Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پھانسی کی سزا پر عملدرآمد پہلے بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث طالبان دہشت گردوں پر کیا جائے، الطاف حسین


پھانسی کی سزا پر عملدرآمد پہلے بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث طالبان دہشت گردوں پر کیا جائے، الطاف حسین
 Posted on: 12/17/2014
پھانسی کی سزا پر عملدرآمد پہلے بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث طالبان دہشت گردوں پر کیا جائے، الطاف حسین
اس فیصلے کو بنیاد بناکر سیاسی بنیادوں پر پھانسی دینے کا سلسلہ شروع نہ کیاجائے، الطاف حسین
طالبان دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے بجائے ایک بھی غلط پھانسی دی گئی تو حکومت کو عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑ ے گا
محکمہ پولیس میں ہنگامی بنیادوں پر مقامی افراد کو بھرتی کیاجائے اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے
کراچی سمیت ملک بھرکے پوش علاقوں کے عوام اپنے اپنے علاقوں میں یورپ اور برطانیہ کی طرز پر Neighbourhood watch scheme یا Neighbourhood watch system نافذکریں، الطاف حسین
پاکستانی قوم ،سانحہ پشاور کے معصوم شہداء کا لہورائیگاں نہیں جانے دے، الطاف حسین
پاکستانی قوم بن کر واضح کردیاجائے کہ خودساختہ شریعت جبراً مسلط کرنے والے طالبان دہشت گردوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے
رابطہ کمیٹی کے بعد میں ایم کیوایم کے تمام شعبہ جات کی تنظیم نو کروں گاتاکہ تحریک سے مفادپرست عناصر کو پاک کیاجاسکے
کراچی ، حیدرآباد اورپشاور میں سانحہ پشاور کے شہداء کی غائبانہ نمازجنازہ کے بعد اجتماعات کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔17،دسمبر2014ء
تصاویر
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے وزیراعظم محمد نواز شریف اور وفاقی حکومت پر زوردیا ہے کہ پھانسی کی سزا پر عملدرآمدپہلے بے گناہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث طالبان دہشت گردوں پر کیا جائے اوراس فیصلے کو بنیاد بناکر سیاسی بنیادوں پر پھانسی دینے کا سلسلہ شروع نہ کیاجائے ۔ زبانی جمع خرچ اوردکھاوے کے اجلاس نہ کیے جائیں بلکہ طالبان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے بھرپورلائحہ عمل بنایاجائے اور اس پر عمل بھی کیاجائے ۔
یہ بات انہوں نے بدھ کے روز کراچی ، حیدرآباد اور پشاور میں سانحہ پشاور کے شہداء کی غائبانہ نمازجنازہ کے بعد کارکنان کے اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کے دور میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا جس کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا پھر 1999ء میں نوازشریف کے دوسرے دورحکومت میں سندھ میں گورنرراج نافذ کرکے فصیح جگنوسمیت ایم کیوایم کے متعدد کارکنان کوماورائے عدالت قتل کیاگیا ۔ بحیثیت حکمراں ان ماورائے عدالت قتل کی ذمہ داری وزیراعظم نوازشریف پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ جب نوازشریف کی حکومت کو برطرف کیا گیا توانہیں بھی سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن امریکہ کے حکم پر انہیں خصوصی طیارے میں سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پھانسی کی قلم وزیراعظم نوازشریف پربھی لگتی ، وفاقی حکومت کی جانب سے سزائے موت پر پابندی ختم کرکے اگر سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل میں ملوث سفاک طالبان دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے بجائے ایک بھی غلط پھانسی دی گئی تو انہیں عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔ہم سویا ڈیڑھ سو دن دھرنے دینے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ 100 گھنٹوں میں کام کرجاتے ہیں یا کام آجاتے ہیں لہٰذا میں وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی کابینہ کو متنبہ کرتاہوں کہ سزائے موت کے فیصلے پرعملدرآمد سیاسی بنیادوں پرہرگز نہیں ہوناچاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے مساجد، امام بارگاہوں، مندروں، گرجاگھروں ، بازاروں ، اسکولوں اور قومی تنصیبات پر حملے کرکے قتل وغارتگری کرنے والے طالبان دہشت گردوں کو سزائے موت دے اس کے بعد ہرایک کیس کا جائزہ لیکر ایماندارانہ فیصلے کرے ۔حکومت، ملک کی جیلوں میں قید 15 سے 25 برسوں سے اسیری کی زندگی گزارنے والوں کی سزا کو یاتو عمر قید میں تبدیل کرے یا ان کی سزامیں کمی کرکے انہیں رہا کرے اورانہیں باعزت زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 20 کروڑ کی آبادی کو چار وزرائے اعلیٰ کے ذریعہ نہیں چلایاجاسکتا۔ صوبہ پنجاب کی آبادی11، کروڑ، صوبہ سندھ کی آبادی 5 کروڑ ہے جبکہ صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا میں چند ہزار پولیس اہلکاروں کے ذریعہ امن وامان قائم نہیں کیاجاسکتا۔ وقت کاتقاضا ہے کہ گڈگورننس کو یقینی بنانے کیلئے جراتمندانہ فیصلے کیے جائیں ۔ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیاکہ ملک میں بہترانتظام حکومت چلانے کی خاطر پورے پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے نئے صوبے بنائے جائیں اور ہرصوبے کے محکمہ پولیس میں مقامی افراد کو بھرتی کیاجائے جواپنے علاقے کے عوام کی نفسیات سے واقف ہوں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں چاہتے اورسندھ میں مل جل کررہنا چاہتے ہیں، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ محکمہ پولیس میں ہنگامی بنیادوں پر مقامی افراد کو بھرتی کیاجائے اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ۔ وزیراعلیٰ سندھ واضح الفاظ میں عوام کو آگاہ کریں کہ وہ کراچی میڈیکل اینڈڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کادرجہ دیناچاہتے ہیں یانہیں۔ انہوں نے کہاکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح وزیراعلیٰ سندھ نے بھی کراچی میں طالبان کی موجودگی کی مخالفت کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی کراچی میں ایسے علاقے جہاں طالبان دہشت گردوں کا تسلط قائم ہے اور وہاں پولیس داخل تک نہیں ہوسکتی ۔ جناب الطاف حسین نے ڈیفنس ، کلفٹن ، بہادرآباد، گلشن اقبال ، سوسائٹی کراچی سمیت ملک بھرکے پوش علاقوں کے مکینوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوام کی جان ومال کی حفاظت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر یورپ اور برطانیہ کی طرز پر Neighbourhood watch scheme یا Neighbourhood watch system نافذکریں۔ اگر انہوں نے میری باتوں پر توجہ نہیں دی خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ انہیں بھی سانحہ پشاور جیسی المناک صورتحال کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔ ملک بھرمیں عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پولیس کی نفری ناکافی ہے لہٰذا طالبان دہشت گردوں کی قتل وغارتگری اورجرائم پیشہ عناصر سے تحفظ کیلئے آپ کو اپنی مددآپ کے تحت چوکیداری نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ آپ اپنے علاقوں اور اپنے پیاروں کا تحفظ یقینی بناسکیں۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں اللہ تعالیٰ کی مدداور آپ ساتھیوں کے تعاون سے تحریک کو گندے لوگوں سے پاک صاف کرنے کا عمل جاری رکھوں گا۔اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ تمہارے الطاف بھائی آج بھی 24 گھنٹے دن رات جتناکام کرتے ہیں پاکستان کاکوئی لیڈر اتنا کام چاردن تک نہیں کرسکتا۔ میں نے رابطہ کمیٹی اور کراچی تنظیمی کمیٹی کو ختم کرکے نئی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ، روزانہ لال قلعہ گراؤنڈ میں کارکنان کے اجتماعات منعقد ہورہے ہیں جن میں کارکنان بہت بڑی تعداد میں شرکت کررہے ہیں اور لال قلعہ گراؤنڈ میں تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں ہے ۔ انشاء اللہ رابطہ کمیٹی کی تنظیم نو کے بعد میں ایم کیوایم کے تمام شعبہ جات کی تنظیم نو کروں گاتاکہ تحریک سے مفادپرست عناصر کو پاک کیاجاسکے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جومفاد پرست عناصر پیسہ بناکر سمجھتے ہیں کہ وہ آرام سے رہ سکیں گے تو میں انہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔ایم کیوایم کے نام پر بہت سے لوگوں نے اسائلم لیے اور مختلف ممالک کی شہریت حاصل کرکے اپنے بیوی بچوں کو اپنے پاس بلالیا اور تحریک کوچھوڑدیا۔ آج تحریک پر آزمائش کا وقت ہے لیکن انشاء اللہ ایک وقت آئے گا جب فیصلہ کرنے کااختیار ایم کیوایم کے پاس ہوگا اور مفاد پرست عناصر سے قانون کے مطابق نمٹاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میں قانون پسند شہری ہوں اور برطانیہ میں بھی اپنے خلاف مقدمہ کاقانونی طریقہ سے سامنا کررہا ہوں۔ پاکستان میں مجھے تین مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، مجھے جنرل ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ سے 9 ماہ قید اور پانچ کوڑوں کی سزاسنائی گئی لیکن میں نے معافی مانگ کر اپنی سزاختم نہیں کرائی بلکہ پوری سزا کاٹی اور آج برطانیہ میں بھی الطاف حسین کسی کے آگے سرنہیں جھکائے گا۔ جناب الطاف حسین نے سانحہ پشاور کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ پوری قوم کوچاہئے کہ وہ سانحہ پشاور کے معصوم شہداء کا لہورائیگاں نہیں جانے دے اورایک پاکستانی قوم بن کر واضح کردے کہ پاکستان میں خودساختہ شریعت جبراً مسلط کرنے والے طالبان دہشت گردوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام کارکنان کوسختی سے تلقین کی کہ وہ پیشہ وارانہ فرائض اداکرنے والے صحافیوں یاخاتون رپورٹرسے حسن اخلاق سے پیش آئیں اوران سے ہرگز بدتمیزی نہ کریں ، والدین ، بزرگوں ، اساتذہ اور خواتین کااحترام کریں اور خودکوسماجی برائیوں سے دوررکھیں۔


12/10/2016 10:08:53 PM