Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیو ایم سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتی ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


ایم کیو ایم سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتی ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 10/19/2014
ایم کیو ایم سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتی ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
نام مقدس مہاجر کو گالی دینے والوں پر خدا کا عذاب نازل ہوگا، لفظ مہاجر کو گالی دینے کا انجام مہاجر صوبے کا قیام ہوگا
ایم کیوایم کے کارکنا ن جناب الطاف حسین کے متعلق کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے ،جناب الطاف حسین نے پاکستا ن اور سند ھ کی فلاح کیلئے مشکلات کے باوجود سندھیوں ، مہاجر وں کے درمیا ن نفرتیں ختم کرنے کیلئے محبتوں کے پل تعمیر کئے
پیپلز پارٹی کی سندھ دشمن اور جمہوریت دشمن حکومت نے اختیارات عوام کو منتقل نہیں کئے
پاکستا ن کی سلامتی اور بہتری کیلئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا تو اس مطالبے کو بھی نفرت کی نگا ہ سے دیکھا گیا
پیپلز پارٹی کی قیادت جاگیر داروں اور وڈیروں پر مشتمل ہے ،انصاف اور تعلیم کی فراہمی نا ممکن ہے
تما م ترنا انصافیوں کے بعدایم کیو ایم کے پختون ،سندھی ، پنجابی ، ہزاروال ، بلوچی ، سرائیکی ، کشمیری ، گلگتی کارکنان سمجھتے ہیں کہ اب پی پی پی کا سندھ حکومت میں ساتھ دینا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
مہاجرمتروکہ سندھ کے بلا شرکت غیر وارث اور مالک ہیں جسے ہر صورت لیکر رہیں گے
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹرخالد مقبو ل صدیقی کا نائن زیرو پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی۔۔۔19اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کی رہائشگا ہ المعروف نائن زیرو پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحد ہ قومی موومنٹ کی سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے ۔اس موقع پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان ، حق پرست ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکنان کی بڑی تعداد نائن زیرو کے سامنے جمع تھی ۔ہنگامی پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی پاکستان ، لندن اور دنیا بھر میں موجود ایم کیو ایم کے تمام کارکنان کی جانب سے کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم 1997ء جولائی تک مہاجر قومی موومنٹ تھی اورپیپلز پارٹی کے 93ء کے اس سیاہ دور میں ایک بد ترین آپریشن کا سامنا کر کے عوام کے سامنے آئی تھی جس میں ایم کیو ایم کو اسکے ہزاروں جوانوں کی لاشوں کے تحفے دئیے گئے ، درجنوں کارکن لاپتہ اور شہر کے بیٹوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جس کے نتیجے میں پوری قوم کے سینے شعلوں سے بھرے ہوئے تھے اور شہری علاقوں کی در و دیوار انتقام کی صداؤں سے گونج رہی تھی ایسے وقت میں اگر ہمیں لاشوں ، نفرت اور تعصب کی سیاست کرنی ہوتی تو پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمارے لئے پورا میدان سجا دیا تھا لیکن قائد تحریک جناب الطاف حسین نے صوبہ سندھ اور پاکستان سے نفرتوں کے خاتمے اور عوام کو آپس میں جوڑنے کیلئے محبت کی سیاست کی اور مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی جب 1989ء میں حیدر آباد میں صرف چند گھنٹو ں میں3 سو سے زائد مہاجر نوجوانوں کو شہید کرکے سندھ کے شہری اور دیہی عوام میں خلیج ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس وقت بھی جناب الطاف حسین نے اسٹبلشمنٹ کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود اس خلیج کو پاٹنے کیلئے سندھیوں اور مہاجر وں کے درمیا ن نفرتو ں اور غلط فہمیوں کے سلسلے کو بند