Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیراعظم ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے فی الفور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کرکے اجتماعی حکمت عملی ترتیب دیں۔ الطاف حسین


وزیراعظم ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے فی الفور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کرکے اجتماعی حکمت عملی ترتیب دیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/16/2014
وزیراعظم ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے فی الفور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کرکے اجتماعی حکمت عملی ترتیب دیں۔ الطاف حسین
آج 16 ،دسمبرہے اور اس دن پاکستان دولخت ہوا تھا ، ہمیں سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ آج ہی کے دن یہ حملہ کیوں اور کیسے ہوا؟
حکومت اور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو ملک وقوم پر زبردستی اپنی شریعت مسلط کرنے والوں سے ہمدردی کااظہارکرنے والوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے
جنرل راحیل شریف بہادر انسان ہیں جنہوں نے انتہاء پسند دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے جراتمندی کامظاہرہ کیا ہے
پوری قوم کو دہشت گردوں کے خاتمے کی جدوجہد میں پاک فوج کا بھرپورساتھ دینا چاہیے۔الطاف حسین
لندن۔۔۔16، دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی ، اسکول کے طلباء اور اساتذہ کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر شہید وزخمی کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ۔انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے فی الفور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کرکے دہشت گردوں کے خلاف اجتماعی حکمت عملی ترتیب دیں۔ منگل کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جناب الطاف حسین نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے کوقومی سانحہ قراردیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ملک میں عوام کی جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوتی ہے تاہم اسکے ساتھ ساتھ شہریوں اور ان کی نمائندہ جماعتوں کے بھی فرائض ہوتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پشاورمیں آرمی پبلک اسکول میں طالبان دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملے سے قبل پہلے اپنی گاڑی کو بم سے اڑایا پھر اندھادھند فائرنگ کرکے اسکول کے معصوم طلباء اور اساتذہ کو شہید وزخمی کردیا، اب تک کی اطلاعات کے مطابق 132 قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ یہ انتہائی المناک قومی سانحہ ہے ،آج 16 ،دسمبرہے اور اس دن پاکستان دولخت ہوا تھا ، آج ہی کے روز دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے پر ہمیں سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ یہ حملہ کیوں اور کیسے ہوا؟خیبرپختونخوا کی حکومت نے شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے کیا کیا اقدامات کیے اور مجھے تعجب ہے کہ آرمی پبلک اسکول میں کوئی حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث مسلح طالبان دہشت گرد باآسانی سے وہاں داخل ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ اساتذہ اور معصوم بچوں کے وحشیانہ اور سفاکانہ قتل پر دیگر دردمند دل رکھنے والوں کی طرح میرا دل بھی خون کے آنسو رورہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ شہید وزخمی ہونے والے میرے بھائی ، بیٹے اور بچے مجھ سے چھین لیے گئے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے اس قومی سانحہ پر حکومت کو اپنی ترجیحات کانئے سرے سے جائزہ لینا چاہیے اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام اموربالائے طاق رکھ کر فوری طور پر سیاسی ومذہبی جماعتوں کی گول میز کانفرنس طلب کریں اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف اس طرح اجتماعی حکمت ترتیب دیں کہ نہ صرف طالبان دہشت گردوں کے خلاف بھرپوراتحاد کامظاہرہ کیا جائے بلکہ ضرورت پڑے تو دہشت گردوں سے نبردآزمامسلح افواج کی مدد کیلئے ہرجماعت اپنے اپنے رضاکار مجاہدین بھی فراہم کرے ۔ انہوں نے کہاکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبرنہیں‘‘ ، اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتب اور احادیث میں کہیں یہ درس نہیں دیا گیا ہے کہ کوئی دہشت گردوں کا جتھہ بناکر جی ایچ کیو، نیول بیس، کامرہ بیس، دیگر سرکاری تنصیبات ،مساجد وامام بارگاہوں اور اسکولوں میں حملے کرکے اپنی خودساختہ شریعت کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اور تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو ملک وقوم پر زبردستی اپنی شریعت مسلط کرنے والوں سے ہمدردی کااظہارکرنے والوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے ملک میں شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ، جہاں حکومت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے وہاں اسے عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے بھی بھرپورعملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج ،جنوبی وزیرستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور ان کی کمین گاہوں پر حملے کررہی ہے ، جنرل راحیل شریف ایک بہادر انسان ہیں جنہوں نے انتہاء پسند دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے جراتمندی کامظاہرہ کیا ہے جس پر میں جنرل راحیل شریف ، تمام فوجی جرنیلوں اور جوانوں کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں گزشتہ دودہائیوں سے قوم کو طالبانائزیشن کے خطرے سے آگاہ کرتا رہاہوں کہ اگر اس عفریت کو فوری روکا جائے ورنہ طالبان دہشت گردوں کو روکنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اس موقع پر کسی کوتنقید کا نشانہ نہیں بناناچاہتا کیونکہ اس وقت ملک کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے ۔طالبان دہشت گردوں سے نجات کیلئے پوری قوم کو اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی یکجہتی کامظاہرہ کرنا چاہیے اور دہشت گردوں کے خاتمے کی جدوجہد میں پاک فوج کا بھرپورساتھ دینا چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے پشاورکے آرمی پبلک اسکول میں یرغمال طلباء اور اساتذہ کے تحفظ کیلئے بھرپوراقدامات پر مسلح افواج کے ایک ایک جوان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے اساتذہ اور طلباء کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکیا اور زخمی طلباء کی جلدومکمل صحت یابی کیلئے دعا بھی کی ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ، ہم میں قومی اتحاد پیدا کرے اور پاکستان کو انتہاء پسند دہشت گردوں سے نجات دلائے ۔ (آمین)


12/9/2016 7:35:35 AM