ کی تقسیم ہرگزنہیں ہوگی ،سندھ کے شہری اوردیہی عوام کے درمیان ہرگزرتے دن کے ساتھ ماضی کی غلط فہمیوں کاخاتمہ ہوتارہے گا ،ان کااتحادمضبوط سے مضبوط تر ہوتارہے گا اورسندھ کے عوام برسوں سے جاری فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کاخاتمہ کردیں گے۔
 
سندھ کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے حیدرآباد میں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت اور متعصبانہ بیان کے خلاف ایم کیوایم کے زیر اہتمام سندھ سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں منعقد کئے گئے 
احتجاجی مظاہروں میں مجموعی طور پرلاکھوں شرکاء شریک ہوئے ، شرکاء نے متعصبانہ بیان کے خلاف زبردست نعرے بازی کی 
ڈاکٹر فاروق ستار نے حیدرآباد یونیورسٹی کا بل سندھ اسمبلی سے منظور کرانے کیلئے سندھ اسمبلی کو مجبور کرنے کی قرار داد بھی پیش کی جسے احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء نے ہاتھ بلند کرکے منظور کرلیا
مرکزی احتجاجی مظاہرہ کراچی میں منعقد ہوا ، حیدرآباد ، سکھر ، میر پور خاص ، لاڑکا، کشمور سمیت سندھ بھر کے پریس کلبوں پر احتجاج مظاہروں کا انعقاد 
کراچی ۔۔۔24، فروری 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام سندھ کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کی جانب سے حیدرآباد میں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت اور متعصبانہ بیان کے خلاف اتوار کے روزسمیت سندھ بھر کے پریس کلبوں کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں نوجوانوں ،بزرگوں ، خواتین ، طلبہ و طالبات ، اساتذہ کرام ، ایم کیوایم کے ذمہ داران و کارکنان سمیت عوام نے مجموعی طور پر لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی ۔ احتجاجی مظاہروں کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم کے پرچموں کے علاوہ پلے کارڈ اور بینرز ٹھا رکھے تھے جن پر پیر مظہر الحق کے متعصبانہ بیان کے خلاف مذمتی کلمات ، نعرے اور مطالبات جلی حروف میں درج تھے جبکہ احتجاجی مظاہروں کے شرکاء حیدرآباد میں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کے مخالفانہ بیان کے خلاف زبردست نعرے بازی کرکے اپنے شدید ردعمل اور غم و غصہ کا اظہار کرتے رہے ۔مظاہروں کے شرکاء نے ’’تعلیم دشمن ہائے ہائے ‘‘اور دیگر نعرے پرجوش انداز میں لگا رہے تھے۔ اس سلسلے کا مرکزی احتجاجی مظاہرہ کراچی پریس کلب پر ہوا جس سے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار ، رابطہ کمیٹی کے ارکان وسیم آفتاب ، اشفاق منگی ، حق پرست رکن سندھ اسمبلی ہیر اسماعیل سوہو نے بھی خطاب کیا اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین ، حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔ اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار نے حیدرآباد یونیورسٹی کا بل سندھ اسمبلی سے منظور کرانے کیلئے سندھ اسمبلی کو مجبور کرنے کی قرار داد بھی پیش کی جسے احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء نے ہاتھ بلند کرکے منظور کرلیااس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے علم دشمن مردہ باد اور علم دوست زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے جن کا شرکاء نے بھر پور جواب دیا ۔ ایک موقع پر ڈاکٹر فاورق ستار نے واضح کیا کہ اگر کسی نے حیدرآباد کے عوام کو تعلیم کے حق سے محروم کیا تو سندھ کے عوام ایسے عناصر کو حق حکمرانی سے محروم کردیں گے ۔ کراچی کے علاوہ اندرون سندھ میں ایم کیوایم کے حیدرآباد ، میر پور خاص ، سکھر ، سانگھڑ ، ٹنڈو الہ یار ، جامشورو ، عمر کوٹ ، ٹھٹھہ ، بدین ، گھوٹکی ، خیر پور ، نوشہرو فیروز ، دادو ، لاڑکانہ ، قمبر شہداد کوٹ ، شکار پور کشمور اور جیکب آبادزون کے زیراہتمام پریس کلبوں پر احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے جن میں علم دوست عوام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ 
 
