Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ میں پانچ ڈویژنوں سے بھی سندھ تقسیم نہیں ہوا تو اگر سندھ میں پانچ صوبے بھی بن جائیں تب بھی سندھ، سندھ ہی رہے گا اور تقسیم نہیں ہوگا۔ الطاف حسین


سندھ میں پانچ ڈویژنوں سے بھی سندھ تقسیم نہیں ہوا تو اگر سندھ میں پانچ صوبے بھی بن جائیں تب بھی سندھ، سندھ ہی رہے گا اور تقسیم نہیں ہوگا۔ الطاف حسین
 Posted on: 10/28/2014
سندھ میں پانچ ڈویژنوں سے بھی سندھ تقسیم نہیں ہوا تو اگر سندھ میں پانچ صوبے بھی بن جائیں تب بھی سندھ، سندھ ہی رہے گا اور تقسیم نہیں ہوگا۔ الطاف حسین
مخالفین اگر صوبے نہیں بننے دیتے تو نہ بننے دیں، سندھ کو دس سال کیلئے ایم کیوایم کو دیدیں تو ہم سندھ کو دنیا کا ترقی یافتہ علاقہ بنا کر دکھادیں گے
اگر نئے صوبے اور انتظامی یونٹس قائم ہوتے ہیں تو وڈیروں اور جاگیرداروں کا تسلط کمزور ہوتا ہے اسی لئے وہ اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں
اگر لوکل گورنمنٹ سسٹم آئے تو جاگیردار کمزور ہوتے ہیں اسی لئے یہ وڈیرے بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہونے دیتے
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے سندھ بھر کے سندھی بولنے والے ذمہ داروں کے اجتماع سے فون پر خطاب
کراچی۔۔۔ 28 اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطا ف حسین نے کہاہے کہ سندھ میں پانچ ڈویژنوں سے بھی سندھ تقسیم نہیں ہواتواگرسندھ میں پانچ صوبے بھی بن جائیں تب بھی سندھ ،سندھ ہی رہے گااورتقسیم نہیں ہوگا۔ جولوگ نئے صوبوں اورنئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں وہ اگرصوبے نہیں بننے دیتے تونہ بننے دیں ، اگرسندھ کودس سال کے لئے ایم کیوایم کودیدیں توہم سندھ کودنیاکاترقی یافتہ علاقہ بناکردکھادیں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ایم کیوایم کے سندھ بھرکے سندھی بولنے والے ذمہ داروں کے اجتماع سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں کراچی سمیت سندھ کے تمام زونوں کی زونل کمیٹیوں، سیکٹرزاوریونٹوں کے سندھی بولنے والے ذمہ داروں نے شرکت کی ۔ اجتماع میں اراکین رابطہ کمیٹی اورسندھی ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ سندھ شاہ لطیف بھٹائی کی دھر تی ہے ،یہ امن پیار کی دھرتی ہے ۔ میں بھی اس دھر تی سے پروان چڑھا ہوں ،اسی دھرتی کا کھاناکھایااوراسی دھرتی کاپانی پیا ہے،میرا جینا مرنا بھی اسی دھرتی سے وابستہ ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل اس وقت سندھ پر جاگیر دوروں اور وڈیر وں کی حکمرانی تھی جن میں اکثریت کا تعلق ہندو مذہب سے تھا جن کی بڑی بڑی جاگیر یں اور زمینیں تھیں ۔قیام پاکستان کے وقت انڈیااورپاکستان کے درمیان ایک معاہدہ ہواکہ وہ ہندو جواپنی جاگیریں اورجائیدادیں چھوڑ کرانڈیاآئیں گے انہیں انڈیامیں مسلمانوں کی متروکہ زمینیں اور جائیدادیں دی جائیں گی اورہندوجوجاگیریں اورجائیدادیں پاکستان میں چھوڑکرجائیں گے وہ متروکہ جائیدادیں، مکانات اورزمینیں ان مہاجروں کودی جائیں گی جوانڈیاسے ہجرت کرکے پاکستان آئیں گے۔