Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہر قسم کے فتنہ اور فساد کو ختم کرنا ہوگا تب ہی یہ ملک بچ سکتا ہے ،جو فرقہ واریت کے فتنے کو ہوا دے رہا ہے اس کا کھوج لگانا ایجنسیوں کا کام ہے علامہ عباس کمیلی


ہر قسم کے فتنہ اور فساد کو ختم کرنا ہوگا تب ہی یہ ملک بچ سکتا ہے ،جو فرقہ واریت کے فتنے کو ہوا دے رہا ہے اس کا کھوج لگانا ایجنسیوں کا کام ہے علامہ عباس کمیلی
 Posted on: 10/23/2014
ہر قسم کے فتنہ اور فساد کو ختم کرنا ہوگا تب ہی یہ ملک بچ سکتا ہے ،جو فرقہ واریت کے فتنے کو ہوا دے رہا ہے اس کا کھوج لگانا ایجنسیوں کا کام ہے علامہ عباس کمیلی
ایک طرف پاکستان کی سا لمیت کے دشمن اور دوسری جانب سا لمیت کے حامی کھڑے ہیں ، فیصلہ کرنا 
ہوگا کس کے ساتھ جانا ہے ، عامر عبد اللہ محمدی
اسلام میں جب بھی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا وہ اسلام اور اللہ کے نام پر کیا گیا ، مذہبی اسکالر مولانا ڈاکٹر حافظ جمیل راٹھو ر
محرم الحرام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں منعقدہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے اجتماع سے خطاب 
کراچی ۔۔۔23، اکتوبر2014ء 
معروف شیعہ عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ ایم کیوایم کے زیر اہتمام محرم الحرام سے قبل منعقدہ اجتماع میں تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کا جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ فرقوں کے درمیان کوئی تصادم اور تنازع نہیں ہے لیکن پھر بھی ایک سازش ہے جو نہیں معلوم اندرونی ہے یا بیرونی ہے ،کون اس سازش کے بیج بو رہا ہے اور کون آبیاری کررہا ہے ، کہاں سے فنڈنگ ہورہی ہے ، ڈوریں کہاں سے ہل رہی ہیں ،کون ہے جو فرقہ واریت کے فتنے کو ہوا دے رہا ہے اس کا کھوج لگانا ایجنسیوں کا کام ہے ۔ ان خیالات کااظہا رانہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام محرم الحرام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجتماع میں علمائے کرام نے جناب الطاف حسین سے گفتگو بھی کی اور لفظ مہاجر کی توہین اور فرقہ واریت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ۔علامہ عباس کمیلی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ملک میں 28کے قریب ایجنسیاں ہیں وہ کیا کررہی ہیں ؟کیا یہ قاتل بیرون ملک سے آئے ہوئے ہیں جو انہی آبادیوں اور شہروں میں ہیں ،ان کا پتااورانہیں کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کو گرفتار کرنے میں تو ایجنسیاں کوئی دیر نہیں لگاتیں اور پھر گرفتار ہونے والے کہاں ہوتے ہیں ان کا پتانہیں چلتا لیکن جو قاتل ہیں اور کثرت سے ہیں وہ انہی آبادیوں میں رہ رہے ہیں انہوں نے گھر کرائے پر لئے ہوئے ہیں اور اپنی کاررائیاں جاری رکھتے ہیں ، اب تو جو محفوظ علاقے سمجھے جاتے تھے وہاں بھی بے دریغ قتل و غارتگری ہورہی ہے اور جو کچھ اس شہر میں ہورہا ہے یہ تمام سیاسی جماعتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے لیکن نچلی سطح پر جو کچھ ہورہا ہے اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، متحدہ قومی موومنٹ نے وجود میں آتے ہی جو کام کیا تھا وہ نچلی سطح پر کیا تھااور مذہبی اتحاد کی فضا قائم کی تھی اور فتنہ و فساد کو روکنے کی عملی کوشش کی تھی۔ آج پھر نچلی سطح سے کام کرنے کی ضرورت ہے ، اوپر کی سطح پر تو ہم آہنگی اور محبت ہے لیکن اگر نچلی سطح پر کام نہیں ہوا تو یہ جو کوشش ہورہی ہے دھری کی دھری رہ جائیں گی میری التجا تمام سیاسی جماعتوں سے ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے دیکھیں ۔
