Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دہشت گردوں سے محلوں ، بازاروں اور اسکولوں کے تحفظ کیلئے ہر شہر ، محلے اور بازار میں چوکیداری اور الارم سسٹم کا نفاذ کیاجائے ، الطاف حسین


دہشت گردوں سے محلوں ، بازاروں اور اسکولوں کے تحفظ کیلئے ہر شہر ، محلے اور بازار میں چوکیداری اور الارم سسٹم کا نفاذ کیاجائے ، الطاف حسین
 Posted on: 12/19/2014
دہشت گردوں سے محلوں ، بازاروں اور اسکولوں کے تحفظ کیلئے ہر شہر ، محلے اور بازار میں چوکیداری اور الارم سسٹم کا نفاذ کیاجائے ، الطاف حسین 
بہتر حکومت اور امن و عامہ کے قیام کیلے فی الفور پارلیمنٹ سے بل پاس کر کے نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس یا نئے صوبے بنائے جائیں ، الطاف حسین 
ملک بھر میں فی الفور بلدیاتی الیکشن کراکر بلدیاتی نظام نافذ کیاجائے اور ہر شہر میں مقامی افراد کو پولیس میں بھرتی کیاجائے، الطاف حسین 
کراچی ۔۔۔19، دسمبر2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے دہشت گردوں سے محلوں ، بازاروں اور اسکولوں کے تحفظ کیلئے ہر شہر ، محلے اور بازار میں چوکیداری نظام نافذ کئے جائیں اور الارم سسٹم لگائے جائیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں فی الفور بلدیاتی الیکشن کراکر بلدیاتی نظام نافذ کیاجائے اور ہر شہر میں مقامی افراد کو پولیس میں بھرتی کیاجائے ۔اقلیتی برادری کو تحفظ کیلئے اسلحہ لائسنس جاری کئے جائیں ۔ وہ جمعہ کی شب ایم اے جناح رو ڈتبت سینٹر پر سانحہ پشاور کے معصوم شہداء اور افواج پاکستان سے اظہا ریکجہتی کیلئے منعقد ہ ریلی کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چوکیداری کیلئے جو کمیٹیاں بنائی جائیں گی تو اس میں ایک محلے سے اگر چار چار آدمی ڈیوٹی دیں گے تو بارہ دن بعد ان کا نمبر دوبارہ آئے گا، جیسے ہی کوئی دہشت گرد، اسٹریٹ کرائم والا ڈاکو ، چور داخل ہوتے دیکھیں فوراً الارم بجا دیں تاکہ سب لوگ گھروں میں تیار ہوجائیں اورچور ڈاکو یا دہشت گرد کو بھاگنے نہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی دس کروڑ ہے ، پانچ کروڑ آبادی سندھ کی ہے اتنی بڑی آبادی کو ایک آئی جی ، چھوٹی سی پولیس کنٹرول نہیں کرسکتی اور اس کے ذریعے امن و عامہ کا قیام ناممکن ہے لہٰذا بہتر حکومت اور امن و عامہ کے قیام کیلے فی الفور پارلیمنٹ سے بل پاس کر کے نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس یا نئے صوبے بنائے جائیں ۔

12/7/2016 2:20:14 PM