انڈیامیں تویہاں سے ہجرت کرکے جانے والے ہندؤں کو متروکہ املاک دی گئی اورآج تک دی جارہی ہیں لیکن پاکستان ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کومتروکہ املاک دینے کاسلسلہ بندکردیاگیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ سندھ سے ہندؤں کے ، ہندوستان منتقلی کے بعد ان ہندؤں کے مسلمان نوکروں نے ان کی زمینوں جائیدادوں پر قبضہ کرلیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی سندھ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے وقت سندھ سے ہندوؤں کے جانے کے بعدوڈیروں اورپتھاریداروں نے زمینوں اورجاگیروں پر قبضہ کرلیا جن پر یہ آج بھی قابض ہیں جن کے بڑے بڑے عالیشان محل ہیں،ان وڈیروں جاگیرداروں کے بچوں کیلئے الگ تعلیمی ادارے اوراسپتال ہیں جبکہ سندھ کے غریب سندھیوں کی اکثریت آج بھی پانی، تعلیم اورزندگی کی دیگربنیادی سہولتوں سے محروم ہے،اندرون سندھ آج بھی غریبوں کیلئے کوئی اسپتال ، اسکول اورکالج نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وڈیرے اورجاگیردار اورنام نہاد قوم پرست سادہ لوح اورغریب سندھیوں کوورغلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سندھیوں کاحق مہاجروں نے ماراہے،مہاجروں نے اندرون سندھ ترقی نہیں ہونے دی۔ انہوں نے سوال کیاکہ لاڑکانہ، نوڈیرو، رتوڈیرو اوراندرون سندھ کے دیگر شہروں سے الیکشن میں ایم کیوایم جیتتی آئی ہے یاپیپلزپارٹی کامیاب ہوتی رہی ہے؟اندرون سندھ کے شہروں سے کامیاب ہونے والوں نے وہاں کتنے اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، اسپتال، میٹرنٹی ہومز بنائے؟ غریب سندھی لڑکیوں کیلئے کتنے تعلیمی ادارے قائم کئے ؟ یہ ظالم وڈیرے توپہلے سے قائم اسکولوں کو اوطاق بنادیتے ہیں،اپنی مرضی سے کسی مردکوپسندکرنے والی سندھ کی بیٹی کوکاری قراردیکر قتل کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کوماضی میں وزارت تعلیم ملی توہم نے اندرون سندھ 400اسکول قائم کئے لیکن جیسے ہی ایم کیوایم کی مخلوط حکومت ختم ہوئی توسندھ کے وڈیروں نے ان اسکولوں کواپنی اوطاقیں اور بھینسوں کے باڑوں میں تبدیل کردیا۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے الطاف حسین کوسندھ میں پیداکیا اورالطاف حسین غریب سندھیوں کوبھی نجات دلائے گااورغریب مہاجروں ہی کونہیں بلکہ پورے پاکستان کے غریب مظلوم عوا م کوبھی ظالم جاگیرداروں سے نجات دلائے گا۔انہوں نے کہاکہ جولوگ نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کے قیام کی بات پر ’’ مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں ‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں، ہم ان سے کہتے ہیں کہ آپ اگرصوبے نہیں بننے دیتے تونہ دبننے دیں ، اگرسندھ کودس سال کیلئے ایم کیوایم کودیدیں توہم سندھ کودنیاکاترقی یافتہ علاقہ بناکردکھادیں گے۔جناب الطاف حسین نے اجتماع میں موجود سندھی بولنے والے ذمہ داروں اورتمام سندھی نوجوانوں سے کہا کہ آپ گوگل اوروکی پیڈیامیں جاکرخود تحقیق کرلیں کہ دنیاکے جتنے ممالک ہیں ان کے قیام کے وقت کتنے صوبے اورانتظامی یونٹس تھے اورآبادی اوروقت کے بڑھنے کے ساتھ اب کتنے صوبے اورانتظامی یونٹس ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرنئے صوبے اور انتظامی یونٹس قائم ہوتے ہیں تووڈیروں اور جاگیرداروں کا تسلط کمزورہوتاہے اسی لئے وہ اس کی شدیدمخالفت کرتے ہیں۔