Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کے سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی مسائل کا حل انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام میں ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار


پاکستان کے سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی مسائل کا حل انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام میں ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
 Posted on: 10/16/2014
پاکستان کے سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی مسائل کا حل انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام میں ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
انتظامی حوالے سے نئے صوبوں کے متعلق مثبت انداز میں سوچنے سمجھنے کے بجائے اسے جذباتی بنیادوں پر متنازعہ بنایا جارہا ہے، محمود شام
قائدتحریک الطاف حسین کی گفتگو اور سوچ کا مقصد محبت کو فروغ دینا ہے، نفرت پھیلانا نہیں اور نہ ہی ایم کیوایم کا نظریہ نفرت پھیلانا نہیں ہے، آغا مسعود
قائد تحریک الطاف حسین صوبے کے قیام کی بات پر سندھ بھر خصوصاََ کراچی کے عوام ان کے ساتھ ہیں، خلیل احمد نینی تال والا 
قائدتحریک جناب الطاف حسین نے پورے پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی تجویز دی ہے، سید سردار احمد
پاکستان کے اندر انتظامات کس طرح بہتر ہوسکتے ہیں اور اس کو انا کا مسئلہ ہرگز نہ بنایا جائے، متقدا منصور
دنیا کے ہر ملک میں اس کے قیام کے بعد نئے صوبے بنتے رہے ہیں اور آئندہ بھی بنتے رہیں گے، منگلہ شرما
ڈیفنس کلفٹن ریزیڈنٹس کمیٹی (DCRC) اور کونسل آف پروفیشنل (COP) کے تحت ’’نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت؟‘‘ کے موضوع پر مقررین کا خطاب 
کراچی۔۔۔ 16 اکتوبر 2014ء
ڈیفنس کلفٹن ریزیڈنٹس کمیٹی (DCRC) اورکونسل آف پروفیشنل (COP)کے تحت نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کے موضوع پرجمعرات کو ہونے والے ایک سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ملک کی ترقی وخوشحال اورسا لمیت کے لئے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیرہے ۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطا ف حسین نے اس موضوع پرایک مکالمہ کاآغازکردیاہے جس پرسنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے ۔مقررین نے کہاکہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کوانتظامی حوالوں سے دیکھنے کے بجائے جذباتی بنیادوں پرمتنازعہ بنایا جارہا ہے۔ سیمینار سے رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹرمحمدفاروق ستار،ممتازصحافی،ادیب اورشاعرمحمودشام، ممتازصحافی کالم نگار و اینکرپرسن آغامسعود،مصنف وصنعتکارخلیل احمدنینی تال والا،سندھ اسمبلی میں حق پرست پارلیمانی گروپ کے لیڈر سید سردار احمد، ممتاز کالم نگار مقتدیٰ منصور ، منارٹی کمیونٹی اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والی محترمہ منگلہ شرمانے بھی خطاب کرکے ملک بھرمیں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پرزوردیا۔سیمینارسے ڈاکٹرمحمدفاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی مسائل ،معاشی ،انتظامی مسائل سماجی اورانتظامی کاحل اگرکسی چیز میں ہے تووہ نئے صوبوں کے قیام میں ہے،ہم نے سندھ سے فاٹاتک نئے صوبوں کی بات کی ہے صرف سندھ میں نئے صوبے بنانے کی بات نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے نہ مردم شماری کرائی،نہ بلدیاتی انتخابات کرائے تووہ نئے صوبوں کی مخالفت کس منہ سے کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین کا کہنا ہے کہ میٹھامیٹھاہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو فارمولااب نہیں چلے گابلکہ برابری بنیاد پراختیارات دیئے