Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہجرتوں کاعمل نئی نئی معاشرتوں کوجنم دیتاہے۔الطاف حسین


ہجرتوں کاعمل نئی نئی معاشرتوں کوجنم دیتاہے۔الطاف حسین
 Posted on: 10/21/2014
ہجرتوں کاعمل نئی نئی معاشرتوں کوجنم دیتاہے۔الطاف حسین
ہجرتو ں کا عمل انسانی تاریخ کالازمی حصہ ہے جس کے بغیرتاریخ انسانی مکمل نہیں ہوتی
کوئی بھی قوم جزو واحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف ذیلی قومیتوں یاذیلی شناختوں کامجموعہ ہوتی ہے
سندھ میں رہنے والے مختلف قوموں، قبائل اورگروہوں پر مشتمل ہیں جن کی اپنی اپنی ذیلی شناختیں اورزبانیں ہیں،ان میں سے بیشتر باہر سے آکر سندھ میں آبادہوئے
بعض افرادمہاجروں کوپناہ گزین قراردے کرعوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ مہاجراورپناہ گزین میں زمین آسمان کافرق ہوتاہے
جولوگ اپنے علاقوں میں جنگ، قدرتی آفت، حادثے ،سانحہ یاکسی وباء کی وجہ سے عارضی طور پر کسی دوسری جگہ پناہ لیتے ہیں انہیں پناہ گزین کہتے ہیں جنہیں حالات بہترہوجانے کے بعداپنے علاقوں کوواپس جانا پڑتاہے 
جولوگ اپنے آبائی وطن کو ہمیشہ کیلئے ترک کرکے دوسرے علاقے کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں اوروہیں بس جاتے ہیں انہیں مہاجر کہا جاتا ہے 
ہجرت کرنے والوں کوخود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدکی مختلف سورتوں میں عزت واحترام سے نوازا ہے لہٰذا ہجرت کرنے والوں اورلفظ  مہاجر کی تذلیل اورتضحیک فرمان الٰہی کی توہین ہے۔ ’’ ہجرت اورمہاجر ‘‘ کے موضوع پر ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپر لیکچر
لیکچرمیں اراکین رابطہ کمیٹی، سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، مختلف تنظیمی کمیٹیوں ، شعبہ جات کے ارکان اور سیکٹرزکمیٹیوں کی شرکت
لندن۔۔۔21 اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہجرتوں کاعمل نئی نئی معاشرتوں کوجنم دیتاہے،ہجرتو ں کا عمل انسانی تاریخ کالازمی حصہ ہے جس کے بغیرتاریخ انسانی مکمل نہیں ہوتی۔انہوں نے یہ بات ’’ ہجرت اورمہاجر ‘‘ کے موضوع پر ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپر دیئے گئے ایک لیکچرمیں کہی۔ اس لیکچرمیں اراکین رابطہ کمیٹی، سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، ایم کیوایم کی مختلف تنظیمی کمیٹیوں اور نائن زیروکے شعبہ جات کے ارکان کے ساتھ ساتھ کراچی کی تمام سیکٹرزکمیٹیوں کے ارکان نے شرکت کی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیاکے کسی بھی خطہ یاجغرافیہ میں کبھی بھی ہمیشہ سے کوئی ایک قوم آبادنہیں ہوتی بلکہ ہرچندسوسال بعدوہاں دوسرے علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والی دیگرقومیں آبادہوتی رہتی ہیں۔ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف انسانی ہجرتوں کا عمل چلتارہتاہے جو نئی نئی معاشرتوں کو جنم دیتاہے اور نئے نئے علوم کے تبادلے اورنئی نئی ایجادات کا سبب بنتا ہے۔انسانی تاریخ ہجرتوں کے مسلسل عمل کی پیداوارہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجید کی سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے کہ ’’ ہم نے انسان کو ایک مرد اور عورت سے پیداکیاپھرانہیں مختلف قوموں، قبیلوں اورگروہوں میں تقسیم کردیاتاکہ آپس کی شناخت ہوسکے‘‘۔جب انسانوں کوخوداللہ تعالیٰ نے آپس کی شناخت کیلئے مختلف قوموں، قبیلوں اورگروہوں میں تقسیم کیاہے توپھرکسی بھی انسان کویہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ کسی قوم ، قبیلے یاگروہ کی شناخت کو اسلام کے خلاف قراردے، اس سے انکارکرے یا اس کی توہین کرے۔جوایساکرتاہے وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کی توہین کامرتکب ہوتاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کوئی بھی قوم جزو واحدنہیں ہوتی بلکہ مختلف ذیلی قومیتوں یاذیلی شناختوں کامجموعہ ہوتی ہے۔مثال کے طورپرسندھ میں رہنے والے خودکو سندھی کہتے ہیں لیکن وہ بھی مختلف قوموں، قبائل اورگروہوں پر مشتمل ہیں جن کی اپنی اپنی ذیلی شناختیں اورزبانیں ہیں ۔ان میں سے بیشتر باہر سے آکر سندھ میں آبادہوئیں ۔ اسی طرح مہاجربھی 1947ء میں تقسیم ہند کے بعدہجرت کرکے بہت بڑی تعدادمیں سندھ میں آکرآبادہوئے جن کی اپنی شناخت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب سندھی ہونے کے باوجود مختلف قبائل کی شناخت پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں ہوتا توپھرسندھ میں آبادمہاجروں کی اپنی شناخت پر اعتراض کیوں کیاجاتا ہے؟اگرکوئی سومرو، مہر، کھوسو، لغاری،جونیجو ،سیداوربلوچ ہونے کے باوجودسندھی ہوسکتاہے توپھرکوئی مہاجرہونے کے باوجودسندھی کیوں نہیں ہوسکتا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ بعض افرادمہاجروں کوپناہ گزین قراردے کرعوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ مہاجراورپناہ گزین میں زمین آسمان کافرق ہوتا ہے ۔ جولوگ اپنے علاقوں میں جنگ، کسی بھی قدرتی آفت، بڑے حادثے ،سانحہ یاکسی وباء کے پھیلنے کی وجہ سے اپنی جانیں بچانے کیلئے عارضی طور پر کسی دوسری جگہ پناہ لیتے ہیں انہیں پناہ گزین (Refugee) کہتے ہیں جنہیں حالات بہترہوجانے کے بعداپنے علاقوں کوواپس جانا پڑتاہے جبکہ جولوگ اپنے آبائی وطن کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ترک کرکے کسی دوسرے علاقے کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں اوروہیں بس جاتے ہیں انہیں مہاجر یا immigrant کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے مثال دی کہ نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ نے اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ کوخیربادکہہ کرمدینہ منورہ ہجرت کی اورفتح مکہ کے بعد بھی آپ ؐ نے مدینہ منور ہ ہی میں سکونت اختیارکی اوراسی کو ہمیشہ کیلئے اپنامسکن بنالیا۔جناب الطاف حسین نے قرآن مجیدکی مختلف سورتوں کی آیات مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہجرت کرنے والوں کوخود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدکی مختلف سورتوں میں عزت واحترام سے نوازا ہے لہٰذا ہجرت کرنے والوں اورلفظ مہاجر کی تذلیل اورتضحیک فرمان الٰہی کی توہین ہے ۔

12/10/2016 8:37:13 AM