Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صوبہ سندھ میں بد انتظامی، ایم کیوایم کے سینیٹربابر خان غوری کا وزیراعظم نواز شریف کو خط


صوبہ سندھ میں بد انتظامی، ایم کیوایم کے سینیٹربابر خان غوری کا وزیراعظم نواز شریف کو خط
 Posted on: 11/26/2014
مورخہ:26، نومبر2014
وزیر اعظم جناب میاں محمد نواز شریف
اسلامی جمہوریہ پاکستان
وزیراعظم سیکریٹریٹ
اسلام آباد
صوبہ سندھ میں بد انتظامی
جناب اعلیٰ
مندرجہ بالا موضوع کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے درج ذیل مسائل بھی توجہ کے منتظر ہیں ۔ 
-1 متحدہ قومی موومنٹ گزشتہ تین دہائیوں سے شہری سندھ کی واحد نمائندہ جماعت ہے جس کی قیادت جناب الطاف حسین پر عوام وقتاً فوقتااپنے اعتمادکااظہار کرتے رہے ہیں اور ان کے منتخب نمائندوں کو قومی اور سند ھ کی صوبائی اسمبلی میں کامیاب کروا کر بھیجتے ہیں ۔ ہمارے قائد جناب الطاف حسین مسلسل غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کیلئے اپنی آواز بلند کررہے ہیں خاص طو رپر سندھ کے پسے ہوئے عوام جو جاگیرداروں اور حکمران طبقے کی وجہ سے اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں ۔ 
-2 وزیراعلیٰ سندھ نے مورخہ24، نومبر 2014کو آپ کی جناب میں ایک میں خط لکھا جس میں وفاقی ملازمتوں میں صوبہ سندھ کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملازمتوں میں آئین کے مطابق آبادی کے لحاظ سے حصہ دیاجائے ۔
-3 لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے دی جانے والی صوبائی ملازمتوں میں قواعد و ضوابط کے کسی اصول پر عمل درآمد نہیں کیاجارہا ہے ۔ اس ناعاقبت اندیش اور خود اختیاری کے فیصلوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت میں افسر شاہی بدعنوانی اور اقربا پروری میں بری طرح ملوث ہے اور بد انتظامی اس حکومت کی شناخت بن چکی ہے ۔ 
-4 انتہائی ادب کے ساتھ آپ کی توجہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب مبذول کروانی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے انتہائی متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے صرف ان امیدواروں کو ترجیح دیتے ہیں جن کی سفارش پیپلزپارٹی کی قیادت کرتی ہے ۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی تمام دس کے دس نمائندے پیپلزپارٹی کی حکومت کے انتہائی قریب ہیں بلکہ اس کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) آغا رفیق احمد خان پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے قریبی رشتہ دار کے طور پر جانے جاتے ہیں اور یہ تمام اراکین پیپلزپارٹی کی قیادت کی خوشنودی اور ان کے احکامات کے مطابق کام کرتے ہیں ۔
-5 اس طرح کا متعصبانہ عمل جو پیپلزپارٹی کی حکومت کی بدعنوانی اور اقربا پروری کی مثال ہے جوصوبہ سندھ کی افسر شاہی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو بلاول ہاؤس کی سفارش لیکر آئے اسے بڑی آسانی کے ساتھ ملازمت دیدی جاتی ہے جبکہ باصلاحیت امیدوار ضائع ہوجاتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کی بدعنوان حکومت کا یہ جانبدارانہ عمل سندھ کے باصلاحیت لوگوں کی حق تلفی کے مترادف ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ اس خط کے ذریعے وفاقی حکومت کی مدد کی طالب ہے تاکہ سندھ حکومت میں ہونے والی بھرتیوں میں میرٹ کو ترجیح دی جائے اور ہر طرح کے لسانی اور نسلی تعصب سے پرہیز کیاجائے ۔
-6 پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے خود اختیاری فیصلوں کی وجہ سے سندھ کی نوجوان نسل میں احساس محرومی پیدا ہورہی ہے اورمتحدہ قومی موومنٹ کو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں یہ احساس محرومی نوجوانوں کو شدت پسندی اور قانون شکنی کی طرف مائل نہ کردے ۔ ہمارا ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ ہماری فوج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے تو اس طرح کے متعصبانہ عمل اگر روکے نہ گئے تو ملک میں ہر طرف انارکی پھیل جائے گی ۔ 
7 جناب وزیر اعظم صاحب آپ کو چاہیے کہ آپ وزیر اعلی سندھ سے این ایف سی کی مد میں وفاقی حکومت سے جانب سے پانچ سو ارب روپے وصولی اور اس کی کھپت کاگوشوارہ طلب کریں۔اس طر ح کی افواہ ہے کہ یہ ساری رقم پیپلزپارٹی کی حکومت نے غبن کرلیاہے جس کی وجہ سے صوبے میں کوئی ترقیاتی منصوبہ کہیں نظرنہیں آتا۔کراچی جیسے بڑے شہراور سندھ کے شہری علاقوں کی ضروریات بار بار کہنے باوجود نہ صرف نظر انداز کی جاتی رہیں بلکہ ان کا جائز حق بھی انہیں نہیں دیا گیا ۔ ایم کیوایم کو اس بات پر کوئی اعتراز نہیں اگر مذکورہ رقم سندھ کی دیہی آبادی پر خرچ کی جاتی ۔مزید یہ کہ تھر پارکر کے قحط سالی کی وجہ سے معصوم انسانوں کی جانوں کا ضیاع اس بات کی غمازی ہے کہ سندھ کی دیہی آباد ی کو بھی نظر انداز کیا گیا اور ترقیاتی منصوبوں کا تمام فنڈ پیپلزپارٹی کی بد انتظام حکومت کی بد عنوانی کی نظر ہو گیا ۔
-8 سندھ کے شہری آباد ی ان کا جائز حقوق نہ ملنے کی وجہ سے یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑتی ہے کہ نہ صرف آئین کے اصولوں کی خلاف وزری ہوری ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کے حقوق بھی پامال ہورہے ہیں ۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ قائم علی شاہ صاحب صوبے سندھ کے وزیراعلیٰ ہے نہ کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اور یہی وجہ ہے کہ سندھ کی شہری آبادی اپنے لئے ایک علیحدہ انتظامی اکائی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہے۔
-9 آپ کی حکو مت کا متعصبانہ عمل کی وجہ سے قابلیت کو بری طرح سے نظرانداز کیا جارہا ہے اور جس کے نتیجے میں آپ کی حکومت کو امن و امان اور دولت کے انخلاء کا مسئلہ درپیش ہے ۔
ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت اختیارات صو بائی معاملات میں بہت کم رہے گئے ہیں ۔لیکن وفاقی حکومت، صوبائی حکومت سے اس بات کی ضمانت طلب کرے این ایف سی کی اگلی رقم سندھ حکومت صوبے کے تمام اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کرے اور صوبے میں ہونیوالی بھرتیوں میں میرٹ کو مد نظر رکھا جائے۔
براہ مہربانی یہ بات مد نظر رہے کہ یہ خط ہمارے صوبے خاص کر شہری اور دیہی آبادی کے رہائشیوں کے بہترین مفاد میں لکھا گیا ہے، جن کے حقوق کے لئے قائد تحریک جناب الطاف حسین اپنے اولین سیاسی دور سے جدوجہد کررہے ہیں۔ 
والسلام

سینیٹر بابر خان غوری

12/5/2016 6:31:09 AM