جائیں۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے سیمینارکے انعقادپرڈیفنس کلفٹن ریزیڈنٹس کمیٹی اورکونسل آف پروفیشنل کے ارکان کومبارکبادپیش کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام شرکاء کوخوش آمدید کہتا ہوں اوران کاشکریہ بھی ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین باقاعدگی کے پاکستان میں نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں اوراس سلسلے میں دلائل کے ساتھ لیکچر دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ احساس محرومی اور احساس بیگانگی ہوگاناانصافی کے اس ون وے ٹریفک جوپاکستان میں چل رہاہے اس کوکوئی نہ کوئی توختم کرناہوگا۔انہوں نے کہاکہ آج کے اس دورمیںآسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیں وہ بھی سچ بولے تومارے جائیں اب یہ سسٹم نہیں چلے گا۔میرے مطابق نئے صوبے بننے چاہئے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ بتائیں کہ سندھ کے احساس محرومی کاحل تجویزکردیں، صوبے کا 90فیصدہم دے رہے ہیں اور جب لینے کی بات آتی ہے تو ہمیں 5فیصدبھی نہیں ملتا۔کراچی جوسب سے زیادہ ٹیکس دیتاہے مرکزکواورجس کے بدلے میں مرکزسندھ کو30فیصددیتاہے ۔کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں ہی کیوں ہے اگریہ اچھی چیز ہے تویہ کسی اورصوبے کیوں نہیں ہے،جولوگ آج الطا ف حسین کی صوبے اورانتظامی یونٹس کی اس بات پرچراغ پاہیں تووہ بتائیں کہ کوٹہ سسٹم جس کے وجہ سے تعلیم، روزگار اورصحت وصفائی کی تقسیم پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے اوردیہی اورشہری سندھ کوپچاس پچاس فیصدبرابرکیوں نہیں دیاجاتا۔اگراحساس محرومی کوختم کرناہے توکوٹہ سسٹم کی خاتمے کی بات کریں اور دیہی اورشہری سندھ کو لڑانے کی باتیں نہ کریں۔قائدتحریک الطاف حسین نے حل تجویزکردیاہے آبادی اورانتظامی بنیادوں پرنئے صوبوں کی بات کرکے پاکستان کے عوام کووڈیروں جاگیرداروں کے چنگل سے آزادکروانے کی بات کی ہے،انتخابی اصلاحات ہی مسائل کاحل نہیں اس میں نئے صوبوں اورنئے انتظامی یونٹس کی بات بھی شامل کرنی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ آج تک سندھ کے شہری علاقوں سے کوئی اردو بولنے والاوزیراعلیٰ کیونہیں بنایا گیا۔ کراچی کے اداروں کانظام ہمارے ہاتھ میں دیاجائے توہم کراچی میں بہترین ماس ٹرایزٹ اورسیوریج نظام اورفراہمی آب کانظام بنا کر دکھائیں گے۔ممتازصحافی شاعراورادیب محمودشام نے کہاکہ نئے صوبوں کے انتظامی حوالے سے سوچنے سمجھنے کے بجائے اس جذباتی بنیادوں پرمتازعہ بنایاجارہاہے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔لیکن اگرعوام کوخوش حال بناناہے تواس کے نظم ونسق کو بھی عوام کو سنبھال ہوگا انہوں نے کہاکہ بھارت نے بھی نئے صوبے بنے ہیں لیکن وہاں کسی زبان،ثقافت یاتہذیب کونقصان نہیں پہنچا،زبان اورثقافت ،تہذیب اورادب میں کوئی تصادم نہیں ہواجب ہم انتظامی یونٹس کی بات کرتے ہیں تو ہمیں قومی زبان اردواورتمام علاقائی زبانوں کے تحفظ کاعزم کرناہوگا۔ہم اختیارات کوچندہاتھوں میں مرتکزکرنا نہیں چاہتے سب سے پہلے مضبوط مرکزکے نام پرصوبوں کو کمزور کیا گیا اور پھرمضبوط صوبوں کے نام پراضلاع کوکمزورکیاگیا۔معروف صحافی اورکالم نگار آغا مسعود نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین کامقصدان کی گفتگواورسوچ محبت ہے ان کامقصدنفرت پھیلانانہیں اورنہ ہی ایم کیوایم کانظریہ نفرت پھیلانا نہیں ہے،جب صوبوں کی بات ہوتی ہے تواس کابنیادی مقصدیہ ہوتاہے کہ پورے پاکستان میں صوبوں کاوجودہوناچاہئے ۔اوراگریہ نہیں بنے توآبادی کی ضروریات کون پوری کریگا۔آج پاکستان میں غربت اورافلاس کا بڑھتا ہوا سمندر جو نظر آرہاہے وہ اس ہی کی بدولت ہے ،آج مزدور، مچھرااورہاری پاکستان کی معیشت کا کردار ادا کررہی ہے لیکن انہیں تحفظ نہیں ہے۔