Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا آئینی اور قانونی حق دیا جائے، الطاف حسین


دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا آئینی اور قانونی حق دیا جائے، الطاف حسین
 Posted on: 12/6/2014
دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا آئینی اور قانونی حق دیا جائے، الطاف حسین
زنا ، زنا ہی ہوتا ہے چاہے 12، اکتوبر1999ء کو کیا جائے یا 3، نومبر2007ء کو کیا جائے ،الطاف حسین
سندھ کے سابق وزیرتعلیم کی جانب سے حیدرآبادمیں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کے علم دشمن اور متعصبانہ بیان کا نہ وزیراعظم نے نوٹس لیا اور نہ ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس حضرات کی جانب سے ایسے غیرآئینی ،غیرقانونیاور متعصبانہ الفاظ کے کھلے استعمال پر ازخود نوٹس لیاگیا
حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کے کارخیر میں حصہ لینے پر بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، پیپلزپارٹی کے کوچیئرپرسن آصف علی زرداری اور یونیورسٹی کیلئے 50 ایکڑزمین الاٹ کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا بھی شکریہ اداکرتا ہوں
حیدرآباد یونیورسٹی کے مطالبے کی حمایت میں کسی سیاسی ومذہبی جماعت، روشن خیال تنظیم، این جی او اورانسانی حقوق کی تنظیم نے احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا، الطاف حسین
الطاف حسین اور ایم کیوایم واحدہے جو حیدرآباد شہر کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی حمایت میں آواز بلند کرتی رہی ہے، الطاف حسین
حیدرآباد میں عمائدین شہرکے اعزاز میں دعوت حلیم کی تقریب سے قائد تحریک الطاف حسین کاخطاب 
لندن ۔۔۔6،دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو ووٹ دینے اور الیکشن میں حصہ لینے کا آئینی اور قانونی حق دیا جائے اور ان پر الیکشن میں حصہ لینے پرعائد پابندی فی الفورختم کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ زنا ، زنا ہی ہوتا ہے چاہے 12، اکتوبر1999ء کو کیا جائے یا 3، نومبر2007ء کو کیا جائے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر زنا12 ، اکتوبر 1999ء کو کیا جائے تو اس عمل کو زناقرارنہ دیا جائے اور یہی عمل 3، نومبر2007ء کو کیاجائے تو اسے زنا میں شمار کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے سابق وزیرتعلیم کی جانب سے حیدرآبادمیں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کے علم دشمن اور متعصبانہ بیان کا نہ وزیراعظم نے نوٹس لیا اور نہ ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس حضرات کی جانب سے ایسے غیرآئینی ،غیرقانونی اور متعصبانہ الفاظ کے کھلے استعمال پر ازخود نوٹس لیاگیا۔اگر کسی اور ملک کے وزیرتعلیم نے ایسا متعصبانہ بیان دیا ہوتا تو اسے سخت ترین سزا دیکر نشان عبرت بنادیا جاتا۔
یہ بات جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے حیدرآباد زون کے تحت حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کی خوشی میں عمائدین شہرکے اعزاز میں دعوت حلیم کے شرکاء سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں حیدرآباد شہر کے دانشوروں،پروفیسرز، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، علمائے کرام اور تاجروں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، رابطہ کمیٹی کے ارکان ، ایم کیوایم حیدرآبادزونل کمیٹی کے ارکان اور حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے دعوت حلیم میں شرکت کرنے پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اورانہیں حیدرآباد میںیونیورسٹی کے قیام پر دلی مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے یونیورسٹی کے قیام کے کارخیر میں حصہ لینے پر بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، پیپلزپارٹی کے کوچیئرپرسن آصف علی زرداری اور یونیورسٹی کیلئے 50 ایکڑزمین الاٹ کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ دنیا کے کسی ملک کے وزیرتعلیم نے یہ بیان دیا ہو کہ وہ اپنے فلاں شہر میں یونیورسٹی نہیں بننے دے گا، اس شہر میں یونیورسٹی کے قیام کی راہ میں دیوار میں بن جائے گا اور اگر یونیورسٹی بنی تو اس کی لاش پر بنے گی؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر کہا’’ ہرگز نہیں‘‘
انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے سابقہ وزیرتعلیم نے یہ علم دشمن اور متعصبانہ بیان دیا لیکن نہ تو پاکستان کے وزیراعظم نے اس متعصبانہ بیان کا نوٹس لیا اور نہ ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس حضرات کی جانب سے ایسے غیرآئینی ،غیرقانونی اور متعصبانہ الفاظ کے کھلے استعمال پر کوئی ازخود نوٹس لیاگیا۔اگر کسی اور ملک کے وزیرتعلیم نے ایسا متعصبانہ بیان دیا ہوتا تو اسے سخت ترین سزا دیکر نشان عبرت بنادیا جاتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ اور اور نبی کریم ؐ نے تعلیم حاصل کرنے کا درس دیا ہے لیکن سندھ کے سابقہ وزیرتعلیم نے حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت میں متعصبانہ بیان دیکر اللہ تعالیٰ اور سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات کی مخالفت کی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حیدرآبادکے عوام 67 برسوں سے مختلف حکومتوں سے مطالبہ کرتے رہے کہ حیدرآباد میں ایک یونیورسٹی بنادی جائے ، اس جائز مطالبے کی حمایت میں کسی سیاسی ومذہبی جماعت، روشن خیال تنظیم، این جی او اور انسانی حقوق کی تنظیم نے احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا۔واحد الطاف حسین اور ایم کیوایم ہے جو حیدرآباد شہر کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی حمایت میں آواز بلند کرتی رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حیدرآباد نیورسٹی کیلئے 50 ایکڑ زمین الاٹ ہوگئی اور یونیورسٹی کا نقشہ بھی منظورہوگیا ہے ،انشاء اللہ بہت جلد اس یونیورسٹی کی تعمیر بھی شروع ہوجائے گی ۔ 
جناب الطاف حسین نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صرف جنرل پرویز مشرف کو آئین توڑنے اور منتخب حکومت کے خاتمہ کا الزام لگاکر ان پر حدغداری عائد کردی ۔جبکہ 12 اکتوبر1999ء کووزیراعظم نواز شریف نے ایک حکم نامہ کے ذریعہ جنرل مشرف کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹاکر جنرل ضیاء الدین بٹ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقررکردیا، اس وقت جنرل پرویز مشرف کسی ملک کے دورے سے وطن واپس آرہے تھے اور وہ دیگر مسافروں کے ساتھ فضا میں تھے کہ حکومت کی جانب سے اس جہاز کے کپتان کو ہدایت دی گئی کہ جنرل پرویزمشرف کے جہاز کو دہلی لے جائے لیکن جب کپتان نے فیول کی کمی پر دہلی جانے سے معذرت کی تو کہاگیا کہ جہاز کو نواب شاہ ائیرپورٹ اتاردیا جائے ۔ یہ جہاز نواب شاہ کی جانب رواں دواں تھا کہ گراؤنڈ پر موجود فوجی جرنیلوں میں وزیراعظم کے اس فیصلے سے غصہ کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ نوازشریف کو اس وقت گرفتارکیا گیا جب وہ قوم سے خطاب کرنے جارہے تھے اور پی ٹی وی کے میک اپ مینوں کے درمیان تھے ۔ فوج کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر جنرل پرویزمشر ف کا جہاز کراچی ائیرپورٹ پر اتاردیا گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی عدالتیں بھی آزاد نہیں ہیں اور عدلیہ میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں ، ملک سے کالی بھیڑوں کی صفائی کیلئے کمال اتاترک جیسے بہادر سپاہی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے تمام مہذب ممالک میں زناکو زنا ہی کہاجاتا ہے اور صرف دین اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہرمذہب میں زنا کو بہت بڑا جرم تصور کیاجاتا ہے ۔ اگرہم فرض کرلیں کہ آئین توڑنا اور منتخب جمہوری حکومت کو برطرف کرنا غداری ہے اور تو سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے نہ صرف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جنرل پرویز مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھایابلکہ انہیں لائسنس بھی دے دیا کہ وہ تین سال تک جوچاہیں کرتے رہیں انہیں پوری آزادی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ افتخارمحمد چوہدری کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں موجود ہے ۔ افتخار محمد چوہدری نے 3 ،نومبر2007ء کی ایمرجنسی کو جواز بناکر جنرل پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ قائم کردیا اور جو غیرآئینی وغیرقانونی عمل 12، اکتوبر 1999ء کو کیا گیا اس پر غداری کی حدعائد کرنے کے بجائے جنرل پرویزمشرف کو سیلوٹ کرکے ان سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ زنا ، زنا ہی ہوتا ہے چاہے 12، اکتوبر1999ء کو کیا جائے یا 3، نومبر2007ء کو کیا جائے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر زنا12 ، اکتوبر 1999ء کو کیا جائے تو اس عمل کو زناقرارنہ دیا جائے اور یہی عمل 3، نومبر2007ء کو کیاجائے تو اسے زنا میں شمار کیاجائے ۔
جناب الطاف حسین نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیاکہ آپ دنیاکے تمام ممالک سے ٹاپ کے جج صاحبان کوبلالیں اور12اکتوبر1999ء کومنتخب حکومت کاتختہ الٹنے اور3 نومبر2007ء کوملک میں ایمرجنسی لگانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں عدالت لگائیں اورمجھے پاکستان آکراس عدالت میں پیش ہونے کاموقع دیں ۔ مجھے کسی وکیل کی ضرورت نہیں،میں اکیلامقدمہ لڑوں گا، اگرمیں دنیابھرکے ججوں کوقائل نہ کرپایاتومیں اسی وقت اپنے آپ کو سزابھگتنے کیلئے پیش کردوں گااوراگرمیں ان ججوں کوقائل کردوں تومیں کہوں گاکہ جوجواس ناانصافی میں شامل ہیں ان سب کوسرعام لٹکادو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون کومذاق بنالیاگیاہے، اسلام آبادمیں ایوان صدراوروزیراعظم ہاؤس کے سامنے مجھے بھی دھرنادینے کی اجازت دیدیں پھردیکھیں کہ میں وہاں کیسادھمال ڈالتاہوں۔میں لمبی لمبی تاریخیں نہیں دوں گابلکہ مجھے اختیارملاتو قومی دولت لوٹنے والے، بینکوں سے قرضے لیکرمعاف نہ کروانے والے اور چھکے چوے لگاکر اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والے سب بلاتاخیر اندرہوں گے۔