Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محرم کے بعد 20صوبے بنانے کی تحریک چلائیں گے ، ہجرت سنت عظیم ہے اور اس پر عمل کرنے والا مہاجر کہلاتا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


محرم کے بعد 20صوبے بنانے کی تحریک چلائیں گے ، ہجرت سنت عظیم ہے اور اس پر عمل کرنے والا مہاجر کہلاتا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 10/26/2014
محرم کے بعد 20صوبے بنانے کی تحریک چلائیں گے ، ہجرت سنت عظیم ہے اور اس پر عمل کرنے والا مہاجر کہلاتا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
عظیم سنت رسول ﷺ کی تحقیر اور توہین کی گئی ہے اور اسے تعصب کے ذریعے پامال کیا گیا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
لفظ مہاجر کو گالی سمجھنے پر سکھر کے ریگزار وں سے ابھرنے والا خورشید کراچی کے عوامی سمندپر غروب گیا ہے، حید رعباس رضوی 
ایک کروڑ مسلمان بھی کسی گستاخ رسول ﷺ کو معاف کرنے اختیار نہیں رکھتے اور اس کے بارے میں دل میں بھی اچھا گمان کرنا شاتم رسول اور گستاخی رسول ﷺ کے زمرے میں آتا ہے، رؤف صدیقی
خورشید شاہ لفظ مہاجر کو گالی قرار دیکر توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوئے ہیں، رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر اسماعیل سوہو
ایم کیوایم کے زیراہتمام شاہراہ قائدین پر خورشید شاہ کی جانب سے لفظ مہاجر کی توہین اور تحقیر کے خلاف منعقدہ عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء سے خطاب 
کراچی ۔۔۔26، اکتوبر2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہجرت سنت عظیم ہے اور اس پر عمل کرنے والا مہاجر کہلاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے لیکر اور آج تک جو بھی کسی مقصدا ورمشن کے تحت اپنا گھر اور علاقہ چھوڑے وہ مہاجر کہلاتا ہے ،جان لیاجائے کہ پناہ گزینوں اور مہاجروں میں بڑا فرق ہوتا ہے ، محرم کے بعد 20صوبے بنانے کی تحریک چلائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر چلنا شروع کرتا ہے تو تاریخ تحریر ہوناشروع ہوتی اور جب پہنچتا ہے تو تبدیلی ہونا شروع ہوتی ہے ، مکہ سے مہاجر جب یثرب پہنچا تو وہ مدینہ بن گیا اور ہم ہندوستان سے یہاں پہنچے تو پاکستان بن گیا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی شب شاہراہ قائدین پر خورشید شاہ کی جانب سے لفظ مہاجر کی توہین اور تحقیر کے خلاف منعقد کئے گئے بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔مظاہرے میں عوام نے 18گھنٹے کے نوٹس پر لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی اور توہین رسالت اور لفظ مہاجر کی بے حرمتی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی ۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے اپنے خطاب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ایک طرف عاشقان رسول ﷺ ہیں اور دوسری طرف گستاخ رسول ؐہے ، ایک طرف امتیوں کا سمندر ہے اور دوسری جانب لعنتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج یہ کہا جارہا ہے کہ ایم کیوایم جو خود کو لبرل اور پروگریسو تنظیم کہتی ہے آج مذہب کا سہارا لے رہی ہے ، انتہاء پسند جماعت بنتی نظر آرہی ہے انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ جب معاملہ ناموس رسالت ﷺ کا ہو تو ہمارے پاس سے احتجاج ہی نظر آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آج کا مہاجر اپنے حصہ کا پاکستان بُن چکا تھا ، سائباں کھڑا کرچکا تھا 
اورمہاجر کا جگر تو دیکھو کہ وہ وہاں پر اسلام کے نام سے ملک بنا رہا تھا جہاں وہ خود رہتا نہ ہو، کیا تاریخ انسانی میں ایسی قربانی اور عمل دیکھا گیا ہے ، ہم اپنا پاکستان اپنے سروں اور کاندھوں پر اٹھا کر لائے تھے ہم متروکہ سندھ کے ہی مالک نہیں ہیں بلکہ ہمیں تو پاکستان کا مالک سمجھنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے یہ طے ہوچکا تھا کہ وہ علاقے جہاں پر پاکستان بننا ہے وہاں پر ہجرت کیلئے جانے والے ہندو اپنی کوئی جائیداد فروخت کرسکتے تھے نہ کسی کے نام منتقل کرسکتے تھے اسی طرح ہندوستان سے جو ہجرت کرکے آئے وہ بھی اپنی جائیداد قانون کے تحت فروخت او رمنتقل نہیں کرسکتے تھے،پاکستان بننے سے پہلے سندھ کی زرعی زمین کا 80فیصد ہندوؤں کے پاس تھا ، آج جاگیرداروں کے پاس جو زرعی زمین ہیں اس کے مالک بھی ہم ہیں لیکن ہم نے پاکستان کی خاطر ہر طرح کی قربانی دی ، ہمارے آباؤ اجداد آئے تو اسلام اور پاکستان کے نشے میں سر شار تھے وہ اپنے لئے کچھ نہیں چاہتے تھے ہم نے کبھی جائیداد کیلئے اور زمینوں کیلئے نہ تم سے لڑائی کی اور نہ جنگ کی لیکن بات نظریاتی اصولوں پر آئے گی تو جنگ ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ آج اسلامی سال کا پہلا دن ہے ، پہلا محرم ہے ، مجالس شروع