لوگوں کی معاشی ضروریات پوری نہیں ہورہی لہٰذانئے صوبے بننے چاہئے اور پورے پاکستان میں بننے چاہئے۔سندھ ہماری دھرتی ماں ہے جہاں صورت حال کیاہے ؟سندھ میں اربن اوررولررہے اورآج اندرون سندھ میں لوگ معاشی طورپرغیرمستحکم ہیں اورغربت کا شکار ہیں۔انہوں نے استحصالی طبقہ چاہے وہ پنجاب میں ہو، بلوچستان،خیبرپختونخوایاسندھ میں ہووہ غریبوں کااستحصال کررہاہے جوغریبوں کوپیٹ بھرروٹی نہیں دیتااورپکے مکان بنانے نہیں دیتے۔انہوں نے کہاکہ دنیابھرمیں ان ہی ممالک نے ترقی کی جنہوں نے اقتداراوراختیارکونچلی سطح تک پہچایاجدیدنظام کواپنے متعارف کرایا۔سندھی بھائیوں سے ادب کے ساتھ درخواست کرونگاکہ یہ صوبے پاکستان کی ترقی کے لئے سندھ کی تقسیم کے لئے نہیں،انتظامی بنیادوں پرہیں لسانی بنیادوں پرنہیں بنے گے جس سے سندھ ترقی کریگا۔معروف کالم نگارخلیل احمدنینی تال والا نے کہاکہ آج سے پانچ سے پہلے مجھے خیال آیاکہ پاکستان میںیہ انفراتفری کیوں بڑھتی جارہی ہے اور بھارت جوہمارے ایک دن بعد آزادہواوہاں کی معیشت اتنی اچھی کیوں ہے تومعلوم کرنے پرپتہ چلاکہ اس بیماری کاحل یہ ہے کہ بھارت کے آزادہوتے ہی نہرونے وہاں وڈیرہ سسٹم ختم کردیا۔اگرہم نے وڈیرے ،جاگیرداروں کوختم نہیں کیاگیا پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کانیامستقبل کیابنتاہے وہ بھی 18تاریخ کومعلوم ہوجائے گا،اگرتعلیم حاصل کرنے کے باوجودبھی وہی جاگیردارانہ سوچ آپ پرحاوی ہوگی توکیافائدہ اس تعلیم کاجوآپ نے انگلینڈسے حاصل کی۔انہوں نے کہاکہ کراچی ڈھائی کروڑسے زائدآبادی والاپاکستان سب سے بڑی شہرہے تاہم کراچی کے رہنے والوں کوآج اپناوزیراعلیٰ تک نہیں ملااورآج بھی ہمیں خیرپور،دادو سے وزیراعلیٰ مسلط کیاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین صوبے کے قیام کی بات کریں کراچی کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔پاکستان کے 1955تک 12صوبے تھے جنہیں تبدیلیوں کی نظرکردیاگیا،اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنی معیشت کوتباہ ہونے سے بچائیں۔انہوں نے قائد تحریک الطاف حسین کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ میری کتاب جومیں نے پانچ سال کی محنت سے لکھی الطاف حسین نے اس پرمجھے خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ ترقی کے میں تین ممالک آگے گئے ہیں جن میں سوئزرلینڈ،دوسراسنگاپور۔اب تقریریں بہت ہوگئی ہیں اب ملک کوبچانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے اورصوبے بنانے کی ضرورت ہے بہت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا کا واحدملک تھاجہاں دنیابھرسے پروازیںآتی تھی اوراب یہ واحدملک ہے جہاں کوئی پروازنہیںآتی،یہ پڑھے لکھے لوگوں کی محفل ہے ۔پانچ سوکتابیں میں ایم کیوایم کی لائبریری کے لئے عطیہ کرنے کااعلان کرتا ہوں۔انہوں نے یادگاری کتاب ڈاکٹرفاروق ستارکوپیش کی۔سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرسیدسرداراحمدنے کہاکہ آج کاموضوع ایڈمسٹریٹو یونٹس لکھا ہے لیکن یہ انتظامی طورپرہے سیاسی طورپرنہیں ہے،اگرتاریخ کامطالعہ کیاجائے توصوبے بنتے بگڑتے رہتے ہیں۔انہوں نے ہندوستان کی تاریخ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں کل 21صوبے تھے اورجب ہندوستان پر انگریزوں نے قبضہ کیاتوانہوں نے بھی صوبوں میں ردوبدل کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے سے ملکوں فاتح نہیں کیاجاسکتا۔18کروڑکی آبادہے پاکستان کی جس میں صرف چار صوبے ہیں جبکہ بعض ممالک جن کی آبادی ہم سے کہیں کم ہے لیکن وہاں صوبے ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبے ہرجگہ ضرورت کے لحاظ سے بنائے جاتے ہیںیہ کہاجاتاہے کہ سندھ میں صوبے نہیں بنے چاہیے اس سے سندھ تقسیم نہیں ہورہاہے اوریہی بات قائدتحریک جناب الطاف حسین نے بھی کہیں کہ سندھ کوتقسیم نہیں کررہے بلکہ سندھ کواس کی موجودہ شکل میں برقراررکھتے ہوئے اس میں نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں ۔