کرنے کیلئے محبتوں کے پل تعمیر کئے اور جب ایک سندھی وزیر اعظم کووزیر اعظم بننے کیلئے ہمارے اعتماد کے ووٹ کی ضرورت پڑی تو اس وقت بھی جناب الطاف حسین نے انہیں وزیر اعظم ہاؤس تک پہنچانے کیلئے ان کی حمایت کی اور کے بعد بھی 2008ء میں تمام تر دکھوں اور زخموں کے باوجود جب آصف علی زرداری اس دہلیز پر ہماری حمایت مانگنے آئے تو انہیں مایوس نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے حصے کی مشکلات اُٹھالی ہیں اور اپنے حصے کی قربانیاں بھی دے دی ہے لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے ہمیں ہمیشہ نفرتیں، زیادتیاں اور نا انصافیاں ہی دی ہیں لیکن اب انتہا یہ ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما جناب الطاف حسین کا نام لیکر دھمکیاں اور دھونس دینے لگے ہیں ، عید الاضحی کے روز پیپلز پارٹی کے چےئر مین بلاول زرداری نے بلا اشتعال اور بلا جواز جناب الطاف حسین کا نام لیکر انہیں دھمکی دی جس سے دنیا بھر میں موجود ایم کیو ایم کے کارکنان کے سینے میں غم و غصہ تھا لیکن محبتیں بانٹنے والے ہمارے قائد جناب الطاف حسین نے ہمیں صبر کرنے کی تلقین کی جس کے بعد دو رو ز قبل پیپلز پارٹی کے ایک اور ہنما خورشید شاہ نے لفظ ’’مہاجر‘‘ کو گالی قرار دیا اور کل بلاول زرداری نے اپنے جلسے میں جو تقریر کی اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حمایت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیوایم کے کارکنا ن ہر بات برداشت کر سکتے ہیں لیکن جب بات ہمارے قائد و رہنما جناب الطاف حسین کی آتی ہے تو اس متعلق ہم کسی طور کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے ،جناب الطاف حسین نے پاکستا ن اور سند ھ کلی فلاح کے لئے ایم کیو ایم کو 1997ء میں مہاجر قومی موومنٹ میں تبدیل کیا تھا نا کہ اس لئے کہ کوئی بھی فرد مہاجر قوم کو گالی دینے کی ہمت کر سکے ان تما م باتوں ہم نے صرف اپنے قائد جناب الطاف حسین کے حکم پر برداشت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پیپلز پارٹی کی جانب سے سابقہ زیادتیوں کو فراموش کر دیں جس میں 1972ء کا کوٹہ سسٹم جس کے ذریعے دیہی اورشہر ی عوام کے درمیا ن خلیج ڈالی تھی پھر بھی پی پی پی حکومت کے گزشتہ پانچ برسوں میں کراچی اور سندھ کے شہری وعلاقوں کے ساتھ زیادتیا ں کی گئیں جسکو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی وفاق کے ریوینو میں 70فیصد اور سندھ کے شہری علاقے صوبے کو 95فیصدریوینودیتے ہیں لیکن انہیں اس کا 5فیصد بھی نہیں دیا جاتا اور جو پیسہ ملتا ہے وہ بھی سندھ سیکریٹریٹ اور وزیر اعلیٰ ہاؤس پر لگا دیا جاتا ہے جہاں سندھ کے شہری عوام کی کوئی نمائندگی ہی موجود نہیں ہے بلکہ کراچی میں قائم سندھ سیکریٹریٹ کا حال تو ایسا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ کراچی میں قائم ہے اور اس کے علاوہ سندھ کے دیگر شہری علاقوں کے عوام کو بھی سرکاری اداروں میں حصہ نہیں دیا جاتا ، 18ویں ترمیم کے ذریعے یہ طے ہوا تھا کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے لیکن پی پی پی کی سندھ دشمن اور جمہوریت دشمن حکومت نے اختیارات منتقل کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کراچی واٹر بورڈاورکراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول بنا دیا پی پی پی کے دور میں لاکھو ں افراد کو پیسے لیکر جو نوکریاں دی گئی ہیں ان میں بھی شہری علاقوں کا کوٹہ 2فیصد بھی نہیں تھا ، پہلے تو ہم وفاقی حکومتوں سے نا انصافیوں کا شکوہ کیا کرتے تھے لیکن اب س پیپلز پارٹی نے سندھ کے شہری علاقوں کا کوٹہ 2فیصد بھی نہیں رکھا ہے اور آج بھی ہمارے کئی کارکنان لاپتہ اور متعدد جیلوں میں ہیں اور آ ج بھی مہاجر بچوں کے نصیب میں بے روزگاری ، ماورائے عدالت قتل اور تعلیمی استحصال ہے پیپلز پارٹی حکومت کے صوبائی وزیر تعلیم نے خود کہ کہا کہ اگر حیدر