ہونے والی ہونگی اور یکم محرم کو ہونے والا یہ جلسہ بھی عبادت ہے ۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ آج یکم محرم الحرام ہے اورایم کیوایم نے یہ احتجاجی مظاہرہ عظیم مقصد کیلئے منعقد کیا ہے ، حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ یکم محرم کوسفرمیں تھے اور 2محرم کو کربلا پہنچے ، کربلا پہنچنے کا مقصد بھی نواسہ رسول ہونے کا حق ادا کرنا تھا اور ہمارے احتجاجی مظاہرے کا مقصد بھی ناموس رسول ﷺ کو قائم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج ایک عظیم سنت رسول ﷺ کی تحقیر اور توہین کی گئی ہے اور اسے تعصب کے ذریعے پامال کیا گیا ہے جسے بحال کرنے کے لئے ہم آج جمع ہوئے ہیں ۔ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے کہا کہ 18گھنٹے میں لاکھوں عوام کا مجمع اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ لفظ مہاجر کو گالی سمجھنے پر سکھر کے ریگزار وں سے ابھرنے والا خورشید آج کراچی کے عوامی سمندرپر غروب ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ باغ جناح کا جلسہ نہیں ہے کہ لوگ بلانے پڑ رہے ہیں اور اس کیلئے مہینوں کوششیں کی جائیں ، یہ مہاجروں کا جلسہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہے وہ عوامی احتجاج جو لفظ مہاجر کو گالی دینے پر صرف کراچی کے عوام نے 18گھنٹے کے نوٹس پر کیا ہے ، کاش ہمارے پاس بھی تمہاری طرح دو ارب روپے ہوتے ،تو پورے پاکستان میں خرچ کرتے ، ٹرینیں بلواتے اور لوگ بلواتے تو کراچی کی سڑکیں بھر جاتی لیکن ہم کیا کریں کہ ہم جاگیردار اوروڈیرے نہیں ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہماری دولت عوام ہیں جو سامنے کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے ثابت کردیا گیا ہے کہ گالی مہاجر کو دی گئی یا لفظ مہاجر کو دی جائے ہمارا ردعمل ایک ہی ہوتا ہے ۔انہوں نے خورشید شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے لفظ مہاجر کو گالی دی ہے ، آپ کا مطمع نظر گالی دینا نہیں تھا اور آپ کی طرف سے یہ تاویل پیش کی گئی کہ میں نے تو مہاجر لفظ کو کہا ہے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ روح زمین پر اس کائنات میں انسانی تاریخ نے صرف دو ایسی ریاستیں دیکھی ہیں جو اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کیلئے معرض وجود میں آئیں ، دنیا کی پہلی اسلامی ریاست جو کہ مسلمانوں کیلئے معرض وجود میں آئی وہ میرے پیارے نبی ، جد امجد حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت کی اور یثرب پہنچے تو وہاں پر دنیا نے پہلی بار ایک اسلامی ریاست کو دیکھا اور وہ ریاست مدینۃ النبی تھی وہ اسلامی ریاست جس کا آغاز مدینتہ النبی سے ہوا ، یثرت مدینتہ النبی بنااور آپ ﷺ کی ایک ہجرت اور مہاجر ہونے کے نتیجے میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ ہجرت سنت محمد ﷺ ہے ، اس سنت کے اتباع میں بننے والی دوسری اسلامی ریاست مملکت خداد ادِ پاکستان ہے ،۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی نے کہاکہ مہاجر لفظ قرآن کا عطا کردہ ہے ، لفظ مہاجر نصابی کتاب کا نہیں بلکہ قرآن کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجروں کے جب غزوات ہوتے تھے تو مہاجر اور انصار کے پرچم الگ ہوتے تھے ، خورشید شاہ کیلئے کوئی یہ کہے کہ وہ پاگل ہے ، پڑھا لکھا نہیں ہے تو ہم نہیں مان سکتے اگر یہ کہے کہ جاہل ہے تو صحیح ہے اور اس نے لفظ مہاجر کی توہین کرکے توہین صحابہ ، توہین امام عالی مقام کی ہے ، مہاجر لفظ رسالت مآب ﷺ سے منسوب ہے ، انہیں معلوم نہیں ہے کہ پناہ گزین اور مہاجر کون ہوتا ہے ، قرآن کی تشریح کے مطابق جو اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار ، کھیت ، کھیلیاں سب کچھ چھوڑ کر اللہ اور حب رسول ؐ کی راہ میں نکل جاتا ہے اسے مہاجر کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ مسلمان بھی کسی گستاخ رسول ﷺ کو معاف کرنے اختیار نہیں رکھتے اور اس کے بارے میں دل میں بھی اچھا گمان کرنا شاتم رسول اور گستاخ رسول ﷺ کے زمرے میں آتا ہے ۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر سوہو نے کہا کہ لفظ مہاجر کی توہین پر احتجاج صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں کیاجارہا ہے ،خورشید شاہ لفظ مہاجر کو گالی قرار دیکر توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوئے ہیں فی الفور اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگیں ، مرسوں مرسوں سندھ کا ڈیسوں کا نعرہ لگانے والے دراصل کھائے سو کھائے سو سندھ کھائے سو کا عمل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی ڈوب مرے ، تھر کی عوام کے حشر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ تھر نہیں صومالیہ ہے ۔ 

12/7/2016 12:16:36 PM