Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مہاجر کو شناخت بناکر کوئی کفر اور ملک کے خلاف سازش نہیں کی ہے، حق پرست سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی


مہاجر کو شناخت بناکر کوئی کفر اور ملک کے خلاف سازش نہیں کی ہے، حق پرست سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی
 Posted on: 10/26/2014
مہاجر کو شناخت بناکر کوئی کفر اور ملک کے خلاف سازش نہیں کی ہے، حق پرست سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی 
خورشید شاہ نے لفظ مہاجر کو گالی دیکر نظریاتی اور بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے ، علامہ ڈاکٹر جمیل راٹھور 
کوئی یہ نہ سمجھے کہ مہاجر یہاں سے واپس چلے جائیں گے ، ہم فاتح دیبل محمد بن قاسم کی طرح کشتیاں جلا کر آئے ہیں، جنرل سیکریٹری نظام مصطفی پارٹی حاجی محمد رفیع 
قائد اعظم نے مہاجروں کے تحفظ کیلئے کراچی کو صوبہ سندھ سے الگ کردیا تھا اور وفاقی علاقہ بنایا تھا، علامہ علی کرار نقوی
لفظ مہاجر کی توہین کے خلاف ایم کیوایم کے تحت شاہراہ قائدین پر منعقدہ فقید المثال احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے علمائے کرام کا خطاب 
کراچی ۔۔۔26، اکتوبر2014ء 
مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خورشید شاہ کو نبی اکرم ﷺ کے القابات کا احترام سیکھنا ہوگا ، ہم حیران ہیں خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر کیسے بنا دیا گیا ، اسکو ل کے بچے کو بھی پتا ہے کہ مہاجر کے لفظ کو کتنی تقدیس حاصل ہے ،، پیپلزپارٹی سندھ میں نفرتیں بونے کا قابل مذمت عمل کررہی ہے ،سندھ میں صوبے بننے چاہئے اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ لفظ مہاجر کی تحقیر پر آج کا احتجاجی مظاہرہ سندھیوں ، پٹھانوں ، پنجابی ، کشمیریوں سے نفرت میں نہیں ہے بلکہ یہ خالصتا دین کی سربلندی اور شریعت کی پاسداری کا جلسہ ہے اور یہ نفرتوں کا اظہا رنہیں ہے۔ ان خیالات کااظہار معروف عالم دین و حق پرست سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی ، علامہ ڈاکٹر جمیل راٹھور ، علامہ علی کرار نقوی اور نظام مصطفی پارٹی کے جنرل سیکریٹری حاجی محمد رفیع نے ایم کیوایم کے زیر اہتمام اتوار کی شب شاہراہ قائدین پر منعقد لفظ مہاجر کی توہین کے خلاف منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے اپنے خطاب میں حق پرست سینیٹر علامہ سید تنویر الحق تھانوی نے کہا ہے کہ آج کا یہ احتجاجی جلسہ اگر سیاسی بھی ہو تب بھی کوئی قباحت نہیں تھی لیکن مہاجر لفظ کو جس طریقے سے گالی سے منسوب کیا اور اسے سراپا گالی سمجھا گیا یہ اجتماع اسی مذہبی جذبات کے اظہار کا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ کہا جاتا ہے مہاجر کہاں سے آگیا ، آخر یہ کونسی شناخت ہے کہ اندرون ملک ایئر پورٹ آتے ہی سندھی پنجابی بن جاتے ہیں اور باہر جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پاکستانی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ کو جس نے بھی بدنام کررکھا ہے وہ شر پھیلانے والے ہیں ، میں قسمیہ کہتا ہوں کہ میں نے جناب الطاف حسین جیسا پرامن سیاسی رہنما ابھی تک نہیں دیکھا ، ڈرائینگ رومز اور بند کمروں میں بیٹھ کرہمارے بزرگوں نے سنجیدگی اور شرافت سے گفتگو کی لیکن آپ نے ان کے حقوق نہیں دیئے ، اب ان کی اولادیں سڑکوں پر آگئی ہیں اگر اس سیلاب کو روکنا چاہتے ہو تو ان کے حقوق فی الفور دیدو ورنہ یہ سیلاب رکنے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھی بھائی ہم سے نفرت نہ رکھیں، نہ مجھ سے گلہ کریں کہ آپ کس کے ساتھ چلے گئے ہیں ، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ مہاجر کو تسلیم کریں ، مہاجر کو شناخت بناکر کوئی کفر اور ملک کے خلاف سازش نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خورشید شاہ کو سمجھنا چاہئے کہ انہیں دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے ، ان کی قیادت تو ساری کی ساری قبر میں چلی گئی ہے ، خورشید شاہ نے واقعتا اسلام اور شریعت کی بے حرمتی کی ہے ۔ انہیں ٹی وی پر آکر معافی مانگنی چاہئے ۔