Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین نے ملک میں غریبوں کی حکمرانی کی بنیاد ڈالی تھی جس کی باتیں آج سیاسی لیڈران کر رہے ہیں، حسن نثار


جناب الطاف حسین نے ملک میں غریبوں کی حکمرانی کی بنیاد ڈالی تھی جس کی باتیں آج سیاسی لیڈران کر رہے ہیں، حسن نثار
 Posted on: 1/24/2014
جناب الطاف حسین نے ملک میں غریبوں کی حکمرانی کی بنیاد ڈالی تھی جس کی باتیں آج سیاسی لیڈران کر رہے ہیں، حسن نثار 
جناب الطاف حسین نے ہمیشہ محبت کا درس دیا، محبت ملک میں مثبت تبدیلی لائے گی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
آئین کے آرٹیکل 140Aکے مطابق اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچا ئے بغیرجمہوریت کا تصور مکمل نہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
پاکستان کی فلاح اور سلامتی کیلئے عوام کو با اختیار بنانا ہوگا، حقیقی جمہوریت کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں
پاکستان کو محبت کے احساس کی شدید ضرورت ہے،جناب الطاف حسین نے محبت و مکاری کے فرق کو واضح کردیا، حامد میر
جناب الطاف حسین نے ہمیشہ وہی کہا ہے جو حقیقت ہوتا ہے، سینیٹر مشاہد حسین سید 
جناب الطاف حسین نے قوم کوسیاسی شعور اور فکر دیکر ملک میں رائج ظلم و جبر کے فرسودہ نظام کو توڑا ، بیرسٹر سیف 
جناب الطاف حسین نے ہمیشہ ملک کے محروم وغریب عوام کے حقوق کی بات کی ، میاں عتیق
جناب الطاف حسین کی محبت پر تصیف کونصاب کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ آئندہ نسل محبت کے پہلو کو سمجھ سکے، ذوالفقار سندھو
ملک کی ترقی کیلئے آپس کی نفرتوں کا خاتمہ کرکے محبت کو پروان چڑھانا ہوگا، ماروی سرمد
جناب الطاف حسین کی تصنیف ’’ فلسفہ محبت‘‘ کے انگریزی ترجمے کی اسلام آباد میں تقریب رونمائی سے مقررین کا خطاب 
اسلام آباد ۔۔۔۔24اکتوبر2014ء
معروف تجزیہ و سینئر قلمکار و اینکر حسن نثار نے کہاہے کہ ہمار ے معاشر ے میں نفرتوں کی بات کی جاتی ہے لیکن آج جناب الطاف حسین کی تصنیف کے توسط سے محبت کی بات کر رہے ہیں جس پر جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کومبارک باد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ حقیقی لیڈر ایک استاد کی طرح ہوتا ہے جو کہ ہمارے نبی ﷺ بھی تھے اور انہوں نے اپنے لوگوں کی اچھے کاموں اور اچھے اخلاق و آدا ب کی تربیت کی اور انہیں چلنے ،پھرنے ، اُٹھنے ، بیٹھنے ، صفائی ستھرائی اور بات چیت کے اداب سکھائے ۔انہوں نے کہا کہ میری جناب الطاف حسین اور ایم کیوا یم سے قربت کی اہم وجہ یہی وجہ ہے کہ جناب الطاف حسین ایک سیاسی لیڈر نہیں بلکہ استاد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے اپنی کتاب میں محبت کی جو تشریح کی ہے کہ بھی ایک استاد کی طرح میانہ روی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہ الطاف حسین نے ملک میں غریبوں کی حکمرانی اور با اختیار عوام کی روایت کی بنیاد ڈالی تھی جس کی باتیں آج کے سیاسی لیڈران کر رہے ہیں ، ہمار ے ملک میں غریبوں کی حکمرانی اور اقتدار کیلئے محبت اور جنگ جس کی ضرورت پڑے وہ جائز ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشر ے میں غلام کبھی محبت کے جذبے سے سرشار نہیں ہو سکتا اور ایسے لوگ ہمیشہ نفرت ، تعصب اور بدلے کی چاہ لئے پھرتے ہیں اورجو لوگ 67برسوں سے ملک میں نفرتوں اور تعصب کے بیج بو رہے ہیں الطاف حسین نے ان کے خلاف محبت کا علم بلند کیا ہے اور ایسے لوگ قابل تحسین ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جناب الطاف حسین کی تصنیف فلسفہ محبت کے انگریزی ترجمے ’’ Philosophy Of Love‘‘ کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقدہ پر وقار تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ارکان رابطہ کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، محمد واسع جلیل ،سید امین الحق ، رشید گوڈیل، سینیٹر نسرین جلیل ،عادل صدیقی، رکن رابطہ کمیٹی و صدر ایم کیو ایم پنجاب میاں عتیق ، صدر ایم کیوا یم خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد سیف ، حق پرست ارکان اسمبلی ، ، معروف اینکر پرسن و لکھاری حامد میر، اسلامی جمہوریہ افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی،برطانیہ اور نائجیریا کے سفیران، سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ منیر پراچی ایڈوکیٹ، سابق جسٹس ہائی کورٹ صدیقی،اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر، اسلام آباد وومین چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی صدر ثمینہ فاضل، معروف اینکر پرسنزعادل عباسی ،فریحہ ادریس، راشدہ سیال، دانشوروں ، تجزیہ نگاروں، اساتذہ کرام ، وکلاء برادری کے معززین سمیت مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی ۔