Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیراعظم نواز شریف، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دیگر رہنماء قتل وغارتگری میں ملوث سفاک طالبان دہشت گردوں کا کھل کرنام لیں، الطاف حسین


وزیراعظم نواز شریف، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دیگر رہنماء قتل وغارتگری میں ملوث سفاک طالبان دہشت گردوں کا کھل کرنام لیں، الطاف حسین
 Posted on: 12/17/2014
وزیراعظم نواز شریف، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دیگر رہنماء قتل وغارتگری میںملوث سفاک طالبان دہشت گردوں کا کھل کرنام لیں، الطاف حسین
وزیراعظم کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں بزدلی کامظاہرہ کرکے طالبان کا نام لینے سے گریز کیا گیا
وزیراعظم اورعمران خان طالبان دہشت گردوں کا نام نہ لیکر ایک مرتبہ پھر ان طالبان دہشت گردوںکا ساتھ دینے کا عمل کیوں کررہے ہیں؟
پارلیمانی پارٹیوں کا دوسرا سیشن یا تو بند کردیا جائے یا طالبان دہشت گردوں کا کھل کرنام لیاجائے
قوم ،طالبان دہشت گردوں کی کھل کرمذمت نہ کرنے والے سیاسی ومذہبی رہنماؤں سوشل بائیکاٹ کرے، الطاف حسین
اگر صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء ،صوبے کے عوام کو جان ومال کاتحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو سندھ کی حکومت ایم کیوایم کو دے دیں ،الطاف حسین
حکومت،ٹی وی چینلز اور اسکولوں کی حفاظت یقینی بنائیں ، اساتذہ اور میڈیا کے نمائندوں کو اسلحہ کے لائسنس جاری کیے جائیں
ملک وقوم اس وقت حالت جنگ میں ہیں ، اس وقت پوری قوم کو بہادری کامظاہرہ کرنا ہوگا ،الطاف حسین
عوام اپنی حفاظت کیلئے چوکیداری نظام قائم کریں اورمشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں، الطاف حسین
لندن۔۔۔17، دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور دیگر رہنماؤں پرزوردیا ہے کہ وہ ملک میں قتل وغارتگری میں ملوث سفاک طالبان دہشت گردوں کا کھل کرنام لیں اوربزدلی سے ہرگز کام نہ لیں۔ انہوں نے وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ٹی وی چینلز اور اسکولوں کی حفاظت یقینی بنائیں ، اساتذہ اور میڈیا کے نمائندوں کو اسلحہ کے لائسنس جاری کیے جائیں۔ یہ بات انہوں نے نجی ٹیلی ویژن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر سانحہ پشاور کے شہداء کے تمام لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز سانحہ پشاور کے موقع پر میں نے حکومت کی مخالفت کرنے کے بجائے نہ صرف اپنا تعاون پیش کیا بلکہ تجویز دی کہ طالبان دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آج وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹیوں کااجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی جانب سے بزدلی کامظاہرہ کیا گیا اور قتل وغارتگری میں ملوث طالبان کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تحریک طالبان پاکستان نے فخریہ انداز میں سانحہ پشاور کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جس میں معصوم طلباء ، پرنسپل اورعملے کے ارکان سمیت 148 افراد شہید ہوچکے ہیں تو پھر ہمیں طالبان دہشت گردوں کا نام لیتے ہوئے شرم اور خوف کیوں محسوس ہورہا ہے ؟ آپ طالبان دہشت گردوں کا نام نہ لیکر ایک مرتبہ پھر ان طالبان دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا عمل کیوں کررہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ پارلیمانی پارٹیوں کا دوسرا سیشن یا تو بند کردیا جائے یا قتل وغارتگری میں ملوث طالبان دہشت گردوں کا کھل کرنام لیاجائے اور ان کے گھناؤنے عمل کی کھل کر مذمت کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ اگر سیاسی ومذہبی رہنماؤں کی جانب سے طالبان دہشت گردوں کا نام لیکر مذمت نہیں کی جائے تو پھر قوم پر لازم ہے کہ وہ ایسے عناصر کا سوشل بائیکاٹ کرے۔ انہوں نے کہاکہ سفاک طالبان دہشت گردملک بھر میں معصوم وبے گناہ شہریوں کو اپنی سفاکی کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن وفاقی وصوبائی حکومتیں اور ان کے وزراء عیاشیوں میں مصروف ہیں ،جب قوم کے مستقبل ہی زندہ نہیں رہیں گے تو ہم ترقیاتی منصوبے اور بڑی بڑی سڑکوں کاکیاکریں گے۔ اگر لوگوں نے خوف کے باعث اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بند کردیا تو پھر قوم کا کیا مستقبل ہوگا؟بعض سیاسی ومذہبی رہنماء صرف پوائنٹ اسکورنگ کررہے ہیں لیکن وہ طالبان دہشتگردوں سے نجات کا حل نہیں بتارہے ہیں ۔ پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد پر پابندی ہٹائے جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کسی بھی بے گناہ کا قتل قابل مذمت ہے ، طالبان دہشت گرد وں کی جانب سے حملے کرکے سینکڑوں شہریوں کو شہید کیاجاچکا ہے اور گزشتہ روز سانحہ پشاور میں معصوم طلباء کو شہید کردیا گیا، دہشت گردی کے عمل میں ملوث عناصر کو جرم ثابت ہونے پر موت کے سوا کیا سزا دی جاسکتی ہے ، یہ عمل مجبوراً اٹھانا پڑرہا ہے لیکن حکومت کو خود بھی طالبان دہشت گردوں کی کھل کرمذمت کرنی چاہیے اور آرمی چیف کو یقین دلاناچاہیے کہ حکومت آپ کے ساتھ ہے آپ کو جو مدد درکار ہے ہم سے لو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف افغانستان کے دورے کے موقع پر ڈٹ کر افغان قیادت سے بات کریں گے اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر مولوی فضل اللہ کی حوالگی کی بات کریں گے ۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے قوم کودہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے اب تک جس طرح بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے اس پر پوری قوم کو مسلح افواج کا ساتھ دینا چاہیے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ خود غرض اور مطلبی عناصر مسلح افواج کے ساتھ ہوں یا نہ ہوں پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں لہٰذا صوبائی حکومتوں کو بھی بزدلی کے بجائے بہادری کامظاہرہ کرناچاہیے اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف بھرپورآپریشن کرنا چاہیے ۔ اگر صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء ،صوبے کے عوام کو جان ومال کاتحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو سندھ کی حکومت ایم کیوایم کو دے دیں ، ہم بہادری کا مظاہرہ کرکے سندھ دھرتی کو سفاک طالبان دہشت گردوں سے پاک کردیں گے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے ہیں اجلاسوں میں سیاسی ومذہبی رہنماؤں کی جانب سے طالبان دہشت گردوں کا نام لیکر کھل کران کی مذمت نہیں کی گئی اور بزدلی سے کام لیاجاتارہا تو ایسے تمام اجلاسوں کو جعلی اور قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کے سوا کچھ اور قرارنہیں دیاجاسکتا ، لہٰذا بے مقصد کانفرنس کے ڈرامے بند کیے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک جانب حکومت اور بعض سیاسی رہنماء طالبان دہشت گردوں کا نام لینے کو تیار نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب بعض اینکرپرسن اور تجزیہ نگار بھی طالبان دہشت گردوں کا نام لیتے ہوئے ڈراور خوف محسوس کررہے ہیں اور صرف لفظ دہشت گرد استعمال کررہے ہیں جوکہ کھلی منافقت ہے ۔ انہوں نے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ٹی وی چینلز ، اخبارات کے دفاتر اور اسکولوں کا تحفظ یقینی بنایاجائے ، میڈیا کے نمائندوں اور اسکولوں کے اساتذہ کو اسلحہ کے لائسنس دیئے جائیں ، محکمہ پولیس میں مزید بھرتیاں کی جائیں، پولیس کو جدیدترین اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جائیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک وقوم اس وقت حالت جنگ میں ہیں ، اس وقت پوری قوم کو بہادری کامظاہرہ کرنا ہوگا ،اب قوم پر اپنے بچوں کی حفاظت فرض ہوچکی ہے لہٰذا پاکستان کے ہرمحلہ اور گلی میں عوام اپنی حفاظت کیلئے چوکیداری نظام قائم کریں اور اپنے اپنے علاقے میں الارم سسٹم لگوائیں ،مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں اوراپنے اپنے علاقوں اور عوام کی حفاظت کریں۔
وڈیو   اےآروائی   سماء 


12/9/2016 3:20:02 PM