 پیرمظہرالحق نے حیدرآبادمیں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کااعلان کرکے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ
مؤرخین دیکھ لیں کہ اپنی نفرت ، متعصبانہ سوچ اوراقدامات کے ذریعے سندھ کوتقسیم کون کررہاہے ۔رابطہ کمیٹی 
پیرمظہرالحق کابیان سندھ کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ کھلی سندھ دشمنی ہے
شہری سندھ خصوصاًحیدرآباد سے کھلی نفرت اورتعصب پر مبنی ہے
لندن ۔۔۔ 23 فروری 2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی لندن کے ارکان نے سندھ کے وزیرتعلیم پیرمظہرالحق کی جانب سے حیدرآبادمیں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کے اعلان کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پیرمظہرالحق نے یہ بیان دیکرسندھ کی تقسیم کی بنیادرکھ دی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں رابطہ کمیٹی کے ارکان نے کہاکہ سندھ سے لوکل گورنمنٹ کے نظام کے خاتمہ کے بعدپیپلزپارٹی کے وزیرتعلیم پیرمظہرالحق کی جانب سے یہ کہناکہ وہ حیدرآبادمیں سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں ہونے دیں گے اوریونیورسٹی کے قیام کی راہ میں آہنی دیواربن جائیں گے ،شہری سندھ خصوصاًحیدرآباد سے کھلی نفرت اورتعصب پر مبنی ہے اوریہ بیان دیکرپیرمظہرالحق نے خودہی سندھ کی تقسیم کی بنیادرکھ دی ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ مؤرخین دیکھ لیں کہ اپنی نفرت اور متعصبانہ سوچ اوراقدامات کے ذریعے سندھ کوتقسیم کون کررہاہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ پیرمظہرالحق کابیان سندھ کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ کھلی سندھ دشمنی ہے ۔
 
وزیر تعلیم کس طرح کہہ سکتے ہیں یونیورسٹی نہیں بننے دو ں گا ان کو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں سیکڑوں یونورسیٹیاں بناؤں گاوزیر تعلیم کا بیان اچھنبے کی بات ہے ، فیصل سبزواری
کیا پیپلزپارٹی کی حکومت حیدر آباد کو سندھ کا حصہ نہیں سمجھتی اور کیا حکومت نے سندھ کی تقسیم کے منصو بہ عمل پر شروع کر دیا ہے ؟
کراچی ۔۔۔24، فروری 2013ء 
حق پرست رکن سند اسمبلی فیصل سبزواری نے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے بیان پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم کس طرح کہہ کہتے ہے کہ یونیورسٹی نہیں بننے دونگا انکو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں سیکڑوں ،یونیورسٹیاں بناؤنگا ، وزیر تعلیم کا بیان اچھنبے کی بات کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر کو سرکاری یونیورسٹی سے محروم کرنا صرف سیاسی بنیاد پر کسی کی نسل و زبان دیکھ کر سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ہیں۔ انہوں نے جو لوگ صبح و شام سندھ و ایک کرنے کی دعوئے کر تے ہیں در حقیقت یہی وہ رویہ ہے جو سندھ کے باسیوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دے رہا ہے۔ میں سندھ کا باسی ہونے کے ناطے میں شرمندہ ہورہاہوں کہ میرے وزیر تعلیم یہ بات کہہ رہے ہیں پاکستان کی سول سوسائٹی ،میڈیا اور عدلیہ سیاسی جماعتیں سب دیکھیں کہ یہ وہ کونسی سوچ ہے ۔ جو میرے دوسرے بڑے شہر لاکھوں کی آبادی کے شہر کو سرکاری یونیورسٹی سے محروم کرنے پر فخر ارو دعویٰ کررہے ہیں ۔ کہتے ہیں لوہے کی دیوار بنوں گا پھر لوہے کو لوہا کاٹتا ہے پھرلوگوں کا عزم لوہے جیسے ہو جائے گا اور لوگ کہنے گے سندھ کے چپے چپے میںیونیورسٹی بنائیں گے یہ وہ لو گ ہے جو اسکولوں میں اوطاق بنتاہے غریب مزارے ،غریب بچوں کو پڑھنے نہیں دیتے ہیں سندھ کا ہر بچہ پڑھے گا توسندھ آگے جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ کیا پیپلزپارٹی کی حکومت حیدر آباد کو سندھ کا حصہ نہیں سمجھتی اور کیا حکومت نے سندھ کی تقسیم کے منصو بہ عمل کر شروع کر دیا ہے ؟پیپلزپارٹی سندھ کی شہری عوام کو اعلی تعلیم کے حق محروم کرکے عوام کی دشمنی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے بیان پر افسوس ہوا ہے میرے صوبے سرکاری یونیورسٹی سے محروم کرنے کی باتیں ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کل تک لوکل گورنمنٹ2012ایکٹ بہترین نظام تھا اب اچانک انہیں ایم کیوایم کے ہٹنے کے بعد اسمیں خرابیاں نظر آنے لگی ہے ا ور اب حید آباد کے شہریوں کو سرکاری یونیورسٹی سے محروم کیا جانا ان کے عزائم بتارہاہے اور جس طرح میں نے پہلے کہا کہ سندھ کے باسیوں کو چاہے دہی اور شہری تقسیم کی بجائے آپس میں قریب آجائیں ۔ وزیر تعلیم کا یہ بیان سندھ کی تقسیم کے مترادف ہے ۔ 
 