اس موقع پر ایم کیوا یم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی ، رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹر محمد فاروق ستار ، ایم کیوا یم رابطہ کمیٹی رکن و صدر ایم کیوا یم پنجاب میاں عتیق ، صدر ایم کیو ایم خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف ، ارکان رابطہ کمیٹی سینیٹر نسرین جلیل، افتخار اکبر رندھاوا، معروف و سینئر قلمکار و تجزیہ نگار حسن نثار ،معروف تجزیہ نگارحامد میر،تجزیہ نگار ماروی سرمداور مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید اسٹیج پر براجمان تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متحد ہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے اپنے لوگوں کو ہمیشہ سے ہی محبت کا درس دیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ جناب الطاف حسین کی یہ محبت ملک میں ایسی تبدیلی لائے گی کہ وہ پاکستان جو اپنے خطے میں برابری اور حصول کا نشان بنائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے اپنے گھر سے پیغام کو پھیلانے کا آغاز کیا اور اب یہ نظر یہ ملک کے کونے کونے میں پہنچ چکا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد فاروق ستارنے کہا کہ جناب الطاف حسین کی محبت صرف ایک فردیا طبقے کے لئے نہیں ہے بلکہ ملک کے 98فیصد غریب متوسط طبقے کے عوام اور پو ری انسانیت کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں محبت کے عملی نفاذ کیلئے وڈیرہ شاہی ، جاگیر داری نظام اور انتہاء پسندی کا خاتمہ کرنا ہوگا کیونکہ آج کے جدید دور میں بھی ملک کے مختلف علاقوں میں جاگیر داروں اور وڈیروں نے اپنے علاقے کے عوام کو پتھروں کے زمانے میں رکھا ہواہے اور وہاں معصوم بچیوں کی قرآن سے شادی ، پسند کی شادی کے نتیجے میں قتل اور ایسی فرسودہ روایات رواں رکھی جاتی ہیں جس پر ظلم کے خلاف نام نہاد لبرل جماعتیں بھی آواز بلند نہیں کر تیں ہمیں ملک میں بنیادی حقوق غریبوں تک منتقل کرنے اور انہیں ظالم جاگیر داروں ، وڈیروں کے نفرتوں بھرے نظام سے آزادی دلا کر انکی فلاح اور بہبود کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے اور ہمیں ملک سے خاندانی سیاست کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اس نظام کا قلعہ کما کرنا ہوگا جو گزشتہ 67برسوں سے معصو م عوام کو بے وقوف بنارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ملک کو شدید مسائل کا سامنا ہے جن کا مستقل حل ناگزیر ہے اور اگر ہم ان مسائل کے مستقل علاج کے بجائے علامتی علاج کے راستے اپنائیں گے ہماری صورتحال کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غریبوں کی سیاست اور غریبوں کے حقوق کی بات کرنے کے نظریے کی بنیاد جناب الطاف حسین نے رکھی تھی اور عملی طور سے غریب عوام کو با اختیار بنا کر ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں بھیجا تھا، انہوں نے 1987ء کے بلدیاتی انتخابات سے ہی ملک کے باشعور و غریب متوسط طبقے کے منتخب نمائندوں کو ایوانوں میں بھیجا جو کسی اور سیاسی جماعت نے نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم پاکستان کی فلاح اور سلامتی کے خوا ہ ہیں تو ہمیں پاکستان کے عوام کو با اختیار بنانا ہوگا اور انہیں انکے مسائل حل کرنے کا موقع دینا ہوگا کیونکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140Aکے مطابق مقامی حکومتوں کا قیام کرکے معاشی ، انتظامی ، سماجی اختیارات کو عوام کی دہلیز تک پہنچا یا جا نا ہی اصل جمہوریت ہے عوام کو با اختیار بنائے بغیر جمہوریت کا تصور نا مکمل ہے۔اس مو قع پرحامد میرکا کہنا تھا کہ میں محبت کے موضوع پر اس عظیم الشان محفل کے انعقاد پر جناب الطاف حسین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ محبت کے جذبے سے دنیا کو فتح کیا جاسکتاہے اور جناب الطاف حسین نے مختلف اقسام کی محبتوں پر جو تفصیلی نگاہ ڈالی وہ قابل تحسین ہے، جناب الطاف حسین ملک کے ایک ایسے لیڈر ہیں جنہوں نے خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر بھی گہری نظر ڈالی ہے اور محبت اور مکاری کے فرق کو واضح کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے مختلف سیاستدانوں نے اپنی سیاسی زندگی پر تصانیف تو تحریر کی ہیں لیکن جناب الطاف حسین واحدلیڈر ہیں جنہوں نے محبت کے پہلو کو اجاگر کیا ہے میرا تمام سیاسی رہنماؤں کو مشورہ ہوگا کہ وہ بھی محبت کے مختلف پہلوں کو مثبت انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کریں کیوں کہ آج ہمارے ملک کو محبت کے احساس کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے  معاشرے میں ملک اوردین سے محبت کے نام پر منفی کام کئے جاتے ہیں اور ہم اپنے وطن اور دین کی محبت میں ایک دوسرے پر گولیاں چلاتے ہیں جس سے نفرتیں جنم لے رہی ہے اوراس صورتحال میں نفرتوں کے خاتمے میں اس تصنیف کا کردار انتہائی اہم ہے ۔