Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کا سیاسی ڈرون دھماکہ ۔ قیام پاکستان کے گم گشتہ تاریخی حقائق کے انکشافات


 Posted on: 1/10/2013
ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کا سیاسی ڈرون دھماکہ
قیام پاکستان کے گم گشتہ تاریخی حقائق کے انکشافات
۔10 جنوری 2013ء
میں آج پوری پاکستانی قوم خصوصاً نئی نسل اورطلبہ وطالبات سے مخاطب ہوں اورپاکستان کی تاریخ کے حوالے سے چنداہم اورضروری حقائق ان کے علم میں لاناچاہتاہوں۔
میں اس بات پر یقین رکھتاہوں کہ کسی بھی قوم کی تعمیراسی صورت میں صحیح اوردیرپاہوسکتی ہے کہ جب اس کی بنیاد حقیقت پسندی پر مبنی ہو اورقوم کے اکابرین حقائق سے نظریں نہ چراتے ہوں بلکہ ان کاسامناکرتے ہوں ۔جہاں بنیادحقائق پر مبنی ہو وہاں آنے والی نسل حقیقت پسندی کی روشنی میں ہی ملک وملت کی تعمیر کرتی ہے ۔ میرا یہ ایمان ہے کہ جوقوم اپنی تاریخ سے ناواقف ہوتی ہے اس کاسفر ایساہی ہواکرتاہے کہ جیسے کوئی اندھیرے میں سفرکررہاہو۔جہاں قوم سے حقائق چھپائے جائیں اورجھوٹ پر بنیادرکھی جائے وہاں اینٹ دراینٹ ٹیڑھی ہی رکھی جاتی ہے اورعمارت سیدھی نہیں ہوتی۔میں نے ہمیشہ تاریخ کا مطالعہ کرکے قوم کے سامنے حقائق رکھے اوراس کی روشنی میں اپنی سوچ وفکرکے تحت حقیقت پسندانہ تجزیہ کرکے قوم کی رہنمائی کی جس کی وجہ سے مجھے اکثرلوگوں کی شدیدتنقیدکاسامنا بھی کرناپڑالیکن مجھے اپنی ذات پر ہونے والی تنقیدکی فکرنہیں کیونکہ میں قوم کواندھیرے میں نہیں رکھناچاہتا۔
اب میں تمام محب وطن پاکستانیوں خصوصاًنئی نسل کے علم میں چندحقائق لاکراپنی بات کوآگے بڑھاؤں گا۔
1947ء میں برصغیردو نئے ممالک میں تقسیم ہوا۔۔۔یعنی ایک پاکستان اور دوسرا بھارت کی شکل میں دو نئے ممالک دنیا کے نقشے پر ابھر کرسامنے آئے اور محض 25 سال بعد 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا اور برصغیر تین علیحدہ علیحدہ ممالک میں تقسیم ہوگیا۔اب اگر برصغیر کے تین حصوں میں تقسیم ہونے کی وجوہات تاریخ دانوں، دانشوروں اورسیاسی تجزیہ نگاروں سے معلوم کی جائیں تو تقریباً سب کا یا پھر اکثریت کا تجزیہ ایک دوسرے سے مختلف ہوگااورنئی نسل پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش بننے کی اصل تاریخ اورحقائق سے ہمیشہ ناواقف رہے گی۔ 
میں آج ببانگ دہل یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میں اور میرے ہم عصر جو اب بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں انہیں یا ہم سے پہلے گزرجانے والی نسل کو اصل تاریخی اورزمینی حقائق سے سچائی کے ساتھ آگاہ نہیں کیا گیااورآہستہ آہستہ نئی نسل اور درمیانہ عمر کے لوگوں کے سامنے تو تاریخ کو یکسر تبدیل کردیا گیا۔ہمارے اکابرین کی اکثریت یہ بھی بھول بیٹھی کہ جو لوگ تاریخی حقائق کو بدلنے یا مسخ کرنے یا نئی نسل کو گمراہ کرنے کا مجرمانہ فعل وعمل کرتے ہیں وہ صرف تاریخ کو ہی مسخ نہیں کرتے بلکہ دراصل اپنے اپنے ممالک کے جغرافیہ کو تبدیل اور مسخ کرنے کا عمل کرتے ہیں۔
مثلاًیہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جن مذہبی جماعتوں یا دیگر سیاسی جماعتوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی وہ پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی محب وطن جماعتیں بن گئیں اور جو پاکستان کے قیام کی جدوجہد کرنے والے اکابرین وعوام تھے وہ غدار یا پھر ان کی حب الوطنی کو مشکوک قراردیدیا گیا۔ کیا یہ بات درست اور حقیقت پر مبنی نہیں کہ جو نواب ، سردار، جاگیرداراور وڈیرے پاکستان کے بدترین مخالف تھے آج ان ہی خاندانوں کی اکثریت خاندان درخاندان ، نسل درنسل پاکستان پر حکمرانی کی حق دار قراردی جاتی ہے اور انتظام حکومت میں بھی انہی کے عزیزواقارب کی اکثریت بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہے ؟
