Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خورشید شاہ بیان کو فی الفور واپس لیکر پوری مہاجر قوم سے اس بیان پر معافی مانگیں ۔حیدر عباس رضوی


خورشید شاہ بیان کو فی الفور واپس لیکر پوری مہاجر قوم سے اس بیان پر معافی مانگیں ۔حیدر عباس رضوی
 Posted on: 10/17/2014
خورشید شاہ بیان کو فی الفور واپس لیکر پوری مہاجر قوم سے اس بیان پر معافی مانگیں ۔حیدر عباس رضوی
مہاجروں نے سندھ کی ایک انچ بھی زمین غصب نہیں کی بلکہ وہ سندھ کے کل رقبے کا 80فیصد متروکہ سندھ کے مالک ہیں ۔حیدررضوی
خورشید شاہ کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ پوری مہاجر قوم کو گالی دیں ، غاصب ہونا گالی ہے ہماری ایک کروڑ ایکٹر زمین پر جاگیردار اوروڈیرے قابض ہیں ۔
شاہ لطیف کی امن کی دھرتی پر جو لوگ نفرت ، تعصب اور لسانیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہے ان کا وجود سندھ دھرتی پر گالی ہے ۔حیدر رضوی
رکن رابطہ کمیٹی حیدر عباس رضوی کا دیگر رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔()
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپنے قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے اپنے بیان میں انتہائی تحقیر آمیز لہجہ کو استعمال کیا ہے اوراپنی گفتگو کے دوران لفظ مہاجر کو چار مرتبہ گالی قرار دیا ہے ، خورشید شاہ بیان کو فی الفور واپس لیکر پوری مہاجر قوم سے پر معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ لفظ مہاجر قرآن مجید میں لاتعداد بار آیا ہے ، اس لفظ کی نسبت حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ہے کہ جن کی ہجرت پر مسلمانوں نے ہجری کلنڈر جاری کیا ہے اورہجرت کو قرآن پاک میں بہت مقدس نام سے یاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام سے درخواست کی خورشید شاہ کے بیان کو غور سے دیکھا او رپڑھاجائے اور اس بارے میں فیصلہ کیجئے کہ یہ بیان کہیں توہین رسالتؐکے زمرے میں تو نہیں آتا ہے ،یہ بیان اہل بیت کی شان میں توہین کے برابر اورصحابہ کرامؓ کی شان میں تضحیک تو نہیں ہے ۔ کیونکہ تمام عالم اسلام کے مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ شاتم رسول ؐ کا تصور بھی امت مسلمہ کیلئے گالی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کی شب خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین عامر خان ، امین الحق ، واسع جلیل اور عارف خان ایڈووکیٹ کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ حیدرعباس رضوی نے کہاکہ ہم خورشید شاہ کے اس بیان کو پوری مہاجر قوم کی تحقیر اور تذلیل سمجھتے ہیں ، اس تحقیر آمیز متعصب بیان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ایسے بیانات سندھ کو مستحکم کرنے کیلئے نہیں ہوسکتے بلکہ ایسے بیانات سندھ میں نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکانے کیلئے دیئے جاتے ہیں ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاہ لطیف کی امن کی دھرتی پر سندھ میں جو لوگ نفرت کی ، تعصب ، لسانیت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں ایسے تمام لوگوں کا وجود سندھ دھرتی پر گالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دکھ ہے کہ ہمارے اجداد نے وطن عزیز پاکستان کی بنیادوں کیلئے 20لاکھ جانوں کا نذرانہ دیا اس قوم اور لفظ کو آج گالی قرار دیا گیا یہ بات انتہائی شرمناک ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ خورشید شاہ بیان کو فی الفور واپس لیکر پوری مہاجر قوم سے اس بیان پر معافی مانگیں ۔ انہوں نے کہا کہ لفظ مہاجر قرآن مجید میں لاتعداد بار آیا ہے ، اس لفظ کی نسبت حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ہے کہ جن کی ہجرت پر مسلمانوں نے ہجری کلنڈر جاری کیا ہے اورہجرت کو قرآن پاک میں مقدس نام سے یاد کیا ہے یہ کم از کم قرآن پاک کی سات آیات میں آیا ہے جس کے مطابق قرآن مجید میں لفظ مہاجر کو متبرک قرار دیا گیا ہے اور مسلمانوں کی جائیدادوں میں ان کا حصہ اور انہیں افضل ترین قرار دیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ خورشید شاہ نے بیان میں کہ مہاجر تو جھونپڑیوں ، جھگیوں میں رہتے ہیں ان کیلئے لفظ ہے پناہ گزین ہے انہوں نے واضح کیا کہ ہم پاکستان میں پناہ گزین نہیں ہیں مہاجر ہیں اس فرق کو سمجھاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے سب سے بڑے دانشوراور دانشورں کے سرخیل امر جلیل کے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امر جلیل نے واضح لکھا ہے کہ مہاجر سندھ میں متروکہ سندھ کا مالک ہے ، متروکہ سندھ کتنے رقبے پر ہے سندھ کے کل رقبے کا 80فیصد متروکہ سندھ ہے ۔ ہم نے سندھ کی ایک انچ زمین غضب نہیں کی ہے جتنی زمین ہمارے اجداد نے جائیداد، ملیں ، حویلیاں، جھگیاں چھوڑی تھی اس کے عیوض میں ہمیں آدھا چوتھائی بھی نہیں ملا ہے ہم 80فیصد متروکہ سندھ کے مالک ہیں ، ہمیں آپ کہتے ہیں ہمیں یہاں رہنے دیں گے ان کا بیان دیکھئے کہ مہاجروں کویہاں رہنے دیں گے حضور آپ ہوتے کون ہیں یہ کہنے والے ، آپ سے اجازت کس نے طلب کی ہے پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کے درمیان عالمی معاہدے ہیں کہ یہاں سے جانے والے مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک دوسرے کی جائیدادیں منتقل کردی جائیں گی ، ہندوستا ن میں جائیدادیں تقسیم ہوگئیں 58۔مہاجروں کی ایک کروڑ ایکٹر زمین متروکہ سندھ جاگیرداروں او روڈیروں کے قبضے میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ جو عالمی معاہدے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہوئے ہیں اس کی روح کے مطابق بیٹھ جاؤ پاکستان میں ، الاقوامی سطح پر میں طے کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ پوری مہاجر قوم کو گالی دیں ، غاصب ہونا گالی ہے ہماری ایک کروڑ ایکٹر زمین پر جاگیردار اوروڈیرے قابض ہیں ، اتنی آسانی سے پوری مہاجر قوم کو گالی دے رہے ہیں ؟۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ہجرت کی بنیاد پر اپنا کیلنڈر ہجری بنایا ہے اگر مہاجر ہونا گالی ہے تو مجھے نہیں پتا کہ پاکستان کے تمام علمائے کرام اس بیان کو کس نظر سے دیکھیں گے ۔ جتنی بھی ہجرتیں ہوئیں اور دین کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑنے والوں کے لئے قرآن مجیدمیں قصیدے لکھے ہیں اور آپ لفظ مہاجر کو گالی دے رہے ہیں ۔ اگر آپ سید اور شاہ ہیں جو کہ میں بھی ہوں آپ اپنے جد کی شا ن میں کیا فرما رہے ہیں کچھ سوچا ، سمجھنے کی کوشش فرمائی ۔ ؟ انہوں نے کہا کہ رسول ؐ کے نزدیک لفظ مہاجر گالی نہیں ، قرآن کی نسبت سے مہاجر گالی نہیں ہے ، انبیاء ، آئمہ کے نزدیک گالی ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول زردار ی اور آصف زرداری صاحب آپ کو یہ سوچنا چاہئے کل شہر کراچی میں آپ کا جلسہ ہے ، قائد تحریک الطاف حسین پیغام خیر سگالی دے چکے ہیں ، آپ کے جلسے کو ویلکم کرچکے ہیں جیسا کہ دیگر کو کرتے ہیں ۔ جو بیانات پہلے آئے اس کے بارے میں بھی جناب الطاف حسین فرما چکے ہیں کہ وہ در گزر سے کام لینا چاہتے ہیں انہوں نے معاف کیا اوراللہ نے معاف کیا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی صف میں سے نکل کر کوئی بھوکا ننگا قرار دے دیتا ہے ، کوئی ہمیں گالی بنا دیتا ہے یہ بلاول زرداری اور آصف زرادری کیلئے لمحہ فکریہ اور سوچنے کی بات ہے کہ یہ کونسے آستین کے سانپ آپ نے پال رکھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے پاکستان بھر میں بیس نئے صوبوں کا مطالبہ کیا ہے بہت سارے لوگوں کے پیٹ میں مروڑ ہے اور وہ اپنی خجالت کو مٹانے کیلئے ایسی باتیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سوال صحافی نے خورشید شاہ سے یہ کیا تھا کہ سندھ میں آنے والی نئی نوکریوں کے اوپر ایم کیوایم اور مہاجروں کو اعتراض ہے کیا آپ ان کو حق نہیں دے رہے ؟ خورشید شاہ کو اس کا جواب دینا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ذو الفقار بھٹو نے 72ء میں کوٹا سسٹم نافذ کیا ، دیہی اور سندھ کی تقسیم کی ، اگر ایک ہزار سی ایس پی پولیس آفیسر ہیں تو آپ کے بنائے ہوئے کوٹے کی روح سے چار سو اردو اسپیکنگ مہاجر ہونے چاہئے تھے مگر کتنے ہیں ؟۔ چھ لاکھ سندھ میں سرکاری نوکریاں ہیں کیا دو لاکھ چالیس ہزار نوکریاں اربن سندھ کو دی گئیں ہیں، نہیں دی گئیں ۔ اگر ایسے میں صحافی سوال کرے تو اس کے جواب میں مہاجر ہونا گالی ہوجاتا ہے یہ کونسی منطق ہے اس کا خورشید شاہ کو جواب دینا چاہئے تھا جواب دینے کے بجائے انہوں نے گالی دیدی ، ہماری سیاست کس نہج پرجارہی ہے ، قائد حزب اختلاف یہ زبان استعمال کرے گا تو اس ملک کا کیا بنے گا جہاں پر قوم کی اس طرح سے تذلیل اور تضحیک کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ خورشید شاہ تحقیر آمیز بیان کو فوری وواپس لیں ، مہاجر ایک مہذب قوم ہیں ، ایک مہذب ثقافت اور تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں ، ہمارے اجداد نے اس وطن کیلئے بڑی قربانیاں دیں ہیں ، جب پاکستان بنا تو سندھ میں پچاس فیصد غیر مسلم تھے ۔ ہجرت کرکے سارے ہندوستان چلے گئے ، ترک وطن کیا انہوں نے اور وہاں سے جو لوگ آئے وہ مہاجر ہیں ، آج ہم کو آج گالی بنا رہے ہیں یہ کونسا لب و لہجہ ہے ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے بیس لاکھ جانیں دی تھیں دو سوسال کی جنگ لڑی تھی 1757سے 1947ء تک تب پاکستان حاصل کیا ہے ، پھانسی لگی ہمارے اجداد کو ، کالے پانی کی سزا ہوئی ، آج ہم اپنے وطن میں گالی ہوگئے ہیں ، سچائی یہ ہے کہ مہاجر پاکستان کے ماتھے کا تاج اورزینت ہیں پاکستان کو ہمارے اجداد نے بنایا ۔ آپ تو غلام تھے ، 80فیصد زمین یہاں غیر مسلم کے پاس گروی رکھی ہوئی تھیں ، 97فیصد ملازمتیں سندھ میں غیر مسلم کے پاس تھیں ، کی تو پتا چلا کہ ایک مسلم آفیسر تھا ۔آ پ غلام تھے ہم نے آزادی دلائی آپ کو ،ہماری زمینوں، جائیدادوں اور متروکہ سندھ پر قبضہ کرکے آپ وڈیرے جاگیردار بن گئے اور ہمیں گالی بنا دیا یہ تسلیم نہیں کیاجاسکتا ۔ آپ کو سمجھنا ہوگا کہ سب کے برابر کے حقوق ہیں اور اس بات کی گارنٹی آئین پاکستان دیتا ہے ۔


12/3/2016 5:47:20 PM