Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کو لندن جبکہ رابطہ کمیٹی کے اراکین اور منتخب عوامی نمائندوں کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار


تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کو لندن جبکہ رابطہ کمیٹی کے اراکین اور منتخب عوامی نمائندوں کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 10/13/2014
تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کو لندن جبکہ رابطہ کمیٹی کے اراکین اور منتخب عوامی نمائندوں کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
دھمکیوں سے ارباب اختیار و اقتدار کو آگاہ کئے آج ایک ماہ کے لگ بھگ ہوگیا لیکن وفاقی اور صوبائی سطح پر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا 
خطوط میں لکھاہے کہ سیکوریٹی ایجنسی کی مددلینے کی سزا موت ہے ، نائن زیروسمیت آپ کے گھر کھنڈرات میں تبدیل کئے جائیں گے آپ کے خاندان اور رشتہ دار سب ہٹ لسٹ پر ہیں، ڈاکٹر فاورق ستار 
نائن زیرو کی سیکوریٹی انتہائی ناقص اور کمزور ہے، اس سلسلے میں ارباب اختیار ، اعلیٰ حکام ، وفاقی و صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
اللہ نہ کرے کل کچھ ہوتا ہے تو اس کی اور عوامی اشتعال کی ذمہ داری بھی ہمارے اوپر عائد نہیں ہوگی، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔13، اکتوبر2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور حق پرست رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمدفاروق ستار نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کو لندن جبکہ رابطہ کمیٹی کے اراکین اور منتخب عوامی نمائندوں کو مسلسل ٹیلی فون ، خطوط اور ایس ایم ایس کے ذریعے دھمکیاں دی جارہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ایم کیوایم طالبان کے حوالے سے اپنے سیاسی نظریات کو ترک کرے اور اس سے باز آجائے ۔ انہوں نے کہاکہ نائن زیرو پر حملہ کی تازہ ترین دھمکی 15ستمبر کو موصول ہوئی اس دھمکی سمیت ہم نے تمام دھمکی آمیز خطوط کی تفصیلات سے وفاقی و صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالوں کو آگاہ کردیا ہے ،ہم نے ان دھمکیوں کو عوامی سطح پر ظاہرنہیں کیا کیونکہ ہم نے مناسب سمجھا کہ یہ ساری معلومات پاکستان کے ارباب اختیار ، اعلیٰ حکام تک پہنچادیں ، ان سے ہم نے یہ توقع وابستہ کی کہ شاید ہم سے رابطہ کیاجائے گا ،ہم سے دھمکیوں کے متعلق معلومات لی جائیں گی لیکن آج ایک ماہ کے لگ بھگ ہوگیا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور اس کا وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کی شام خور شید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین بابر خان غوری ، کنور نوید جمیل اور رشید گوڈیل بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹرمحمد فاروق ستار نے کہا کہ قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کے پاکستان کی تشکیل نو کا جو بیڑا اٹھایا ہے تحریک طالبان پاکستان کاکہنا ہے کہ اپنے اس عزم کو ترک کردیں کیونکہ وہ پاکستان کو دہشت گرد، انتہاء پسند اور رجعت پسند ریاست بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہے تو کیا انہیں یہ کام کرنے دیاجائے ۔دھمکی آمیزخطوط میں کہاگیاہے کہ آپ کوحکم دیاجاتاہے آپ لوگ بازآجائیں اورطالبان کے خلاف اپنے نظریاتی پرچارکوترک کردیں،ہمارے طالبان مجاہدین کی فیملیزپورے ملک کراچی ،حیدرآباد،سکھر،کوئٹہ،لاہور ، پشاور ،پنڈی میں تنگ دستی اور فاقہ کشی صفحہ:۔۔کے عالم میں ہیں آپ کوحکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگو ں کی مالی اعانت بالکل اسی طرح کی جائے جس طرح آئی ڈی پیز اور مستحق افراد کی جارہی ہے۔ یہ دھمکیاں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرڈاکٹرخالدمقبول صدیقی،بابر غوری،رشید گوڈیل اوردیگرکوموصول ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دھمکی آمیز خطوط ، ایس ایم ایس کی تفصیلات سے ہم نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کوآگاہ کردیاہے اوروفاقی وصوبائی حکومت کودھمکی آمیزخطوط کی کاپیاں منسلک کرکے خطوط لکھے جبکہ وزیراعظم پاکستان کے نام ہم نے 18 ستمبرکوخط لکھاجس میں تحریک طالبان پاکستان کے دھمکی آمیز خطوط کی کاپیاں بھی منسلک تھیں۔