Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی اور حیدرآباد سے محکمہ پولیس میں کانسٹیبل کیلئے اپلائی کرنے والے مختلف قومیتوں کے نوجوانوں کو ظلم و ناانصافی کا نشانہ بنانا کا سلسلہ بند کیاجائے، معاون رابطہ کمیٹی وسیم اختر کی حق پرست ارکان سندھ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس


کراچی اور حیدرآباد سے محکمہ پولیس میں کانسٹیبل کیلئے اپلائی کرنے والے مختلف قومیتوں کے نوجوانوں کو ظلم و ناانصافی کا نشانہ بنانا کا سلسلہ بند کیاجائے، معاون رابطہ کمیٹی وسیم اختر کی حق پرست ارکان سندھ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس
 Posted on: 12/3/2014
کراچی اور حیدرآباد سے محکمہ پولیس میں کانسٹیبل کیلئے اپلائی کرنے والے مختلف قومیتوں کے نوجوانوں کو ظلم و ناانصافی کا نشانہ بنانا کا سلسلہ بند کیاجائے، معاون رابطہ کمیٹی وسیم اختر کی حق پرست ارکان سندھ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس 
میرٹ پر پورا اترنے والے مختلف قومیتوں کے نوجوانوں کو محکمہ پولیس میں کانسٹیبل کے اپائمنٹ لیٹر فی الفور نہ دیئے گئے تو ایم کیوایم بھی محکمہ پولیس میں میرٹ پر پورا اترنے والے نوجوانوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوگی ، وسیم اختر 
میرٹ پر پو را اترنے والے نوجوان اپنی نوکریوں کا پوچھنے جاتے ہیں تو انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے اور تھانوں میں بند رکھاجاتا ہے، وسیم اختر 
وزیراعلیٰ سندھ کونسا میرٹ کا نظام چلا رہے ہیں جب کوئی امیدوار میرٹ کو پورا کرتا ہے اس کا استحصال کیوں کیاجارہا ہے ؟ وسیم اختر 
حکومت سندھ بیڈ گورنمنٹ کی سرحد عبور کرچکی ہے بلکہ صوبے میں میرٹ پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے،و سیم اختر 
16سے لیکر اوپر تک کی نوکریاں جو پبلک سروس کمیشن سے ہوتی ہے وہ اختیار بھی لیکر کابینہ کے حوالے کیاجارہا ہے ، سید سردار احمد 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرمحکمہ پولیس سندھ میں اپلائی کرنے والے کراچی اور حیدرآباد کے میرٹ پر پورا ترنے والے امیدواران کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔3، دسمبر2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے معاون وسیم اختر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور اس کی کابینہ ایم کیوایم دشمنی میں اندھی ہوچکی ہے اور کراچی اور حیدرآباد سے محکمہ پولیس میں اپلائی کرنے والے پنجابی ، سندھی ، بلوچ اور دیگر قومیتوں کے افرادجو میرٹ پر پورا اترتے ہیں اور ان کا ایم کیوایم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے تعصب کا نشانہ بنا رہی ہے اور میرٹ کی کھلے عام دھجیاں بکھیر رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی اور حیدرآباد سے محکمہ پولیس میں کانسٹیبل کیلئے اپلائی کرنے والے مختلف قومیتوں کے نوجوانوں کو ظلم و ناانصافی کا نشانہ بنانا کا سلسلہ بند کیاجائے اور ان کے اپائمنٹ لیٹر فی الفور جاری کئے ورنہ ایم کیوایم بھی محکمہ پولیس میں میرٹ پر پورا اترنے والے نوجوانوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوگی ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے رکن اشفاق منگی ،رابطہ کمیٹی کے معاون غازی صلاح الدین ، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد ، ارکان سندھ اسمبلی اشفاق منگی ،محمد حسین اور جمال احمد کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر میرٹ پر پورا اترنے والے محکمہ پولیس میں اپلائی کرنے والے مختلف قومیتوں کے نوجوان امیدوار بھی موجود تھے جنہوں نے میڈیا کے سامنے محکمہ پویس میں اپلائی کرنے کے بعد میرٹ کے قتل کی تفصیلات سے صحافیوں کو بھی آگاہ کیا ۔ وسیم اختر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبہ سندھ کے چیف ایگزیکٹو اور ان کی کابینہ کے ارکان مسلسل ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ پوری سندھ حکومت میرٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے نوکریوں اور ٹرانسفر و پوسٹنگ کررہی ہے ،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں محکمہ پولیس میں اپلائی کرکے انٹرویو اور ٹیسٹ پاس کرنے والے ایسے 36موجود ہیں جنہوں نے پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی کیلئے تحریری ، رننگ ٹیسٹ پاس کئے اور انٹرویو میں کامیاب ہوئے لیکن انہیں لیٹر تک دیئے جارہے ہیں اور یہ جتنے بھی امیدوار بیٹھے ہیں یہ پریشان ہیں کہ ہماری ملازمت کا کیا ہوا ، یہ اپنی نوکریوں کا پوچھنے جاتے ہیں تو انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے اور تھانوں میں بند رکھاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کونسا میرٹ کا نظام چلا رہے ہیں جب کوئی امیدوار سارے میرٹ کو پورا کرتا ہے اس کا استحصال کیوں کیاجارہا ہے ؟