Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان اوربھارت دونوں ملکوں کوانسانوں کاملک بن کررہناچاہیے۔الطاف حسین


پاکستان اوربھارت دونوں ملکوں کوانسانوں کاملک بن کررہناچاہیے۔الطاف حسین
 Posted on: 10/24/2014
پاکستان اوربھارت دونوں ملکوں کوانسانوں کاملک بن کررہناچاہیے۔الطاف حسین
دونوں ایک دوسرے کوایٹمی طاقت ہونے کی دھمکی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے وجودکااحترام کریں
اگر اسی طرح دھمکیاں دیناہیں توپھرایک دوسرے پر بم ماردیں، ہم سب ختم ہوجائیں اورمعاملہ ختم ہوجائے
ہم مارکٹائی کے عادی ہوچکے ہیں۔کوئی ٹارزن، کوئی رستم زماں اورکوئی گلوبٹ بنناچاہتاہے
اگرہم مارکٹائی اوراکھاڑپچھاڑ کے بجائے ایک دوسرے کے وجودکوبرداشت کرلیں اورنفرتوں کے بجائے محبت کوپروان چڑھائیں توسارے مسائل حل ہوجائیں گے
محبت اتنی طاقتورچیزہوتی ہے کہ یہ خونی رشتوں، مذہب اوروطنیت کی جغرافیائی سرحدکوبھی عبورکرجاتی ہے
علامہ اقبال ایک وطن پرست انسان تھے اورمتحدہ ہندوستان پریقین رکھتے تھے
آج اگر داعش اورISISجیسی تنظیمیں وجودمیں آگئی ہیں تو پھرہم پریشان کیوں ہیں؟ ہم جوبوئیں گے وہی کاٹیں گے
مسجدوں اورامام بارگاہوں میں خودکش بم دھماکے کرکے معصوم نمازیوں کوشہیدکرنے کادرس قرآن مجید کی کس آیت اورکس حدیث مبارکہ میں دیاگیاہے؟
اسلام آبادمیں ’’فلسفہء محبت ‘‘ کے انگریزی ترجمے \"Philosophy of Love\" کی تقریب رونمائی سے خطاب
لندن۔۔۔ 24 اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان اوربھارت دونوں آزادملک ہیں دونوں ملکوں کوانسانوں کاملک بنکررہناچاہیے اورایک دوسرے کوایٹمی طاقت ہونے کی دھمکی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے وجودکااحترام کریں اوراگر اسی طرح دھمکیاں دیناہیں توپھرایک دوسرے پر بم ماردیں، ہم سب ختم ہوجائیں اورمعاملہ ختم ہوجائے۔ اگرہم ایک دوسرے کو برداشت کرناسیکھ لیں اورمارکٹائی اوراکھاڑپچھاڑ کے بجائے ایک دوسرے کے وجودکوبرداشت کرلیں اورنفرتوں کے بجائے محبت کو پروان چڑھائیں توسارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارآج میریٹ ہوٹل اسلام آبادمیں اپنی کتاب ’’فلسفہء محبت ‘‘ کے انگریزی ترجمے \"Philosophy of Love\" کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ممتازدانشور ، کالم نگاراورشاعرحسن نثارتھے جبکہ تقریب سے سینیٹرمشاہدحسین سید، سینئرصحافی اوراینکرحامدمیر، ممتازسماجی کارکن محترمہ ماروی سرمد، لاہور کے سینئرصحافی اورمقامی اخبارکے ایڈیٹر ذوالفقارراحت سندھو، ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹرفاروق ستار، ایم کیوایم پنجاب کے صدرمیاں عتیق اورایم کیوایم خیبرپختونخوا کے صدربیرسٹرمحمدعلی سیف نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں سفارتکاروں، دانشوروں، سینئرصحافیوں، کالم نگاروں، ریٹائرڈججوں، سینئروکیلوں، تاجروں،ارکان پارلیمنٹ اوردیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جہاں محبت ہوگی وہاں انصاف ہوگا، مساوات ہوگی، ایمان ہوگا، نزاکت ہوگی، حسن ہوگا، تہذیب وشائستگی ہوگی، خندہ پیشانی ہوگی، عزت وتکریم ہوگی، ایک دوسرے کے دکھ درد کومحسوس کرنے کاجذبہ ہوگا۔جہاں محبت ہوگی وہاں علم ہوگا، تاریخ ہوگی، انسانیت ہوگی، شرافت ہوگی، ایمانداری ہوگی اورکچھ لینے کے بجائے زیادہ سے زیادہ دینے کاجذبہ ہوگا۔ محبت اتنی طاقتورچیزہوتی ہے کہ یہ خونی رشتوں، مذہب اوروطنیت کی جغرافیائی سرحدکوبھی عبورکرجاتی ہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمارے ہاں بچوں کومسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے اورحقائق سے آگاہ نہیں کیاجاتا، علامہ اقبال ایک وطن پرست انسان تھے اورمتحدہ ہندوستان پریقین رکھتے تھے۔1930ء کے تاریخی خطبہ الہ آبادمیں انہوں نے یہ تجویزپیش کی تھی کہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں کوآزاداور خودمختار ریاستوں میں تبدیل کردیاجائے ۔