میں ایک مرتبہ پھر یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے 99، فیصد عوام کو پاکستان کے قیام اور ابتدائی ایام کی تاریخ وحقائق سے سرے سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا۔ مثلاً ہمیں اورآنے والی ہر نئی نسل کو یہی پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کا قیام 14، اگست کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا جبکہ تاریخی حقائق اس کے برعکس ہیں جس سے ملک کی اکثریت قطعی ناواقف ہے۔
مثلاً کیا قوم کو۔۔۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو یہ معلوم ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک آزا د اور خودمختار ملک پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے جو حلف اٹھایا تھا اس کے الفاظ کیا تھے؟ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ چیلنج کرتا ہوں کہ ملک کے 99 فیصد عوام کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس حلف کے الفاظ کیا تھے
آیئے !! ذرا تاریخ کے بوسیدہ اوراق کا جائزہ لیں اور اصل حقائق کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے بحیثیت گورنر جنرل پاکستان جو حلف اٹھایا تھا اس کے الفاظ کیا تھے۔
قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے 15اگست 1947ء کو جو حلف اٹھایا تھا اس کے الفاظ بیان کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ حلف قائد اعظم ؒ سے لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرعبدالرشیدنے انگریزی زبان میں لیا تھا۔ حلف کے الفاظ 
درج ذیل ہیں:۔
"I, Muhammad Ali Jinnah, do solemnly affirm true faith and allegiance to the constitution of Pakistan as by law established, and that I will be faithful to His Majesty King George VI, his heirs, and successors in the office of the Governor General of Pakistan."
اس حلف کااردو ترجمہ یہ ہے :
’’میں محمد علی جناح ، قانون کے مطابق قائم ہونے والے پاکستان کے دستورسے سچی عقیدت اوروفاداری کا عہد مصمم کرتا ہوں اور میں عہد کرتا ہوں کہ میں پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے شہنشاہ معظم جارج ششم اور ان کے ولی عہدوں اورجانشینوں کا وفادار رہوں گا۔‘‘
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد خواجہ ناظم الدین ،ملک غلام محمد اور اسکندر مرزانے بھی صرف نام کی تبدیلی کے ساتھ گورنر جنرل کی حیثیت سے اوپر بیان کردہ الفاظوں پرمبنی حلف اٹھایا تھا۔یہ تاریخ کا ایسا سچ ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے ۔میں یہاں دانشوروں۔۔۔ تاریخ دانوں۔۔۔ سیاسی تجزیہ نگاروں۔۔۔ اور اساتذہ کرام سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے جید اکابرین سے یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ وہ میری رہنمائی فرمائیں کہ 14، اگست 1947 ء کو کیا واقعی پاکستان کا قیام ایک مکمل آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے عمل میں آیا تھا؟ اوراگر ان معزز شخصیات کا جواب’’ہاں‘‘ میں ہوگا تو پھر میں بہت احترام کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے گورنر جنرل کی حیثیت سے سلطنت برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم ، ان کے ولی عہدوں اور جانشینوں کی وفاداری کا حلف کیوں اٹھایا تھا؟
