Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کوئی بھی قوم جزوواحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف قومیتوں یا نسلی ولسانی ،ثقافتی اورمعاشرتی اکائیوں کامجموعہ ہوتی ہے ۔الطاف حسین


کوئی بھی قوم جزوواحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف قومیتوں یا نسلی ولسانی ،ثقافتی اورمعاشرتی اکائیوں کامجموعہ ہوتی ہے ۔الطاف حسین
 Posted on: 11/25/2014
کوئی بھی قوم جزوواحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف قومیتوں یا نسلی ولسانی ،ثقافتی اورمعاشرتی اکائیوں کامجموعہ ہوتی ہے ۔الطاف حسین
اگر تمام نسلی ولسانی ، ثقافتی اورمعاشرتی اکائیوں کے ساتھ مساوی سلوک کیاجائے اورمساوی حقوق اورا نصاف فراہم کیاجائے تو ایک قوم کاتصورپروان چڑھتاہے اورذیلی قومیتوں کاتصور کمزورہوتاہے
اگر سب کے ساتھ مساوی سلوک نہ کیاجائے اورنسلی ولسانی بنیادوں پر امتیازبرتاجائے تو ایک قوم کاتصورکمزور پڑتاہے اورذیلی قومیتوں کاتصورمضبوط ہونے لگتاہے
دنیامیں قوم کی تعریف کبھی ایک سی نہیں رہی بلکہ وقت اورزمانے کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہے
کسی بھی علاقے میں آبادنسلی یالسانی اقلیت ہمیشہ اکثریت میں ضم ہوجایاکرتی ہے لیکن اگر دولسانی اکائیوں کی تعدادبرابرہویاان میں معمولی فرق ہوتووہ آپس میں ضم نہیں ہواکرتیں البتہ ان کے ملاپ سے نئی ثقافت جنم لیتی ہے۔
ایک دوسرے کے وجودکوتسلیم کرکے ہی مثبت سمت میں بڑھاجاسکتاہے،ایک دوسرے کوختم کرنے کی سوچ تباہی کی طرف لے جاتی ہے
ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپرمنعقدہ فکری نشست میں’’ قوم اورقومیت ‘‘ کے موضوع پر دیئے گئے ایک تفصیلی لیکچر
لیکچرمیں رابطہ کمیٹی ،حق پرست ارکان پارلیمنٹ،پارٹی کے تنظیمی ونگزاورنائن زیروکے تمام شعبہ جات کے ارکان کی شرکت
لندن۔۔۔ 25 نومبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کوئی بھی قوم جزوواحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف قومیتوں یا نسلی ولسانی ،ثقافتی اورمعاشرتی اکائیوں کے اجزاء کامجموعہ ہوتی ہے ۔انہوں نے یہ بات ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروعزیزآبادپرمنعقدہ ایک فکری نشست میں’’ قوم اورقومیت ‘‘ کے موضوع پر دیئے گئے ایک تفصیلی لیکچر میں کہی۔ لیکچرمیں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ساتھ ساتھ حق پرست ارکان پارلیمنٹ،پارٹی کے تنظیمی ونگزاورنائن زیروکے تمام شعبہ جات کے ارکان نے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیامیں’’ قوم ‘‘ کی تعریف کبھی ایک سی نہیں رہی بلکہ وقت اورزمانے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ قوم کی تعریف بدلتی رہی ۔ قوم اورقومیت کے تصورکوتین بڑے ادوارقبائلی دور، جاگیردارانہ دور اورجدیدصنعتی دورمیں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ قبائلی دورمیں قوم کوقبیلے کے سردارکے نام سے منسوب کیاجاتاتھا۔جاگیردارانہ دورمیں بادشاہتیں اورسلطنتیں وجودمیں آئیں توقومیں بادشاہوں کے نام سے منسوب ہونے لگیں۔ قومیں مذہب اور انبیائے کرام کے نام سے بھی پہچانی گئیں ۔دنیاجدیدصنعتی دورمیں داخل ہوئی توقوم اورقومیت کے تصورات تبدیل ہوگئے اوروطنی قومیت کاتصورپیداہوا اورنئے نئے ممالک بننے سے قومیں ممالک کے نام سے منسوب کی جانے لگیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کوئی بھی قوم جزوواحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف قومیتوں یا نسلی ولسانی ، ثقافتی اورمعاشرتی اکائیوں کے اجزاء کامجموعہ ہوتی ہے ۔اگرکسی جغرافیائی وحدت میں رہنے والی تمام نسلی ولسانی اور ثقافتی اکائیوں کے ساتھ مساوی سلوک کیاجائے ، سب کومساوی حقوق اورا نصاف فراہم کیاجائے اورکسی کے ساتھ کسی بھی بنیادپر کوئی ناانصافی، زیادتی اورحق تلفی نہ کی جائے ، امتیازنہ برتاجائے، ان کے ساتھ دوسرے یاتیسرے درجے کے شہری جیساسلوک نہ کیاجائے توایسی صورت میں اس جغرافیہ میں ایک قوم کاتصورپروان چڑھتاہے اورذیلی قومیتوں کاتصور کمزورہوتاہے لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو، سب کے ساتھ مساوی سلوک نہ کیا جائے اورنسلی ولسانی بنیادوں پر امتیازبرتاجائے تو ایک قوم کاتصورکمزورپڑتاہے اورذیلی قومیتوں کاتصورمضبوط ہونے لگتاہے۔جناب الطاف حسین نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ سندھ میں 1973ء میں دیہی علاقوں کوشہری علاقوں کے برابرلانے کے نام پر دس سال کیلئے ایک غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم نافذکیاگیا جو 41سال گزرجانے کے باوجود آج تک جاری ہے جس کی وجہ سے شہری علاقوں کے عوام میں واضح طورپریہ احساس پایاجاتاہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اورانہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی علاقے میں آبادنسلی یالسانی اقلیت ہمیشہ اکثریت میں ضم ہوجایا کرتی ہے لیکن اگرکہیں آباددولسانی اکائیوں کی تعدادبرابرہویاان میں معمولی فرق ہوتووہ آپس میں ضم نہیں ہواکرتیں البتہ ان کے ملاپ سے ایک نئی ثقافت جنم لیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک دوسرے کے وجودکوتسلیم کرکے اورایک
دوسرے کااحترام کرکے ہی مثبت سمت میں بڑھاجاسکتاہے۔ایک دوسرے کوختم کرنے کی سوچ تباہی اوربربادی کی طرف لے جاتی ہے۔









 

12/8/2016 12:05:52 PM