جب راغب نامی ان کے ایک شاگردنے یہ لکھا کہ علامہ اقبال نے قیام پاکستان کاتصورپیش کیاہے توانہوں نے اس پر ناراضگی کااظہارکیا۔قائداعظم بھی متحدہ ہندوستان کے متوالوں میں تھے اسی لئے انہوں نے آل انڈیانیشنل کانگریس میں شمولیت اختیارکی لیکن جب انہیں ہندؤں کی متعصبانہ سوچ وفکرنظرآئی تو انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کامطالبہ کیااورتقسیم ہندکاگھونٹ بڑی مشکل سے پیا۔انہوں نے کہاکہ اب جبکہ پاکستان اورہندوستان دوعلیحدہ ملک ہیں تو دونوں ملکوں کوانسانوں کاملک بنکررہناچاہیے اورایک دوسرے کوایٹمی طاقت ہونے کی دھمکی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے وجودکااحترام کریں اوراگر اسی طرح دھمکیاں دیناہیں توپھرایک دوسرے پر بم ماردیں، ہم سب ختم ہوجائیں اورمعاملہ ختم ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے رام،باباگرونانک اوردیگرمذاہب کی شخصیات کے بارے میں لکھا تاکہ مسلمانوں پر تنگ نظری کاالزام نہ لگے۔انہوں نے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی غیرمسلم نہیں رہے گا، اگرامریکہ اوربرطانیہ نے بھی یہ فیصلہ کرلیاکہ یہاں کوئی پاکستانی نہیں رہے گاتوپھرآپ کیاکریں گے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے بچوں کوابتداء ہی سے نفرت کے زہرمیں ڈوبی ہوئی تحریریں پڑھائیں گے تویقیناًان کے ذہن زہرآلود ہی ہوں گے۔ آج اگر داعش اورISISجیسی تنظیمیں وجودمیں آگئی ہیں تو پھرہم پریشان کیوں ہیں؟ ہم جوبوئیں گے وہی کاٹیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسجدوں اورامام بارگاہوں میں خودکش بم دھماکے کرکے معصوم نمازیوں کوشہیدکرنے کادرس قرآن مجید کی کس آیت اورکس حدیث مبارکہ میں دیاگیاہے؟بازاروں، مارکیٹوں، مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز، کامرہ ،نیول بیس، جی ایچ کیو اورآئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز ، پولیس اورایف سی کے کیمپوں پر حملے کرناکونسا جہاد ہے؟ گرجاگھروں، مندروں اوردیگرمذاہب کی عبادت گاہوں کونقصان پہنچانا کس مذہبی تعلیم کے تحت کیاجارہا ہے؟ دنیا اپنے ثقافتی ورثے کاتحفظ کرتی ہے، ہم اپنے ثقافتی ورثے کوکیوں تباہ کررہے ہیں؟ دنیاچاندپر پہنچ چکی ہے اوریہ تک بتادیتی ہے کہ چاندگرہن کب ہوگا مگرہم آج تک چاندنظرآنے نہ آنے کے معاملے پر جھگڑتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ بلوچستان میں معصوم پنجابیوں کوقتل کیاجارہاہے، مگر جو معصوم بلوچ مارے جارہے ہیں اس کاحساب کون دے گا؟کیا ہماری عدالتیں آزادہیں؟ کیاکوئی غریب آدمی سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹاسکتاہے؟اگرہم اپنی متعصبانہ سوچ عملی طورپرختم کردیں توہم ایک پاکستانی قوم بن سکتے ہیں، ہم مارکٹائی کے عادی ہوچکے ہیں، کوئی ٹارزن، کوئی رستم زماں اورکوئی گلوبٹ بنناچاہتاہے، اگرہم ایک دوسرے کو برداشت کرناسیکھ لیں اورمارکٹائی اوراکھاڑپچھاڑ کے بجائے ایک دوسرے کے وجودکوبرداشت کرلیں اورنفرتوں کے بجائے محبت کو پروان چڑھائیں توسارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ جناب الطاف حسین نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ محبت کوعام کردے اورایساکردے کہ محبت عام ہوجائے، نفرتیں ختم ہوجائیں اورہم محبت کی زنجیرمیں بندھ جائیں، پاکستان میں پیارمحبت، امن بھائی چارہ پیداکردے، ایساماحول کردے کہ ہم جھوٹ سے پرہیزکریں، سچ بولیں، لین دین میں ایمانداری اوردیانتداری اختیارکریں، چوری چکاری سے خودبھی پرہیزکریں اوردوسروں سے بھی پرہیزکرائیں، ہم سب ایک بنیں، ملک کی حفاظت کریں، فرسودہ جاگیردارانہ نظام ، چائلڈلیبر ، کاروکاری اور خواتین کے استحصال کے خلاف جدوجہد کریں۔ انہوں نے تقریب میں شرکت پر تمام مہمانوں کاشکریہ ادا کیا اور شاندارتقریب کے انعقادپرایم کیوایم پنجاب کے
صدرمیاں عتیق سمیت تمام ذمہ داروں اورکارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
مکمل تقریر


12/4/2016 2:23:46 PM