انہوں نے کہاکہ یہ جو کچھ ہورہا ہے انتہائی خطرناک ہے ، آنے والا وقت انتہائی مخدوش ہے اور اب تو بڑی بڑی عجیب و غریب بین الاقوامی تنظیمیں ابھر کر سامنے آرہی ہے اور ان کیلئے بھی ہماری ایجنسیاں کیا کررہی ہیں ؟ سیاسی جماعتوں اور عوام کو محلوں کی سطح پر اخوت اور محبتیں قائم کرنا ہوگی اور ہر قسم کے فتنہ اور فساد کو ختم کرنا ہوگا تب ہی یہ ملک بچ سکتا ہے اور جب ہی اسلام کا بو ل بالا ہوسکتا ہے ۔ معروف عالم دین عامر عبد اللہ محمدی نے کہا کہ نئے ہجری سال اور محرم الحرام کی تشریف آوری سے قبل ہی ہر سال کی طرح امسال بھی متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ بلا اختلاف مذہب و مسلک تمام کلمہ پڑھنے والے اہل وطن کو یہاں مدعو کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ علامہ عباس کمیلی نے ابھی اپنے سینے پر تازہ تازہ ایک ذاتی صدمہ سہا ہے کہ ان کے صاحبزادے صرف اس لئے مار دیئے گئے کہ وہ عباس کمیلی کے صاحبزادے تھے ، خاک و خون میں اس لئے نہلا دیا گیا کہ وہ اہل تشیع سے تعلق رکھتے تھے ، اس کے بعد کیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اہل تشیع کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے مفتی نعیم کے داماد کا قتل کیا گیا ہے ، مفتی نعیم کے داماد کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے دیو بندی گھرانے آنکھ کھولی۔ ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اگر ماتم کرنے کو اپنا دین سمجھتا ہے تو اس سے کیا زندہ رہنے کا حق چھین لیاجائے یہ کونسے ملک اور شریعت کا ضابطہ ہے ۔پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ایک طرف پاکستان کی سالمیت کے دشمن اور دوسری جانب اس کی سالمیت کے حامی کھڑے ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں پاکستان بچانے والوں کے ساتھ جانا ہے یا اسے برباد کرنے والوں کے ساتھ جانا ہے ۔ مذہبی اسکالر مولانا ڈاکٹر حافظ جمیل راٹھو ر نے کہا کہ آج کے اس پر فتن دور میں پاکستان کے طو ل و ارض میں بے شمار جلسے ، جلوس اور اجتماعات منعقد کئے جارہے ہیں جن کے مختلف نعرے ہیں کوئی انقلاب ، آزادی کا نعرہ دے رہا ہے ،کوئی اسٹیٹس کو کے خلاف کام کررہا ہے یقیناًاس میں خیر ہوگی ۔ لیکن آج جو علماء کا یہ عظیم الشان اجتماع منعقد کیاجارہا ہے یہ اپنے ذاتی فوائد اور اغراض و مقاصد کیلئے منعقد نہیں کیا گیا بلکہ یہ اجتماع حقیقت میں شرف انسانیت ، عظمت انسانیت ،فلاح انسانیت اور بقائے آدمیت کا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ علمائے کرام کا یہ اجتماع وحشت، دہشت ، فسطائیت و بربریت ، ظلمت و جہالت ، نفرت و رعونت اور یزیدیت و خارجیت سے نفرت کا اجتماع ہے ، یہ اجتماع آپ کو پیغام دے رہا ہے کہ لوگوں سنبھل جاؤ ۔ ہر دور میں مسلمانوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ اسلام میں جب بھی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا وہ عجیب و غریب طریقے سے کیا گیا اور اسلام اور اللہ کے نام پر کیا گیا اور اللہ کا نام لینے والے اللہ کے بندوں کا سر ذبح کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جو جہاد کا نام لیتے ہیں وہ امریکہ کو گالیاں دے رہے ہیں اور ہمیں گولیاں مار ررہے ہیں ، جناب الطا ف حسین نے آج سے کئی سال قبل شیطانی سازش کا پردہ چاک کردیا تھا ، ایک اچھے نام کو اپنا کر اگر کوئی برا لباد اوڑھ کر آجائے تو ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ بتایا جائے یہ اسلام کے خلاف کام کررہا ہے ۔ 

12/8/2016 9:57:01 PM