Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ کے شہری عوام سے زیادتیاں بند نہ ہوئیں تو بات ایم کیو ایم کے ہاتھ سے آگے بڑھ جائے گی ، بابر خان غوری


سندھ کے شہری عوام سے زیادتیاں بند نہ ہوئیں تو بات ایم کیو ایم کے ہاتھ سے آگے بڑھ جائے گی ، بابر خان غوری
 Posted on: 11/27/2014
سندھ کے شہری عوام سے زیادتیاں بند نہ ہوئیں تو بات ایم کیو ایم کے ہاتھ سے آگے بڑھ جائے گی ، بابر خان غوری
پیر مظہر الحق کا حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام سے متعلق متعصب بیان پاکستان پیپلز پارٹی کی مجموعی سوچ ہے
حیدر آباد پاکستان کا5 واں بڑا شہر ہے اور وہاں کی عوام کاحق صرف اردو بولنے کے جرم میں چھینا جارہا ہے
پیپلز پارٹی سندھ کے شہری علاقوں کی تعلیم ، ترقیات اور انکے آئینی حقوق غصب کرنے کیلئے ماضی سے سازشیں کر رہی ہے
سندھ کے شہری علاقوں کی نوکریاں جعلی ڈومیسائل بنا کر سندھ کے دیہی علاقوں کو دی گئیں ،سید حید ر عباس رضوی 
عوام تک حقوق نہیں پہنچ رہے تو اگر صوبائی حکومت سے مسائل حل نہیں ہو رہے تھے ،چھوٹے انتظامی سسٹم بنادینے چاہئیں
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام سے حکومت کی زیادتیوں کا نوٹس لیںاور شہری عوام کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کو فوری بند کروائیں، مطالبہ 
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان بابر خان غوری اور سید حید ر عباس رضوی کی خورشید سیکریٹریٹ میں اہم پریس کانفرنس 
کراچی ۔۔۔27نومبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن بابر خان غوری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کی تعلیم ، ترقیاتی کاموں اور انکے آئینی حقوق غصب کرنے کیلئے ہر دور میں سازشیں کرتی رہی ہے، گزشتہ روز کے نجی اخبار میں سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کا حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام سے متعلق متعصب بیان صرف انکی متعصب سوچ نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مجموعی سوچ ہے ، ان زیادتیوں کے سبب مہاجروں کا احساس محرومی شدت اختیار کر رہا ہے ، مہاجروں نے ون یونٹ کے خلاف سندھیوں کے ساتھ ملکر احتجاج کئے ، کالا باغ ڈیم کی مہاجروں نے سندھیوں کے ہمراہ مخالفت کی ،کہا جاتا ہے کہ سندھ میں سب برابر ہیں تو یہ کیسی برابری ہے ،صوبے کے سالانہ5سو ارب روپے کے بجٹ کا بھی غیر منصفانہ استعمال کیا جارہا ہے ، ، عوام تک حقوق نہیں پہنچ رہے تو اگر صوبائی حکومت سے مسائل حل نہیں ہو رہے تھے مختلف چھوٹے چھوٹے انتظامی سسٹم بنادینے چاہئیں ،، انہوں نے کہاکہ جب ایم کیوایم حکومت میں تھی اور پی پی پی کا سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے بھی بات کی تھی ، انہیں بھی حیدر آباد میں یونیورسٹی بنانے کے اعلان سے روکا گیا ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان سید حیدر عباس رضوی ، سندھ اسمبلی میں حق پرست پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد ،ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن اوررکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو انکے ہمراہ تھے ۔