اب یقیناًتاریخ سے واقف چند زعما ء تاریخی حقائق کی روشنی میں یہی جواب دیں گے کہ اس وقت پاکستان کا کوئی آئین نہیں بنا تھا ۔
بھارت میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن ، گورنر جنرل بنا تھا اور پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ گورنر جنرل بنے تھے اور دونوں ممالک کو جو آزادی دی گئی تھی وہ سلطنت برطانیہ کے جاری کردہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947ء کے تحت دی گئی تھی ۔ یہ ایکٹ برطانیہ کی پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا تھااور اس ایکٹ کی منظوری 18، جولائی 1947ء کو شہنشاہ برطانیہ جارج ششم سے لی گئی تھی ۔ اس ایکٹ کے تحت برٹش انڈیا کو دو آزاد نوآبادیات( Dominion States) یعنی انڈیا اور پاکستان کی شکل میں تقسیم کردیا گیا۔اس ایکٹ کی منظور ی کے بعد 14، اگست 1947ء کو پاکستان اور 15، اگست 1947ء کو انڈیا وجود میں آیا تھا۔
اس ایکٹ کے بنیادی نکات میں یہ کہا گیا تھا کہ دونوں نئے ممالک کے گورنر جنرل تاج برطانیہ کے نمائندے ہونگے۔
تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وقت دونوں ممالک (بھارت اورپاکستان) کی حکومتوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھاسوائے اس کے کہ وہ سلطنت برطانیہ کے جاری کردہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ 1947ء کے تحت ہی حلف اٹھائیں ورنہ انکار کی صورت میں یہ آزادی بھی نہ مل پاتی ۔یعنی ایسا کرنے کے علاوہ نہ تو بھارت کے پاس کوئی راستہ تھا اور نہ 
ہی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا اور انہوں نے ایک بڑے مقصد کیلئے ایسا عملUnder Compulsion یعنی مجبوری کے تحت کیا تھا۔
میں ان تاریخی حقائق کی روشنی میں انتہائی وثوق اور ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ 14، اگست 1947ء کو پاکستان اور 15 ،اگست 1947ء کو انڈیا نے جو آزادی حاصل کی تھی وہ آزادی کسی بھی طرح مکمل آزادی نہیں تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ادھوری آزادی تھی کیونکہ آزادی کے بعد بھی دونوں ہی مملکتوں کے سربراہوں نے برطانوی بادشاہ سے وفاداری کا حلف لیا تھا۔
میرا سوال ہے کہ اب کیا قائداعظم محمد علی جناح ؒ پر یہ تہمت لگانا درست ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کے بڑے مقصد اور مستقبل کی بہتری کیلئے یہ حلف نہیں اٹھایا تھا بلکہ خاکم بدہن اپنی گورنرجنرلی کے حصول کیلئے یہ حلف اٹھایا تھا؟میں پوچھتا ہوں کہ کیا برطانوی سلطنت کے بادشاہ جارج ششم ، انکے ولی عہدوں اور جانشینوں کا حلف اٹھانے سے قائداعظم کی پاکستان سے وفاداری مشکوک ہوگئی تھی؟
اگر قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، بانی پاکستان ہونے کے باوجود تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھاسکتے ہیں تو پاکستان کے کسی شہری کا اپنی رضا یا حالات کے جبر کے تحت پاکستان کی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ ، کینیڈا یا دولت مشترکہ کے کسی بھی ملک کی شہریت اختیار کرنے پر اعتراض کیوں؟ کیا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے زیادہ کوئی پاکستان کا وفادار ہوسکتا ہے ؟ ان کے عمل کی تقلید کرنے والے پاکستانیوں کی حب الوطنی پر شک کیسے کیا جاسکتا ہے ؟