انہوں نے دھمکی آمیزخطوط اورپیغامات میں ایم کیوایم سے5سے25 لاکھ کے بھتہ کابھی مطالبہ کیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ یہ پیسہ فوری طورپرہمارے ذمہ داران جن کے موبائل نمبرخط میں تحریرہیں ان کودیدیں جوطالبان کی فیملی،القاعدہ، ازبک کے قیام طعام اوردیکھ بھال کررہے ہیں ان کوایک ہفتے کے اندراندریہ رقم پہنچا دیں ورنہ آپ کے گھروالوں،آپ کو اوردیگر اہل خانہ کوواصل جہنم کیاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ خطوط اورمراسلوں میں واضح کہا گیا ہے کہ سیکورٹی ایجنسی کی مددلینے کی سزا سزائے موت ہے ، نائن زیرو زسمیت آپ کے گھر کھنڈرات میں تبدیل کئے جائیں گے آپ کے خاندان اور رشتہ دار سب ہٹ لسٹ پر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگر خدانخواستہ ان دھمکیوں پر عملدرآمد ہوتا ہے اور جس طرح کی ہماری سیکیورٹی کی صورتحال ہے ، جو حفاظتی انتظام ہیں وہ قطعی غیر تسلی بخش ہیں اس پر بھی ہم نے بار ہا وفاقی وزیر چوہدری نثار ،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے اور دیگر انتظامیہ کے عہدیدار کو خطوط ارسال کئے ہیں اور ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نائن زیرو کی سیکوریٹی انتہائی ناقص اور کمزور ہے، ہمارا ذاتی سیکورٹی کا انتظام ضرور ہے لیکن اس سلسلے میں ارباب اختیار ، اعلیٰ حکام ، وفاقی و صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ دھرنوں کے بعدپاکستان جلسوں کی سیاست کی طرف جارہاہے ان جلسوں کے انعقاد کے حوالے سے بھی سیکورٹی کی باتیں ہورہی ہیں اور جب جلسوں کی سیکیوریٹی کی باتیں آرہی ہیں ، ایم کیوایم نے بارہا یہ بات عوامی سطح پر کی ہے اور لوگوں کو اعتماد میں لیا ہے تو پھر اللہ نہ کرے تو کل کچھ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہمارے اوپر نہیں آنی چاہئے کوئی حملہ ، دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے اس میں نقصان ہوتا ہے اور اس کے ردعمل میں عوامی اشتعال ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ہماری نہیں ہے ، ہم نے بروقت دھمکیوں سے مسلسل اگاہ کیا ، آج بھی کررہے ہیںیہ جو خطرات اور دھمکیاں ہیں یہ صرف کراچی کی حد تک محدود نہیں ہیں قائد تحریک کو لندن میں بھی مسلسل یہ دھمکیاں موصول ہوتی ہیں اور خط میں یہ باآورکرایاگیاہے کہ ہمارے لوگ وہاں پربھی موجودہیں۔انہوں نے کہاکہ تحریک طالبان پاکستان کی دھمکیوں کو ہم نے عوام کی کورٹ میں ڈال دیا ہے ،عوام اپنا فیڈ بیک دیں اور رہا سہا جوامن ہے ، روزانہ کے جو معمولات ہیں ، لوگ کام پر جارہے ہیں اللہ نہ کرے کوئی سانحہ ہوتا ہے تو اس کے بعدکیا صورتحال ہوگی اس میں ہماری کوئی گارنٹی نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارے تین منتخب نمائندے ساجد قریشی ، منظر امام ، رضا حیدر کو شہیدکیاگیا اورکراچی کی طالبانائزیشن پر جتنا قائد تحریک نے جس طرح ارباب اختیار اور حکومتوں کوجھنجھوڑا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ،کراچی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کیلئے آئے دن مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے وکلاء ، ڈاکٹرکو قتل کیا جاتا ہے ،یہ جو کچھ ہورہا ہے ڈی اسٹیبلائزیشن کی جارہی ہے اس سے کس کو نقصان اور فائدہ ہوگا اس کو سنجیدگی سے لئے جانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ جب ہم عوامی موبلائیزیشن ، جلسوں کی طرف جارہے ہیںیا کسی رابطہ مہم کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ لوگوں کی سیکورٹی کے متعلق جو خدشات ہیں اس پراعلیٰ حکام اور وفاقی اور صوبائی حکام کو آگاہ کریں اور اپنی ذمہ داری پوری کریں ۔ ڈاکٹر محمدفاروق ستار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تخریب کار عناصر کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ، عارضی انتظامات اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک ماہ گزر گیا ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہم سے رابطہ نہیں کیا جبکہ سب جگہ ہم نے آگاہ کیا ، کم از کم ہمیں یہ تو بتایاجائے کہ یہ کن لوگوں کے نمبر ہے ، یہ دھمکی نائن زیرو پر موصول ہوئی ہے ، اور یہ ڈاک کہاں سے آئی ، کیونکہ یہ سب بذریعہ پوسٹ آئے ہیں ، یہ تمام معلومات دینے کے بعد حکومت غفلت اور خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے تو حکومت خود اپنے لئے ایک گھڑا خود رہی ہے ۔

12/5/2016 12:36:42 PM