Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک میں انجینئرز پر توجہ نہیں دی جاتی،کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر داخلے دیکراہل اورباصلاحیت انجینئر ز کی حق تلفی کی جارہی ہے، حیدر عباس رضوی


ملک میں انجینئرز پر توجہ نہیں دی جاتی،کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر داخلے دیکراہل اورباصلاحیت انجینئر ز کی حق تلفی کی جارہی ہے، حیدر عباس رضوی
 Posted on: 10/23/2014
ملک میں انجینئرز پر توجہ نہیں دی جاتی،کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر داخلے دیکراہل اورباصلاحیت انجینئر ز کی حق تلفی کی جارہی ہے، حیدر عباس رضوی
کراچی کو اسکے جائز وسائل نہیں دئیے جارہے ،فورم کا قیام ملک کے مستقبل کے لئے خوش آئند فیصلہ ہے، رؤف فاروقی
ملک میں انجینئرنگ کالجز اور جامعات میں نصاب میں جدت لانے کی اشد ضرورت ہے، انجینئر جمشید رضوی
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی انجینئرز کو ملک کی فلاح کیلئے مقام دینے کی ضرورت ہے، انجینئر انعام احمد عثمانی
دی انجینئرز پاکستان کا قیام ملک میں انجینئرز کیلئے ایک نئے سفر کا آغاز ہے،انجینئر سہیل وجاہت 
دی انجینئرز پاکستان کی افتتاحی تقریب سے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن ، ایڈمنسٹریٹر کراچی اور دیگر مقررین کا خطاب 
کراچی ۔۔۔23اکتوبر2014ء
متحد ہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں انجینئرز کی بہتری کیلئے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ہے اور انجینئرنگ کالجز اور جامعات میں فقط کوٹہ سسٹم کی بنیادپرطالبعلموں کو داخلے دیکر مستقبل کے اہل انجینئر زکی حق تلفی کی جاتی ہے،ملک میں موجود انجینئرنگ فورمز کا واحد مقصد انجینئرنگ اداروں میں الیکشن جیتناہے جس کی وجہ سے نئے آنے والے انجینئرز کوحقیقی طورسے ملک کی ترقی میں اپناکردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا،ان مسائل کومدنظررکھتے ہوئے دی انجینئرز پاکستان کے نام سے نئے انجینئرنگ پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ اس کا مقصدمحض پی ای سی کے انتخابات میں فتح حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ملک میں انجینئرنگ جامعات اور کالجز میں تعلیمی نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی انجینئر ز کو پیش آنے والے مسائل کا ادراک اور ان مسائل کے تدراک کیلئے آواز بلند کریگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی اے ایف میوزیم میں منعقدہ ’’دی انجینئرز پاکستان‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ایم کیوا یم رابطہ کمیٹی کے ارکان عامر خان ، خالد سلطان ، حق پرست ارکان اسمبلی ، سابق چےئر مین پاکستان انجینئر نگ کونسل اسلام نبی ، موجودہ وائس چےئرمین پی ای سی سندھ مختار شیخ ، انسٹیٹیوشن آ ف انجینئرز پاکستان کے صدر جمشیدرضوی، چےئر مین آئی ای پی فرحت عادل خان ، سیکریٹری آئی ای پی لاہور امیر قیصر ، سیکریٹری آئی ای پی کراچی انجینئر ایاز مرزا،سابق منیجنگ ڈائریکٹر سیمنس انجینئر سہیل وجاہت ، دی انسٹیٹیوشن آ ف انجینئر ز کے صدر انجینئر سید جمشید رضوی،پروفیسر اینڈ ڈین سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹچر NEDیونیورسٹی کراچی، سمیت ملک بھر سے تعلق رکھنے والے انجینئرز ومختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معززین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ سید حید ر عباس رضوی نے کہا کہ جب میرے علم میں آیا کہ جامعات سے پاس آؤ ٹ ہونے والے انجینئر ز اپنے اور اپنے جیسے تمام انجینئرز کے حقوق کیلئے ایک علیحدہ فورم کا قیام عمل میں لاناچاہتے ہیں تواس وقت دی انجینئرز پاکستان کے قیام کے حوالے سے کئی سوالات پربحث ومباحثہ ہوا کہ آیا اس فورم کے قیام کا مقصد بھی پی ای سی کے انتخابات جیتنا ہوگا یا یہ ادارہ حقیقی معنوں میں انجینئرزکی فلاح کے لئے کام کریگا جس کے بعد مجھے یہ جان کر خوشی ہو ئی کہ دی انجینئرز پاکستان کے ذریعے ملک بھر کے انجینئر ز کی فلاح کیلئے کام کیاجائیگا اورانجینئر نگ جامعات اور کالجز میں تعلیمی نصاب کی بہتری کے لئے تحقیق اور نئے اداروں کے قیام کیلئے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی انجینئر نگ جامعات کو دنیا کی ترقی یافتہ جامعات کے برابر لانے کیلئے اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم کا مقصد انجینئرنگ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش ہے ساتھ ہی ان عوامل پر بھی غور کیاجائے گا کہ انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلے لینے والے طلباء کیا انجینئر بننے کے اہل ہیں یا محض کوٹہ کی بنیاد پر انجینئر نگ کالجز میں داخلوں کے اہل سمجھے جا رہے ہیں ۔ دی انجینئرنگ پاکستان کے قیام کا مقصد ان مسائل کا ادراک اور انکے تدراک کیلئے اقدامات کرنا ہے اور ملک میں انجینئرنگ جامعات میں تعلیمی اور داخلے کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہے اور اس حوالے سے ضرور ی قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اور اہم اقدامات بروئے کار لانے بھی ہوں گے ۔اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی رؤف اختر فاروقی نے کہا کہ دی انجینئرز پاکستان کی تشکیل سے یہ امید جاگی ہے کہ آنیوالے وقت میں انجینئرز کو صحیح سمت فراہم کی جاسکے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے مہذب معاشروں میں انجینئرز کو اہمیت کاحامل سمجھا جاتا ہے اور وہاں والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انکی اولاد ڈاکٹر یا انجینئر بنے ،آج اس چھت کے نیچے متعدد سینئر انجینئرز بھی موجود ہیں اور تعلیمی معیار کی تا ریخ دیکھیں تو اس فورم کے قیام کی اشد ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آج میرٹ کے فقدان کے سبب نوجوان انجینئرز ڈگری حاصل  کرنے کے بعد نوکریوں کے لئے در بدر بھٹکتے ہیں جس کی ایک وجہ جدید طرز سے عدم ادائیگی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہاں بھی ملک کے مایہ ناز انجینئرز موجود ہیں اور انہوں نے سابقہ دور حکومت میں کراچی کو تیزی سے ترقی دیکر اسے دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کیا اور دنیا کو بتایا کہ پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح قابل او ر تعلیم یافتہ افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو اسکے جائز وسائل نہیں دئے جارہے ہیں ، ایم کیو ایم نے آج ملک بھر کے انجینئرز کو یکجا کرنے کیلئے دی انجینئرز پاکستان کے نام سے جو فورم قائم کیا ہے وہ ملک کے مستقبل کے لئے خوش آئند فیصلہ ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر فرحت خان نے کہا کہ دی انجینئرز پاکستان کی تشکیل کا مقصد ملک بھر میں انجینئرز کی نمائندگی اور انہیں تعلیمی و سماجی سطح پر درپیش مسائل کاتدراک کرنا ہے کیونکہ ملک کو درپیش سنگین مشکلات میں 90فیصدمشکلات کا حل باشعور انجینئرز کے پاس ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ فورم ملک میں انجینئرز کی نمائندگی کا واحد ادارہ تو ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ انجینئرز کی فلاح کے لئے اس نوعیت کی خدمات نہیں دے پارہا جس کی ملک کو ضرورت ہے اور آج جامعات سے انجینئرنگ کی ڈگری لیکر نکلنے والے نئے طلبا ء کی رہنمائی اور انکے لئے معاش کے مواقع بھی خاطر خواہ نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فورم کا قیام ملک بھرکے انجینئرز کی بھلائی کیلئے پہلا قدم ہے اور آئندہ دنوں میں اس فورم کے ذریع ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جائے گی جو کراچی سمیت صوبہ سندھ اور پاکستان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گے اور ملک بھر کے انجینئرز کو درپیش مسائل کا حل نکالے گا۔انہوں نے کہا کہ انجینئرز کو یکجا کرنیکا یہ عمل ایم کیو ایم کی ایک اور مثبت کاوش ہے اور انشاء اللہ دی انجینئرز پاکستان ملک میں انجینئر ز کو درپیش مسائل کے خا تمے کیلئے کام کریگا جس کے لئے ہمیں انجینئرز برادری کا تعاون بھی درکار رہے گا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سینئر وائس چےئرمین انجینئر انعام احمد عثمانی نے کہا کہ میں انجینئرز کو یکجا کرنے پر دی انجینئرز پاکستان کی ا نتظامیہ کو مبارک باد پیش کرتاہوں اور امید کا اظہار کرتا ہو ں کہ یہ ادارہ ملک میں انجینئر برادری کے حقوق کی آواز بنے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں انجینئر ز کو وہ حیثیت حاصل نہیں جو دنیا کہ دیگر ممالک میں انجینئرز کو حاصل ہے اورموجودہ حالات میں پاکستان کو بے تحاشہ مسائل کا سامنہ ہے ، یہ وقت کی ضرورت تھی کہ انجینئرز کو ایک ایسا مقام مہیا کیا جائے جہاں سے وہ دنیا کے دیگر ممالک کے انجینئر حضرات کی طرح اپنے ملک کی فلاح کے لئے کردار ادا کر سکیں ۔ اس موقع پرانجینئر جمشید رضوی نے کہا کہ ایک ایسا وقت تھا جب انجینئرز کے حقوق کے لئے بات کرنے کیلئے ملک میں کو ئی ادارہ موجو د تھا لیکن آج انجینئرز کیلئے آواز بلند کرنے کیلئے متعدد ادارے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انجینئرنگ کالجز اور جامعات میں نصاب میں جدت لانے کی ضرورت ہے تاکہ نئے آنے والے انجینئرز کو بہتری کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر سہیل وجاہت نے کہاکہ آج ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے انجینئر ز کی ایک چھت کے نیچے موجودگی خوش آئند ہے ،آج وقت کی ضرورت ہے کہ انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں میں نصاب کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے کیونکہ کوئی قوم جدید خطوط پر استوار ہوئے بغیر ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے امید کا اظہارکیا کہ دی انجینئرز پاکستان ملک میں انجینئرز کے لئے ایک نئے سفر کا آغاز ہوگا اور اس کے ذریعے میرٹ کو فرو غ دیا جائے گا 

12/8/2016 4:04:59 PM