جس طرح 1947 ء میں اس وقت کے قانون کے تحت گورنر جنرل کے منصب پر فائز ہونے کیلئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کیلئے تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھانا ان کی قانونی مجبوری تھی اسی طرح اگر کوئی پاکستانی شہری پاکستانی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ حالات کے جبر کے تحت برطانیہ یا دولت مشترکہ کے کسی ملک کی شہریت اختیار کرتا ہے اور ملکہ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے تو اس کا یہ عمل اس کی قانونی مجبوری ہے اور اس کی مجبوری کو پاکستان سے بے وفائی سے تعبیر کرنا سراسر زیادتی ہے۔جو لوگ برطانیہ ، کینیڈا یا دولت مشترکہ کے کسی ملک کی شہریت اختیار کرنے والے پاکستانی شہریوں کو پاکستان کا غدار قراردے رہے ہیں اور ان پر طرح طرح کی تہمتیں لگارہے ہیں ، ان کا ایسا کرنا دراصل بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قانونی مجبوری کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے ۔
آج پاکستان میں دہری شہریت کے بارے میں ہر جگہ بحث چل رہی ہے ۔دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو نہ صرف یہ کہ طرح طرح کے طعنے دیئے جاتے ہیں بلکہ ان کی حب الوطنی پر بھی شک کیا جاتا ہے ۔ میں یہاں تمام پاکستانیوں سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا کہ کیا کوئی شہری اپنی خوشی اور رضا سے اپنا ملک چھوڑ کر دیار غیر میں بسنا چاہتا ہے ؟
میں عوام سے سوال کرتا ہوں کہ میں نے قیام پاکستان سے لیکر 65 برسوں کے جو تاریخی حقائق ثبوت وشواہد کے ساتھ پیش کیے۔ تمام سامعین ، ناظرین اور پڑھنے والے اپنے ضمیر کو گواہ بناکر یا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان تاریخی حقائق سے پاکستان کی کتنے فیصد اکثریت واقف ہے؟ہماری اکثریت کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان کس تاریخ کو دولخت ہوا؟ ملک دولخت ہونے کے ظاہری وپوشیدہ مقاصد ،اس میں کارفرما ہاتھ ، سازشیں اور اصل قصوروار کون تھے ؟
ہر زندگی رکھنے والی شے خواہ وہ جانور ہوں۔۔۔چرند پرند ہوں۔۔۔کیڑے مکوڑے ہوں یا دیگر جاندار وں کی طرح اشرف المخلوقات یعنی انسان تک اپنے اپنے جیسے قبیلوں، گروہوں، قوموں یا اپنے جیسی ہیئت رکھنے والے اقسام کے قریب رہنا چاہتا ہے ۔ اسی طرح فطرت انسانی بھی ہے کہ انسان اپنے جیسے لوگوں ، علاقوں، شہروں اور ملک میں رہنا پسند کرتا ہے اوراپنے قریبی دوستوں، رشتہ داروں ، عزیزواقارب اور پیاروں سے جدا ہوکر دوردراز علاقوں اور ملکوں میں جاکر رہنا پسندنہیں کرتا۔ اوراگر حالات کی ستم گری یا کسی بھی وجہ سے مثلاً روزگار کے حصول ، محنت ومشقت ، اعلیٰ تعلیم کے حصول یا کسی بھی مجبوری یا اپنی زندگی وسلامتی کیلئے اسے دیار غیر جانا پڑ ے تو وہ خوشی سے ہرگز نہیں جاتا بلکہ حالات کے جبرکے تحت اسے اپنوں کو چھوڑ کر ۔۔۔اپنے ملک کو چھوڑ کرکسی اورملک کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔
یہاں میری اس بات کی تصدیق پوری دنیا میں رہنے والے پاکستانیوں خواہ وہ فرد کی صورت میں ہوں یا خاندان کی شکل میں برسوں سے بیرون ملک قیام پذیر ہوں۔خواہ انہیں بیرون ملک رہتے ہوئے دس ، بیس ، تیس حتی ٰ کہ چالیس سال سے زائدکا عرصہ کیوں نہ گزرچکا ہو۔۔۔جن کے بچے جوان ہوچکے ہیں۔۔۔ہزاروں کی شادیا ں تک ہوچکی ہیں، ان خاندانوں کے پاس جاکر ذرا ایمانداری سے گفتگو کریں کہ کیا اب آپ نے گوکہ ان ممالک کی شہریت بھی حاصل کرلی ہے اور بیرون ممالک گھربار بھی بنالیا ہے تو کیا آپ اب یہیں مستقل قیام کا ارادہ رکھتے ہیں؟تو ان سب کا جواب تقریباً تقریباً ایک ہی جیسا ہوگا کہ ہماری تو ہررات یہ سوچ کر گزرتی ہے کہ کل صبح کا سورج شائد ہماری وطن واپسی کی کرن لیکرابھرے۔۔۔