Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک میں فی الفورفوج کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے۔الطاف حسین


ملک میں فی الفورفوج کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے۔الطاف حسین
 Posted on: 10/29/2014
ملک میں فی الفورفوج کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے۔الطاف حسین
آبادی کاسائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیاجائے اورکاؤنٹنگ کی جائے تاکہ عوام کوان کی نمائندگی کاجائزحق مل سکے
سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں فی الفور بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، لوکل گورنمٹ نظام نافذ کیاجائے اورالیکشن کمیشن کے زیراہتمام فی الفور نئے سرے سے حلقہ بندیاں کی جائیں
جب کسی صوبہ کی نصف سے زائد آبادی کو ہرطرح سے کاٹنے کی پالیسی اختیارکی جائے اوراس پالیسی کوتسلسل کےساتھ روا رکھا جائے تواس آبادی کاحصہ کاٹے بغیر بھی خود ایک الگ صوبہ بن جاتاہے
ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کے رہنما مسئلے اورمسائل کے حل کیلئے انتہائی مؤثراورشریفانہ طریقے سے ڈائیلاگ کریں۔گالم گلوچ کے بجائے دلائل کی بنیادپر ’’ قائل کرویاقائل ہوجاؤ‘‘ کی بنیادپر بات کریں
حکومت سندھ میں دوبارہ شمولیت اوروفاقی حکومت میں شامل ہونے کی تردیدکرتے ہیں
اسٹیبلشمنٹ ، فوج اورقانون نافذکرنے والے ادارے اندرون سندھ قوم پرست عناصر کی جانب سے ایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں کوہراساں کرنے کاسلسلہ بندکروائیں ورنہ عوام کی جانب سے بھی اس کاردعمل ہوسکتاہے
ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرواورحیدرآبادمیں ایم کیوایم کے زونل آفس پر بیک وقت پرہجوم ٹیلی فونک پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی۔۔۔ 29 اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ملک میں فی الفورفوج کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے اور آبادی کاسائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیاجائے اورکاؤنٹنگ کی جائے تاکہ عوام کوان کی نمائندگی کاجائزحق مل سکے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں فی الفور بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، لوکل گورنمٹ نظام نافذ کیاجائے اورالیکشن کمیشن کے زیراہتمام فی الفور نئے سرے سے حلقہ بندیاں کی جائیں۔ یہ کلیہ ہے کہ جب کسی صوبہ کی نصف سے زائد آبادی کو ہرطرح سے کاٹنے کی پالیسی اختیارکی جائے اوراس پالیسی کوتسلسل کے ساتھ روا رکھا جائے تواس آبادی کاحصہ کاٹے بغیر بھی خود ایک الگ صوبہ بن جاتاہے۔ ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے درخواست کروں گا کہ وہ مسئلے اورمسائل کے حل کے لئے انتہائی مؤثراورشریفانہ طریقے سے ڈائیلاگ اورڈبیٹ کریں۔گالم گلوچ کے بجائے دلائل کی بنیادپر ’’ قائل کرویاقائل ہوجاؤ‘‘ کی بنیادپر بات کریں۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں حکومت سندھ میں دوبارہ شمولیت اوروفاقی حکومت میں شامل ہونے کی تردیدکرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے نہ توکوئی اجلاس ہوانہ یہ چیز زیرغورہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرواورحیدرآبادمیں ایم کیوایم کے زونل آفس پر بیک وقت ہونے والی پرہجوم ٹیلی فونک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔ جناب الطاف حسین نے اندرون سندھ کے بعض علاقوں میں وڈیروں اورقوم پرست عناصر کی جانب سے ایم کیوایم کے سندھی بولنے والے کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کانشانہ بنائے جانے اورہراساں کرنے کی شدیدمذمت کی اورکہاکہ ایک طالبعلم کوصرف اس بنیادپر اسکول سے نکال دیاگیاکہ اس کاوالدایم کیوایم کاکارکن ہے ۔ انہوں نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف،کورکمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز، آئی ایس آئی ، ایم آئی کے سربراہان کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر اسٹیبلشمنٹ ، فوج اورقانون نافذکرنے والے اداروں نے ظلم کرنے والوں کونہیں روکااوراگراندرون سندھ ایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں کوہراساں کرنے کاسلسلہ جاری رہاتوعوام کی جانب سے بھی اس کاردعمل ہوسکتاہے، اورجب عوام اس ظلم پر ردعمل کریں توپھر اسٹیبلشمنٹ، سیاسی ومذہبی اورلسانی جماعتیں اس پر واویلانہ مچائیں۔ کراچی ، حیدرآباد،سکھر، میرپورخاص اورجہاں جہاں ایم کیوایم کی عددی طاقت ہے وہ اپنے زوربازو سے اس ظلم وبربریت کوروک کراپنے سندھی بولنے والے ساتھیوں کی جان ومال کاتحفظ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ زیادتیاں کرنے والوں کویہ سمجھناچاہیے کہ اگرآپ کسی پرہاتھوں سے ظلم کررہے ہیں توجس پر ظلم ہورہاہوتاہواس کے بھی دوہاتھ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرکسی جماعت کواپنانظریاتی منشور عوام میں پھیلاکرانہیں قائل کرنا، اپناہم خیال بنانااوراپنی تحریک میں شامل کرنااگرجرم قراردیدیاجائے تودوسرافریق اس غیرمنصفانہ عمل کومزیدکتنے عرصہ برداشت کرسکتاہے؟اگرایک جماعت میں شامل ہونے والے لوگوں کوصرف اس بنیادپر کہ وہ سندھی اسپیکنگ یابلوچ اسپیکنگ ہیں اوروہ فلاں فلاں جماعت میں شامل نہیں ہوسکتے توپھر اس کاردعمل منطقی طورپر شدید صورت میں لازماً سامنے آتا ہے جس کانقصان ملک کو بھی ہوتاہے اور صوبہ کوبھی ہوتاہے۔ جناب الطاف حسین نے پیپلز پارٹی اوربعض قوم پرست عناصر کی جانب سے ایم کیوایم کے خلاف اشتعال انگیزبیانات کے حوالے سے کہا کہ کیاہم ایک مہذب اور civilizedقوم کی طرح اپوزیشن کاوجودبرداشت نہیں کرسکتے؟ کیاہم نکتہ ء نظرکے اختلاف کوبرداشت نہیں کرسکتے؟ کیایہ نہیں ہوسکتاکہ جمہوریت کوصحت مندطریقے سے پروان چڑھانے کیلئے ہم اپوزیشن میں رہ کر مخالفت برائے مخالفت کا اصول اپنائیں؟ہم حکومت کی اچھی، تعمیری اورمثبت باتو ں کی حمایت اور تعریف کریں اورحکومت کے خلاف عوام کے اقدامات پر بھرپور تنقیدکریں اور احتجاج کوپرامن اندازمیں کرنے کیلئے مختلف طریقے اختیارنہیں کرسکتے ؟ کیاہم سندھ کی آدھی سے زائدآبادی کواپوزیشن یا مخالفین سمجھتے ہوئے صوبے میں اس کے وجود کوتسلیم نہیں کرسکتے؟ ناانصافیوں کاعمل اگرتسلسل کے ساتھ جاری رہے توکیا ناانصافیوں کایہ عمل اختلافات سے بڑھ کردشمنیوں کارخ اختیارنہیں کرسکتا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب ہم نے یہ کہا کہ ملک میں 20 نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت ہے لہٰذا اسی طرح سند ھ میں سندھ ون اورسندھ ٹو کافارمولا اپناکرسندھ میں نئے سرے سے حقوق کاتعین کیاجائے تو اس پر غور کرنے کے بجائے اس کے خلاف واویلامچایاگیا۔سندھ ون اورسندھ ٹو کی بات توآج کی گئی جبکہ سندھ ون کانام استعمال کئے بغیر 1973ء میں ہی سندھ کو اربن اوررورل میں تقسیم کرکے سندھ ون اورسندھ ٹو کی تقسیم کرہی دی گئی تھی۔اب آپ اسے رورل کانام دیں یاکوئی اورنام دیں۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی بلاجوازنئے انتظامی یونٹس یاصوبے کے قیام کامطالبہ نہیں کرتاتاوقتیکہ کسی ایک صوبے میں آدھی سے زیادہ آبادی کوانتظام اوراقتدار کے عمل سے طویل عرصہ تک علیحدہ یادوررکھاجائے؟