Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے غریب متوسط طبقے کے لوگوں کو قومی صوبائی اور سینیٹ کے ایوانوں میں جاگیرداروں، سر مایہ داروں کے برابر میں بٹھا یا،الطاف حسین


ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے غریب متوسط طبقے کے لوگوں کو قومی صوبائی اور سینیٹ کے ایوانوں میں جاگیرداروں، سر مایہ داروں کے برابر میں بٹھا یا،الطاف حسین
 Posted on: 10/8/2014
ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے غریب متوسط طبقے کے لوگوں کو قومی صوبائی اور سینیٹ کے ایوانوں میں جاگیرداروں، سر مایہ داروں کے برابر میں بٹھا یا،الطاف حسین
ساتھی اگر نظم و ضبط کے ساتھ ایمانداری کے ساتھ کا م کرتے رہے تو وہ دن ضرور آئے گا کہ پاکستان کے چپے چپے میں حق پرستی کا نعرہ گونجے گا،الطاف حسین
ایم کیوایم کی جدوجہدکی چھتیس سا لہ تاریخ میں متعدد مرتبہ طاقتور اداروں ، اسٹبلشمنٹ اورمختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے ،الطاف حسین
اسٹیلشمنٹ کی کوشش ہے کہ پاکستان میں غریبوں میں سے اُٹھنے والی سیاسی ، شعور و فکر کی لہر،آوازکی گونج کو ختم کرایا جائے اور اس آواز کو بند کردیا جائے ،الطاف حسین
لندن:۔۔۔8؍اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایم کیوایم کاگراف اوپرسے اوپربڑھ گیاہے اورکراچی سے خیبرپختونخوااورآزاد کشمیرسمیت گلگت بلتستان میں اس کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ جولوگ ایم کیوایم میں گروپ بندیوں اوراس کے ختم ہونے کی باتیں کررہے ہیں انہیں اندازہ ہوناچاہئے کہ کراچی ہی نہیں بلکہ ملک بھرکے عوام نے ایم کیوایم پراپنے اعتمادکااظہارکیاہے اورملک بھرسے بڑی تعدادمیں چرم قربانی کی کھالیں عطیہ کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقائق اورسچ نے دودھ کادودھ اورپانی کاپانی کردیاہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے عیدالاضحی کے تیسرے اورآخری روزطارق گراؤنڈفیڈرل بی ایریامیں قائم خدمت خلق فاؤنڈیشن کے مرکزی کیمپ پرمعززین شہراورکارکنان کے اعزازمیں دیئے گئے عشائیے کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔اس مرتبہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان اور کرم ہے کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن نے ماضی کے ریکارڈتوڑدیئے ہیں۔انہوں نے آیت مبارکہ پڑھتے ہوئے اس کاترجہ بیان کیا کہ’’ بیشک حق آنے کے لئے ہے اور باطل مٹ جانے کے لئے ہے ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ کئی روزسے مختلف ٹی وی چینلزنے اپنے ٹاک شوزمیں ایک تماشہٍ لگایاہواہے کہ ایم کیو ایم گروپ بندیوں کا شکار ہو رہی ہے ، ایم کیو ایم کمزور ہورہی ہے ، کئی گروپس ایم کیو ایم کے اندر پیدا ہو چکے ہیں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں جو منحرف اراکین کے اجلاس ہو رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔انہوں نے کہاکہ مجھ سے بھی بہت سے لوگوں نے تذکرہ کیا میں نے جواب میں یہی کہاکہ خواہشات، خیالات ، خوابوں کے دیکھنے پرنہ تو کسی کی پابندی ہوتی ہے نہ ہی اس پرکوئی پائی