گوکہ ہمیں یہاں رہتے ہوئے برسوں بیت چکے ہیں لیکن آج تک ہم اپنے کلچر، تہذیب ، کھانے پینے اور اوڑھنے کا وہی طریقہ اختیار کرتے ہیں جو ہم اپنے وطن میں کیا کرتے تھے۔ اور اتنا عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ہم یہاں کی مقامی آبادی میں نہ تو ایڈجسٹ ہوسکے اور نہ ہی مقامی آبادی ہم کو ایڈجسٹ کرسکی ۔ہم اتنے برسوں سے آج بھی یہاں اجنبیوں کی طرح زندگی گزاررہے ہیں اورہمارے لبوں پر ہروقت یہی دعا رہتی ہے کہ اللہ کرے کہ ہمارے وطن کے حالات ایسے بہتر ہوجائیں کہ ہم بال بچوں کے ساتھ اپنے وطن کو سدھاریں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہم میں سے بیرون ملک رہنے والے ہزاروں خاندان اپنا گھربار، کاروبار سب کچھ بیچ باچ کرواپس پاکستان منتقل ہوئے لیکن وہاں کے معاشرے میں ہماری اولاد ایڈجسٹ نہیں ہوسکی اور نتیجتاً ہمیں دوبارہ بیرون ملک آنا پڑا اور نئے سرے سے زندگی کاآغاز کرنا پڑا۔
اس تاریخی واقعہ سے کون واقف نہیں کہ ہمارے پیار ے نبی سرکاردوعالم ؐ کو انتہائی کسمپرسی کے عالم میں صحابہ کرامؓ کے ہمراہ شعب ابی طالب کے مقام پر ہجرت کرنی پڑی اور تین سال تک وہاں انتہائی بھوک ، افلاس اور تنگ دستی میں دن گزارنے پڑے۔جب کفارمکہ نے اورمکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے صحابہ کرامؓ کا مکہ میں رہنا ناممکن بنادیا تو آپؐ شعب ابی طالب کے مقام پر صحابہ کرامؓ کے ساتھ تشریف لے جانے پر مجبور ہوئے ۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہ ہوا کہ ا س دوران مکہ سے ان کی وابستگی ، محبت، لگن اورعقیدت میں کوئی کمی آئی ہو۔کفار مکہ نے حضوراکرم ؐ کو اس دنیا سے رخصت کرنے کے ناپاک منصوبے بنائے ۔۔۔وہ کھلے عام ننگی ننگی تلواریں لیکرجگہ جگہ حضوراکرم ؐ کو تلاش کیا کرتے تھے ۔۔۔۔کفارمکہ ، صحابہ کرامؓ پر اذیت ناک مظالم ڈھایا کرتے تھے ۔۔۔ انہیں گرم ریت پر لٹا کر گھسیٹا کرتے تھے۔۔۔ ان کے سینوں پر بڑے بڑے پتھررکھ کرانہیں طرح طرح کی اذیتیں پہنچایا کرتے تھے تو سرکاردوعالم ؐ نے صحابہ کرامؓ کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم فرمایا اورآپ ؐ بذات خود بھی مدینہ ہجرت کرگئے۔ جب آپؐ مدینے روانہ ہورہے تھے اور اپنا وطن مکہ چھوڑ رہے تھے تو ا س وقت حضورؐ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔نبی کریم ؐ نے کفارسے صلح حدیبیہ بھی کیا اور مدینہ منورہ میں یہودیوں سے میثاق مدینہ بھی کیا۔ ان معاہدوں سے خاکم بدہن۔۔۔خدانخواستہ ۔۔۔نعوذ باللہ ۔۔۔ استغفراللہ کہیں ذرہ برابر یہ جھلک نہیں ملتی کہ آپ ؐ ، بیت اللہ ، مکہ مکرمہ یااہل مکہ کو بھول بیٹھے تھے ۔
اسی طرح دنیا میں ہجرتوں کے المناک واقعات بھرے پڑے ہیں ۔ جہاں بہت سے ممالک کی ظالم حکومتوں کی جانب سے سچائی اور حق کا پرچار کرنے والوں کیلئے زندگی تنگ کردی جاتی ہیں اور حق وصداقت کا پرچارکرنے والو ں کا اپنے ملک میں رہنا ناممکن بنادیا جاتا ہے تو پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ اپنے اپنے بال بچوں اور اپنی زندگی بچانے کی خاطر کسی دوسرے شہر یا ملک منتقل ہوجائیں۔
