Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے، الطاف حسین


آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے، الطاف حسین
 Posted on: 12/19/2014
آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے، الطاف حسین
کالعدم تنظیموں اور ان کی حامی جماعتوں کے خلاف بھی بھرپورکارروائی کی جائے، الطاف حسین
لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز کو گرفتارکیاجائے ،جامعہ حفصہ کو فی الفور بند کیاجائے اور منافقین کی آماجگاہ لال مسجد کو ڈھا دیا جائے، مسلح افواج ، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، رینجرز ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگراداروں سے مطالبہ
سانحہ پشاورکے شہداء کے مقدس لہو نے پورے پاکستان کو طالبان دہشت گردوں کے خلاف متحد کردیا ہے،الطاف حسین
یہ ایم کیوایم کی ریلی نہیں بلکہ قومی یکجہتی اورپورے پاکستان کی نمائندہ ریلی ہے، الطاف حسین
ایم کیوایم مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے ، الطاف حسین
جواہل تشیع کو کافر کہے وہ بھی غلط ہے اورجو صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرے وہ بھی غلط ہے، الطاف حسین
سانحہ پشاور کے شہداء اور مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کیلئے تبت سینٹر کراچی میں عظیم الشان ریلی کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب
لندن۔۔۔19،دسمبر2014ء
وڈیو حصہ پہلا   حصہ دوسرا  حصہ تیسرا
تصاویر     ۱      ۲
تفصیلات
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے پاکستان کی مسلح افواج ، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، رینجرز ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے اورکالعدم تنظیموں اور ان کی حامی جماعتوں کے خلاف بھی بھرپورکارروائی کی جائے ۔ انہوں نے حکومت اورمسلح افواج سے مطالبہ کیا کہ لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز کو گرفتارکیاجائے ،جامعہ حفصہ کو فی الفور بند کیاجائے اور منافقین کی آماجگاہ لال مسجد کو ڈھا دیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ پشاور کے شہداء اور مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کیلئے تبت سینٹر کراچی میں عظیم الشان ریلی کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی میں مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی انجمنوں، تاجروں، صنعتکاروں، فلم ،ٹی وی اور اسٹیج کے فنکاروں، تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام ، مشائخ عظام اور کراچی میں رہائش پذیرتمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی پاکستان کے انچارج قمر منصور ، اراکین رابطہ کمیٹی اور حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی ، ایم کیوایم کے ذمہ داران اور کارکنان نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی ۔ ریلی میں خواتین اور بچے بھی ہزاروں کی تعداد میں شریک تھے ۔ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہداء کے مقدس لہو نے پورے پاکستان کو طالبان دہشت گردوں کے خلاف متحد کردیا ہے،یہ ایم کیوایم کی ریلی نہیں بلکہ قومی یکجہتی اورپورے پاکستان کی نمائندہ ریلی ہے ۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے پیارے بچوں کے بچھڑجانے پر آپ دکھ اور صدمے کی جس کیفیت سے گزر رہے ہیں میں اس کا اندازہ کرسکتا ہوں۔ انہوں نے شرکاء سے کہاکہ وہ چند سیکنڈ کیلئے اپنی آنکھیں بند کرکے تصور کریں کہ شہید ہونے والوں میں اگر خدانخواستہ ان کے بیٹا ، بیٹی یا بھائی ہوتا تو ان کے دل پر کیاقیامت گزرتی۔