Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نجی چینل سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی بات چیت


 Posted on: 12/18/2014
سب سے پہلے سانحہ پشاور آرمی پبلک اسکول میں جو ہوا اُس کی تمام لواحقین سے ، اُ نکے اہل خانہ ، اہل محلہ ، احباب ورشتے داروں سے اور پوری پاکستانی قوم سے دلی تعزیت کرتا ہوں، کل سے لیکر آج تک میرے ساتھی اور میں خود بھی سوئے نہیں ہیں ، ہم دعائیں کررہے ہیں، آنسو بہا رہے ہیں اور اِس پر بیانات یا انٹرویو ز جو دے رہے ہیں اور اقوام متحدہ سے لیکر یورپ اور امریکہ سمیت تمام کو اس اندوہناک، دردناک ، بچوں کی بیدردی سے شہادتوں اورجواُن کی پرنسپل کو جلا کر علیحدہ کیا گیااس پر خطوط لکھ رہے ہیں ۔ 
اینکر پرسن اعجاز احمد صاحب آپ کے پاس مجھ سے زیادہ اطلاعات ہیں لیکن جو میری اطلاعات ہیں اسکے مطابق میں اگر آپ اجازت دیں تو اپنی اطلاعات کے مطابق کچھ عرض کرتا ہوں ۔۔۔دیکھئے میری اطلاع یہ بھی ہے کہ جیسے جی ایچ کیو ، کامرہ ائیر بیس، نیول بیس ، ایف آئی اے بلڈنگ ، آئی ایس آئی بلڈنگ ، پولیس چوکیوں ، چیک پوسٹوں پر حملے کرکرکے آئی ایس آئی کی بسوں پر اور اُنکے افسران اور سپاہیوں کو جوانوں کو بیدردی سے اِ ن نام نہاد ظالم طالبان نے جو اسلام کا نام لے کرحملے کرکے شہید کیا وہ سب کے سامنے ہے لیکن جو آرمی اور آئی ایس آئی کو کرنا چاہئے تھا بد قسمتی سے انہوں نے کیا تو لیکن وہ نہیں کرسکے جو آج موجودہ آرمی کی اور آئی ایس آئی کی قیادت کررہی ہے کہ آج خدا کا فضل ہے کہ پاکستان آرمی کو ایک بہادر جرنیل کی صورت میں جنرل راحیل شریف ملا اور آئی ایس آئی کا بیباک بہادر جنرل رضوان اختر کی شکل میں ملا جنہوں نے شمالی وزیرستان میں کاروائی کی جہاں کسی اور جرنیل کو ہمت نہیں ہوئی لیکن راحیل شریف صاحب نے کہاکہ جو آئے دن لڑکے لڑکیوں کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز پر ، نمازیوں پر مساجدوں پر ، امام بارگاہوں پر مزارات پر بازاروں میں گلیوں میں شہروں میں مختلف جگہوں پر بم پھوڑ کر دہشت گردی پھیلا کر اپنی خود ساختہ شریعت نافذ کروانا چاہتے ہیں جنھیں نہ اسلام اجازت دیتا ہے نہ آئین اور ہی قانون تو ہم ایسے دہشت گردوں کا صفایا کریں گے، اگر کسی اور نے یہ ایکشن جو کرنے چاہئے تھے وہ نہیں کیے تومیں کروں گا اور اِس بہادر جرنیل نے یہ ایکشن کیا فوج مقابلہ کررہی ہے ، فوجی افسران شہید ہورہے ہیں اور جوان تو شہید ہوتے ہی ہیں لیکن جرنیل اور بڑے بڑے افسر شہید نہیں ہوتے لیکن اس مربتہ جوانوں کے ساتھ فوجی جرنیل اور افسران بھی شہید ہورہے ہیں ۔ جنرل راحیل شریف شمالی وزیرستان کے کئی دورے کرچکے ہیں اور وہ چوبیس چوبیس گھنٹوں میں سے زیادہ گھنٹے اِ سی طالبان سے نجات دلانے اوردہشت گردوں سے پاکستان کو پاک کرنے میں صرف کررہے ہیں تو ہمارا دکھ اور غم ابھی سانحہ پشاور میں جو ہوا ہے اُس سے ہلکا نہیں ہوا تھا کہ ایک اور افسوسناک غمناک ، المناک اطلاع آئی کہ آج چنیوٹ ڈسٹرکٹ کے ایم کیوایم کے سینئر نائب صدر سید اصغر عباس جعفری کو دہشت گردوں نے بیدردی سے شہید کردیا ، سید اصغر عباس جعفری عشاء کی نماز پرھنے جارہے تھے کہ پاکستانی وقت کے مطابق شام تقریباً7:45بجے کے وقت دو دہشت گرد موٹر سائیکل پر آئے اوران پر جدید ہتھیاروں سے بے دریغ گولیاں برسائیں، ایک گولی اُن کے سر پر لگی ، ایک گولی سینے میں دل کے قریب لگی باقی پورے جسم پر لگیں جس کی وجہ سے انہیں اسپتال لے جانے تک کاموقع نہ اور وہ موقع پر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے ، دم توڑ گئے (انا اللہ وانا الہ راجعون )۔