پیرمظہر الحق کی جانب سے سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت پر اے پی ایم ایس او کا اظہار مذمت
پیرمظہرالحق کابیان سندھ کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ کھلی سندھ دشمنی ہے
کراچی ۔۔۔24، فروری 2013ء 
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈ نٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کابینہ نے وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق کے حیدرآبادمیں سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کے اعلان کی شدیدالفاظ میں مذمت کر تے ہوئے اعلان کو سندھ کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ کھلی سندھ دشمنی قرار دیا ہے۔ اراکین مرکزی کابینہ نے کہاکہ صوبائی وزیر تعلیم نے انتہائی متعصبانہ بیان دے کر نہ صرف سندھ کے اردو بولنے والے سندھیوں اور سندھی بولنے والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کی کوشش کی ہے بلکہ حیدرآباد کے ہزاروں طلبہ و طالبات کی دل آزاری بھی کی ہے جس پر پیر مظہر الحق کو اہلیانِ حیدرآباد سے معافی مانگنی چاہیے۔ اراکین مرکزی کابینہ نے کہا کہ پیر مظہرالحق کا بیان صد فیصد جاگیر دارانہ ، وڈیرانہ نظام اور حاکمانہ نظام کی حامل سوچ کا عکاس ہے جو نہیں چاہتی کہ پاکستان اور بالخصوص سندھ میں باشعور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حقِ حکمرانی میسر آئے۔ اراکین مرکزی کابینہ نے کہا کہ بانی و قائد تحریک نے 34 سال قبل اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھ کر حاکمانہ، وڈیرانہ وجاگیردارانہ نظام کے خلاف جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا وہ آج بھی جاری ہے اور پاکستان کے ایک ایک نوجوان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اورانہیں با اختیاربنانے تک جاری رہے گی۔ اراکین مرکزی کابینہ نے کہاکہ وہ حیدر آباداور سندھ کے تمام شہری علاقوں میں یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولز بنانے اور غیر فعال تعلیمی اداروں کو فعال بنانے تک اپنی جد وجہد جاری رکھیں گے۔اراکین مرکزی کابینہ نے مطالبہ کیا کہ حیدر آباد سمیت سندھ بھر ، پنجاب ،خیبرپختونخواہ، بلوچستان ،گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر سمیت ہر ضلع میں سرکاری یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولز قائم کیے جائیں کیونکہ جب پاکستان کا ہر ایک نوجوان پڑھے گا توپاکستان آگے بڑھے گا۔
 