بابرخان غوری نے کہا کہ گزشتہ روز سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کا حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام سے متعلق متعصب بیان انتہائی شرمناک ہے اور انکی متعصب سوچ صرف انکی نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مجموعی سوچ ہے ، پی پی پی نے سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کی تعلیم ، ترقیاتی کاموں اور انکے آئینی حقوق غصب کرنے کیلئے شروع دن سے سازشیں کرتی آ رہی ہے اور ہم پیر مظہر الحق کے بیان پر اپنے وکلا ء و آئینی ماہرین سے رائے لینے کے بعد عدالت میں اس بیان کے خلاف جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے کے جرم میں شہری علاقوں کے عوام کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں ہے ، انکی تعلیم کا حق چھینا جا رہاہے اور اس متعصب بیان سے سندھ کے شہری علاقوں کے عوام بالخصوص حیدر آباد کے عوا م میں انتہائی غصہ اور اشتعال ہے اگر نا انصافیوں اور زیادتیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمیں بتایا جائے کہ ایم کیوا یم شہری علاقوں کے عوام کو کب تک روک سکے گی اوور آئین و قانون کی تعلیمات دیتی رہے گی جبکہ انکے آئینی حقوق مارے جارہے ہیں ،صحافی حضرات یہ دیکھیں کہ نفرتوں کو سامنے رکھ کر سندھ حکومت فیصلے کر رہی ہے ۔انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے وضاحت طلب کی کہ وہ ہمیں بتائیں اگر پیر مظہر الحق کا بیان پی پی پی کی پالیسی نہیں ہے تو گزشتہ 7سال سے ایم کیو ایم کی کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی نے یونیورسٹی کیوں نہیں بنے دی اور جس کا سبب آ ج سامنے آ گیا ، انہوں نے کہا کہ اگر لیاری ، ملیر ،لاڑکانہ میںیونیورسٹی بنتی ہے تو ایم کیو ایم کواس سے اختلاف نہیں بلکہ خوشی ہوتی ہے ہم نے کبھی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا اور اگر ایم کیو ایم کی حکومت آئی تو سندھ کے ہر شہر میں یونیورسٹی بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حیدر آباد5 واں بڑا شہر ہے اور انکا حق صرف اردو بولنے کے جرم میں چھینا جارہا ہے۔ بابر غوری نے سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں سندھ کے شہری علاقوں کے عوام سے نا انصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بور ڈ میں کسی اعلیٰ عہدیدار کا تعلق شہری علاقوں سے نہیں ، سندھ کے ایجو کیشن میں40 میں سے صرف دو سیکریٹریز شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ، این ایف سی میں 3ہزار ارب روپے میں سے کراچی جو کہ سندھ کا 50فیصد ہے اسے کیا ملا؟اورصرف 6ارب روپے سندھ کے شہری علاقوں کو دئیے گئے،سندھ پبلک سروس کمیشن میں 10کے 10ذمہ دار پیپلز پارٹی نے پسند کی بنیاد پر دیہی سندھ سے لگا دئیے ہیں اورانہیں وزیر اعلیٰ کے حکم پر کامیاب و ناکام کیا جاتا ہے میرٹ پر نہیں،سندھ بھر میں 23میں سے ایک ایڈمنسٹریٹر شہری علاقوں کا ہے ، ایجو کیشن ڈپارٹمنٹ میں40میں سے صرف دو عہدیداران کا تعلق شہری آبادی سے ہے ، ڈپٹی سیکریٹری 6میں سے ایک ، دنیا بھر میں مذہب معاشروں میں شہر کو شہری حکومت خود چلاتی ہے اور اسکی بہتری کا نظام ترتیب دیتی ہے لیکن سندھ حکومت نے بلڈنگ کنٹرول ، ماسٹر پلانٹ اور واٹر بورڈ کو صوبائی حکومت کے تحت دیدیا گیا ہے یہ تعصب ہے ریونیو، ایکسائز ، ہیلتھ ، پولیس ہر جگہ شہری عوام کے یہی نا انصافیاں اور زیادتیاں جاری ہیں اور اب اگر سندھ پبلک سروس کمیشن کے اختیارات بھی وزیر اعلیٰ سندھ کو دئے جا رہے ہیں لیکن اگر یہ سلسلہ ختم نہ ہوا تو ایم کیوا یم سندھ کے شہری عوام کو نہیں رو ک سسکے گی