Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

31 اکتوبر1986ء کادن میرے لئے ایک بہت المناک دن کی حیثیت رکھتاہے۔الطاف حسین


31 اکتوبر1986ء کادن میرے لئے ایک بہت المناک دن کی حیثیت رکھتاہے۔الطاف حسین
 Posted on: 10/31/2014
31 اکتوبر1986ء کادن میرے لئے ایک بہت المناک دن کی حیثیت رکھتاہے۔الطاف حسین
31 اکتوبر86ء کوپکاقلعہ حیدرآبادکے جلسہ کے موقع پر اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوختم کرنے کی پوری قوت کے ساتھ کوشش کی
ڈپٹی کمشنر اشفاق میمن نے کہاکہ یہ خطرناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آپ کل حیدرآباد روانہ ہونگے تو سہراب گوٹھ پر حملہ کرینگے
میں نے شہر کادورہ کرکے کارکنوں کوتلقین کی کہ وہ سہراب گوٹھ سے نہایت خاموشی سے گزریں، وہاں سے گزرتے وقت نعرے بھی نہ لگائیں
رات کواچانک میرے ذہن میں خیال آیاکہ میں فوراً حیدرآباد روانہ ہوجاؤں۔ ایسامحسوس ہورہاتھاکہ جیسے کوئی طاقت مجھے مجبورکررہی
ہے کہ ابھی حیدرآبادکیلئے نکل پڑو،میں نے اسی وقت حیدرآبادمیں ہوٹل میں کمرہ بک کروالیا اورچندساتھیوں کے ہمراہ حیدرآباد پہنچ گیا
ہوٹل میں اطلاع ملی کہ حیدرآباد آنے والے ایم کیوایم کے جلوس پر سہراب گوٹھ اورمارکیٹ چوک کے مقام پر فائرنگ کی گئی ہے اورکئی کارکن شہید اوردرجنوں زخمی ہوگئے ہیں، میں نے رہنماؤں کوتاکیدکی کہ جلسہ میں اس واقعہ کاذکرنہ کریں تاکہ عوام میں اشتعال نہ پھیلے
کارکنوں کی لاشیں علاقوں میں پہنچیں توعوام میں اشتعال پھیل گیااور عوامی ردعمل میں ہنگامے اورماراماری شروع ہوگئی
جلسہ کے بعد حیدرآباد سے کراچی واپس جانے والے ایم کیوایم کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کی گئیں
مجھے گھگھرپھاٹک کے مقام پر گرفتارکرلیا گیا۔ میرے ساتھ لیاقت آبادسیکٹرکے کارکن عظیم فاروقی بھی تھے جوآج سندھ اسمبلی کے رکن ہیں
مجھے اورعظیم فاروقی کو بلدیہ ٹاؤن کے سنسان اورویران علاقے میں قائم ایک پولیس سیل میں رکھاگیا، ہمیں کئی روز تک تشددکانشانہ بنایاگیا
مجھ سے پولیس، آئی ایس آئی، ایم آئی ، آئی بی اور ایف آئی اے سمیت مختلف ایجنسیوں کی تفتیشی ٹیموں نے الگ الگ تفتیش کی
مجھ پر دباؤڈالاگیاکہ ہم جوکچھ لکھ کر دے رہے ہیں اس پر دستخط کردو ورنہ ہم تمہیں منگھوپیرکی پہاڑیوں پر لیجاکرماردیں گے
میں نے صاف کہہ دیاکہ آپ چاہے میرے ہاتھ کاٹ دیں یا مجھے ماردیں لیکن میں آپ کے جھوٹ پردستخط نہیں کروں گا
مجھے توڑنے کیلئے تشددکے مختلف حربے اختیارکئے گئے ،مجھے 14 دن تک سونے نہیں دیاگیااورمسلسل چلایا گیا
کسی کومعلوم نہیں تھاکہ مجھے کہاں رکھاگیاہے ، میری بہن نے میری گرفتاری اورغائب کئے جانے کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی
جب تمام ایجنسیاں کئی روزتک مجھ پر تشددکرکے تھک گئیں تو مختلف مقدمات بناکر مجھے جیل منتقل کردیا گیا
ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی نائن زیرو کراچی اور حیدرآباد میں رابطہ کمیٹی، سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور تنظیمی شعبہ جات اورونگزکے ارکان سے فون پر گفتگو۔ سانحہ 31 اکتوبر86ء کے المناک واقعہ کی تفصیلات سن کرہرآنکھ اشکبارہوگئی
لندن۔۔۔31 اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ 31 اکتوبر1986ء کادن میرے لئے ایک بہت المناک دن کی حیثیت رکھتاہے جس روز اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوختم اورتباہ کرنے کی پوری قوت کے ساتھ کوشش کی اور ایم کیوایم کے خلاف ریاستی مظالم کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاگیا۔ انہوں نے یہ بات سانحہ 31 اکتوبر86ء کے شہداء کی 28برسی کے موقع پر کراچی میں ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرواورحیدرآبادمیں زونل آفس پر اراکین رابطہ کمیٹی، حق پرست سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اورمختلف تنظیمی شعبہ جات اورونگزکے ارکان سے فون پر گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے اپنی گفتگومیں 31 اکتوبر86ء کوپیش آنے والے المناک سانحہ کے پس منظر، اس کے اسباب، اس روزپیش آنے المناک واقعہ اور اس کے بعد ریاستی مظالم کے واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ سانحہ 31 اکتوبرکے المناک واقعہ کی تفصیلات سن کرہرآنکھ اشکبارہوگئی اوراکثریت نے یہ کہاکہ یہ دردناک والمناک واقعات سے ہماری اکثریت ناواقف تھی۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے مہاجر طلبہ کی تنظیم ’’ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ‘‘ کی کوکھ سے 18مارچ 1984ء کوجنم لیا۔ 8 اگست1986ء کو کراچی کے نشترپارک میں ایم کیوایم کاپہلا عوامی جلسہ ہوا۔ اس جلسہ سے ایک روزقبل شہرمیں موسلادھاربارش ہوئی ۔نشترپارک میں پانی بھرگیا، میں نے ساتھیوں کے ساتھ ملکر گراؤنڈ سے پانی نکالا۔اگلے روزجلسہ سے میری تقریر کے دوران ایک بارپھرموسلادھاربارش ہوئی ،جلسہ کی کارروائی جاری رہی، کارکنان طوفانی بارش کے باوجود زمین پربیٹھے بھیگتے رہے اورکوئی بھی اپنی جگہ سے اٹھ کرنہیں گیا ۔ مثالی نظم وضبط اورتحریک سے اس درجہ کی وابستگی دیکھ کراس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوختم کرنے کامنصوبہ بنایا۔ 31 اکتوبر 86ء کو ایم کیوایم کا دوسراعوامی جلسہ حیدرآبادکے پکاقلعہ میں ہوناتھا۔اخبارات میں اعلان شائع ہوچکاتھاکہ کراچی سے ایم کیوایم کے کارکنان جلوس کی شکل میں حیدرآباد جائیں گے اور الطاف حسین جلوس کی قیادت کریں گے۔ دوسری جانب اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوختم کرنے کابھیانک منصوبہ تیار کرلیاتھا۔ اس سازشی منصوبے کے تحت جلسہ سے ایک روزقبل ڈپٹی کمشنر اشفاق میمن کافون آیاکہ سہراب گوٹھ کے جرگے کے لوگ آپ کے لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیںیہ خطرناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آپ جب کل حیدرآبادکی طرف روانہ ہوں گے تو سہراب گوٹھ پر حملہ کریں گے ۔