Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

طالبان اور داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


 Posted on: 11/21/2014
طالبان اور داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ممبر سازی مہم کی کامیابی سے ایم کیوایم کے خلاف دو دہائیوں سے مصروف عناصر کو شدید مایوسی ہوئی ہے
دہشتگردوں نے ممبر سازی کیمپ پر حملہ کرکے ایم کیوایم کے تین ارکان اسمبلی محمد حسین، عبد اللہ شیخ، سیف الدین خالد سمیت تقریبا 50 کارکنان کو زخمی کردیا ہے
دہشتگردی کی مخالفت کے سبب ایم کیوایم کے تین اراکین اسمبلی اور سینکڑوں کارکنان کو شہید کیا جاچکا ہے
کہا جاتا تھا کہ ملک میں طالبان کا وجود نہیں ہے مگر آج شہر سے طالبان کے کمانڈرز پکڑے جارہے ہیں
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کیمپ پر دہشتگردی میں ملوث عناصر کو گرفتار کروائیں اور حکومت سندھ کی جانب سے غفلت کے مرتکب افراد کو بھی کٹہرے میں لیا جائے، مطالبہ 
ایم کیوا یم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی کی خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس 
کراچی ۔۔۔21نومبر 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ ملک بھر میں طالبان اور داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنا حکومت وقت اور قومی سلامتی کے اداروں کی ذمہ دار ی ہے ، گزشتہ دس روز سے کراچی سمیت ملک بھر میں ایم کیوا یم کی رکنیت سازی مہم کامیابی سے جاری ہے اور مہم کی کامیابی سے ایم کیوایم کے خلاف دو دہائیوں سے مصروف عناصرکو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے آج سے ایم کیوایم کی ممبر سازی کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے جس میں ممبر سازی مہم کو مرکزی شاہراہوں سے عوام کے گھروں، گلیوں، محلوں میں منتقل کیا جائیگا ، آج دہشتگردوں نے ایم کیوا یم کے ممبر سازی کیمپ واقع اورنگی ٹاؤن نمبر 5پر فائرنگ و دستی بم کے ذریعے حملہ کیاجس سے ایم کیو ایم کے تین ارکا ن اسمبلی محمد حسین ، عبد اللہ شیخ ،سیف الدین خالد سمیت تقریبا 50کارکنان زخمی ہوئے ۔وہ جمعہ کی شب خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آبادمیں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ارکان رابطہ کمیٹی رشید گوڈیل ، خالد سلطان ، اشفاق منگی اور عارف خان ایڈوکیٹ بھی انکے ہمرا ہ تھے ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم ملک کی پروگریسوو اور لبرل جماعت ہے جو مذہب کے نام پر دہشتگردی کے اول روز سے خلاف ہے اور طالبانائزیشن کے آغاز سے ہی جناب الطاف حسین نے قو م اور حکمرانوں کو آگاہ کردیا تھا کہ اگر اس انتہاء پسندی کے عفریت کو آغاز میں نہ روکا گیا تو اس سے ملک کو نقصان ہوگا اور ایسے وقت میں جب ملک بھر میں سیاسی جماعتیں اور لیڈران طالبان و انتہاء پسندی کیخلا ف زبان کھولنے سے ڈرتے تھے اس وقت بھی جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اس دہشت گردی اورانتہاء پسندی کی مخالفت کی جس کی پادا ش میں ایم کیوا یم کے تین اراکین اسمبلی رضا حیدر ، منظر امام اور ساجد قریشی اور سینکڑوں کارکنان کو شہید کیا جا چکا ہے ، جناب الطاف حسین نے صرف طالبان ہی نہیں بلکہ گزشتہ دنوں سر اُٹھانے والی انتہاء پسند جماعت داعش (آئی ایس آئی ایس )کی ملک میں آمد سے بھی قوم اور ارباب اقتدار کو آگا ہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایم کیوایم کے خلاف صف آراء عناصر کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں سے ایم کیو ایم کے کارکنا ن اور حق پرست عوام کو ڈرایا نہیں جاسکتا اور ایم کیو ایم کا سفر حق پرستی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا او ر ان تمام کار روائیوں کے با وجود ایم کیو ایم کی ممبر سازی مہم اس وقت تک ملک بھر میں جاری رہے گی جب تک عوام ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کرتے رہیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہی دہشت گرد افواج پاکستان ، پولیس ، رینجرز اور عام پاکستانیوں پر حملے میں ملوث رہے ہیں اور مار کیٹوں ، مزاروں ،مساجد ، اما م بارگاہوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں لہٰذا اب حکومت کو صرف بیانا ت نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کار روائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے کارکنان کوہمیشہ پرامن رہنے اور صبر کی تلقین کی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اسمبلی کے فلور پر اس مسئلے کواٹھائے گی اور حکومت سندھ سے ان کی ذمہ داری ادا کرنے کا تقاضہ کریگی، کہا جاتا تھا کہ ملک میں طالبان کا وجود نہیں ہے مگر آج بھی کراچی کے مختلف علاقوں سے طا لبان کے کمانڈرز پکڑے جا رہے ہیں، ارباب اختیار کو داعش کے معاملے پر بھی آنکھیں بند کرنے کے بجائے فوری کار روائی کرنی چاہئے،ہم نے پہلے بھی کئی مرتبہ ایم کیو ایم کے عوامی نمائندوں کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے اسی طرح ممبر سازی مہم کو تحفظ فراہم کرنا بھی حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے ۔جہاں ریاست عوام کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوتی ہے وہاں عوام اپنی حفاظت کے لئے خود میدان میں آجاتے ہیں ،اگر کراچی آپریشن کا رخ سہی سمت میں جاری ہوتا اور دہشت گردوں کو گرفتار کیا جاتا تو شاید آج کا واقعہ رونما نہیں ہوتا ۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے مذکورہ واقعہ میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے حکومت سندھ کی جانب سے غفلت کے مرتکب افراد کو بھی کٹہرے میں لیا جائے ۔ 

12/8/2016 12:07:02 PM