بات ایم کیو ایم کے ہاتھ میں بھی نہیں رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سندھ کے دیہی عوام سے اختلاف نہیں انہیں میرٹ پر نوکریاں ملنی چاہیں لیکن پیپلز پارٹی کے وزراء کے رشتہ داروں کو نوکریاں دی جا رہی ہیں اور غریب سندھی بھوکا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے صوبے میں حق فراہم کرنے میں ناکام ہے اور سب کے باوجود وفاق سے نوکریوں کا حق مانگا جارہا ہے اور آئین و قانون کی باتیں کی جارہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس قسم کے فیصلوں سے مہاجروں کا احساس محرومی شدت اختیار کر رہا ہے ، مہاجروں نے ون یونٹ کے خلاف سندھیوں کے ساتھ مخالفت میں احتجاج کئے ، جب سائیں جی ایم سید نے کہا کہ مہاجر اپنے لئے علیحدہ صوبہ بنا لیں تو مہاجروں نے کہا کہ نہیں ہم سندھیوں کے ساتھ ہی یہاں رہیں گے اور مہاجروں نے ہی کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں سندھیوں کے شانہ بشانہ احتجاج کئے تھے ، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حیدر آباد کے لوگ اگر پی پی پی کو ووٹ نہیں دیتے تو کیا انکو حق نہیں دیا جائے گا ؟انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتو ں سے کہا کہ اگر ان نوجوانوں کو آئینی حق کے تحت تعلیم اور نوکریاں نہیں د ی جا رہیں تو حکومت بتائے کیایہ نوجوان کیا کریں؟ اور سب کے باوجود کہا جاتا ہے نئے انتظامی یونٹس کی آواز کیوں بلند ہوتی ہے ؟ پیپلز پارٹی نے ذہنی طورپر تقسیم کی بنیاد رکھ دی ہے، پی پی پی بتائے جنہوں نے 20لاکھ جانیں قربان کرکے پاکستان بنایا کیا وہ پاکستانی نہیں ہیں۔ بابر خان غوری نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ سندھ حکومت کی زیادتیوں کا نوٹس لیں اور شہری عوام کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کو فوری بند کروائیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں سالڈویسٹ منجمنٹ کا عہدہ قانونی ترمیم کرکے چیف منسٹر نے لے لیا ہے اور صوبے میں 18ویں ترمیم کی بھی مخالفت کی جارہی ہے اور صوبہ اختیارات شہری حکومتوں کو منتقل نہیں کر رہا ۔ انہوں نے مختلف اخباری تراشے صحافیوں کو تقسیم کئے جن میں اندرون سندھ کے اسکولوں میں گھوسٹ ملازمین کے متعلق معلومات درج تھی اور کہا کہ ایم کیو ایم پیر مظہر الحق کے بیان سے متعلق تحریک التواء صوبائی اسمبلی میں جمع کر واکر حکومت سے وضاحت طلب کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم نے آئینی حق کو استعما ل کرتے ہوئے وزیر اعظم کو خط لکھا تھا لیکن ہماری جائز شکایات کے ازالے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے اب ہم عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گے اور گر وہاں سے بھی انصاف نہ ملا تو عوام سڑکوں پر فیصلہ کریں گے ۔ایک اور سوال کے جواب میں بابر خان غوری نے کہا کہ ایم کیوا یم کراچی کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے متعلق بھی آواز اُٹھا رہی ہے اور ان بنیادی مسائل کے حل کے لئے ہی انتظامی یونٹس بنانے کی بات کر رہے ہیں تاکہ عوام کو انکے دروازے پر مسائل کا حل ملے، ہم ان مسائل کے خلاف حکومت میں بھی احتجاج کیا تھا لیکن ہمارے مطالبات پر کان نہیں دھرے گئے اور بد نیتی کا مظاہرہ کیا گیا ، آج ایم کیوا یم کی حکومت سے علیحدگی کے بعد پیپلز پارٹی کا اردو بولنے والوں کے خلاف تعصب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔سید حیدرعبا س رضوی نے کہا کہ سندھ میں تقریباً 6لاکھ سرکاری ملازمتیں ہیں اور آئین کے تحت کوٹہ سسٹم پر عمل کیاجائے تو 6لاکھ میں سے 40فیصد نوکریاں سندھ کے شہری علاقوں کراچی ، حیدر آباد ، سکھر کا حق ہیں یہ تقسیم ہم نے نہیں رکھی آئین یہ کہتا ہے ، 240000سرکاری ملازمتیں کراچی حیدر آباد ، سکھر کو ملنی چاہئیں لیکن ایسا نہیں ہے تو یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کوٹہ سسٹم پر عمل در آمد کروائے ، انہوں نے کہا کہہ آئین کے آرٹیکل 27کے تحت پاکستان کو کوٹہ سسٹم کے تحت 8ریجن میں تقسیم کیا گیا ہے ، جن میں سندھ کے دو ریجن سندھ شہری اور سندھ دیہی ہے ، تمام ریجنز میں کوٹہ پر عمل در آمد کرانے کیلئے کمیٹیاں ہوتی ہیں لیکن سندھ میں کوٹہ ابزور کا ایک سیکریٹریٹ ہے جو سندھ کے شہری اور دیہی دونوں ریجن کو دیکھتا ہے جس کے افسران سیاسی بنیادوں پر سندھ کے دیہی علاقوں سے ہیں اور اسی وجہ سے سندھ کے شہری علاقوں کی نوکریاں جعلی ڈومیسائل بنا کر سندھ کے شہری علاقوں میں نوکریاں دی گئیں ، انہوں نے کہا کہ سندھ سیکریٹریٹ کے کوٹہ ابزرور آفس جا کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ سندھ کے کس آبادی سے لوگ وہاں عہدوں پر فائز ہیں ، سندھ کے شہری علاقوں کی نوکریاں جعلی ڈومیسائل بنا کر دیہی آبادیوں کے افراد کو تعینات کیا جارہا ہے ، سندھ میں پولیس میں 40فیصد نوکریاں سندھ کے شہری علاقوں کو ملنی چاہئیں تھیں لیکن کیا ایساہے ؟۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں نا انصافیوں کا ادراک ہو جاتا ہے وہاں حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس زیادتی کا شکار عوام کی شکایات کا ازالہ کریں لیکن اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو شہری علاقوں کے عوام میں یہ تاثر ابھرے گا کہ حکومت انکو حق دینے میں بدنیتی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بنائے ہوئے آئین میں کوٹہ سسٹم شہری عوام پر مسلط کیا گیا ہے لیکن اس کوٹے پر عمل نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے۔کراچی کی آبادی بقیہ سندھ کی آبادی سے زیادہ ہے اور اس کے لئے ہم مردم شماری کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم صوبائی حکومت کی بد انتظامیوں کی نشاندہی کررہی ہے،صوبے کے سالانہ5سو ارب روپے کے بجٹ کا بھی غیر منصفانہ استعمال کیا جارہا ہے ، عوام تک حقوق نہیں پہنچ رہے تو اگر صوبائی حکومت سے مسائل حل نہیں ہو رہے مختلف چھوٹے چھوٹے انتظامی سسٹم بنادینے چاہئیں ، کراچی دنیا کے پانچ بڑے شہروں میں سے ایک ہے اس کا 5سالوں سے کوئی چیف ایگزیکٹو ہی نہیں ہے تو کراچی کیسے چل سکتا ہے اور اس کے بغیر ریاست نا مکمل ہے،کوئی بھی رشتہ چاہئے وہ حکومتوں کا ہی کیوں نہ ہو مختلف مسائل کے بڑھنے سے ٹوٹتا ہے ، یک دم نہیں ٹوٹتا ، ایم کیو ایم نے ہمیشہ مسائل کو گفت و شنید اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی حکومت ہماری باتوں کو ٹالتی رہی اور جب مسائل میں اختلافا ت میں اضافے کے بعد منطقی انجام تک پہنچے ، عدالتیں بلدیاتی نظا م کے حوالے سے فیصلے دے چکی ہیں آئین کا آرٹیکل140Aکے تحت انتخابات کرنے کا کہا گیا ہے لیکن اگر اس آرٹیکل سے متصادم الیکشن کرائے جائیں گے تو ایم کیو ایم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائے گی ۔
English Viewers 


12/7/2016 2:11:39 PM