Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تعلیم کسی بھی قوم کا زیور ہوتی ہے، ترقی یافتہ قومیں تعلیم میں عام و جدید تعلیمی علوم ،نئی نئی ٹیکنالوجیز سے آگاہ ہوتی ہیں،الطاف حسین


تعلیم کسی بھی قوم کا زیور ہوتی ہے، ترقی یافتہ قومیں تعلیم میں عام و جدید تعلیمی علوم ،نئی نئی ٹیکنالوجیز سے آگاہ ہوتی ہیں،الطاف حسین
 Posted on: 11/30/2014
تعلیم کسی بھی قوم کا زیور ہوتی ہے، ترقی یافتہ قومیں تعلیم میں عام و جدید تعلیمی علوم ،نئی نئی ٹیکنالوجیز سے آگاہ ہوتی ہیں،الطاف حسین 
تعلیم عام ہوجائے تو لسانی ، مذہبی تفریق ختم ہوجائیگی ہم بحیثیت قوم پاکستان سے محبت کرنے لگیں گے، الطاف حسین
مجھے مصطفی کمال اتا ترک ترکی کے جیسا جرنیل چاہیے جس نے پور ے بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کر دیا،الطاف حسین
سندھ کے مظلوم عوام نے موقع دیا توسندھ کے چپے چپے میں یونیو رسٹی ، کالج اور اسکول قائم کریں گے،الطاف حسین
ملک میں دسویں جماعت تک مفت تعلیم اور آئندہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے،
جب جب ملک میں فوجی حکومت آ ئی تو لوکل باڈیز کا نظام آ یا سیاسی حکومتوں میں لوکل باڈی الیکشن نہیں کرائے گئے 
انشا ء اللہ اب یونیورسٹی حیدر آباد میں قائم ہوگی اور حیدر آباد شہر کے نواجوان اعلیٰ تعلیم بلا خوف و خطر حاصل کر سکیں گے
لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں ’’ اہتمام حلیم ‘‘ کیلئے موجود رابطہ کمیٹی کے ارکان و دیگر سے خطاب
لندن۔۔۔30نومبر2014ء
تصاویردیکھنے کیلئے کلک کریں
English Viewers
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کا زیور ہوتی ہے، ترقی یافتہ قومیں ، تعلیم میں عام و جدید تعلیمی علوم ،نئی نئی ٹیکنالوجیز سے ناصرف آگاہ ہوتی ہیں بلکہ پوری قوم کو وہ علم کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں،حید ر آباد کے نوجوان جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر دئیے گئے تھے اب انشا ء اللہ یونیورسٹی حیدر آباد میں قائم ہوگی اور حیدر آباد شہر کے نواجوان اعلیٰ تعلیم بلا خوف و خطر حاصل کرسکیں گے، وہ قومیں بڑی خوش نصیب ہوتی ہیں جنہیں اچھے لیڈر مل جائیں یا اچھے اور بہادر نیک جر نیل ملک جائیں مجھے بھی ترکی کہ مصطفی کمال اتا ترک جیسا جرنیل چاہیے جس نے پور ے بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کر دیا، مجھے ماؤزے تنگ چاہیئے جس نے نشئی قوم کو آج کہاں سے کہاں پہنچا کر چین کو اس وقت دنیا کا امیر ترین ملک بنادیا ،مجھے فیڈرل کاسترو جیسے بہادر ایماند ار انقلابی چاہئے ،مجھے ہوچی موں جیسے انقلابی چاہیئے جنہوں نے امریکہ جیسی سپر پاور طاقت کو شکست دی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ میں اہتمام حلیم کے لئے موجود ایم کیو ایم کے ذمہ داران ، کارکنان ، حق پرست عوامی نمائندوں اور میڈیا نمائندگا ن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، اراکین رابطہ کمیٹی ، حق پرست ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، تنظیمی شعبہ جات کے ذمہ داران ، مختلف سیکٹرز اور یونٹس کے کارکنان کی بڑی تعداد لال قلعہ گراؤنڈ میں حلیم کی تیاری کیلئے موجود تھی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مہذب معاشروں میں علم مخالف بیان پر اتنے بڑے بڑے احتجاج ہوتے ہیں کہ وہاں صدر اور وزیر اعظم بھی مستعفی ہو جاتے ہیں لیکن پاکستان میں وزیر تعلیم کے علم دشمن بیان پر کسی نے احتجاج نہیں کیا، سندھ کے غریب ، مزدور عوام ووٹ کے ذریعے ایم کیوا یم کو اقتدار دیں تو ہم ہر گاؤں گوٹھوں میں اسکول بنا دیں گے اور کسی جاگیر دار وڈیرے کو اسے اپنی ذاتی اوطاق بنانے کی ہمت نہیں ہوگی، انشا ء اللہ اب یونیورسٹی حیدر آباد میں قائم ہوگی اور حیدر آباد شہر کے نواجوان اعلیٰ تعلیم بلا خوف و خطر حاصل کر سکیں گے،اگر ملک میں تعلیم عام