پیسہ لگتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ عناصرکی یہ برسوں سے خواہش رہی ہے کہ ایم کیو ایم ختم یاٹکڑے ٹکڑے ہوجائے ، ایم کیوایم کی چھتیس سا لہ تاریخ میں متعدد مرتبہ طاقتور اداروں ، اسٹبلشمنٹ اورمختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مخالفین نے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے کہ کسی طریقے سے پاکستان میں غریبوں میں سے اُٹھنے والی سیاسی ، شعور و فکر کی لہر،آوازکی گونج نے جو جنم لیا ہے اس گونج کو ختم کرایا جائے اور اس آواز کو بند کردیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ جو دعوے گزشتہ کئی دنوں سے کئی ٹی وی ٹاک شوز اور مضامین میں کیے جارہے ہیں اور ان میں جوسیاسی ریفری بیٹھے ہیں وہ جسے چاہیں ریڈ کارڈ دکھا دیں اور جسے چاہیں یلو کارڈ دکھا دیں۔انہوں نے کہاکہ وہ خوداپناتجزیہ پیش کرنے کے بجائے اپنا فیصلہ سنا نے لگتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں ان تجزیہ نگاروں سے اتناساسوال کرنا چاہوں گا 58کہ ا گر ایم کیوا یم ختم ہو گئی ہے ، کمزور ہو گئی ہے یامختلف گروپوں میں بٹ گئی ہے توآج چھتیس سالہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا ریکارڈ اس مرتبہ ایم کیو ایم ہی توڑنے میں کیسے کامیاب ہوئی ؟انہوں نے کہاکہ کل میری حیدر آباد زون میں بات ہو رہی تھی تو حیدر آباد زون میں حیرت بھی ہوئی ، خوشی بھی ہوئی کہ حیدرآبادکے مرکزی اسٹال پر ایک کے بعد دوسرا ، دوسرے کے بعد تیسرا ، تیسرے کے بعد چوتھا ، بشمول آفتاب احمد شیخ کے سب موجود تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی پولیٹکل فلاسفی ، پولیٹکل کلچر میں آج تک قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی وفات کے بعد کسی نے قائد اعظم کی روشن خیالی اور انکے نظم و ضبط کی تلقین کو ایماندارانہ طرز عمل اپنانے کی تنظیم،سادگی سے زندگی گزرنے اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کتنا خوبصورت قرآن و سنت کی روشنی میں قوم کو پیغام دیا کے ’’ لکم دین کم ولیدن ‘‘ تمہارا دین تمہارے ساتھ اورمیرادین میرے ساتھ ۔ہر کسی کو اپنے مذہب ، عقیدے یا مذہبی روایات کے تحت اپنی عبادت گاہوں میں جاکر عبادت کرنے کا حق حاصل ہے اوردوسرے کے عقیدے کو چھیڑو نہیں اوراپنے عقیدے کو چھوڑو نہیں اور مل جل کے سب اپنی اپنی توانائیاں پاکستان کے استحکام ، بلندی اورخوشحالی کے لئے صرف کریں اور پاکستان کو دنیا بھرمیں ایک ایسا مثالی ملک بناکر دنیا کے نقشے پرپیش کریں کہ ہم کیادوسرے بھی تعریف کریں کہ ہم کس دین کے ماننے والے ہیں بلکہ ہمارا عمل و کردار دیکھ کرہرکوئی یہ بولے کہ دین اسلام کیا ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ عصبیت اور تعصب نے اس پا کستان کو دولخت کر دیا ، باقی ماندہ پاکستا ن میں اگر کوئی دعویٰ کر تا ہے کہ سب اچھا ہے اور سب پاکستان کی فلاح ، بقاء اور سلامتی دل سے چاہتے ہیں تو وہ جھوٹ بولتا ہے جو یہ کہتا ہے اوروہ قوم کو گمراہ کرتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سرکار ددوعالم ﷺ یعنی کے تبلیغ کرنے سے پہلے وہ اپنے عمل و کردار کا جائز ہ لیا کرتے تھے کہ جس کی وہ تبلیغ کرنے جا رہے ہیں آیاوہ اس پر خود بھی عمل کرتے ہیںیا نہیں ؟انہوں نے کہاکہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ، بے ایما نی نہیں کرنا چاہئے ، چوری چکاری نہیں کرنا چاہئے ، رشوت نہیں لینا چاہئے ، کم کھانا چاہئے ، لالچ نہیں کرنا چاہئے ، پیسے کی دوڑ میں ، سونے چاندی کے سکوں کی اس طرح بھر مار نہیں کرنی چاہئے کہ وہ آپ کے لئے رحمت بننے کے بجائے روز محشر آگ کے گولے بن کر آپ کے جسم پرداغے جائیں۔انہوں نے کہاکہ آج کی اس محفل میں جتنے لوگ بھی ہیں وہ خدا کو مانتے ہیں جس اللہ کو مانتے ہیں وہ دنیابنانے والے کو مانتے ہیں میں آپ کواس کی قسم دیتا ہوں اور پھر میں آپ سے کہتا ہوں کہ اپنے ضمیر کے مطابق آپ میرے سوالوں کا جواب دیجئے کہ پاکستان میں غریب ، متوسط طبقے کی حکمرانی، 98فیصد غریب متوسط طبقے کی حکمرانی ، 2فیصد مراعات یافتہ جاگیردارانہ،وڈیرانہ اورسرمایہ دارانہ چور اچکوں کے نظام سے آزادی کا عملاً نعرہ لگایاہی نہیں بلکہ اس پرعمل کرکے بھی دکھایا ہے تو اپنے رب کائنات کی قسم کھا کر بتائیں کس جماعت اور کس لیڈر نے اس فلسفے کو دیا ہے ؟