اس موقع پر اجتماع کے شرکاء پر رقت طاری ہوگئی اور بیشتر افراد کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سفاک طالبان دہشت گردوں نے پشاوراسکول میں آرمی افسران اور جوانوں کے بچوں کو علیحدہ کرکے جس بے رحمی سے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے اس پر ہم ان دہشت گردوں کو درندے کہتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے محلوں اور اسکولوں کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کردیں گے لیکن سفاک درندوں کو بھی زندہ نہیں رہنے دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگرپاکستان کو بچانا ہے تو ملک کو طالبان دہشت گردوں سے نجات دلانی ہوگی اور طالبان کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ کر ختم کرنا ہوگا۔ میں مسلح افواج ، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، رینجرز ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے کہتا ہوں کہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے اورکالعدم تنظیموں اور ان کی حامی جماعتوں کے خلاف بھی بھرپورکارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ دین اسلام سلامتی ، امن ، پیار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ، اسلام کے معنی ہی سلامتی کے ہیں ،جوعناصر اسلام کا نام لیکر بے گناہ انسانوں حتیٰ کہ معصوم بچوں کو سفاکیت اور درندگی کا نشانہ بنائیں اوراپنی خودساختہ شریعت کلاشنکوف اورڈنڈے کے زور پرزبردستی دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کریں انہیں مسلمان قرارنہیں دیاجاسکتا۔ انہوں نے ریلی کے شرکاء سے دریافت کیا کہ آپ کو اسلام چاہیے یا طالبان کی خودساختہ شریعت ؟ جس پر شرکاء نے بلند آواز سے کہاکہ’’اسلام‘‘ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ طالبان کی حمایت کرنے والا اسلام آباد کی لال مسجد کا مولوی عبدالعزیز کہتا ہے کہ جب بمباری ہوگی تو اس کا ردعمل بھی کیاجائے گا اور بچوں کو بھی قتل کیا جائے گا، ملاعبدالعزیز نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ جامعہ حفصہ کی طالبات کا تعلق داعش سے ہے ۔حکومت اور مسلح افواج سے میرا مطالبہ ہے کہ ملاعبدالعزیز کو فی الفور گرفتارکیا جائے ، جامعہ حفصہ کو بند کیاجائے اورمنافقین کی آماجگاہ لال مسجد کو ڈھادیا جائے ۔ 
اس موقع پر جناب الطاف حسین نے قرآن مجید کی مختلف آیات خصوصاً سورۃ المنافقون ، انکے ترجمے اور تفسیر کے علاوہ سورۃ المنافقون کے نزول کا پس منظر اور منافق عبداللہ بن ابعی کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے نام پر مسلمانو ں کو لڑانے اور زمین پرفساد کرنے والے مکار منافقین ہیں، ان منافقین کی لمبی لمبی داڑھیاں اور لمبے بال ہوتے تھے اورانہوں نے خود کومسلمان ثابت کرنے کیلئے مسجد ضرار بنائی ہوئی تھی۔ عیسوی کیلنڈر کے مطابق 630 میں اکتوبرکے مہینے میں جنگ تبوک سے واپس آنے کے بعد سرکاردوعالم ؐ نے مسجد ضرار کو ڈھانے کا حکم دیا ۔انہوں نے مزیدکہاکہ لال مسجد بھی مسجد ضرار کا نمونہ ہے لہٰذا اسے فی الفور ڈھادیا جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے ، آج بھی ہمارے ملک میں کچھ ایسی تنظیمیں ہیں جو ’’شیعہ کافر، جونہ مانے وہ بھی کافر‘‘کے نعرے لگاتی ہیں اور بعض مدارس میں معصوم بچوں کویہی نفرت انگیز درس دیاجاتا ہے اسی طرح کچھ تنظیمیں خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیقؓ ، حضرت عمرفاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ کی شان میں گستاخی کرتی ہیں جوکہ انتہائی قابل مذمت ہے ، جواہل تشیع کو کافر کہے وہ بھی غلط ہے اورجو صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرے وہ بھی غلط ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیاکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ مسلک کے اعتبار سے خوجہ اثناء عشری شیعہ تھے ، وہ مسلمانوں کی آپس کی ناچاکیوں کے باعث برطانیہ چلے گئے تھے تو ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے انہیں خط لکھ کرمنایا کہ اس وقت ہمارا سامنا انگریزوں سے ہے اور اس وقت مسلمانوں کو ایک پڑھے لکھے لیڈر کی ضرورت ہے جس پر قائداعظم واپس آگئے اورانہوں نے دوبارہ مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی، قائداعظم زیادہ ترانگریزی میں خطاب کیاکرتے تھے لیکن اس کے باوجود عوام ان کا خطاب سناکرتے تھے
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پانچ بڑے امام گزرے ہیں لیکن کسی نے کسی کوکافرنہیں کہا، ہمیں بھی حق نہیں پہنچتاکہ ہم کسی کوکافرکہیں۔سورہء فاتحہ میں ہے کہ ’’تمام تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے لئے جوتمام جہانوں کارب ہے ، جورحمان بھی ہے اوررحیم بھی ہے، جویوم حشرکامالک ہے‘‘۔ کون جنت میں جائے گا،کون جہنم میں جائے گااس کافیصلہ اللہ تعالیٰ کرے گا، انسان نہیں کرے گا۔لہٰذاجوشیعہ کوکافر کہے وہ غلط ہے ،اسی طرح جوسنی کوکافر کہے وہ غلط ہے۔شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں۔مسلم ،سکھ ، عیسائی، احمدی، پارسی سب بھائی بھائی ہیں، ہمیں کسی سے فقہ ، مسلک یامذہب کی بنیادپر نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے طالبان ،القاعدہ اوردیگر دہشت گردوں کے خلاف بھرپورجراتمندانہ کارروائی کرنے پرپاک فوج، فضائیہ ، نیوی ،ایف سی، رینجرز ، دیگرپیراملٹری فورسز ،پولیس اوردیگراداروں کو سیلوٹ پیش کیا۔جناب الطاف حسین نے انکشاف کیاکہ لال مسجد اوراس سے متصل جامعہ حفصہ اورایسے ہی بعض مدرسوں میں طالبان اورداعش کی ٹریننگ ہورہی ہے اورلوگوں کوٹرینڈکرکے دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے بھیجاجارہاہے۔ان مراکزکاخاتمہ کئے بغیرملک سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی لہٰذا ایسے مدرسے اورمسجدوں کوڈھادیاجائے۔انہوں نے کہاکہ ایک اورمذہبی جماعت ایسی ہے جواپنے آپ کواسلامی جماعت کہتی ہے اورالیکشن میں بھی حصہ لیتی ہے،اس کے گھروں سے القاعدہ کے بڑے بڑے رہنماگرفتارہوئے۔اس مذہبی جماعت کے سابق امیرنے بھرے جلسہ میں کہاکہ ’’ ملک میں قتال فی سبیل اللہ کے کلچرکوعام کیاجائے ‘‘ ۔اس نے ملک کوبچانے کی جنگ میں جانیں دینے والے پاک فوج کے شہید افسران اور جوانوں کوہلاک اورطالبان دہشت گردوں کوشہیدقراردیا۔ اسی جماعت کے موجودہ امیرنے بھی اپنی جماعت کی پالیسی کے تحت پاک فوج کے افسران اور جوانوں اورشہریوں کے قتل عام اوردہشت گردی میں ملوث ایک طالبان دہشت گرد کی نمازجنازہ میں شرکت کی۔جناب الطاف حسین نے عوام سے سوال کیا کہ کیا آپ طالبان دہشت گردوں کی حامی اس منافق جماعت کاساتھ دیں گے؟ اس پر عوام نے ایک آوازہوکرجواب دیا’’ نہیں ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ ایک اور رہنما ہیں جن کانام تاریخ میں ’’ناکام ترین دھرنا لیڈر‘‘ کی حیثیت سے یاد رکھاجائے گا،یہ رہنما آخروقت تک طالبان سے مذاکرات کی تسبیح پڑھتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ جولوگ اللہ اوراس کے رسولؐ کی تعلیمات کے بر خلاف زمین پر فسادبرپاکریں، مسجدوں،امام بارگاہوں،اسکولوں اوربازاروں پر حملے کریں،معصوموں کاخون بہائیں،قرآن میں ایسے لوگوں کی سزاہے کہ وہ یاتوقتل کردیئے جائیں یاسولی پر چڑھادیئے جائیںیاملک سے باہرنکال دیے جائیں۔ ایسے لوگوں کیلئے دنیامیں ذلت اوررسوائی ہے ۔انہو ں نے کہاکہ جومعاونت کرے گا اورمنافقت کرے گااوریہ کہے گاکہ منافقوں سے مذاکرات کرو ایسے لوگوں سے ملک کوپاک ہوناچاہیے۔