، ان امیداوروں کا تعلق ایم کیوایم سے نہیں ہے یہ خود تنگ آکر اور چل کر یہاں درخواست دیکر آئے ہیں کہ یہاں سے ان کو انصاف ملے گا اگر انصاف نہ ملے تو کم از کم یہاں سے ان کے اس ایشو پر آواز اٹھائی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ 98فیصد سندھ کی عوام کو میرٹ کے نام پر بیوقوف بنایا جارہا ہے ، اسٹوڈنٹ ڈومسائل کو بھی مس یوز کیاجاتا رہا ہے اس میں بھی پیپلزپارٹی کے جتنے بھی ذمہ دار ہیں وہ اپنے اپنے لوگوں کو انٹرویو زاور نوکریاں دلواتے ہیں اور جن کا اصل حق ہے وہ میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود بھی محروم ہیں اور ناانصافی کا شکار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس مسئلے پر ہم نے سندھ اسمبلی ، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آواز اٹھائی ہے اور اب پریس کانفرنس کرکے بتا رہے ہیں کہ حکومت سندھ بیڈ گورنمنٹ کی سرحد عبور کرچکی ہے بلکہ صوبے میں میرٹ پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ ایجوکیشن میں بھی وہ امیدوار جو کراچی اور حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں اوران کے نام لسٹوں میں آگئے ہیں انہیں بھی لیٹر نہیں دیئے جارہے ہیں اسی طرح پولیس کا حال ہے ، ڈان اخبار کی خبر میں سیکریٹری ایجوکیشن خود کہہ رہے ہیں کہ اربوں کھربوں کا گھپلا ہوا ہے، محکمہ ایجوکیشن میں گھوسٹ ٹیچر ہیں ، اسکول نہیں ہے اور اسکولوں کی مد میں پیسہ جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور اس کی کابینہ سے پوچھیں کہ اربوں ، کھربوں روپے کا عوامی فنڈز کہاں جارہا ہے ؟انہوں نے کہاکہ میرٹ کی بنیاد پر محکمہ پولیس میں اپلائی کرنے والے کراچی میں رہائش پذیر مختلف قومیتوں کے نوجوان لڑکوں کو پولیس میں لانا چاہئے لیکن اس کے برعکس چور اورڈاکوؤں کو محکمہ پولیس میں بھرتی کیاجارہا ہے ، شریف خاندان اور میرٹ پر پورا اترنے والے لوگ جب تک پولیس کے محکمہ میں نہیں آئیں گے امن و عامہ کنٹرول نہیں کیاجاسکتا ہے ، یہ نوجوان خود جرائم کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اب یہ خود پولیس میں آنا چاہ رہے ہیں ، چیف منسٹر صاحب ان لوگوں کے لیٹر جاری کریں اور میرٹ پر لوگوں کو نوکریاں دیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں بیڈ گورنمنٹ نے حکومت سندھ کا اصل چہرہ عیاں کردیا ہے ، سندھ پبلک سروس کمیشن کو مس یوز کیاجارہا ہے ، آنے والے وقت میں مختلف شعبوں میں پھر سے میرٹ کو پیچھے چھوڑ کر سیاسی حوالے سے من پسند لوگوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لایا جائے گا اور اس ادارے کو بھی قدغن لگائی جارہی ہے ۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن ہمیشہ نیوٹرل ہوتا ہے ، اس میں کچھ لوگ رورل اربن ایریاز کے ہوتے ہیں لیکن سب میرٹ پر لئے جاتے ہیں اور پھر یہ انٹرویوز کرتے ہیں اور انہیں ہدایت ہے کہ 40، 60فیصد کے کوٹے پر عمل کرنا ہے ، کسی بھی محکمے میں جب نوکری نکلتی ہے تووہاں دیکھا جاتا ہے کہ کتنے لوگ 40، 60فیصد میں ہیں مگر اب ایسا نہیں ہورہا ہے اور میرٹ پر ان لوگوں کو نہیں لیاجاتا اور جان بوجھ کر اس طرح کے نمبر دیئے جاتے ہیں کہ وہ پاس نہیں ہوسکتے ۔ آج یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ 16سے لیکر اوپر تک کی نوکریاں جو پبلک سروس کمیشن سے ہوتی ہے وہ اختیار بھی لیکر کابینہ کے حوالے کیاجارہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس موقع پر محکمہ پولیس میں سندھ میں اپلائی کرنے والے کراچی اور حیدرآبادمیں مستقل رہائش پذیر پشاور سے تعلق رکھنے والے امیدوار اویس خان ، میانوالی سے تعلق رکھنے والے ملک امتیا ز اعوان ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سجاد علی بلوچ ، اندون سندھ سے تعلق رکھنے والے واصف اور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے بابر اور ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے امیدوار وقاص اقبال نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ہمارے ساتھ میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود ناانصافی کی جارہی ہے ، ہمارا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے ، ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم کراچی میں رہتے ہیں اور ہم برسوں سے محکمہ پولیس میں اپلائی کررہے ہیں لیکن ہر مرتبہ میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود ہمیں مایوس کردیاجاتا ہے ، حکومت سندھ کے وزرا میرٹ کے نفاذ کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں ، ہم قائد تحریک جناب الطاف حسین کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے مسئلے کو اہمیت دی اور میرٹ کا ساتھ دیا۔ 
English Viewers Click Here 


12/8/2016 1:59:36 AM