جس پرپنڈال میں موجودتمام شرکاء نے ایک آوازہوکرکہاکہ صرف الطاف حسین اورایم کیوایم نے ۔جناب الطاف حسین کہاکہ کتنی ڈھٹا ئی اوربے شرمی کے ساتھ تجزیے کرنے والے حقائق کی روشنی میں کہتے ہیں کہ فلاں فلا ں جماعت بھی اب غریب متوسط طبقے کی بات کرنے کا منشور لیکر میدا ن میں آگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بڑی اچھی بات ہے ہمیں خوشی ہے کہ ایم کیو ایم بننے کے بعدجو پودا 36سال پہلے ایم کیوایم نے لگایا تھااس پرعمل کرتے ہوئے کوئی ایک بتائے کہ ایک جماعت جس نے ایک آدھ نہیں بلکہ سو فیصد اکثریت میں غریب متوسط طبقے کے لوگوں کو قومی صوبائی اور سینیٹ کے ایوانوں میں جاگیرداروں،سر مایہ داروں کے برابر میں بٹھا دیا ، کس نے بٹھا یا ہے ؟۔انہوں نے کہاکہ اس وقت الطاف حسین عام لوگوں کو بڑے بڑے وڈیرے جاگیردوروں کے سامنے نہیں بلکہ برابر میں بٹھا دکھا چکا تھا ، اتنا سا تجزیہ پو رے ملک میں اتنے تجزیہ نگار ہیں کسی سے نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے کوئی بھی فیلڈ کا آدمی ہو کتنی اچھی باتیں کرے لیکن وہ ترجمانی اسی مائنڈ سیٹ کی کرتا ہے ، فیوڈل مائنڈ سیٹ فیوڈل مینٹلیٹی کی ہی کرتا ہے ، اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ پاکستان میں ایک آدمی نے گڑھا کودھا ، کھاد ڈالی ، بیج ڈالے ، پانی ڈالا ، دیکھ بال کی ، تمام کاموں سے وقت نکال کے پودے کو جوان کیا اور جب پھل آئے تو اس کا پھل اس نے خود نہیں کھایابلکہ سب کو بانٹ دیا اور بانٹ رہا ہے یعنی کوئی یہ نہیں کہتاکہ الطاف حسین میں 99خرابیاں لیکن ایک بات اچھی ہے کہ کرڑوں اسکے چاہنے والے ہیں لیکن نہ تووہ کونسلر بنا ، نہ وہ سینیٹر بنا ، نہ ایم پی اے بنا نہ اپنے بہن بھائیوں کو بنایا، کیوں نہیں کہتے؟ تو میں ہمیشہ سے کہتا تھا کہ میں ہر مظلوم کی آواز ہوں ، ہر مظلوم کی پہنچان ہوں ، میں ہر دکھی دل ،ہر قوم کا سہا را ہوں ۔انہوں نے کہاکہ ایک سازش کے تحت پٹھان مہاجر ، سندھی مہاجر ، پنجابی مہاجر جھگڑا کرایاگیا جس وقت ان جھگڑوں کی ابتداء ہوئی اس وقت نہ ایم کیو ایم موجود تھی یا الطاف حسین موجود تھا ، 1964ء میں ایو ب خان پٹھانوں کا جلوس لائے ،ممتاز بھٹو مہاجروں کے سر قلم کر رہے تھے کیااس وقت الطاف حسین میدان میں تھا؟ میں کہہ چکاہے کہ جو لوگ میڈیامیں بات کرتے ہیں وہ یہ بیان نہیں کرتے کہتے ہیں جب ملک ایک ہے توآپ ماڈل ٹاؤن میں طاہر القادری کے چاہنے والے شہید ہوئے ان کاذکر کرتے ہیںیا نہیں کرتے ؟ لیکن ایک پارٹی کا نام بتائیں کہ جو 14دسمبر1986جب پہاڑوں سے اُتر کے گاجر مولی کی طرح انسانوں کو کاٹا گیا،بچیوں کوریپ کیا گیا اور 300گھروں کو آگ لگائی گئی اس کا ذکر کوئی کرتا ہے پاکستان کا لیڈر؟ 30ستمبر کو حیدر آباد میں 10گاڑیا ں شہر میں داخل ہوتی ہیں اور آدھے گھٹنے تک شہریوں پرگولیاں چلاتی رہتی ہیں اور 200شہری شہید کر دئیے جاتے ہیں یہ واقعہ آپ نے کسی کے منہ سے سنا؟ ۔1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے 10سال کے لئے کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں کیوں نافذ کیا۔انہوں نے کہاکہ جو قوم مرنے سے ڈرنے لگتی ہے وہ مر جاتی ہے ، اور جو قوم مرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے موت اس سے دور بھاگتی ہے ۔ میں ہر غریب سے محبت کرتا ہوں میں کسی سے نفرت نہیں کرتانہ کسی سے تعصب کرتاہوں۔مہاجروں کو ایوب خان سمندر میں نہیں پھینک سکا تو اس طرح مروا دیا جائے ختم کردیا جائے ۔