Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’ داعش ‘‘ کی شکل میں طالبان اورالقاعدہ سے زیادہ بڑ ا خطرہ پاکستان میں داخل ہوچکا ہے ،الطاف حسین


’’ داعش ‘‘ کی شکل میں طالبان اورالقاعدہ سے زیادہ بڑ ا خطرہ پاکستان میں داخل ہوچکا ہے ،الطاف حسین
 Posted on: 10/31/2014
’’ داعش ‘‘ کی شکل میں طالبان اورالقاعدہ سے زیادہ بڑ ا خطرہ پاکستان میں داخل ہوچکا ہے ،الطاف حسین
اگر حکومت اورسیکوریٹی اداروں نے اس خطرناک شدت پسند گروپ پر قابونہ پایاتو ہر گلی اورمحلے میں بے گناہوں کی لاشوں کے انبارہوں گے اورعوام روانڈا میں افریقی قبائل کے ہاتھوں لاکھوں افرادکے سفاکانہ قتل عام کو بھول جائیں گے
طالبان کے لوگ تیزی سے داعش میں شامل ہورہے ہیں، اٹک سے ا سلام آبادتک داعش کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں،کراچی سمیت مختلف شہروں میں داعش کی وال چاکنگ بھی ہورہی ہے
میں نے کئی برس قبل طالبانائزیشن کے خطرے سے قوم کوآگاہ کیاتھاتواس سے انکارکیاگیا، آج میں ایک بارپھر قوم کوداعش کی شکل میں ایک اور ہولناک خطرے سے آگاہ کررہا ہوں
کراچی میں ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروعزیزآبادپر ایک اہم اور پرہجوم پریس کانفرنس سے ٹیلیفون پر خطاب

لندن۔۔۔31 اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ ’’ داعش ‘‘ کی شکل میں طالبان اورالقاعدہ سے زیادہ بڑ ااورہولناک خطرہ پاکستان میں داخل ہوچکا ہے ،اگر حکومت اورسیکوریٹی اداروں نے عوام کے ساتھ ملکر اس خطرے کی روک تھام نہ کی اور اس خطرناک شدت پسند گروپ پر قابونہ پایاتوپاکستان کی ہر گلی اورمحلے میں بے گناہوں کی لاشوں کے انبارہوں گے اورپاکستان کے عوام روانڈا میں افریقی قبائل کے ہاتھوں لاکھوں افرادکے سفاکانہ قتل عام کو بھول جائیں گے ۔انہوں نے یہ انکشاف آج کراچی میں ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروعزیزآبادپر ایک اہم اور پرہجوم پریس کانفرنس سے ٹیلیفون پر خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیاسے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان، سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، مختلف تنظیمی شعبہ جات کے ارکان بھی بڑی تعدادمیں موجود تھے۔ جناب الطا ف حسین کی پریس کانفرنس ٹی وی چینلزنے براہ راست نشرکی اس کے علاوہ یہ پریس کانفرنس ایم کیوایم کے ویب ٹی وی پر بھی براہ راست نشرکی گئی جس کے ذریعے پاکستان بھرمیں ایم کیوایم کے تمام زونوں اوراضلاع کے ذمہ داران وکارکنان نے جناب الطا ف حسین کی یہ پریس کانفرنس براہ راست دیکھی۔ اپنی پریس کانفرنس میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں داعش کی سرگرمیوں کاسلسلہ روزبروزبڑھتاجارہاہے،میڈیامیں خبریں آچکی ہیں کہ طالبان کاترجمان شاہداللہ شاہد کئی کمانڈروں سمیت داعش میں شامل ہوچکاہے، طالبان میں شامل لوگ بہت تیزی سے داعش میں شامل ہورہے ہیں پنجاب میں اٹک سے ا سلام آبادتک داعش کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں اورکراچی سمیت مختلف شہروں میں داعش کی وال چاکنگ بھی ہورہی ہے۔میں نے کئی برس قبل طالبانائزیشن کے خطرے سے قوم کوآگاہ کیاتھاتواس چیزسے انکارکیاگیااورمیرامذاق اڑایاگیا، آج میں ایک بارپھر قوم کوداعش کی شکل میں ایک اور ہولناک خطرے سے آگاہ کررہا ہوں ،اگرداعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کانوٹس نہیں لیاگیااوراس خطرے سے نہ نمٹاگیاتوملک کوبہت نقصان ہوگا۔جناب الطاف حسین نے ISIS یاداعش کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہاکہ داعش پہلے ISI تھی جو ’’ اسلامک اسٹیٹ آف عراق ‘‘ کامخفف تھا جو 15 اکتوبر 2006ء کوقائم کی گئی۔یہ گروپ عراق، ایران، شام اورکویت میں ابومصعب الزرقاوی کی قیادت میں کام کرنے والے القاعدہ کے مختلف گروپس کومتحد کررہا تھا۔ ابومصعب الزرقاوی کے قتل کے بعدعراق میں مجاہدین کی شوریٰ نے ابوعمرالبغدادی کو اسلامک اسٹیٹ آف عراق کاامیرمقررکیا۔2010ء میں ابوعمرالبغدادی کے قتل کے بعد مجاہدین کی شوریٰ نے ابوبکرالبغدادی کوISI یعنی اسلامک اسٹیٹ آف عراق کاامیرمقررکیا۔ابوبکرالبغدادی نے عراق اور شام کے مختلف گروپس کو ایک جگہ جمع کیا اس طرح ISI تبدیل ہوکرISIS یعنی ’’ اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈسیریا ‘‘ یا ’’ داعش ‘‘ ہوگئی۔ داعش جسے ’’ دولت اسلامی عراق و شام ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ، اب اس کادائرہ عراق اورشام سے بڑھ کرپاکستان تک پھیل رہاہے جوطالبان اورالقاعدہ
سے بھی زیادہ خطرناک گروہ ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ سب سے پہلے کراچی میں طالبائزیشن کی ٹرمنالوجی سے قوم کو آگاہ کیا تھا اور پوری قوم کو چلا چلا کر کہا کہ کراچی میں طالبا ئز یشن بڑھتی چلی جاری ہے ۔ میں گزشتہ ادوار کے صدر ،وزیر اعظم سمیت تما م ہی اداروں کے سربراہان کے علم میں یہ بات لاتا رہا کہ خدارا اس خطرے کی روک تھام کیلئے اقدامات کریں مگر کسی نے توجہ نہ دی بلکہ ہر جانب سے میرے بیان کی نفی کی گئی بلکہ مذاق تک اڑیا گیا ۔ جن لوگوں نے میرے خدشات پر توجہ نہ دی بالآخرانہوں نے دیکھا کہ میرے خدشات درست ثابت ہوئے اور آج پوری دنیا اس بات کو مان رہی ہے کہ الطاف حسین درست تھا ۔ جناب الطاف حسین نے اخبارات کے مالکان ،ایڈیٹر، پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے صحافی حضرات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جو صاحبان ملک کی سلامتی ،خوشحالی امن آشتی کی جو باتیں کر تے ہیں اب وہ باتیں نہ کریں بلکہ اپنے ظرف و ضمیر کی آواز کو سنتے ہوئے کام کریں اور قوم کو حقیقت سے آگاہ کریں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے فوری بعد سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان کولڈ وار کا آغاز ہوگیا تھا اور 1973ء میں امریکہ کی سی آئی اے نے 1973ء سے طالبان بنانے کے عمل کا آغاز کر دیا اور بلا آخر 1979ء میں طالبان کی باقاعدہ افغانستان میں تشکیل دی گی جب سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوج اتار دی تھی ۔ طالبان کی تشکیل میں امریکہ کا ساتھ دیگر ممالک نے بھی دیا جس میں پاکستان اورسعودی عرب بھی شامل تھا 1991ء میں کولڈ وار کا اختتام ہوگیا جس کے بعد سوویت یونین نے افغانستان سے انخلا شروع کردیا اور ساتھی ہی طالبان کی سرپرستی کرنے والے امریکہ اور دیگر ممالک بھی افغانستان سے اپنا بوریا بسترا لپیٹ کر روانہ ہوگئے ۔ طالبان کی مدد کے لئے فراہم کی جانے والی رقم اور دیگر وسائل کا بھی امریکن فوج کی واپسی کے بعد سلسلہ بند ہوگیا ۔ طالبان نے رقوم اور وسائل کے حصول کیلئے انتہائی بہیانک او رغیر قانی طریقہ کے استعمال کا آغاز کر دیا جن میں ڈاکہ زنی ، اغوا برائے تاوان ،لوٹ مار سمیت دیگر جرائم بھی شامل تھے ساتھ ہی پیسو ں کی لین دین میں اختلاف کے باعث طالبان میں مختلف گروپ بھی بن گئے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ طالبان کے مختلف گر وپ نے سعودی عرب کی طرز کی حکومت کیلے کوششیں شروع کر دیں اور شریعت سعودی عرب کا پرچار شروع کردیا اس طرز شریعت کے پرچار کے نتیجے میں مسجدوں ، امام بارگاہوں حتیٰ کے بزرگان دین کے مزاروں تک کو نشانہ بناتے ہوئے ان کو بموں سے اڑا دیا گیا پولیس ،فوج اور رینجرز سمیت ملک کے اہم اداروں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا جن میں خود کش حملے پیش پیش تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری مسلح افواج شمالی وزیرستان میں اپنی جانوں کی قربانی