میں یہی کہوں گاکہ خدارامنافقوں اورطالبان سے مذاکرات کی بات کرکے بچوں سے دشمنی نہ کریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان آرمی، آئی ایس آئی اورایم آئی کے بڑے بڑے پالیسی سازوں کی توجہ اسی طرف دلاناچاہتاہوں کہ خدارا اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کوتلاش کریں کیونکہ جس طرح نیول بیس، کامرہ ایئربیس، جی ایچ کیو اوردیگردہشت گردحملوں میں دہشت گردوں کواندرسے سپورٹ حاصل تھی اسی طرح یہ اطلاعات ہیں کہ پشاورمیں آرمی پبلک اسکول میں حملے میں بھی دہشت گردوں کواندرسے سپورٹ ملی تھی اورکچھ سرکاری اہلکاردہشت گردوں سے ملے ہوئے تھے جنہوں نے دہشت گردوں کی رہنمائی کی اورانہیں اندرسے اسلحہ دیا۔ انہوں نے مسلح افواج کی قیاد ت سے اپیل کی کہ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کرائیں کہ فوج ، دیگرسیکوریٹی فورسزاورپولیس میں کون کون سے لوگ دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں، سیکوریٹی فورسزکوان عناصر سے پاک کیاجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ طالبان ہمارے اپنے لوگ ہیں،بگڑے ہوئے بچے ہیں،ان سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں اچھے اوربرے طالبان میں فرق کرناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ شیطان شیطان ہوتاہے،اچھایابراشیطان کیاہوتاہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ طالبان انسانیت کے دشمن ہیں، پاکستان کے دشمن ہیں، دشمن دشمن ہوتاہے اچھایابراکیاہوتاہے۔جناب الطا ف حسین نے عوام سے سوال کیاکہ جوسیاسی ومذہبی جماعتیں اوررہنما بالواسطہ یابلاواسطہ طالبان کی سپورٹ کرتے ہیں کیاآپ ان کے ساتھ جائیں گے؟کیاآپ ان کاساتھ دیں گے؟ اس پر عوام نے بھرپورجواب دیا’’ ہرگزنہیں‘‘ ۔ انہوں نے انتہائی دردمندانہ لہجے میں کہاکہ خدارا اپنے بچوں کوطالبان دہشت گردوں اوران کے حمایتوں سے بچاؤ ورنہ یہ پشاورکے واقعہ کی طرح تمہارے بچوں کوبھی ماردیں گے۔خدارااپنے مستقبل کے معماروں کوان کی طرف نہ جانے دواوراپنے آپ کوطالبان کے حامیوں سے الگ رکھو۔جناب الطا ف حسین نے اسلام آبادمیں تمام تردھمکیوں کے باوجود لال مسجد کے باہر انتہاپسند عناصرکے خلاف بھرپوراحتجاجی مظاہرہ کرنے پرسول سوسائٹی کے ارکان کوزبردست خراج تحسین پیش کیااورکہا کہ پورے پاکستان میں ایسے ہی جذبے کی ضرورت ہے۔جناب الطاف حسین نے ملک بھرکے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کی روک تھام اوراپنے اپنے علاقوں،محلوں اوربازاروں کے تحفظ کے لئے اپنی مددآپ کے تحت نیبرہوڈ واچ سسٹم نافذکریں،الارم سسٹم لگائیں اورچوکیداری سسٹم کے تحت چارچارلوگ ڈیوٹی دیں۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملک کی تمام مذہبی اقلیتوں کوتحفظ فراہم کیاجائے۔ تاجروں، ٹی وی اینکرز، رپورٹرز،کیمرہ مینوں اوردیگرصحافیوں اوراساتذہ کواسلحہ لائسنس جاری کئے جائیں،پولیس کی نفری میں اضافہ کیاجائے ، پولیس میں میرٹ کی بنیادپر بھرتی کی جائے ،لوکل پولیسنگ ہواورہرشہرمیں مقامی پولیس ہو،فی الفورلوکل باڈیزالیکشن کراکے لوکل باڈیز سسٹم نافذکیاجائے۔بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بہترحکمرانی اورامن عامہ کے قیام کے لئے فی الفورپارلیمنٹ سے بل پاس کرکے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اورصوبے قائم کئے جائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج کراچی کے عوام نے اتنابڑامظاہرہ کرکے ثابت کردیاکہ وہ صرف کراچی کے باشندے ہیں اوران کی متفقہ جماعت ایم کیوایم ہے۔ جناب الطا ف حسین نے چندگھنٹوں کے مختصرنوٹس پرشاندارریلی کے انعقادپر ایم کیوایم کے کارکنوں کوزبردست خراج تحسین اورپیارپیش کیا۔



12/6/2016 12:00:39 PM