یہ جو ریکارڈ تو ٹ رہے ہیں اس میں صر ف اُردو بولنے والوں کا چرم قربانی نہیں بلکہ سندھی ، پختون ، سرائیکی ، پنجابی ، ہزاروال اوربلوچی سمیت ہر قوم کے لوگوں نے قربانی کی کھالیں دی ہیں اور آپ کویہ سن کے تعجب ہو گا بہت سے لوگ یقین بھی نہیں کریں گے ، یہ توپھر بھی پٹھان،بلوچی ،سندھی ہیں لیکن مذہب دین کے لحاظ سے مسلم ہیں لیکن جو مسلمان نہیں ہے ،مذہب کے لحاظ سے ہندو ، سکھ اورعیسائی ہیں آ پ ان کے دل نکال کر دیکھ لیں وہ بھی الطاف حسین کے چاہنے والے ہیں۔جناب الطاف حسین نے 8،اکتوبرکے زلزلے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ آج 8اکتوبر2014ہے آج سے 9سال قبل 2005میں خیبرپختون خوااور کشمیر میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے ہولناک زلزلہ آیا تھا ،اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو گواہ بنا کر ایک ایک پاکستانی بتائے کہ وہاں سب سے طویل عرصے تک میڈیکل کیمپ اور زلزلہ متاثرین کی امداد کے لئے ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنان وہاں موجود رہے تو اس کے علاوہ وہاں کون سی جماعت تھی جس کے کارکنان، ممبر قومی و صوبائی اسمبلی وہاں امدادی کار روائیاں کرتے رہے جس طرح ایم کیوا یم نے کیں؟ ، لیکن کسی نے ایم کیوایم کو اس کا میڈل نہیں دیا،بلکہ کسی نے یہ تک نہیں کہاکہ ایم کیوایم نے امداد کے لئے سب سے بڑھ کر کا م کیا ۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب زدگان کی امداد ہو یا آئی ڈی پیز کی امداد کا مسئلہ ہو آج بھی سیلاب متاثرین اور آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے ہردو سرے تیسرے دن خدمت خلق فاؤنڈیشن سے ٹرک امدادی سامان لیکر ان علاقوں میں پہنچ رہے ہیں اس پر بھی کوئی دو لفظ تعریف کے بولنے کے لئے تیار نہیں ۔انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ میرے ساتھی اگر نظم و ضبط کے ساتھ ایمانداری کے ساتھ کا م کرتے رہے تو وہ دن ضرور آئے گا کہ پاکستان کے چپے چپے میں حق پرستی کا نعرہ گونجے گا۔انہوں نے کہاکہ جس ملک میں Accountablityنہیں
ہوتی ، احتساب نہیں ہوتا تو اس ملک میں نہ تو سب کو حقو ق برابری کے ساتھ مل سکتے ہیں نہ ہی سب کے ساتھ انصاف ہو سکتا ہے ہے اورنہ ہی سب کی عزت برابر ہوسکتی ہے۔جناب الطاف حسین نے بزنس کمیونٹی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر ملک کو بچانا ہے ، سلامت رکھنا ہے اور ترقی یافتہ بنانا ہے تو ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے بنانا لازمی ہے،کیا آپ لوگوں کو میری اس بات سے اتفاق نہیں ہے؟ اختلاف ہے؟جس پرتمام شرکاء نے الطاف حسین کی بات سے مکمل اتفاق کیا۔جناب الطاف حسین نے رات دن محنت کرنے والے ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایک کارکنان کو دل کی گہرائیوں سے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ زبر دست خراج تحسین کرتاہوں۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی صاحب کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ذرا خصوصی توجہ دیں کہ سیالکوٹ ، چانگی اور دیگر باڈر ز پر بھارتی افواج مستقل سرحدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور اب تک 10سے زائد معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں جس میں خواتین بھی شامل ہیں اور50سے زائد شہری جاں کنی کے عالم میں ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ کیا آپ جنگ چاہتے ہیں ؟ میں تویہی کہوں گا کہ اگر اختلافات ہیں تو بیٹھ کو حل کر لیں جنگ اچھی چیز نہیں ہوتی ہم نہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان کی بھارت یا کسی بھی ملک سے جنگ ہو لیکن ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اس بات کوپاکستانیوں کی کمزوری بھی نہ سمجھیں۔

12/2/2016 1:52:00 PM