یہ وڈیرے اور جاگیردار لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی نہیں آنے دیتے کیونکہ اگرلوکل گورنمنٹ سسٹم آئے توجاگیردارکمزورہوتے ہیں اسی لئے یہ وڈیرے بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہونے دیتے کیونکہ اگرایساہواتوسندھ کے غریب سندھی نوجوان اپنی گلیوں کے کونسلربنیں گے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ریاست خیرپورسندھ میں ہونے کے باوجودایک الگ ریاست تھی جس کی کرنسی اورالگ تشخص تھا مگروہ سندھ کاحصہ تھا۔ اسی طرح سندھ میں پانچ ڈویژن قائم ہوئے پھر بھی سندھ تقسیم نہیں ہواتواگرسندھ میں پانچ صوبے بھی بن جائیں تب بھی سندھ ،سندھ ہی رہے گا اورتقسیم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا جب بیٹے بڑے ہوجاتے ہیں،ان کی شادیاں ہوتی ہیں اوربچے ہوجاتے ہیں گھر کے افراد بڑھنے کی وجہ سے سب الگ الگ گھرلے لیتے ہیں لیکن اس سے ان کااپنے باپ یاماں سے رشتہ ختم نہیں ہوجاتا۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں سندھ کابیٹاہوں اور سندھیوں کواپنابھائی سمجھتاہوں ، میں زبانی دعووں پرنہیں عمل پریقین رکھتاہوں اورمیں نے اپنے گھرعزیزآبادسے سندھی بولنے والوں کوایم این اے اورایم پی اے بنایا۔ جوسندھی وڈیرے اردوبولنے والوں کواپنابھائی اورسندھ کاحصہ کہتے ہیں میں ان سے کہتاہوں کہ زبان سے کہنے کے بجائے عملی طورپراپنے علاقے سے کسی اردوبولنے والے کو الیکشن لڑاکردکھائیں۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ گزشتہ سات آٹھ سالوں کے دوران سندھ کو این ایف سی کی مدمیں وفاق سے 3200 ارب روپے ملے وہ کہاں گئے ؟وہ پیسے سندھ میں کہاں خرچ ہوئے؟سندھ میں کتنے اسکول،کالج، اسپتال اورصحت کے مراکزبنے؟ کتنی سڑکیں بنیں؟انہوں نے کہاکہ اگرایم کیوایم کی حکومت آئی توسندھ میں اسکول ، کالج اوراسپتال بنائے جائیں گے اورغریب سندھیوں کو ان کاحق ملے گا۔انہوں نے کہاکہ آج تھر اورمٹھی میں بچے بھوک اورعلاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے مررہے ہیں لیکن حکمراں وڈیروں کواس کاکوئی احساس نہیں۔ان ظالم وڈیروں نے غریب ہاریوں کو ظلم کا نشانہ بنانے کیلئے نجی جیلیں بنارکھی ہیں جہاں یہ اپنے خلاف آوازاٹھانے والے ہاریوں کوقیدکرکے رکھتے ہیں۔ ایم کیوایم کی حکومت آئی تو وڈیروں کی ان نجی جیلوں کاخاتمہ ہوگااوران وڈیروں کوقانون کاسامناکرناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پورے پاکستان میں سندھ کوڈاکوکلچر کہہ کربدنام کیاہوا ہے ، سندھ میں اگر ڈاکوہیں تووہ وڈیروں کے ظلم سے ڈاکوبنے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے اندرون سندھ کے بعض علاقوں میں وڈیروں کی جانب سے ایم کیوایم کے سندھی بولنے والے کارکنوں کوانتقامی کارروائیوں کانشانہ بنانے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ میں کسی سے لڑائی جھگڑانہیں چاہتالیکن جولوگ ایم کیوایم کے سندھی بولنے والے کارکنوں کوانتقامی کارروائیوں کونشانہ بنارہے ہیں وہ یہ سلسلہ بندکردیں ورنہ عوام بھی اپناحق دفاع استعمال کریں گے۔ جناب الطا ف حسین نے تمام ترمشکلات اورنامساعد حالات کے باوجود تحریک کیلئے ثابت قدمی اورمستقل مزاجی سے جدوجہد کرنے پر سندھ بھرکے تمام سندھی بولنے والے کارکنوں کوسلام تحسین پیش کیااورمختصروقت میں اجلاس میں شرکت کیلئے سندھ بھرسے کراچی آنے والے سندھی ذمہ داروں کوشاباش پیش کی۔

12/7/2016 10:21:57 AM