قائدتحریک جناب الطاف حسین نے صوبے بنانے کی تجویز دی ہے وہ پورے پاکستان میں کی ہے یہ نہیں کہاکہ فلاح جگہ صوبے بنادو۔ہماری فیڈرل گورنمنٹ ہے لہٰذایہاں صوبے بنے گے اوراگرہم نے اس تدارک نہیں کیاتوایڈمنسٹریشن گورنمنٹ متاثرہوگی اور لوگوں کوسہولیات میسر ہونگی اوران کے مسائل حل ہونگے۔ہم سب کہہ رہے ہیں کہ نئے صوبے بنائے جائیں اورسب جگہ بنائے جائیں نہ کسی ایک صوبے میں صوبے بنائیں جائیں،ہماراآئین ہے اس میں ترمیم کیے بغیر صوبوں بڑھاگھٹا نہیں سکتے اوریہ قانون کے تحت ہی بنے گے جس سے گورنس کومشکلات نہیں ہونگی۔معروف کالم نگارودانشورمتقدیٰ منصور نے کہاکہ آج ایک انتہائی اہم اورحساس مضوع پر گفتگو کرنے کے لئے بلایاگیاہے جووقت کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ دوسری عالمی جنگ کے بعدجب ممالک بننے شروع ہوئے تووہ وہاں ضروریات کوپوراکرنے کے لئے نئے صوبے بنائے گئے۔انگریزنے جیل،ریل اورمیل کے ساتھ ہندوستان پرحکمرانی کی اوربرصغیرکی آزادی کے بعدکل چودہ صوبے تھے جس میں9 صوبے حصے میںآئے اورپانچ صوبے پاکستان کے حصے میںآئے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں توجہ جس پررکھنی ہے وہ اقتداراوراختیارکی نچلی سطح پرمنتقلی ہے اوراس کے لئے ضروری ہے کہ مزیدصوبے بنائے جائیں اوروفاق،صوبہ اورضلع یعنی تھری ٹیئرسسٹم متعارف کرایاجائے۔ انہوں نے ضرورت اس بات کی ہے پاکستان کے اندرانتظامات کس طرح بہترہوسکتے ہیں اوراس کواناکامسئلہ ہرگزنہ بنایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ اگرکسی کواعتراض ہے کہ یہاں پرمزیدصوبے نہ بنے تویہاں پرنئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں،قوم پرست جماعتیں سندھ کے عوام کے لئے بہتری نہیں چاہتے۔منارٹی کمیونٹی اورانٹرنیشنل آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والی خاتون محترمہ منگلا شرما نے کہاکہ آج جس موضوع پریہ سیمیناررکھاہے اور جس جگہ پریہ رکھاجارہاہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصدہے جس کااظہار قائدتحریک الطاف حسین بھی کرچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیامیں ہرملک میں نئے صوبے بنتے رہے ہیں اورآئندہ بھی بنتے رہیں گے لیکن پاکستان میں اگریہی بات قائدتحریک الطاف حسین کہ دی تواس پر طوفان مچ جاتاہے اورکہاجاتا ہے کہ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کی ضروریات کوپوراکرناتمام سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے۔تمام سیاسی جماعتوں کواس بات کوتسلیم کرلینا چاہئے کہ ایم کیوایم ایک حقیقت ہے جس سے انکارنہیں کیاجاسکتا، پاکستان میں رہنے والی وہ قوم جوپاکستان میں ہجرت کرکے آئی تھی وہ بھی اتنے ہی پاکستانی ہے جتنے دوسرے لوگ پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہاکہ باقی ملک میں نئے صوبوں کی بات سب کرتے ہیں لیکن سندھ میں نئے یونٹس کے قیام سے انکارکیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرچھوٹے صوبے بناکرعوام کو سہولیات فراہم کی جائیں گی تواس کافائدہ سب ہوگااورملک بھی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے سول سوسائٹی پرزوردیاکہ وہ اس کوتحریک کی شکل میں چلائے تاکہ نئے صوبوں کامسئلہ ہنگامی بنیادوں پرحل ہوسکے۔غازی صلاح الدین نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی جوبات کی ہے وہ وقت کی ضرورت ہے ،عوام کی ضرورت ہے اورملک کی مضبوطی کے لئے ضروری ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بہت کچھ گواہ دیااورآدھاملک گواہ دیاہے اب جذبات سے کام لینے کے بجائے مفاہمت سے کام لیناہوگا۔سندھ کاوڈیرہ بات توغریب کی کرتاہے لیکن اقتدارمیںآنے بعدوہ اسلام آباد میں گھر لیتاہے اورپانچ سے تک اسلام آبادمیں رہتاہے ۔


12/3/2016 7:46:49 AM