Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائدتحریک الطاف حسین کاپاکستان ہاکی ٹیم کے اعزازمیں استقبالیہ سے خطاب


قائد تحریک الطاف حسین کاپاکستان ہاکی ٹیم کے اعزازمیں استقبالیہ سے خطاب
 Posted on: 11/26/2014
قائد تحریک الطاف حسین کاپاکستان ہاکی ٹیم کے اعزازمیں استقبالیہ سے خطاب

Pictures
لندن۔۔۔26، نومبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور پاک فوج سے اپیل کی ہے کہ مسلح افواج جہاں ملک کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کیلئے جراتمندی وبہادری سے لڑرہی ہے وہیں ملک کے نظام کوبہتربنانے کیلئے قومی دولت لوٹنے اور خلوص دل سے قوم کی خدمت کرنے والوں کے علیحدہ علیحدہ صوبے بنادیئے جائیں۔ ملکی نظام کو بہتر بنانے کیلئے صرف پاک فوج ہی نئے انتظامی یونٹس قائم کرسکتی ہے ،یہ کام کوئی جاگیردار، وڈیرایا کرپٹ حکمراں نہیں کرسکتے ۔ یہ مطالبہ انہوں نے بدھ کی شب لال قلعہ گراؤنڈعزیزآباد میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے اعزازمیں دیے گئے عشائیہ سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ہاکی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری رانا مجاہد، پاکستان کے چیف سلیکٹر اورسابق اولمپیئن اصلاح الدین ،ٹیم کے مینیجراورچیف کوچ شہناز شیخ ،سابق اولمپئین شاہدعلی خان، قومی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد عمران،کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے ارکان اور دیگرافراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان اورحق پرست ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ باجوڑایجنسی سے تعلق رکھنے والی 26 بچیوں کو کسی دینی مدرسے سے لاکر لیاقت آباد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کردیا گیا تھا جہاں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا ، یہ اطلاع ملنے کے بعد میں نے رابطہ کمیٹی کے ارکان اور حق پرست منتخب نمائندوں کو لیاقت آباد بھیجا اوررات بھر جاگ کر تفصیلات لیتا رہا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی کہ جب تک ان بچیوں کے والدین یا دیگر رشتہ دار نہ آئیں ان بچیوں کو کسی کے حوالے نہ کیا جائے اور پولیس کے اعلیٰ افسران کی نگرانی میں ان بچیوں کو کسی معتبرشیلٹر ہاؤس منتقل کرایا جائے ۔ انہوں نے معصوم بچیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنے پر رابطہ کمیٹی کے ارکان اور حق پرست ارکان سندھ اسمبلی کو شاباش اور دعائیں بھی دیں۔ جناب الطاف حسین نے باجوڑایجنسی کی ماؤں ، بہنوں اور بزرگوں کو پیغام دیتے ہوئے کہاکہ جب تک یہ بچیاں کراچی میں قیام پذیرہیں ، اللہ تعالیٰ کے بعدیہ بچیاں پولیس وانتظامیہ کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کی حفاظت میں ہیں اور ان بچیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کیلئے جوکچھ بھی ہمارے بس میں ہوگا ہم ضرورکریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے ان معصوم بچیوں کی خبرگیری اور دیکھ بھال کے مسئلہ پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سندھ کابینہ کے اراکین کی بے حسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اب تک وزیراعلیٰ سندھ یاان کا کوئی ایک بھی وزیران معصوم بچیوں کی خبرگیری کیلئے نہیں پہنچا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پاکستان کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا صفایا کررہے ہیں جس پر میں آپ کو اور ایک ایک جوان کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں اورمسلح افواج کو یقین دلاتا ہوں کہ حق پرست عوام ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کی جدوجہد میں فوجی افسران اور جوانوں کے شانہ بشانہ ہیں ۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج داعش، طالبان ، القاعدہ یا کسی بھی انتہاء پسند تنظیم سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف اورپاک فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کا وزیراعلیٰ گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں ، سندھ کے وزراء کو بھی یہ توفیق نہیں ہے کہ وہ باجوڑ کی ان معصوم بچیوں کی خبرگیری کریں ، ایسی صورت میں سندھ میں مزید انتظامی یونٹس کا قیام لازمی ہوگیا ہے ۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف اور پاک فوج سے اپیل کی کہ مسلح افواج جہاں ملک کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کیلئے جراتمندی وبہادری سے لڑرہی ہے وہیں ملک کے نظام کوبہتربنانے کیلئے قومی دولت لوٹنے اور خلوص دل سے قوم کی خدمت کرنے والوں کے علیحدہ علیحدہ صوبے بنادیئے جائیں ۔ پاکستان کے بدترین نظام کو بہتر بنانے کیلئے صرف پاک فوج ہی نئے انتظامی یونٹس قائم کرسکتی ہے ،یہ کام کوئی جاگیردار، وڈیرایا کرپٹ حکمراں نہیں کرسکتے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ چاہے کسی کوبھی برالگے میں ایک مرتبہ پھرفوج کوپکارنے پرمجبورہوں اوران سے کہتاہوں کہ ایک مرتبہ خدا کا خوف رکھنے والے فوجی ملک کا نظام سنبھالیں اوراسے بہترکریں۔ لوگ مجھے چاہے دہشت گرداورملک دشمن کہتے رہیں میں حق اورسچ بات کہتارہوں گا،میرا نام الطاف حسین ہے ، میں کلمہ پڑھ کرسولی پر چڑھ جاؤں گا، گردن کٹانا قبول کرلوں گا لیکن سرجھکانا پسند نہیں کروں گا۔ جناب الطاف حسین نے ہاکی کی زبوں حالی کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کاقومی پھول چنبیلی ہے اورقومی کھیل ہاکی ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ کرکٹ بورڈکے پاس تو اربوں کافنڈہے لیکن ہاکی فیڈریشن کے پاس کھلاڑیوں کوتنخواہیں دینے تک کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیاکہ ہاکی ٹیم کافنڈکہاں چلاگیا؟ ہاکی ٹیم کو قومی خزانے سے فنڈکیوں نہیں دیاجاتا؟ انہوں نے کہاکہ ہاکی پاکستان کاقومی کھیل ہے لیکن آج ہاکی کے ساتھ سوتیلی ماں جیساسلوک کیاجارہاہے۔کرکٹ بورڈ کو تو بڑے بڑے فنڈزدیے جارہے ہیں لیکن ہاکی فیڈریشن کومناسب فنڈزنہیں دیے جاتے ۔ ہاکی ٹیم کیلئے معاوضے بھی انتہائی کم ہیں۔قومی کھیل اوراسکے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ یہ سلوک انتہائی غیرمناسب ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ٹیم کے کھلاڑیوں کومناسب معاوضہ نہیں دیاجائے گا،انہیں بھرپورسہولتیں فراہم نہیں کی جائیں گی تووہ آج کی جدیدہاکی کامقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک وقت تھاجب پاکستان کے پاس ہاکی کے تمام عالمی اعزازات تھے ۔ پاکستان کے پاس ورلڈکپ، اولمپک کپ ،چیمپئنزٹرافی کپ، ایشین گیمز کپ ،اذلان شاہ کپ تھا۔تمام عالمی ٹورنامنٹ میں پاکستان چیمپئن تھا اور ہر مقابلہ میں پاکستان وکٹری اسٹینڈ پرہوتاتھا۔اسلئے کہ پوری ٹیم محنت کرتی تھی، تمام کھلاڑی اور آفیشلز ٹیم ورک سے کام کرتے تھے لیکن اس کے بعدتعصب اور پسند ناپسند کاسلسلہ آگیا اورکھلاڑیوں اورآفیشلز کاانتخاب میرٹ کے بجائے پسند ناپسندپرہونے لگا ۔منصفانہ انتخاب نہ ہونے، بہترین ٹریننگ نہ ہونے اورٹیم کو بھرپور سہولتیں فراہم نہ کئے جانے کے باعث پاکستان ہاکی تنزلی کاشکارہوگئی۔جناب الطاف حسین نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ہاکی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بندکیاجائے،ہاکی کی ترقی کیلئے فیڈریشن کواس کا حق اوربھرپور فنڈزدیئے جائیں،کھلاڑیوں کے معاوضوں میں اضافہ کیاجائے اور کرکٹ کی طرح ہاکی کی بھی بھرپورسرکاری سرپرستی کی جائے تاکہ پاکستان ہاکی میں اپناکھویا ہوامقام حاصل کرسکے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہاکی کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک بندکرے ایسا نہ ہوکہ ایم کیوایم ہاکی ٹیم کواس کاحق دلانے کیلئے دھرنادیدے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کرکٹ میں توبیشترامیرگھروں سے کھلاڑی آتے ہیں جبکہ ہاکی میں زیادہ ترغریب اورمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی آتے ہیں۔ ان کی بھرپورمدد اورحوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے ہاکی فیڈریشن کے تمام عہدیداران کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ تمام سابق اولمپیئن اورہاکی کے آفیشلز آپس میں اختلافات ختم کریں، آپس میں کمیونیکیشن اورکوآرڈی نیشن سے کام کریں ،ہمیں ایک دوسرے کونہیں بلکہ دنیامیں سینہ پھلاکرچلنے والی ٹیموں کو شکست دینی ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان اپنے قومی کھیل کوکتنی عزت اوراحترام دیتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کوریامیں ہونے والی 17ویں ایشین گیمز میں بہترین کھیل کامظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کاتمغہ حاصل کرنے پرپوری قومی ہاکی ٹیم ، ٹیم کے کپتان، تمام کھلاڑیوں،ہاکی فیڈریشن کے صدراختررسول، سیکریٹری رانا مجاہد ، ہاکی فیڈریشن کے نائب صدرواسع جلیل،ٹیم کے کوچ، مینجر اورتمام آفیشلز کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے قومی ہاکی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کوفرداً فرداً 20ہزار روپے دینے کابھی اعلان کیا۔ جناب الطاف حسین نے قومی ہاکی ٹیم کی کامیابی کیلئے دعا کی جو چندروزبعد چیمپئنز ٹرافی کھیلنے انڈیاجارہی ہے۔ انہوں نے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو ٹیم ورک کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ آپ صرف خودہی گول کرنے کی کوشش نہ کریں جوکھلاڑی گول کرسکتاہواسے پاس دیں، سولوفلائٹ سے نکلیں اورکمبی نیشن سے کھیلیں کیونکہ جوٹیم کمبی نیشن سے کھیلتی ہیں وہ کامیابی سے ہمکنارہوتی ہیں۔انہوں نے ٹیم کے کپتان عمران کوتلقین کی کہ آپ سب کولیکرچلیں اورسب کے ساتھ پیارکریں۔ انہوں نے ٹیم کے کھلاڑیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میرے بیٹو، میرے نوجوانو! پاکستان بہت دکھی ہے، پاکستان کو چیمپئنزٹرافی جیت کرپاکستانیوں کوخوشیاں دیدو۔


12/7/2016 8:09:36 PM