پاکستان فلاح پارٹی کے صدر قاضی عتیق الرحمن کی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک اور مرکزی رہنما ارشاد کمالی سے ملاقات 
قاضی عتیق الرحمن نے پاکستان فلاح پارٹی کے زیر اہتمام 3مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ایم کیوایم کو شرکت کی دعوت دی 
کرپٹ سیاسی کلچر اور اسٹیٹس کو کے خاتمے کی جدوجہد کے سبب ہی ایم کیوایم کو مختلف سازشوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، گلفراز خان خٹک 
ملک میں حقیقی تبدیلی کی خواہش رکھنے والے تمام لوگ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب دیکھ رہے ہیں، قاضی عتیق الرحمن 
کراچی ۔۔۔24، فروری 2013ء 
پاکستان فلاح پارٹی کے صدر قاضی عتیق الرحمن نے اپنے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایم کیوایم کے مرکزخورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد کا دورہ کیا اور ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک اور مرکزی رہنما ارشاد کمالی سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر ایم کیوایم ہزارہ آرگنائزنگ کمیٹی کراچی کے انچارج شکیل عباسی اور دیگر اراکین بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں قاضی عتیق الرحمن نے پاکستان فلاح پارٹی کے زیر اہتمام 3 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ایم کیوایم کو شرکت کی دعوت دی ۔اس موقع پررابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک نے قاضی عتیق الرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں برسوں سے رائج فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور سردارانہ نظام کے خاتمے کے بغیر غریب و متوسط طبقے کے عوام کی قسمت نہیں بدلی جا سکتی جبکہ ایم کیوایم واحد جماعت ہے جو ملک سے جاگیر دارانہ نظام ،کرپٹ سیاسی کلچر اور اسٹیٹس کو کے خاتمے کی عملی جدوجہد کررہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹ سیاسی کلچر اور اسٹیٹس کو کے خاتمے کی جدوجہد کے سبب ہی ایم کیوایم کو مختلف سازشوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ ایم کیوایم کے پیغام حق پرستی کو ملک بھر کے عوام میں فروغ پانے سے روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین کا فکر وفلسفہ مظلوم عوام کے معیار زندگی کو بلند کرکے ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کرنا ہے ۔ ملاقات میں قاضی عتیق الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کی خواہش رکھنے والے تمام لوگ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب دیکھ رہے ہیں اور ملک میں حقیقی اور مثبت تبدیلی کیلئے ایم کیوایم کا کردار نہ صرف مثالی ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلاح پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا نظریہ اور مقصد یکساں ہے اور دونوں ہی ملک کے غریب و متوسط طبقے کے افراد کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں اور ان کی شرکت اور شمولیت کو ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ 
 
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مصطفےٰ لاکھانی ایڈووکیٹ کی وفد کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کنور نوید جمیل اور گلفراز خان خٹک سے ملاقات 
مصطفے لاکھانی ایڈووکیٹ نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام 27فروری اور 3تا4مارچ کو منعقدہ ’’کراچی امن کانفرنس اور ’’امن واک ‘‘ میں ایم کیوایم کو شرکت کی دعوت دی
کراچی ۔۔۔24، فروری 2013ء 
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مصطفےٰ لاکھانی ایڈووکیٹ ، نائب صدر مولوی یوسف ایڈووکیٹ اور ملیر بار ایسوسی ایشن کے صدر اشرف سموں نے گزشتہ روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کنور نوید جمیل اور گلفراز خان خٹک سے ملاقات کی اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام 27فروری اور 3تا4مارچ کو منعقدہ ’’کراچی امن کانفرنس اور ’’امن واک ‘‘ میں ایم کیوایم کو شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مصطفےٰ لاکھانی ایڈووکیٹ نے’’کراچی امن کانفرنس ‘‘ اور ’’امن واک‘‘ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور رابطہ کمیٹی کے ارکان کو اس میں شرکت کا دعوت نامہ پیش کیا ۔ ملاقات میں رابطہ کمیٹی کے ارکان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائدتحریک جناب الطاف حسین ملک کی بقاء و سلامتی کیلئے شہر کراچی کے امن کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور امن و امان کی بحالی کیلئے سنجیدہ کوششیں اور عملی اقدامات کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں ۔قبل ازیں رابطہ کمیٹی کے ارکان نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی کے وفد کی خورشید بیگم سیکریٹریٹ آمد کا خیر مقدم کیا اور کراچی میں ’’امن کانفرنس ‘‘ اور امن واک ‘‘ کے انعقاد کو سراہا ۔
 
ویڈیو سیکشن کے رکن محمد اشفاق کی والدہ محترمہ عالیہ بیگم کے انتقال پر جناب الطاف حسین کااظہار افسوس
لندن۔۔۔24، فروری 2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے ویڈیو سیکشن کے رکن محمد اشفاق کی والدہ محترمہ عالیہ بیگم انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس اظہار کیا ہے ۔ ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے محمد اشفاق سمیت مرحومہ کے تمام سو گوار لواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی اظہار کر تے ہوئے انہیں صبر کی تلقین۔ انہوں نے کہاکہ دکھ اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان آپ کے غم میں برا بر کے شریک ہیںَ ۔ انہوں نے دعا کی االلہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردس میں ا علیٰ مقام عطا فرمائے اور سو گوار لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ (آمین)دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ویڈیو سیکشن کے رکن محمد اشفاق کی والدہ محترمہ عالیہ بیگم کے انتقال پر دکھ اور افسوس اظہار کر تے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے 

12/4/2016 10:14:11 AM