آباد میں میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کی کوششیں کی گئیں تو وہ سیسہ پلائی دیوا ر بن جائیں گے اور ان سب نا انصافیوں کے نتیجے میں جب ایم کیوا یم نے کہا کہ نفرتوں کی وجہ سے سندھ 1اور سندھ2میں بٹ گیا ہے ، سندھ 2وہ جو کماتا ہے ، سندھ ون جو لوٹاتا ہے ، سندھ 2محبتیں بانٹتا ہے جبکہ سندھ 2نفرتوں کا سوداگر ہے ، پاکستان کے قیام کے وقت اس کی آبادی صرف چند کروڑ تھی لیکن آج یہاں کی آبادی 20کروڑ ہے اور جب جناب الطاف حسین نے پاکستا ن کی سلامتی اور بہتری کیلئے دنیا کے مہذب معاشروں کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ عوام کو با اختیار بنایا جا سکے لیکن اس مطالبے کو بھی نفرت کی نگا ہ سے دیکھا گیا لیکن ایم کیو ایم پاکستان میں صوبوں کے مطالبے سے کسی طور دستبردار نہیں ہوگی اور آج ان تما م ترنا انصافیوں کے بعدایم کیو ایم کے پختون ،سندھی ، پنجابی ، ہزاروال ، بلوچی ، سرائیکی ، کشمیری ، گلگتی اور مہاجر کارکنان یہ سمجھتے ہیں کہ ا ب ان تمام تر وجوہات کے باجود پی پی پی کا سندھ حکومت میں ساتھ دینا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت جاگیر داروں اور وڈیروں پر مشتمل ہے اور یہ نا ممکن ہے کہ جہاں جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی ہو وہاں انصاف اور تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تما م کارکنان ایک مرتبہ پھر تمام قوتوں پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جناب الطاف حسین کے متعلق کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چےئر مین بلاول زرداری نے سیاست کو اپنا کروبار بنایا ہوا ہے جس میں عوام کی خرید و فروخت ہورہی ہے اور اس کلچر میں اپنی اولادوں کو اُتارنے کے لئے ان کا حسب و نصب بھی بدل دیاجاتا ہے لیکن قائد تحریک الطا ف حسین نے سندھ کے شہری علاقوں کے 98فیصد مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس نوجوانوں کو اسمبلی میں پہنچا کر ان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چےئر مین بلاول زرداری سے سوال کیاکہ وہ ہمیں بتائیں کہ ایسا کونسا معیار یا پیمانہ ہے جس کی بنا پر وہ چےئر مین بنائے گئے ہیں اگر یہ پیمانہ موروثیت بھی ہے تو بھی بھٹو کا وارث بھٹو ہوسکتا ہے زرداری نہیں ہوسکتا ،بلاول زرداری بیمبنوسینما کہ تو وارث ہوسکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے وارث نہیں ہوسکتے، آج آپ جناب الطاف حسین کا جینا حرام کرنے کی بات کر رہے ہیں تو وہ 18کروڑ عوا م کو بتائیں کہ کیا انہوں نے اپنی ماں کے قاتلوں کا جینا حرام کیا ؟ ، مرتضیٰ بھٹو کے قاتلوں کا جینا حرام کیا ؟ اپنی جماعت کے قائد اور بانی ذوالفقار علی بھٹو کا جینا حرام کیا ؟ہم نفرت کے جواب میں نفرت کی زبان میں با ت کرنا نہیں چاہتے لیکن اب ہم جس راستے پر چلیں گے منزل اسی راستے پر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرمتروکہ سندھ کے بلا شرکت غیر وارث اور مالک ہیں جسے ہم ہر صورت لیکر رہیں گے،ہم سمجھتے ہیں کہ آ ج کی پریس کانفرنس کے ذریعے کیاجانے والا فیصلہ ہمارے اس عزم کا آئینہ دار ہے کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی سمیت کارکنا ن اور سندھ کے حق پرست عوا م یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ اب ہم سندھ حکومت کا حصہ نہیں ہیں اور ہم نا م مقدس مہاجر کو گالی دینے والوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اب ان پر خدا کا عذاب نازل ہوگا اور لفظ مہاجر کو گالی دینے کا انجام مہاجروں کیلئے صوبے کا قیام ہوگا۔ اس اعلان کے بعد نائن زیرو پر موجود کارکنا ن نے بھنگڑے ڈالنے شروع کردئیے اور نائن زیرو کے اطراف جشن کا سماں بندھ گیا ۔ اس موقع پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے نمائندگان کی بڑی تعداد نائن زیرو کے اطراف موجود تھی ۔

12/4/2016 8:14:22 AM