ممتاز مذہبی اسکالر علامہ ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ یہ عظیم الشان مظاہرہ ہے جس کی انتہاء مجھے نظر نہیں آرہی ہے اور یہ مظاہرہ در حقیقت عظیم الشان جلسے میں تبدیل ہوچکا ہے اور یہاں عوام کا ٹھاٹھے مارتا سمندر موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے پر آشوب لمحات میں جب پاکستان تاریخ انسانی کی بد ترین دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، ہرسو جہاد او ردین کے نام پر وحشت اور دہشت پھیلائی جارہی ہے اور جو آواز بھی ان ظالموں کے خلاف بلند ہوئی اس کا گلا دبا گیا ، خوف و دہشت کے جواب میں کوئی آواز بلند نہیں ہورہی ہے ، سارے سورہے تھے ، صرف ایک ہستی تھی جس کی آواز اس وقت بھی بلند ہورہی ہے جو ظالموں کو للکار تی ہے اور وہ آواز جناب الطاف حسین کی آواز ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین جب یہ آواز بلند کررہے تھے تو سیاسی و مذہبی زعماء کی یہ ذمہ داری تھی ان کے ساتھ آواز ملاتے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہاکہ خورشید شاہ نے لفظ مہاجر کو گالی قراردیکر بدترین نظریاتی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے ، یہ عمل کرکے کیا خورشید شاہ نے امن کا ساتھ دیا ہے یا دہشت گردوں کی پشت کو مضبوط کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ کو نبی اکرم ﷺ کے القابات کا احترام سیکھنا ہوگا ، میں حیران ہوں خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر کیسے بنا دیا گیا ، اسکو ل کے بچے کو بھی پتا ہے کہ مہاجر کے لفظ کو کتنی تقدیس حاصل ہے ، کوئی اسلام کی خاطر ہجرت کرلیتا ہے تو اللہ اس کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے،وہ لوگ خوش نصیب ہیں جنہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کی خاطر ہجرت کی ۔ انہوں نے کہاکہ خورشید شاہ تو انصار بھی نہیں بن سکے ، خورشید شاہ سے سوال ہے کہ آپ نے سکھر ، لاڑکانہ ، بدین ، خیر پور کو کیا دیا ٹھیک ہے آپ نے کراچی کی دولت لوٹی لیکن یہ بتایئے کہ آپ نے سندھی بھائیوں کوکپڑا ،مکان ، کھانا تک نہیں دیا ۔ آج کا سندھی زبان حال سے پکار رہا ہے کہ میں بھوک ، افلاس ، پانی اور قحط سیلاب سے مررہا ہوں اور وڈیروں کے ہاتھوں میں چھوٹی قومیتوں میں لڑ لڑ کر مررہا ہوں ، ان وڈیروں نے میرا ساتھ نہیں دیا ، میرے گھروں میں آج بھی شگاف نظر آتے ہیں ،غریب سندھی بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ مظلومیت کے دن ختم ہورہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب لاڑکانہ اور خیر پور والے بھی صوبہ مانگے گے ۔ جنرل سیکریٹری نظام مصطفی پارٹی حاجی محمد رفیع نے لفظ مہاجر کو خورشید شاہ کی جانب سے گالی سے تعبیر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں خود مہاجر ہوں ، 1945ء میں دہلی میں پیدا ہوا اور جب پاکستان بنا اپنے والدین کے ساتھ کراچی آگئے ہم آئے ہیں تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہاں سے واپس چلے جائیں گے ، ہم محمد بن قاسم کی طرح کشتیاں جلا کر آئے ہیں ، سندھ باب الاسلام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گستاخانِ رسول ﷺ کے خلاف علمائے کرام فیصلہ کریں کہ اس کے خلاف کیا ہونا چاہئے جو بھی نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم مہاجر ہے ، ہاں ہم مہاجر اس پر ہمیں فخر ہے ، ہم ہندوستان میں اپنی جائیدادیں اور آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر آئے ہیں ممتاز عالم دین علامہ علی کرار نقوی نے کہا کہ محرم کا مہینہ شروع ہے ، صاحبان حق کا تذکرہ عبادت قرار دیا گیا ہم بھی یہاں صاحبان حق ، مظلوموں کی بات کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بنارس ، حیدرآباد دکن ، دہلی ، آگرہ چھوڑا ، پاکستان کے بڑے شہر چھوڑ کر جنگل میں آبسے اور جنگل کو منگل بنا کر دکھایا ، جب یہاں 47ء میں لکھنے کو قلم نہیں تھے اس وقت ہندوستان کے راجہ صاحب نے کہاکہ کوئی بات نہیں اس وقت انہوں نے 90کروڑروپے بھیجے پاکستان کے عوام کی خدمت کیلئے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی ملک کی معیشت نہیں چل سکتی جب تک وہاں اسٹیٹ بینک نہ ہو ، پاکستان میں اسٹیٹ بینک نہیں تھا ،48ء میں میر راجہ محمود نے پاکستان میں اسٹیٹ بنک قائم کروایا اور سونے کی اینٹیں بغیر گنے دیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بڑے بڑے شہر چھوڑے صرف پاکستان کے تحفظ کی خاطر ، قائد اعظم نے مہاجروں کے تحفظ کیلئے کراچی کو صوبہ سندھ سے الگ کردیا تھا اور وفاقی علاقہ بنایا تھا،اسے ایوب خان نے 58ء میں الگ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اردو بولنے والوں نے بارہا کہاکہ ہمیں سندھی مانو لیکن نہیں مانا گیا تم نے کہلوایا تو ہاں اب ہم مہاجر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں 58ء میں مہاجر کمشنر ہٹا دیئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، شہری اور دیہی کی شناخت رکھی ۔ ہم پیپلزپارٹی کا ساتھ دیتے رہے لیکن اردو بولنے والا وزیراعلیٰ نہیں آنے دیا گیا ، زرداری صاحب نے کہاکہ ہم پر تو چار صوبے ہی بھاری پڑ رہے ہیں مزید کیسے بنائیں اگر یہ چار صوبے بھاری پڑ رہے ہیں تو ان کو بھی ختم کردیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے آج نہیں تو کل صوبہ بن کر رہے گا ۔
 

12/7/2016 2:19:45 PM