آپ کے چینل کے ذریعے میں پنجاب اور پاکستان کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ 18جون 2014ء کو دہشت گردوں نے اسی طرح لاہور سے ممبر قومی اسمبلی اور سینئر پارٹی رہنما طاہرہ آصف باجی کوبیدردی سے شہید کیا جسے حکومت نے نجانے کن لوگوں کو پکڑ کر پہلے ڈکیتی کی واردات قرار دیا پھر لین دین کا جھگڑا قرار دیا اور آج تک اس کا پتہ نہیں چلا اُ سکے بعد سیالکوٹ ڈسٹرکٹ ایم کیو ایم کے نائب صدر باؤ محمد انور کو جنہوں نے محنت مزدوری کرکے نئی دکان بنائی تھی ، چھوٹی سی TAKE AWAYبنائی تھی ، Bar-B-Qیا عربی شوارمہ کی وہ اُس دکان پر کام کررہے تھے اور دو روزقبل سعودی عرب سے آنے والے اپنے بھائی کو دکان دکھا رہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار تین دہشت گرد آئے اور اُن پر گولیاں برسا کر 9دسمبر 2014ء کے دن بیدردی سے شہید کردیا ۔ اس شہادت کو بھی موجودہ حکومت پنجاب نے لین دین کا جھگڑا قرار دیکر اصل دہشت گردوں کو چھپالیا اور آج 17دسمبر 2014ء کو شام 7:45سید اصغر علی جو چنیوٹ ڈسٹرکٹ کے سینئر نائب صدر تھے اُن پر مسلح دہشت گردوں نے حملہ کرکے انہیں بھی شہید کردیا ۔ اس طرح سات ماہ کے دوران صوبہ پنجاب میں ایم کیوایم کے تین سینئر ترین رہنماؤں کو بیدردی سے قتل کیا گیا۔صوبہ پنجاب میں ایم کیوایم کے رہنماؤں کو چُن چُن کر قتل کیاجارہا ہے اور موجودہ حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اب کل پشاور کے افسوسناک واقعے کے بعد اب ہر فرد کی نگاہ جرنیل راحیل شریف پر لگی ہوئی ہے اور آئی ایس آئی کے چیف جرنیل رضوان اختر سے بھی پاکستان کے شہری اُمید رکھتے ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں یعنی اب مطالبے براہ راست آرمی سے ہورہے ہیں کہ کوئی ٹھوس اقدامات کرے اور پورے ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کیلئے مزید ٹھوس اقدامات کرے کیوں کہ موجودہ حکومت تو انتہاپسند مذہبی جماعتوں کو فنانس کرتی ہے ، اُنکو سپورٹ کرتی ہے اور موجودہ حکومت طالبان کو سپورٹ کرتی ہے ، اُن کا نام لیناتک گوارہ نہیں کرتی ۔میں پوچھنا چاہتا ہوں جنرل راحیل شریف صاحب سے کہ آپ اتنے بہادر جرنیل ہیں آپ موجودہ وزیراعظم سے آئین کے مطابق تو مِل گئے ہیں لیکن کیا آپ کی ایجنسیوں نے آپ کو رپورٹ نہیں دی کہ یہ تو اندر سے خود طالبان ہیں ۔ کل جنہوں نے حملہ کیا اُن کے لئے موجودہ حکومت نے کونسا احتجاج کیا؟ آج پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلا کر خانہ پری کی ہے اور اس پھس پھسے اجلاس میں کہا کہ ایک ہفتے میں کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ تو جناب کون سی کمیٹی ؟؟؟ یہاں بچے معصوم مرگئے آپ کے بیٹے سفر پر نکلتے ہیں تو ہیلی کاپٹر اور بیس بیس گاڑیاں ان کی حفاظت کیلئے ہوتی ہیں ۔ نو سو پولیس والے آپ کے گھر کا گھیراؤ کرکے اسکی حفاظت کرتے ہیں یہ معصوم بچے جو کل شہید کیے گئے چلئے ایم کیوایم سے تو آپ کو نفرت ہے لیکن اہل تشعیوں کے خلاف لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ ، طالبان ، داعش یہ تو کھلے دشمن ہیں اہل تشعیوں کے تو اُن کو سپورٹ کون کرتا ہے ؟ موجودہ حکومت کے لوگ انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کو اگر اہل تشعیوں کو قتل کرانا ہے لبرل اور سیکولر جماعت کے لوگوں کو قتل کرانا ہے تو آرمی کو حکم دیں کہ سارے جو ترقی پسند جماعتوں کے لوگ ہیں پرو گریسو اور ڈیمو کریٹک مائنڈڈ جو مذہبی انتہاء پسندی نہیں چاہتے انھیں ختم کردیں۔ اور ایک بات یہ بتائیں کہ مذہبی جماعتیں سیاست میں کیوں ہیں ؟ مذہبی جماعتوں کا کام تبلیغِ دین اور تبلیغِ اسلام ہے ۔ ان کا سیاست سے کیا تعلق ہے یہ سیاست میں کیوں آتے ہیں؟ اب تو ایک ایک پاکستانی جیسا میں نے کہا وہ آرمی والوں سے کہہ رہا ہے کہ آرمی والو! خدا کیلئے تم ہی اب تم سے ہی آس ہے تم سے ہی امید ہے تم ہی قوم کا واحد سہارا رہ گئے ہو آؤ شہریوں کی مال وجان کا تحفظ کرو اور ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرو۔میں نہیں کہہ رہا جناب! یہ ایک ایک پاکستانی کہہ رہا ہے میں صوبہ پنجاب میں چنیوٹ میں جو سید اصغر عباس جعفری کو جوشہید کیا میں ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں میں ان کے محلے والوں سے اور صوبہ پنجاب میں کل ہم ویسے ہی پشاور کے شہید بچوں ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کی بہیمانہ شہادتوں پر یوم سوگ منا رہے ہیں لہذا کل چنیوٹ سمیت پورے پنجاب میں سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ سیاسی قیادت کے متحد ہونے کا مطلب اپنے اقتدار اور اپنی اپنی پوزیشنوں کو بچانا ہے۔ سیاسی اتحاد تو ڈرامہ ہے اس واقعے نے اصل میں پوری قوم کو سچے پاکستانیوں کو پاکستان سے سچی محبت کرنے والوں کو متحدہ کردیا ہے ان معصوم بچوں کے لہو نے پورے پاکستان کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں ، بوڑھوں کو متحدکردیا ہے اور پوری قوم ایک ہی مطالبہ اور آس امید آرمی سے لگائے بیٹھی ہے کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔تو یہ سیاسی جماعتیں مجبور ہیں، جیسے عمران خان صاحب نے بچیوں کو بیٹیوں کارکنان کوٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا کہ اُن پر الزامات بھی لگے لیکن اُ س کے باوجود وہ آتی رہیں انہیں چھوڑ کر کارکنوں کو چھوڑ کر بنی گالہ روانہ ہوگئے اوراپنے مفاد کے لیے انھوں نے نواز شریف سے مک مکا کرکے معاملہ طے کرلیاجبکہ کارکن روتے رہے یہاں تک کہ بے ہوش بھی ہوگئے۔ کارکنوں کیلئے اگر کوئی جماعت آواز اٹھانے والی ہے تو وہ صرف اور صرف متحدہ قومی موومنٹ ہے یا پھر اب متحدہ قومی موومنٹ سمیت ایک ایک شہری فوج کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آج موجودہ حکومت نے طے کیا ہے کہ ایک ہفتے میں کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ ارے بھائی تمام جماعتیں پوری پارلیمانی کمیٹی کے رہنما ممبران سب موجود تھے اور آپکے دائیں بائیں بیٹھے تھے، آپ کی صف میں تو وہ بھی بیٹھے تھے جو طالبان کی نماز جنازہ میں شریک ہوتے ہیں اگر یقین نہ آئے تو ہم فوٹو بھی روانہ کرسکتے ہیں آپ خود دیکھ لیجئے گا تو میں آپ کے چینل کے ذریعے یہ کہنا چاہتا ہوں، سچے پاکستانیوں کو16دسمبر 1971کو نئی نسل کو بتاتا ہوں کہ کیسے پاکستان علیحدہ ہوگیا تھا اور بنگلہ دیش بن گیاتھا۔ اب یہ باقی ماندہ پاکستان میں 16دسمبر کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں معصوم بچوں، اساتذہ اور عملے کے قتل کا جو سانحہ ہوا ہے تو وہاں دہشت گردوں نے پتہ ہے کیا کیا؟ کہا کہ آرمی والوں کے بچوں الگ ہوجاؤ۔ ہماراآپ سے کوئی جھگڑا انہیں ہے، وہ بیچارے معصوم بچے اُن کو کیا پتا تھا؟ وہ آرمی کے بچے الگ ہوگئے اُس کے بعد ایک ایک کو پکڑ پکر کر اُن کو گولیوں سے بھون ڈالا ، اُن کی پرنسپل کو جلا کر شہید کردیا ، اساتذہ کو شہید کیا عملے کے ارکان کو شہید کیا اورافسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے آئی ایس آئی کے جنرل رضوان اختر صاحب سے کہوں گا جس طرح نیول بیس اور جی ایچ کیو ،کامرہ ائیر بیس اور دیگر جہاں جہاںآرمی کی نیوی کی تنصیبات پر جو حملے ہوئے ہیں تو بعض اطلاعات ہیں کہ اندر کے لوگ بھی ملے ہوئے تھے۔مجھے افسوسناک اطلاع ملی کہ جیسے ہی دہشت گرد اسکول کے اندرداخل ہوئے تو اندراسکول میں کچھ لوگ اُن کی سپورٹ کررہے تھے۔ سپورٹ نہیں بلکہ انہیں گائیڈ کررہے تھے کہ اس راستے سے چلو اس کلاس میں چلو، ان کو معلوم تھا کہ آرمی والوں کے بچے کس کلاس میں زیادہ ہوں گے تو وہ وہاں وہاں لیکر جارہے تھے ۔ تو یہ بھی چیک کرنا بہت ضروری ہے کہ ہماری صفوں میں کون کون شامل ہیں؟ رضوان اختر صاحب ! میری بات کو منفی نہ لیں۔میں سچا پاکستانی ہوں ۔ غریب کا انقلاب چاہتا ہوں ،پاکستان کو کرپشن فری سوسائٹی دیکھنا چاہتا ہوں ، دہشت گردوں سے پاک جہاں ہماری ماں ، بہن ، بیٹی باعزت اور بلا خوف گھر سے نکل کر گھر کی ضروریات زندگی کا سامان کی خرید و فروخت کرسکے اور اگر ملازمت کررہی ہو تووہ کرسکے اور اس کی طرف کوئی میلی آنکھ اٹھنے والی نہ ہو۔ میں ایسا پاکستان جہاں ہر مذہب ، فقہے ، مسلک حتیٰ کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت ہو کسی مسلک سے تعلق رکھتا ہو ، جہاں کسی کو کافر کا خطاب نہ دیا جائے اور اگر کوئی غیر مسلم ہی کیوں نہ ہووہ پاکستان کا شہری ہے تو اس کو بھی سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا اختیار دینا چاہئے۔ میری مراد ۔۔۔احمدیوں سے ہے میں چھپاتا نہیں میں ڈرتا نہیں میں کوئی ایجنٹ نہیں ہوں لیکن احمدیوں کو کافر قرار دے دیا اب آپ اور کیا قرار دیں گے؟ اُن کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں ہیں وہ پاکستان کے شہری ہیں جنھیں آپ نے کافر قرار دے دیا اور کیا چاہئے اب پاکستان کے شہری ہیں پاکستان میں عیسائی بھی رہتے ہیں سکھ بھی رہتے ہیں معذور بھی رہتے ہیں پارسی بھی رہتے ہیں سب کو حق ہے پاکستان میں رہنے کا ۔ شعیاؤں کو بھی حق ہے اور اگر اہل تشعیہ بعقول کچھ مذہبی جماعتوں کے وہ مسلمان نہیں تو ہر پاکستانی بھی مسلمان نہیں، پاکستان اسلام کا قلعہ نہیں اس لئے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ بانی پاکستان اہل تشیع خوجہ اثناء عشری شیعہ تھے اوراگر میری بات کا کوئی انکار کردے تو میں انتظار میں بیٹھا ہوں کیونکہ مقدمے سے میری جان یہاں بھی نہیں چھوٹی ہے، میرا پاسپورٹ ملے اور میرے کیسوں کا فیصلہ یہاں جو بھی ہو مجھے پرواہ نہیں۔ میں پہلی فرصت میں ۔ میری رابطہ کمیٹی اور میرے لوگ اب کتنا ہی منع کرے مرنا ہے تو شہادت کی موت ۔ میں شہادت کی موت مرنا چاہتا ہوں، میں سرکار دوعالم ﷺ کے پیروں کی دھول ہوں، میں عاشق رسولﷺ ہوں ، میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی عزت ، حرمت ، تقدس کا قائل ہوں، میں اہل بیت پنج تن پاک اور اہل اولاد رسول ﷺ کی حرمت و تقدس کا قائل ہوں، یہ باتیں کسی کو بری لگتی ہیں تو میں کیا کروں میں سچ بولنے والا ہوں مجھے پاکستان میں ایسا پاکستان چاہئے جو قائد اعظم ؒ نے کہا کہ ’’Hindus are free to go to thier Temples, Cristens are free to go to thier churches, muslims are free to go to their mosque & Similarly any citizen belong to any religion they are allow to go freely to their worship places, places of worships.مجھے یہ پاکستان چاہئے یہ قائد اعظم نے کہا تھا اگر فلاں کافر فلاں کافر تو قائد اعظم کے بنائے ہوئے پاکستان کو آپ کیا کہیں گے ؟ قائد اعظم کو کیا کہیں گے جو وہ خوجہ عثنا عشری شیعہ تھے ان کی دو نماز جنازہ پڑھائی گئیں ایک مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی اور ایک شیعہ عالم نے پڑھائی کسی کو یقین نہ ہو تو تصدیق کرلیں میں تاریخ کا طالب علم بھی ہوں میں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اتنا پیغام آج پہلی مرتبہ آپ کے چینل کے توسط سے پاکستان کے شہریوں کوبتا نا چاہتا ہوں، میں مفتی شہر آگرہ حافظ واعظ امام جامع مسجد آگرہ اور مفتی شہر آگرہ مفتی محمد رمضان کا سگا پوتا ہوں اور اگر کسی کو شک ہے تو میں اس سے کہوں گا جائے آگرہ کی جامع مسجد اور آج بھی بچا کچا ریکارڈ جو بچ گیا ہے ،جاکے دیکھ لے میرے دادا کے ہاتھ کے لکھے ہوئے فتوں کو لیکن میرے دادا نے بھی نفرت پھیلانے کا درس نہیں دیا ۔ سرکار دو عالم ﷺنے کہا کہ جب جنگوں پر جاؤ تو دیکھو بچوں کو بچیوں کو عورتوں کو نقصان نہیں پہنچانا، میرے پیارے رسول ﷺ ان پر جان بھی قربان! اس نے تو منع فرمایا، تو یہ کیسے اسلام کانام لینے والے ہیں جو معصوم بچوں کو شہید کر رہے ہیں ، اللہ ان پر اپنا عذاب ناز ل کرے اور جو مذہبی اور سیاسی جماعت یعنی خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی حکومت ہے عمران خان نے ابھی تک طالبان کی مذمت تک نہیں کی۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے اب تک طالبان کا نام لے کر اسکی مذمت نہیں کی۔ انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے ، ان کی موجودگی میں آرمی کے معصوم بچوں کو شہید کیا گیا وہ بھی بیدردی سے، اساتذہ کو جلایا گیا انکی حکومت میں پھر بھی یہ نام لیتے ہوئے گھبرا رہے ہیں اور کچھ لو گ کہتے ہیں فوجی ہلاک ہوئے ہیں مذہبی جماعتیں جو ہیں وہ کہتی ہیں فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور طالبان شہید ہوئے ہیں ۔