جناب الطاف حسین نے ملک کے غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کو ملک کے ایوانوں میں بھیجا اور یہبھی انکی عوام سے محبت کا انوکھا انداز ہے ۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی محبت کے مختلف پہلوں پر تصنیف ایک ایسے وقت میں بہت اہم ہے کہ جب ملک اور امت مسلمہ کو محبت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین ملک کی روایتی سیاست نہیں کرتے اور انہوں نے ملک کی تاریخ میں سب سے پہلے کراچی سے غریب و متوسط طبقے کو اختیار دینے کی سیاست کا آغاز کیا اور پھرا سے ملک کے کونے کونے میں پہنچا دیا ، آج تک دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی سیاسی قائد نہیں رہا جو 22سال سے جلا وطنی کے باوجود اپنی جماعت اور عوام کے درمیان موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے کبھی کسی کے دباؤ میں سچ نہیں کہا ہمیشہ وہی کہا ہے جو حقیقت ہوتا ہے ۔ذوالفقار سندھو نے کہا کہ ایم کیوا یم کے قائد الطاف حسین ایک ایسی فکر اور سوچ کا نام ہے جو پاکستا ن کے 67برسوں سے رائج نظام کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے ، جو پاکستان کو ایک فلاحی سسٹم دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین کی تصنیف فلسفہ محبت صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ہمارے عہد کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔اانہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے کراچی میں دہشتگردوں کی موجودگی اور آگ و خون کے دریاؤں کی پیشنگوئی کردی تھی لیکن اس وقت قومی سلامتی کے اداروں اور ارباب اقتدار نے ان کی اس بات کا مذاق اُڑایا ، انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک مہاجر لفظ کو گالی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی ہجرت کو گالی دینے کے مترادف ہے، آج ملک میں دھرنہ دینے والے جس نظام کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں وہ جناب الطاف حسین نے کئی دہائیوں قبل کر دیا ہے اور کراچی کے غریب و با شعور نوجوانوں کو ملک کے ایوانوں میں بھیج کر تبدیلی کی بنیاد رکھ دی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں محبت کے بیج بوئے جاتے تھے اور اب نفرتوں کے باغ اُگائے جارہے ہیں لیکن جناب الطاف حسین نے محبت کی جو تشریح کی ہے اس ے ہمارے نصاب کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ ہماری آئندہ نسل محبت کے اصل پہلو کو سمجھے اور محبت کی پرانی ریت دوبارہ وطن عزیز کا مقدر بنے۔ماوری سرمد نے کہا کہ جناب الطاف حسین ملک کی سیاست میں سختی کا خاتمہ کر کے تبدیلی لے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کی ترقی کیلئے آپس کی نفرتوں اور منافرتوں کا خاتمہ کرکے محبت کو پروان چڑھانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے اپنی زندگی کے اتارچڑھاؤ میں تمام تر مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنے کے باوجود آ ج محبت کے پہلو پر گہری نظر ڈالی ہے جس پر غور کرکے ہم اپنی زندگی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ فلسفہ محبت ایک وسیع موضوع ہے جس پر جتنی بات کی جاسکے وہ کم ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے اس قوم کو نیا سیاسی شعور اور فکر دی جو ملکی تاریخ میں انکا منفرد کارنامہ ہے اور اس نے ملک میں رائج ظلم و جبر کے فرسودہ نظام کو توڑا اور ایک نئی تبدیلی کا آغاز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ محبت اللہ تعالیٰ کا ایک خوبصورت تخلیقی خیال ہے اور تمام مخلوقات اس خوبصورت خیال کی عملی تصویر ہیں ، جناب الطاف حسین نے اسی خوبصور ت تخلیق پر انتہائی گہری نگاہ ڈالی ہے ۔میاں عتیق نے کہا کہ اس محفل میں یکجا ہونے کا مقصد جناب الطاف حسین کے محبت کے فلسفے کی تجدید کرنے کا مقصد ہے۔ا نہوں نے کہا کہ جناب الطاف حسین نے ہمیشہ ملک کے محروم غریب عوام کی بات کی ہے اور آج بھی انہی کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں
اب یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم جناب الطاف حسین کے محبت بھرے اس پیغام کو سرحدوں کی قید سے دور پوری دنیا میں پہنچائیں ۔
 

12/7/2016 6:04:22 PM