پاکستان ہی کی مثال لے لیجئے ۔۔۔جب ذوالفقارعلی بھٹو شہید کو پھانسی دی گئی تو صر ف پیپلزپارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ بہت بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کے کارکنان کو بھی بیرون ملک ہجرت کرنی پڑی کیونکہ اس وقت کی آمر حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اورکارکنوں کا پاکستان میں جینا ناممکن بنادیا گیا تھا۔ اسی طرح1999ء میں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنی حکومت گر جانے کے بعد مختلف ممالک میں ہجرت کی تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت کے بہت سے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی بیرون ممالک ہجرت کی اور آج دونوں جماعتوں کے بعض رہنما اور کارکنان دیگر ممالک کی شہریت اختیارکرکے وہاں صرف اس بنیاد پر زندگی گزار رہے ہیں کہ ملک کے حالات بہتر ہوتے ہی ہم اپنے وطن واپس لوٹ چلیں گے ۔
اسی طرح جب 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن کیا گیا اور ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں وہمدردوں کو شہید وزخمی کیا گیا ، ہزاروں کو گرفتاری کے بعد شدید ترین ٹارچر کا نشانہ بناکر زندگی بھر کیلئے معذوربنادیا گیا،درجنوں کارکنان گرفتاری کے بعد سے آج تک لاپتہ ہیں، ہزاروں کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں جیلوں میں قید کردیا گیا۔جب انصاف کے حصول کیلئے کہیں سے کوئی توقع اور امید باقی نہ رہی تو بہت بڑی تعداد میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں جانے کا موقع ملا، انہوں نے وہاں ہجرت کرکے رہائش اختیار کی اور آج کے دن تک بھی ہزاروں کارکنان دنیا کے مختلف ممالک میں حالات کے جبر کے تحت جلاوطنی کی کربناک زندگی گزاررہے ہیں ۔
میں پاکستان میں تھا تو مجھ پر بے پناہ قاتلانہ حملے ہوئے ،جب 21، دسمبر1991ء کومجھ پر ملک کا پہلا خودکش حملہ ہوا جس میں اللہ کے فضل وکرم سے میں اور میرے ساتھی محفوظ رہے جبکہ حملہ آور خود موت کا شکار ہوگیا ۔ اس کے بعد ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی اور کارکنان کئی اجلاس کرکے اس نتیجے پر پہنچے کہ اب میرا پاکستا ن میں رہنا کسی بھی طرح مناسب نہیں لہٰذا انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں فی الفور ملک سے باہر چلاجاؤں اور باہر رہ کر کارکنوں کی رہنمائی کروں۔اپنے ساتھیوں کے مسلسل اور بے حد اصرار اور پرزور درخواست پر میں یکم جنوری 1992ء کو پہلے عمرہ کرنے سعودی عرب گیا اور کچھ عرصے بعدوہاں سے لندن آگیا۔ میں ہرروز وطن واپس جانے کی امید میں آس لگائے اپنے تنظیمی کاموں میں مصروف رہتا تھا کہ میرے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ ایک دن یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ 5اور6 دسمبر کی درمیانی شب ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے میرے 70 سالہ بزرگ بھائی ناصرحسین کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہ میرے بڑے بھائی ناصر حسین اور این ای ڈی یونیورسٹی سے کوالیفائیڈ انجینئر میرے بھتیجے 28 سالہ عارف حسین کو گرفتار کرکے لے گئے ۔ ریاستی اداروں کے اہلکار انہیں گرفتارکرنے کے بعد ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر تین روز تک میرے تمام بہن بھائیوں کے گھر لے گئے اور سب کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ۔غرض دونوں پر تین روزتک بے پناہ تشدد کیا گیا اور بالآخر 9، دسمبر1995ء کو ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کراچی کی مضافاتی بستی گڈاپ میں لے جاکر انہیں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔انہیں شہید کرنے کے بعد ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے دہشت کا مزید خوفناک منظر پیدا کرنے کی غرض سے میرے جواں سال بھتیجے عارف حسین کے سرپر کلہاڑی کے وار کرکے اس کے سر کے دوٹکڑے کرڈالے ۔
سامعین وناظرین کرام !