یہ کلیہ ہے کہ دنیامیں کوئی بھی صوبہ اپنے صوبہ کی نصف سے زائدآبادی کوغیرفعال، غیرمؤثرکرکے اوراس کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کاسلوک کرکے طویل عرصہ تک اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔یہ بھی کلیہ ہے کہ جب کسی صوبہ کی نصف سے زائد آبادی کو ہرطرح سے کاٹنے کی پالیسی اختیارکی جائے اوراس پالیسی کوتسلسل کے ساتھ روا رکھا جائے تواس آبادی کاحصہ کاٹے بغیر بھی خود ایک الگ صوبہ بن جاتاہے ۔ انہوں نے ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کے تمام رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ اپنی تقاریرمیں مسئلے اورمسائل کے حل کے لئے انتہائی مؤثراورشریفانہ طریقے سے ڈائیلاگ اورڈبیٹ کریں اورگالم گلوچ کے بجائے دلائل کی بنیادپر ’’ قائل کرویاقائل ہوجاؤ‘‘ کی بنیادپر بات کریں۔انہوں نے کہاکہ اگر صوبہ نہیں دیتے تو ایم کیوایم کودس سال کے لئے سندھ کی حکومت دیدو،ہم ترقی دیکر سندھ کانقشہ اس طرح بدل دیں گے کہ سندھ دنیامیں نمبرون صوبہ نہیں تو دنیاکے دس بہترین صوبوں میں سے ایک ہوگا۔جناب الطاف حسین نے سندھ میں مردم شماری میں ماضی کی جانے والی دھاندلی کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں سندھ کے بڑے بڑے جاگیرداروں اوروڈیروں کی جانب سے اپنے اقتدار میں آنے کے عمل کولازمی بنانے کے لئے جعلی اورخودساختہ گاؤں گوٹھوں کے وجودکو اورآبادی کو ڈکلیئر کیاگیا تاکہ ناجائزطریقے سے انتخابات میں جیت حاصل کی جاتی رہے اورشہری سندھ کے عوام کوان صحیح نمائندگی کے حق سے محروم رکھاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ دنیابھرمیں مردم شماری کاعمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتاہے تاکہ آبادی کی بنیادپر وسائل،حقوق اورعوامی نمائندگی کاتعین ہوسکے لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے اس عمل سے راہ فراراختیارکی جاتی رہی اور اسٹیٹس کو کی قوتیں مردم شماری کے عمل میں ہمیشہ رکاوٹ بنتی ر ہیں۔انہوں نے کہاکہ مردم شماری نہ ہونے سے طرح طرح کے مسائل جنم لے رہے ہیں جواب سنگین سے سنگین ترہوتے جارہے ہیں لہٰذا ہمارامطالبہ ہے کہ فوج کی نگرانی میں مردم شماری کے عمل کوفی الفورمکمل کیاجائے ۔ صوبے کی صحیح آبادی کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیاجائے اورکاؤنٹنگ کی جائے تاکہ عوام کوان کی نمائندی کا جائز حق مل سکے۔حلقہ بندیوں کے حوالے سے جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب حکومت سندھ نے اپنی من مانی حلقہ بندیاں کیں تو سپریم کورٹ نے اس عمل کوکالعدم قراردیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیاں کرنے کاحکم دیالہٰذا الیکشن کمیشن نئے سرے سے حلقہ بندیاں کرائے اورآبادی کے موجودہ تناسب کوپیش نظر رکھاجائے۔ انہوں نے کہاکہ پوری مہذب دنیامیں لوکل گورنمنٹ سسٹم، لوکل کونسل سسٹم یالوکل باڈیزسسٹم رائج ہے جسے جمہوریت کی بنیاد اور ابتدائی سیڑھی تصورکیاجاتاہے لیکن ہمارے ملک میں جمہوری حکومتیں اس کانفاذ کرنے سے قاصر رہتی ہیں عوام کونچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے سے گریز کرتی ہیں اورانگریزوں کی طرز پر غیرمنتخب نمائندوں یعنی بیوروکریسی کے ارکان کے ذریعے بلدیاتی اداروں کوچلایاجاتاہے جونہ عوام میں سے ہوتے ہیں،نہ عوام کودستیاب ہوتے ہیں اور نہ جوابدہ ہوتے ہیں۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں حکومت سندھ میں دوبارہ شمولیت اوروفاقی حکومت میں شامل ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے نہ توکوئی اجلاس ہوانہ یہ چیز زیرغورہے ۔ اس حوالے سے اڑائی جانے والی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔
جناب الطاف حسین نے اس موقع پر صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جوابات بھی دیے۔ گورنرسندھ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرعشرت العباد گورنر بننے سے پہلے ایم کیوایم کے رکن تھے اورگورنربنتے وقت انہوں نے پارٹی کی رکنیت سے علیحدہ ہوگئے تھے لہٰذا اب انہیں گورنر کے منصب پر برقرار رکھنا یانہ رکھنا ایم کیوایم کانہیں وفاقی حکومت کامعاملہ ہے۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نئے صوبے اورانتظامی یونٹس کے معاملے کادوسراحل یہ ہے کہ دس سال کیلئے سندھ کی حکومت ایم کیوایم کودیدیں اوراسے پورااختیاردیدیں،ایم کیویم کی حکومت کارکردگی نہ دکھائے توآپ کوپورااختیارہوگا آپ ایم کیوایم سے جواب طلب کریں۔ کئی سال حکومتوں میں رہنے کے حوالے سے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آج تک کبھی ایم کیوایم کی مکمل حکومت نہیں آئی بلکہ ہم مخلوط حکومتوں میں شامل رہے، اس میں بھی ہمارے وزرا کواختیارات نہیں دیئے گئے ،ہمارے وزراء کی جانب سے بھیجی ہوئی ترقیاتی اسکیموں کی سمریز سات سات آٹھ آٹھ مہینے تک وزیراعلیٰ ہاؤس میں محض منظوری اوردستخط کیلئے پڑی رہتی تھیں اس طرح انہیں کام کرنے سے روکا گیااور ترقیاتی فنڈپڑے پڑے ضائع ہوگئے ،دوسری جانب ان حکمرانوں نے کاغذوں میں ترقیاتی منصوبے دکھاکر ترقیاتی مدمیں جاری کی جانیوالی رقم اپنی جیبوں میں رکھ لی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں 12سال تک حکومتوں میں شامل رہنے کاطعنہ دینے والے اس کا جواب دیں کہ پیپلزپارٹی تو پچاس سال سے حکومت میں ہے اس نے سندھ کیلئے کیاکیا؟پیپلزپارٹی نے سندھ میں کتنے اسکول، کالج ،اسپتال قائم کرلیے؟ کیاغریب سندھیوں کوانکے حقوق مل گئے؟ کیاسندھ کے وڈیروں کی نجی جیلیں ختم کروادی گئیں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیٹس کویہ ہے کہ جیساچل رہاہے ویساچلنے دو،اس میں کوئی تبدیلی نہ لاؤ،ملک کا فرسود ہ گلا سڑا جاگیردارانہ وڈیرانہ چلتارہے، جاگیرداروں وڈیروں کے چند خاندان نسل درنسل ملک پر حکمرانی کرتے رہیں، ملک پر حکومت پیپلزپارٹی کی ہویامسلم لیگ کی یافوج کی حکومت ہو،لاٹری انہی چندخاندانوں کی نکلتی ہے۔یہی طبقہ حکمرانی کرتاہے جبکہ غریب ہاری، کسان، مزدور ان کے غلاموں جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔یہ جاگیرداروڈیرے اپنے اپنے علاقوں میں اسکول کالج قائم نہیں ہونے دیتے کیونکہ اگرغریب ہاریوں کسانوں کے بچوں نے تعلیم حاصل کرلی تو ان کی غلامی کون کرے گا۔انہوں نے کہاکہ 67سالہ تاریخ میں اگرپاکستان میں کسی جماعت نے غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کوقومی وصوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ کے ایوانوں میں بھیجاوہ صرف ایم کیوایم ہے۔ایم کیوایم نے اس مروجہ نظام یااسٹیٹس کو کوتوڑا، الطاف حسین نے نہ توخودالیکشن لڑااورنہ ہی اپنے بھائی بھتیجوں کوالیکشن لڑایا۔پاکستان کی کسی اورجماعت میں یہ مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ فوج کے پاس طاقت ہے ،اگراس کادل چاہے گاتووہ ملک میں مارشل لاء نافذ کردے گی ،جب اسے کرناہوگاتووہ کسی سے نہیں پوچھے گی۔جنا ب الطاف حسین نے کہاکہ فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام اس وقت ختم ہوگاجب کوئی فوجی افسر کمال اتاترک کی طرح میدان میں اترے گااوراس کے ساتھ عوام ہوں گے،وہ اورعوام ملکر جاگیردارانہ نظام ختم کریں گے۔
 
Click For Pictures


12/8/2016 6:04:58 PM