ہوجائے تو ملک سے لسانی ، علاقائی اور مذہب کی تفریق ختم ہو جائے گی اور ہم ایک قوم کی حیثیت سے پاکستان سے محبت کرنے لگیں گے، عوام حکمرانوں کے ظلم کے خلاف ڈر و خوف کی وجہ سے احتجاج نہیں کر پاتے تو پھر فوج کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مداخلت کرے ،جنرل پرویزمشرف کوسازش کے ذریعے ہٹا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے صرف پرویز مشرف پر آئین شکنی کا مقدمہ چلایا، قومی تاریخ اُٹھالیں جب ملک میں فوجی حکومت آ ئی تو لوکل باڈیز کا نظام آ یا عوام کے گھر تک حقوق پہنچے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ،دنیا بھر میں تعلیم کے وزیر کا کام علم کا فروغ ہوتا ہے لیکن پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم اس بات پر اڑ گئے کہ میں یونیورسٹی کے قیام میں دیوار بن جاؤں گا اور کسی قیمت پر حیدر آباد شہر میں یونیورسٹی نہیں بننے دوں گا جس ملک میں وزیر تعلیم ایسا فرد ہوگا اس ملک کا انجام کیا ہوگا یہ سوال میں پاکستان کے دانشوروں ، لکھاریوں ، تجزیہ نگاروں ، اینکر پرسنز ، پاکستا ن کی سیاسی مذہبی جماعتوں اور مسلح افوا ج پر چھوڑتا ہوں اور اگر کوئی سویلین اس ظلم کے خلاف اس ڈر و خوف کی وجہ سے احتجاج نہیں کر پاتاکہ حکومت اس پر ظلم کے پہاڑ توڑدے گی تو پھر یہ ملک کی فوج اور اعلیٰ عدلیہ کافرض ہوتا ہے کہ وہ مداخلت کرے آرٹیکل190کے تحت نا صرف ایسے وزیر کو گرفتار کرے بلکہ سرپریم کورٹ فوج کووزارت تعلیم اپنے ہاتھ میں لینے کااختیار دے لیکن سپریم کورٹ ایسا نہیں کرتی تو وہ بھی آئین توڑنے کے ذمرے میں آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب ملک میں ایسے حکمرانوں کو حکومت کرنے کا قطعی اور قطعی حق نہیں دیا جاتا اور پورے ملک میں اتنا بڑا احتجاج ہوتا کہ تمام کے تمام حکمرانوں کو بشمول صدروزیر اعظم سب کو استعفیٰ دینا پڑتا لیکن بے شرمی ، بے حیائی ہے کہ کھلے عام تعلیم کا وزیر تعلیم کے فروغ کے خلاف کہہ رہا ہے کہ میں اس کے خلاف دیوار بن جاؤں گا ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں تعلیم کے سامنے کھڑی ہونے والے ہر دیوار کو توڑ دوں گا اور اگر سندھ کے غریب ، مظلوم مزدوروں ، کسانوں نے ہمیں ووٹ کے ذریعے سے اختیار دیا تو میں رتو ڈیرو ،نوڈیرو، کشمور، جیکب آباد سمیت سندھ کے چپے چپے گاؤں ،گوٹھ میں اسکول قائم کروں گا اور وہاں کسی جاگیر دار، وڈیرے کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اس اسکول کو گھوڑوں کا استبل ، بھینسوں کا باڑہ بنا دے اور ہم ایسے لوگوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے اور ہر طالب علم آنے والاجانے والا اس نشان کو دیکھے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے مسئلوں کا حل کیا ہے ؟ تو میں ایسے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آئین میں فی الفورر تبدیلی کریں گے ہر ماں باپ پر فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھٹہ مزدور کی طرف نہیں بھیجیں گے بلکہ اس کو لازمی10ویں تک تعلیم دلانے کے پابندہوں گے اور جو والدین ایسا نہیں کریں گے انہیں گرفتار کر کے جیل میں بھیج دیا جائے ،1سے 10ویں کلاس تک حکومت مفت تعلیم دینے کا اعلان کرے اور آئین میں تبدیلی کر کے دہرا تعلیمی نظام ختم کرکے ایک اعلیٰ جدید ممالک کے طرز کا نظام تشکیل دیدے جہاں غریبوں اور امیروں کے اسکول میں ایک تعلیمی نظام دیا جائے اور یہی ملک کے مسائل کا حل اور ترقی کے راز ہیں، انہوں نے کہا کہ جتنی تعلیم عام ہوگی مذہبی انتہاء پسندی انتی کم ہوگی ، فرقہ ورانہ نفرتیں اتنی کم ہوں گی، دنیا کے مختلف ممالک میں فرقوں کے نام پر فسادات اور دنگے ہوجایا کرتے تھے لیکن وہاں تعلیم کے فروغ کے بعد لوگ اپنے اپنے چرچوں میں اپنے اپنے فرقوں میں رہ کر عباد ت کرتے ہیں اور کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کو ن کس فرقے سے ہے۔ جناب الطاف حسین نے وزیر عظم میاں محمد نواز شریف اوروفاقی کابینہ سے درخواست کی کہ وہ اللہ رسول کے واسطے ملک سے نا خواندگی کی شرح کو ختم کرکے خواندگی کی شرح میں اضافہ کریں اور اس کیلئے آئندہ بجٹ میں تعلیم کی مد میں اضافہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پٹھان ، بلوچ ، پنچابی ، پشتون ، ہزار وال ، سندھی، اردو بولنے والاسندھی ، گلگتی ، بلتستانی ، کشمیری غرض یہ کہ لسانی اور علاقائی اکائیاں ہیں معاشرتی اور ثقافتی اکائیاں ہیں اگر تعلیم عام ہو تو خدا کی قسم یہ ، پنجابی ، سندھی ، مہاجر ، پٹھان ، گلگتی ، ہزار وال کا یہ فر ق ختم ہو جائے گا یا بہت کم ہو جائے گا، شیعہ سنی کی تفریق ، وہابی دیو بندی کی تفریق ختم ہو جائے گی اور ہم ایک قوم کی حیثیت سے پاکستان سے محبت کرنے لگیں گے ، سچی محبت کیلئے اکائی کی ضرورت ہوتی ہے اور اکائی وہاں ہوتی ہے جہا ں چھوٹے بڑے کا فرق اورغربت کا پیمانہ نہیں رکھا جاتا ، ہمارے ملک میں وی وی آئی پی کلچر نے عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے اگر ایم کیوا یم کو ملک کے غریب عوام نے ووٹ دیا تو ہم وی وی آئی پی کلچر کوجرم بنادیں گے اور اسپتالوں میں دہرا معیار ختم کرکے دوائیوں ،کھانے پینے کی اشیاء میں ملاو ٹ کرنے والوں اور انکے سرپرستوں کو آئین کے مطابق پھانسی پر لٹکا دیں گے،ملک میں معصوم عوام حتی کے خواتین کو بھی جعلی اشتہاروں اور روحانی علا ج کے نام پر پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں اپنی حوس کا نشانہ بنایا جاتاہے اور ایسی بیماریوں کا تین تین ہفتوں میں علاج بتایا جاتاہے جن کا دور حاضر تک علاج دریافت ہی نہیں ہواہے۔ انہوں نے گزشتہ روز کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے ملنے والی معصوم بچیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ جانے کون ہمارے ملک میں اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہے ، ہم نے ان معصوم کلیوں کو انکے گھر تک پہنچایا لیکن یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ انکو باجوڑ سے کیوں ، کیسے اور کون یہاں لایا؟۔انہوں نے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ کیا فوج سے مل گئے ہیں جو آپ فوج کو اکثر و بیشتر دعوت دیتے رہتے ہیں ؟ تو میں ایسے افراد سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ملکی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں جب جب ملک میں فوجی حکومت آ ئی تو لوکل باڈیز کا نظام آ یا اور عوام کو گھر گھر انصاف ملا لیکن سیاسی حکومتوں میں لوکل باڈی الیکشن نہیں کرائے گئے ، وقت کی مجبوری ہے سویلین حکومت میں چیک اینڈ بیلنس کیلئے ایماندار فوجیوں کی شراکت ہو جہاں سولین حکومت کے لوگ غلط کام کریں تو فوجی حضرات اس کی نشاندہی کریں اور اگر وہ صحیح نہ کی جائے تو پھر آ ئین کے تحت انصاف کیا جائے ، انہوں نے سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویزمشرف کا اچھا دور گزراہے لیکن سازش کے ذریعے انکو ہٹا دیا گیا اور آئین کے پرخچے اُڑا کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے آئین کے خلاف فیصلہ دے دیا کہ آئین توڑنے کا مقدمہ صرف ایک فرد پرویز مشرف پر چلے گا، انہوں نے ایم کیوا یم کے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ حلیم کی تیاری کے بعد بالخصوص صحافیوں کو حلیم کھلائیں اور انکی مہمان نوازی کریں کیوں کہ رپورٹرز ، کیمرہ مینز، ٹیکنیشنز بھی غریب و محنت کش ہوتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے شرکاء سے حلیم کی تیاری کے متعلق تفصیلات معلوم کرتے ہوئے انتہائی خوشگار موڈ میں ارکان رابطہ کمیٹی ، حق پرست عوامی نمائندوں اور کارکنان سے 
گفتگو کی اور انہیں حلیم کی تیار ی میں استعمال ہونے والے اجزاء ترکیب کے متعلق اہم معلومات بھی دیں۔

12/4/2016 2:22:51 PM