اگر ایسا سلوک پاکستان کے کسی بھی لیڈر کے ساتھ ہوتایا اس کے خاندان والوں کے ساتھ ہوتا تو اس کے پاس ہجرت کرنے کے علاوہ کیا راستہ باقی رہ جاتا؟کیامسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے 8 سال ملک سے باہر نہ گزارے ؟ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور صدر آصف علی زرداری نے جلاوطنی نہیں گزاری ؟ کیا ان کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے جلاوطنی نہیں گزاری ؟ یہاں یہ سب بیان کرنے کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ہماری معزز عدلیہ اور مقننہ کو اس بات پر غورکرنا چاہئے کہ کوئی آدمی حصول معاش یا علم کے حصول کیلئے ہجرت کرتا ہے ۔۔۔تو کسی کو ریاستی مظالم ہجرت کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔انتہائی مجبوری، کسمپرسی اورحالات کے جبرکے تحت ہجرت کے اس عمل پر جب بحالت مجبوری اسے کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنی پڑتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کی وفاداری مشکوک ہوگئی یا وہ اپنے وطن اور ہم وطنوں سے بے خبر یا لاتعلق ہوگیا۔ اگر اس میں ذرا برابر بھی کوئی صداقت ہوتی تو آج مجھے 22 سال جلاوطنی میں ہوچکے ہیں لیکن ایک دن ۔۔۔ایک لمحہ کیلئے بھی میرا رابطہ اپنے وطن ۔۔۔اپنے ساتھیوں سے ۔۔۔اپنے عوام سے نہیں کٹا ۔ میرا جسم پاکستان میں نہیں لیکن میری روح ۔۔۔میری سوچ۔۔۔میری فکر ہمیشہ پاکستان میں ہی رہتی ہے ۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے لیکر آج کے دن تک کی جانے والی ہجرتوں کی ان تفصیلات پر غورکریں اورپاکستانیوں کی جانب سے دیگر ممالک کی شہریت اختیارکرنے کیلئے اٹھائے جانے والے حلف کا جائزہ لیں تو الفاظوں کی تبدیلی کے باوجود حلف کا مکمل مفہوم کم وبیش ایک ہی نظر آئے گا۔ 
قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے برطانوی شہری ہوتے ہوئے اور برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم ، ان کے ولی عہدوں اور ان کے جانشینوں کی وفاداری کا حلف لیا لیکن اس کے باوجود بھی وہ مسلمانان ہند کے مسائل اور تکالیف کو نہ بھولے اور برطانوی شہریت رکھنے کے باوجود انہوں نے مسلسل جدوجہد کے ذریعہ پاکستان بناکر دکھادیا۔لہٰذا ہماری معزز ومحترم عدلیہ اورمقننہ کو دہری شہریت کے معاملے کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کے دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنے کے عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان حالات اورمشکلات کو پیش نظر رکھنا چاہئے جن کے باعث انہیں کسی دوسرے ملک ہجرت کرنی پڑے اور وہاں کی شہریت اختیار کرنی پڑی ۔دنیاکے مختلف ممالک میں جاکر آباد ہوجانے اوروہاں کی شہریت اختیارکرلینے والے 70لاکھ پاکستانیوں کی حب الوطنی کوشک کی نگاہ سے دیکھناکسی بھی طرح جائز نہیں کیونکہ وہ ہرسال کھرربوں روپے کازرمبادلہ پاکستان کوبھیجتے ہیں جوپاکستان کی کمزورمعیشت میں ایک مضبوط ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ہمیں ایسے لوگوں کی حب الوطنی کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے یا ان پر طعنہ زنی کا عمل کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ کہیں اللہ تعالیٰ طعنہ زنی کرنے والوں کو کسی ایسے امتحان میں نہ ڈال دے کہ وہ کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرنے اور وہاں کی وفاداری کا حلف لینے پر مجبور ہوں ۔
میں ان بیان کردہ حقائق کی روشنی میں تمام دانشوروں۔۔۔اوراہل قلم حضرات کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ میرے بیان کردہ حقائق اور پیش کردہ ثبوت وشواہد کے جواب میں مجھ پر جتنی چاہیں شوق سے تنقید کریں میں انکی تنقید کا خوش دلی سے خیرمقدم کروں گالیکن میری درخواست ہوگی کہ سوال جواب اور اعتراض جوبھی ہووہ دلائل اور ثبوت وشواہد کی روشنی میں ہو۔
میں ناقدین کی تسلی، تشفی اور اطمینان کیلئے مزید تحقیق کا سہارا لوں گا اورجو نئے دلائل مزید ثبوت وشواہد کی روشنی میں سامنے آئیں گے وہ پیش کردوں گاکیونکہ میں نے زندگی میں کوئی بات بغیر ثبوت وشواہد اوربغیر تصدیق کے نہیں کی ۔
آخر میں ، میں ان دعاؤں کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا رحم وکرم فرمائے ۔۔۔اور عوام میرے بیان کردہ آج کے ا س مقدمے کو جسے میں نے سیاسی ڈرون دھماکے سے تعبیر کیا اس کے ایک ایک لفظ پر غورکرکے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں کہ میں کہاں تک درست ہوں۔۔۔اور کہاں تک غلط ۔
 
 
واللہ عالم باالصواب
 آپ کا الطاف حسین

12/8/2016 7:56:29 PM