ایسے لوگ بھی آج کی نشست میں وزیر اعظم کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے جو طالبان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے ہیں۔ طالبان کمانڈر وں کے ساتھ حضور اعلیٰ یہ بات پاکستانیوں کو معلوم ہونا چاہئے ویسے بڑے ترقی پسند ہونے کی بات کرتے ہیں عمران خان صاحب لیکن طالبان کی مذمت کیوں نہیں کرتے ؟ مستقل کہتے ہیں میں ہوتا تو طالبان کے خلاف کبھی بھی آپریشن کی اجازت نہیں دیتا۔ کیوں؟؟؟ طالبان آپ کے رشتے دار ہیں کہ ان کو اجازت ہے کہ بچیوں کو ماریں، مساجد پر حملے کریں، لوگوں کا قتل عام کریں اور ان پر ایکشن نہ لیا جائے ؟؟؟ واہ واہ!!! ۔۔۔اور میں آ پ کے متعلق کیا کہتا آپ سے مراد عمران خان کے چاہنے والوں اور چاہنے والیوں کو سوچنا چاہئے ماؤ ں ، بہنوں ، بیٹیوں کو سوچنا چاہئے ، پاک افواج زندہ باد ۔۔۔ پاکستان کے شہری زندہ آبادجو متحدہو چکے ہیں آپ جاگ چکے ہیں آپ جاگ چکے ہیں میں تو دس سال سے چیخ رہا ہوں طالبا نائزیشن کے خلاف میرا مزاق اُڑایا گیا، میں پاکستان کو بچانا چاہتا ہوں 16دسمبرکو اللہ نے پھر وارننگ دی ہے کہ صحیح ہو جاو! لیکن ہم منافقت سے کام کر رہے ہیں ہم دہشت گرد وں کو دہشت گرد کہنے سے گھبراتے ہیں، ان کا نام لینے سے گھبراتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ باقی ماندہ پاکستان کو بچا لو۔ میں پاکستانیوں سے ا پیل کرتا ہوں کہ اگر تمہیں ایم کیو ایم اور الطاف حسین پسند نہیں ہیں اور تم اس کے ساتھ نہیں آنا چاہتے تو نہ آؤ ۔۔۔ساری پارٹیوں کو چھوڑ کر اپنی غریبوں کو ، پڑھے لکھے ، مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس لوگوں کی اپنی جماعت بنا لو مگر یہ Cleberatiesاور بڑے بڑے ناموں کے پیچھے مت بھاگو! الطاف حسین کی طرح کا کوئی لیڈر دیکھ لو جس کا کوئی نام نہ ہو جو ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کر کے اپنے خرچے چلاتا ہو ، میرے بھائیوں ایسی جماعتیں بنالو ! تو ورنہ آؤ ایم کیو ایم کے پرچم تلے جمع ہو جاؤ ، ہم پاکستان سے دہشت گردوں کو صاف کر یں گے، ہم لو ٹی ہو ئی دولت واپس لا ئیں گے، جنھو ں نے قوم کا پیشہ لو ٹا ہے انکے محلا ت کو ان ہی کی موجو د گی میں ہم قبضہ کر کے انھیں چھو ٹے چھوٹے مکا نا ت میں بھیج کر ان پرمقدما ت چلا ئیں گے اور انکے محلا ت کو اسکو ل کالج اور اسپتا ل بنائیں گے۔ یہ ہما را منشور ہے اے پا کستانیوں! میری آپ سے اپیل ہے مہربانی کرکے پا کستان کو بچالو! اکیلئے فو ج سب کچھ نہیں کر سکتی ۔نہیں کر سکتی اور مفتیان کرام سے بھی اپیل ہے کہ وہ عوام کے جذبا ت کی تسکین کی خا طر فتو ی با زی نہ کر یں میر ی طرح پہلے دن سے چنگھا ڑ کہ جسطرح کھل کر میں کل سے چلا رہا ہوں چیخ رہا ہو ں ٹیلی ویژن پر تو کوئی لیڈر اب تک اس طرح نہیں آیا کسی ما ئی کے لال میں ہمت نہیں ہے اور کسی ملک میں بیٹھ کر جہا ں اس پر مقدما ت بنے ہو ئے ہیں، اس پرتفتیش ہورہی ہے میں تو نہیں ڈرا،مجھے کبھی پکڑ کر لے جا ئیں میں بس شہا دت کی مو ت مر نا چاہتا ہو ں اللہ مجھے اتنا مو قع دے دے کہ میں پا کستان آجا ؤں واپس پھرچاہے مجھے ائیر پو رٹ پر ما ردیں ورنہ میں پا کستان آیا اور مجھے کام کر نے کی اجا زت ملی تو میں دکھا ؤں گا کہ بہا دری جرأت سچ کیا ہو تا اور منا فقت کیا ہوتی ہے۔ اے اللہ پا کستان کی حفا ظت فر ما، پاکستان کے لو گو ں میں محبت پید ا کر دے، تمام فر قوں میں مسلکو ں میں محبت پیدا کر دے دیو بندی بر یلو ی اہل حدیث یہ سب جتنے بھی ہیں ان میں محبت پید ا کر دے۔ دیکھیں چار امام گذرے جنھیں ہم بھی ما نتے ہیں جیسے سنی بھی ما نتے ہیں لیکن چار امام امام شافعی،امام مالک ،امام ابو حنفیہ ،امام حنبل اور شیعہ جو ہیں وہ امام جعفر صادقؓ کو تو ہم بھی مانتے ہیں تو یہ پا نچ امام ان کے ما ننے والے اپنے اپنے طریقے سے چلتے ہیں، جب چارو ں اما مو ں نے ، نہ امام حنبل نے ، نہ امام شافعی نے نہ امام مالک نے نہ امام ابو حنیفہ نے کسی امام کو کافر نہیں کہا تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کافر کہیں ان اماموں نے تو ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا ، نہ امام جعفرؓ نے کسی امام کو کافر کہا ، تو پھر کیسا جھگڑا سب ایک قرآن ایک رسول ﷺ ایک اللہ کو ماننے والے ہیں ، خدا کے واسطے آپس کے جھگڑے ، مسلک کے فرقوں کے جھگڑے بند کر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرو ، اسلام تو سلامتی کا مذہب ہے اسلام تو امن کاومذہب ہے ، اسلام تو غیر مسلموں کے ساتھ ظلم کرنے کا حتی کہ جانوروں کے ساتھ ظلم کرنے کا درس نہیں دیتا توکیوں ہم اسلام کو بدنام کر رہے ہیں؟ میں مطالبہ کرتا ہوں پاکستان کی آئی ایس آئی سے کہ سید اصغر عباس جعفری اور باؤ محمد انور سیالکوٹ کے اور لاہور کی میری بہن طاہرہ آصف شہید کے قاتلوں کی تحقیقا ت کرے اوروہ قاتلوں کی نشاندہی کرے کہ کسی حکومت نے قاتلوں کو تاحال نہیں پکڑا ہے ۔ جو نام نہاد جمہوری حکومت ہوتی ہے یہ جمہوریت ، جمہوریت کے دعویٰ کر تے ہیں نہ لوکل باڈی الیکشن کراتے ہیں نہ نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بناتے ہیں۔ سارے لوکل باڈی کے الیکشن آرمی جب حکومت کرتی ہے اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تب ہی وہ گلی گلی اختیار دیتی ہے ، ہر کسی کو کونسلر ، یوسی ناظم ، ٹاؤن ناظم کو مےئر کو کہ جاؤ خدمت کرو ، سڑکیں بناؤ، علاج کرو ، اسکول کھولو، ترقیاتی کام کرو یہ کیوں ڈرتے ہیں لوکل باڈی کا الیکشن کرانے سے آج تک کسی ، چلو بھائی ساری جماعتیں غلط پاکستان پیپلز پارٹی غلط ، مسلم لیگ غلط ، تو عمران خان صاحب آ پ تو بڑے جمہوریت پسند لگتے ہیں ، کے پی کے میں لوکل باڈی الیکشن کیوں نہیں کر وادیا؟آپ جواب دیں میں نے اب تک زبان بند کر رکھی تھی لیکن میں نے آج جو رونا دیکھا ہے تحریک انصاف کے کارکنوں کا بہنوں، بیٹیوں ، بچوں کا وہ مجھ سے دیکھا نہیں گیا اور کل جو ظلم ہواہے اس کا غم تھا اور سیداصغر عباس جعفری شہیدکا غم اور آج جو عمران خان نے نواز شریف سے مک مکا کر کے جب دھرنا ختم کیا تو بچے بچیاں ، بیٹے ،بیٹیاں تڑپے ہیں مچھلی کی طرح تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا لہٰذا مجھے بولنا پڑا۔ جتنی رپورٹیں کرنی ہیں کرلواور برطانیہ لے کر آجاؤ میرے خلاف ، میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا میں دن ٹی وی کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں بہت شکریہ ، بڑی مہر بانی ، آپ نے مجھے اتنا وقت دیا ۔



12/10/2016 6:14:50 PM