ہمیں یہ سنکر شدیدحیرت ہوئی کہ ہم توکئی روزسے اپنے جلسہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور کل جلسہ میں شرکت کیلئے جارہے ہیں ، ہم کسی قسم کاتشدد کرکے اپنے جلسے کو کیوں خراب کریں گے۔ ہم نے چار ساتھیوں کو ڈی سی آفس بھیج دیاجنہوں نے وہاں جاکرسہراب گوٹھ کے جرگہ کے ارکان کویقین دلاکہ یہ اطلاعات سراسر غلط ہیں ،آپ بالکل بے فکررہیں، ہم پرامن اندازمیں اپنے جلسہ کی تیاریاں کررہے ہیں اورایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے معاملے کی نزاکت کومحسوس کرتے ہوئے اسی روزشہرکے مختلف علاقوں کادورہ کرکے کارکنوں کوتلقین کی کل جب وہ حیدرآبادجانے کیلئے سہراب گوٹھ سے گزریں تو نہایت خاموشی سے گزریں،حتیٰ کہ وہاں سے گزرتے وقت نعرے بھی نہ لگائیں۔شہرکادورہ کرنے کے بعد جب میں رات کو واپس نائن زیرو آیااوراگلے روز حیدرآبادجانے کے حوالے سے تیاریاں کررہاتھاکہ رات کے تین سے چاربجے کے لگ بھگ اچانک میرے ذہن میں خیال آیاکہ میں حیدرآبادکیلئے فوراً روانہ ہوجاؤں۔ مجھے ایسامحسوس ہورہاتھاکہ جیسے کوئی طاقت مجھے اٹھارہی ہے اورمجبورکررہی ہے کہ ابھی اٹھواورحیدرآبادکیلئے نکل پڑو۔ میں نے فوراً مرکزی کمیٹی کے ارکان کو بلایا اوراپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔میں نے اسی وقت حیدرآبادمیں موجود مرکزی کمیٹی کے ارکان سے کہہ کراپنے لئے ہوٹل میں کمرہ بک کروالیا اورچندساتھیوں کے ہمراہ31 اکتوبرکوعلی الصبح حیدرآباد پہنچ گیا۔فاران ہوٹل پہنچ کرمیں نے حیدرآبادکے دوتین اخباری نمائندوں سے گفتگوکی اور انہیں جلسہ میں اٹھائے جانے والے ممکنہ نکات سے آگاہ کیا۔ میں حیدرآبادکے ہوٹل ہی قیام پذیرتھاکہ اس دوران اطلاع ملی کہ جلسہ میں شرکت کیلئے حیدرآباد آنے والے ایم کیوایم کے جلوس پر کراچی میں سہراب گوٹھ کے مقام پر فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں سات کارکن شہید اوردرجنوں زخمی ہوئے ۔اسی طرح حیدرآبادمیں بھی مارکیٹ چوک کے مقام پر ایک ہوٹل سے جلوس پر فائرنگ کی گئی جس سے کئی کارکن شہیدوزخمی ہوئے۔اس سانحہ کی اطلاع ملنے پرمیں اور میرے ساتھ موجود رہنمااورکارکنان کوبہت صدمہ ہوالیکن میں نے مرکزی رہنماؤں کوتاکیدکی کہ جلسہ میں اس واقعہ کاذکرنہ کریں تاکہ عوام میں اشتعال نہ پھیلے ۔ میں نے مرکزی رہنماؤں کے اصرارپرکے باوجود جلسہ سے اپنی تقریرمیں اس سانحہ کاذکرنہیں کیابلکہ صرف یہ کہاکہ ’’ ہمیں کچھ اطلاعات ملی ہیں، ابھی ہم تحقیق کررہے ہیں، پھراس حوالے سے کچھ کہیں گے ‘‘ ۔ ادھر کراچی میں جب سہراب گوٹھ پر فائرنگ سے شہید ہونے والے کارکنوں کی لاشیں ان کے علاقوں میں پہنچیں تو عوام میں اشتعال پھیل گیااوردیکھتے ہی دیکھتے شہرکے مختلف علاقوں میں عوامی ردعمل میں ہنگامے اورماراماری شروع ہوگئی۔ جناب الطاف حسین نے بتایاکہ پکاقلعہ جلسہ کے بعد حیدرآباد سے کراچی واپس جانے والے کارکنوں کی بڑے پیمانے پرگرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ مجھے بھی کراچی واپسی پر گھگھرپھاٹک کے مقام پر گرفتارکرلیا گیا۔ میرے ساتھ لیاقت آبادسیکٹرکے سینئر کارکن عظیم فاروقی بھی تھے جوآج سندھ اسمبلی کے رکن ہیں ۔ ہمیں گرفتار کرکے پہلے کسی تھانے لے جایاگیاپھردوسرے دن مجھے اورعظیم فاروقی کو تھانے سے نکال کر بلدیہ ٹاؤن کے انتہائی سنسان اورویران علاقے میں قائم ایک پولیس سیل میں لے جایاگیا۔ہمیں الگ الگ سیل میں رکھاگیا،جہاں ہمیں کئی روز تک انسانیت سوز تشددکانشانہ بنایاگیا۔وہاں مجھ سے پولیس کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی، ایم آئی ، آئی بی اور ایف آئی اے سمیت مختلف ایجنسیوں کی تفتیشی ٹیموں نے الگ الگ تفتیش کی۔انہوں نے دوران تفتیش جعلی اورجھوٹی کہانیاں پیش کیں اورکہاکہ آپ کے لوگوں نے سہراب گوٹھ پر فائرنگ کی ہے جس سے کئی پٹھان مرگئے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس روز سہراب گوٹھ کے مقام پر ہمارے جلوس پر فائرنگ ہوئی تھی اورایم کیوایم کے کئی کارکنان شہیدوزخمی ہوئے تھے۔میں نے تفتیشی ایجنسیوں کے الزامات کوتسلیم نہیں کیا۔پھرانہوں نے مجھ پر دباؤڈالاکہ ہم جوکچھ لکھ کر دے رہے ہیں اس پر دستخط کردوورنہ ہم تمہیں منگھوپیرکی پہاڑیوں پر لیجاکرماردیں گے۔ میں نے ان کی بات ماننے سے انکار کیا کہ اورصاف کہہ دیاکہ آپ چاہے میرے ہاتھ کاٹ دیں یا مجھے ماردیں لیکن میں آپ کے جھوٹ پردستخط نہیں کروں گا۔مجھے توڑنے کیلئے تشددکے مختلف حربے اختیارکئے گئے ، سرکاری اہلکاروں کی مختلف ٹیمیں آکرمجھ پر تشددکرتیں،مجھے 14 دن تک سونے نہیں دیاگیااورمسلسل چلایا گیا ۔ میں ٹوٹ کرگرنے لگتا تو مجھے پھرماراجاتا۔ 14دن تک جاگنے اور مسلسل چلتے رہنے سے میرے پاؤں بری طرح سوج گئے تھے ۔میرے بارے میں تحریک کے کسی رہنما اور کارکن کومعلوم نہیں تھاکہ مجھے کہاں رکھاگیاہے۔اس دوران میری بہن نے میری گرفتاری اورغائب کئے جانے کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی تمام ایجنسیاں کئی روزتک سرکاری ٹارچرسیل میں مجھ پر تشددکرکے تھک گئیں توانہوں نے مختلف مقدمات بناکر مجھے جیل منتقل کردیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 31 اکتوبر86ء کا دن میرے لئے ایک بہت المناک دن کی حیثیت رکھتاہے جب اسٹیبلشمنٹ نے پوری قوت کے ساتھ ایم کیوایم کوختم کرنے اورتباہ وبربادکرنے کی بھرپورکوشش کی اورتحریک پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ۔ تحریک کے بیشترکارکنوں اور عوام کواس درد ناک سانحہ کی تفصیلات سے واقفیت نہیں ہے لیکن یہ ایم کیوایم کی جدوجہدکی ایک ایسی دردناک اورالمناک داستان ہے جوناقابل فراموش ہے ، یہ ہماری داستان کا ایک ایسا باب ہے جوبھلایانہیں جاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے 31اکتوبر86ء کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے،تحریک کودشمنوں کی سازشوں اورشرسے محفوظ رکھے اورشہداء کے لہوکے صدقے ہماری تحریک کومنزل مقصود پر پہنچائے ۔ جناب الطا ف حسین کی اس تفصیلی گفتگوکامکمل متن تیارکیاجارہاہے جوکارکنان وعوام کے لئے جلدہی مضمون کی شکل میں شائع کیاجائے گا۔ 


12/9/2016 7:32:35 AM