دے رہی ہیں اورسیلاب اورخشک سالی کے حالات میں بھی بڑھ چڑھ کرخدمات انجام دے رہی ہیں لیکن فوج اکیلے ملک کونہیں بچاسکتی ، اس سلسلے میں پاکستان کے تمام عوام نوجوانوں، بزرگوں اورماؤں بہنوں کوبھی اپنافرض پوراکرناہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے مسلح افواج کے سربراہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسزانٹیلی جینس، ملٹری انٹیلی جینس اور آئی بی کے سربراہ سے درخواست کی کہ وہ تمام تحقیقاتی اداروں میں موجود ذمہ داروں کو احساس بھی دلائیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ فعال بنائیں تاکہ وہ شدت پسندگروپوں پرنظر رکھ سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ داعش کے بڑھتے ہوئے قدموں کوروکنے کیلئے عوام کوبھی چاہیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقدکریں اوراس سلسلے میں اپنافرض پورا کریں کیونکہ ملک بچے گاتوانتخابی نظام بھی درست ہوجائیگااورفوج، پولیس بیوروکریسی بھی اپنے فرائض صحیح طورپراداکریں گے۔ اگرہرآدمی یہ سوچے گاکہ یہ کام دوسرا کرے توملک کوبچانے کیلئے کوئی بھی کسی قسم کاقدم نہیں اٹھاسکے گا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ داعش کے خطرے سے آگاہ کرکے میں نے بحیثیت پاکستانی اپنا فرض پورا کیا ہے اور پوری رات ریسرچ کرکے دریا کو کوزے میں بند کر نے کی کوشش کی ہے۔ اب سب کو احساس کرنا چاہئے اوریہ یادرکھنا چاہیے کہ جو قومیں اپنے فرائض منصبی کو دیانتداری اور ایمانداری سے پورا نہیں کرتی ہیں صفحہ ہستی سے مٹنا انکا مقدر بن جاتا ہے ۔عوام کوبھی ایمانداری اور اپنے ضمیر کے مطابق اس کافیصلہ کرنا چاہئے کہ پاکستان کی کون سی جماعت صرف نعرے بازی اور اُچھل کود کرتی ہے اور کونسی جماعت ہے جو سنجیدگی سے عوام کی خدمت کرتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اپنافرض اداکرتے ہوئے تمام جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک گول میزکا نفرنس رکھ لیں ، ملک کی سلامتی ، بقاء خطرات سے بچاؤ کیلئے صحافی جسے منتخب کریں گے اورجسے تمام جماعتوں کے قائدین تسلیم کرلیں گے میں بھی ایم کیوایم کے قائد کی حیثیت سے اس کی قیادت میں ایک کارکن کی طرح کام کرنے کیلئے تیار ہو جاؤں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر صوبائی حکومتیں داعش کی سرگرمیوں کی روک تھام نہیں کریں گی تو پوری دنیا کا یہ سمجھنا جائز ہوگا کہ داعش یااس جیسے گروپوں کو براہ راست نہیں تو بلاواسطہ یا خاموش حمایت ضرور حاصل ہے ۔اس سوال پر کہ کیا کوئی ادارہ داعش کوسپورٹ کررہاہے ، انہوں نے جواباً کہاکہ میں نہیں سمجھتا کہ ادارے سے کوئی سپورٹ کر رہا ہو لیکن یقیناوہ جماعتیں یقیناًکچھ نا کچھ ہوں گی کہ جو صبح شام شیعہ اور سنی جھگڑے کراتی رہتی ہیں ، ٹارگٹ کلنگ کراتی رہتی ہیں ،پڑھے لکھے لوگوں کو مٹایا جارہا ہے لیکن ان کو پکڑنے والا کوئی بھی نہیں ہے اور اب وہ عناصرجو نفرت کی تبلیغ کرتے ہیں وہ بہت آرام سے کام کر رہے ہیں ۔ اب تو سبھی کو سوچنا چاہئے اور یہاں پر جو پنجابی ہیں انہیں پنجاب کا بن کر نہیں ، جو پٹھان ہے ان کو سرحد کا بن کر نہیں ،بلوچوں کو بلوچستان کا نہیں ، سندھیوں کو سندھ کا نہیں اس شہر کا بن کر سوچنا چاہئے اور جو جس شہر کا ہو اس شہر کا ہر زبان بولنے والے کو وہاں کی ترقی شہر کی ترقی خوشحالی کے لئے سوچنا چاہئے۔اسی طرح ملک چلا کرتے ہیں اسی طرح ترقی ہوا کرتی ہے ۔ میرا دل کافی دکھا ہوا ہے غمزدہ بھی ہے اور جتنا خطرہ میں محسوس کر رہا ہوں مجھے افسوس ہے کسی اورجماعت کے رہنماکو احساس نہیں ہے ، اتنا کھلے عام سب کچھ ہورہا ہے اور کسی کو اعتراض نہیں ہے ،میں دعاکرتاہوں کہ اللہ ان کو عقل سلیم دے اور ان کے اندرایمان کی قوت دے ۔ 

12/7/2016 10:02:17 PM