ملک کولوٹنے والوں کی بڑی بڑی جاگیریں اورمحلات بیچ دیئے جائیں گے یاان میں کالجز، یونیورسٹیاں اوردیگرتعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان بیرون ملک آبادپاکستانیوں کے زرمبادلہ سے چلتاہے لیکن یہ سراسرظلم ہے کہ ان اوورسیزپاکستانیوں پردہری شہریت کاقانون نافذکرکے ووٹ ڈالنے اورالیکشن میں حصہ لینے پرپابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ بیرون ملک آبادپاکستانیوں کوووٹ دینے اورالیکشن لڑنے کاقانونی حق دیاجائے اوران پر عائدپابندی کوفی الفورختم کیا جائے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوزمیں جمہوریت کی بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں، مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے لندن میں ’’ چارٹرآف ڈیموکریسی ‘‘ پر دستخط کئے اوریہ قسم کھائی کہ ہم اب ہم میں کوئی بھی چھپ کریاکھلے عام فوجی جرنیلوں سے نہیں ملے گا لیکن اس کے بعد بینظیر شہید سمیت سب آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف سے ملتے رہے، میاں شہبازشریف اورچوہدری نثاررات کی تاریکی میں آرمی چیف سے ملتے رہے۔ آخر چارٹرآف ڈیموکریسی کوکس نے توڑا؟فوج کے جرنیلوں سے چھپ چھپ کرملنے سے بہترہے مردوں کی طرح کھل کرملو۔ انہوں نے کہاکہ جب میں کھل کر کہتاہوں کہ فوج کو آئینی کرداردیدو تو مجھے فوج کاایجنٹ کہاجاتاہے لیکن آپ فوج کے جرنیلوں سے چھپ چھپ کرملیں توآپ پاک پوترکہلاتے ہیں۔ آخر یہ دہرا معیار کیوں ہے؟ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ امریکہ والوں نے چندروزقبل کہاکہ’’ پاکستان کوجوڑے رکھنے کی واحد قوت پاکستان کی فوج ہے ‘‘ ، اس پر میں انتظارکرتارہاکہ شائدپیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، دیگرسیاسی ومذہبی جماعتیں اورجمہوریت کی چیمپئن این جی اوز،سول سوسائٹی اوروکلاانجمنیں امریکہ کے خلاف جلوس نکالیں گی لیکن اس پرجمہوریت کا کوئی بھی چیمپئن میدان میں نہیں آیااسلئے کہ اقتدارکے حصول اوراقتدارحاصل کرنے کے بعدانہیں امریکہ جاکرسجدہ کرناپڑتاہے اورقرضوں کی بھیک مانگنی پڑتی ہے ۔ انہوں نے ایم کیوایم کے سینیٹرزاورارکان قومی اسمبلی سے کہاکہ وہ ایوان میں یہ موشن پیش کریں کہ اقتدارمیں آنے کے بعدموجودہ حکومت نے امریکہ ، برطانیہ، چائنا اوردیگرممالک ، آئی ایم ایف، ورلڈبینک اوردیگرعالمی اداروں سے کتنے قرضے لئے اوریہ قرضے کتنی مالیت کے ہیں۔ جب یہ تفصیلات سامنے آئیں توپریس کانفرنس کے ذریعے عوام کواس سے آگاہ کیاجائے کہ قوم کے بچے بچے کابال بال کس قدربیرونی قرضوں میں جکڑاہواہے۔ جناب الطا ف حسین نے اعلان کیاکہ حیدرآبادیونیورسٹی میں داخلے میرٹ کی بنیادپرہوں گے اوراس میں صرف الطاف حسین کے رشتے داریاحیدرآبادکی زونل کمیٹی کے ارکان کے بھائی بھتیجے ہونے کی بنیادپرداخلے نہیں ملیں گے بلکہ داخلے صرف اس کے ہوں گے جو میرٹ پرپورااترے گا۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کی حکومت آئی توہم سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوااوربلوچستان کے ہرشہرمیںیونیورسٹی اوردیگرتعلیمی اداروں کاجال بچھادیں گے اور کسی کو انہیں اصطبل بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہم اعلیٰ معیارکے ایسے تعلیمی ادارے قائم کریں گے کہ بیرون ممالک سے طلبہ وہاں تعلیم حاصل کرنے آئیں گے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ تعلیم ترقی وخوشحالی کی کنجی ہے ، اگرتعلیم کامعیاراورتناسب اچھاہوتوایسے ملک میں ایک قوم کاتصورمضبوط ہوتاہے۔تعلیم عام ہوگی توملک کی معیشت بہترہوگی اوربھیک کے کشکول ٹوٹ جائیں گے۔ انہوں نے حیدرآبادمیں یونیورسٹی کے قیام کے اعلان پر حیدرآبادکے تمام عوام کومبارکبادپیش کی۔ اس موقع پر تقریب میں موجود تمام اساتذہ، پروفیسرز، دانشور،وکلاء اورتاجربرادری کے نمائندوں نے بھی جناب الطا ف حسین کواس کی مبارکبادپیش کی اوراس
کیلئے کاوشیں کرنے پر جناب الطاف حسین سے اظہارتشکرکیا۔
English Viewers
مزید تصاویر
وڈیو دیکھیں









12/9/2016 3:36:27 AM