Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے ساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں۔ الطاف حسین


 Posted on: 10/1/2014
پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے ساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں۔ الطاف حسین
ملکی استحکام کی خاطر مسلح افواج سے بھی بہترانڈراسٹینڈنگ چاہتے ہیں
پاکستان کوبہتراندازمیں چلانا ہے تونئے انتظامی یونٹس بناناہوں گے
سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے،سندھ دھرتی ہماری ماں ہے ،ایک گھرکے چارکمرے ہونے سے گھر تقسیم نہیں ہوتا
یم کیوایم کے دروازے سندھ کے طلباء وطالبات، نوجوانوں اوردانشوروں کیلئے کھلے ہوئے ہیں
ہم جب کھلے ظلم وناانصافی کے خلاف آوازبلند کرتے ہیں تو بعض وہ دانشور میدان میں آجاتے ہیں جو ’’ دانش خور ‘‘ ہیں
کراچی سمیت پچاس سے زائد مقامات پرہونے والے کارکنوں کے اجلاسوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب 
پاکستان بھرکے عوام عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں خدمت خلق فاؤنڈیشن کودیں ، الطاف حسین کی اپیل
اگرکسی کارکن نے زورزبردستی سے قربانی کی کھال وصول کی تو اسے تنظیم سے خارج کردیاجائیگا۔الطاف حسین
لندن۔۔۔3، اکتوبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم پاکستان کی سلامتی وبقاء اوراستحکام کی خاطر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے ساتھ بہتر اور خوشگوارتعلقات چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہم ملکی استحکام کی خاطر مسلح افواج سے بھی بہترانڈراسٹینڈنگ چاہتے ہیں، پاکستان کوبہتراندازمیں چلانا ہے تونئے انتظامی یونٹس بناناہوں گے اوراختیارات کونچلی سطح پر تقسیم کرناہوگا،ناانصافیوں اورزیادتیوں کوختم کرکے سب کے ساتھ مساوی سلوک کرناہوگا۔ ایم کیوایم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی،سندھ دھرتی ہماری ماں ہے ،ایک گھرکے چارکمرے ہونے سے وہ گھریاماں تقسیم نہیں ہوتی،انتظامی بنیادوں پرچھوٹے چھوٹے یونٹس کی تشکیل پوری دنیاکی مجبوری ہے ۔ ایم کیوایم کے دروازے سندھ کے طلباء وطالبات، نوجوانوں اوردانشوروں کیلئے کھلے ہوئے ہیں،ایم کیوایم ان کی اپنی جماعت ہے جوغریبوں ، کسانوں،محنت کشوں اور مظلوموں کی سچی ہمدردہے لہٰذاوہ ایم کیوایم میں شامل ہوکرغریبوں کی حکمرانی کی جدوجہد میں اپنا بھرپور کرداراداکریں۔ ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے کراچی سمیت پچاس سے زائد مقامات پرہونے والے کارکنوں کے اجلاسوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔عیدالاضحی پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے سلسلے میں ہونے والے ان اجلاسوں کامرکزی اجلاس لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآبادمیں ہوا جس میں ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کااحترام کرتا ہوں اور چاہتاہوں کہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک ضابط اخلاق بنالیں کہ وہ صرف اپنامنشوربیان کریں گی ،عوام تک اپنافکروفلسفہ پہنچائیں گی اورکسی کے خلاف غلط اوربہودہ زبان استعمال کرنے سے گریزکریں گی۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیاجانتی ہے کہ ایم کیوایم کاعوامی اجتماع کیساہوتاہے، تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں کراچی میں جلسے کیلئے آپس میں اتفاق سے اپنااپنادن مقررکرلیں پھرغیرملکی مبصرکی نگرانی میں فیصلہ ہوجائے گاکہ کس جماعت کا جلسہ نمبر ون ،ٹویاتھری ہے۔جناب الطاف حسین نے عوام کوحج اکبرکی مبارکباددیتے ہوئے کہاکہ عیدالاضحی کی آمدہے ،ایم کیوایم کافلاحی ادارہ خدمت خلق فاؤنڈیشن آزادکشمیر،فاٹااورگلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں عوام کی خدمت کررہاہے۔انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ سنت ابراہیمی ؑ اوران کے فرزندحضرت اسمعیل ؑ نے اللہ کی راہ میں قربانی دینے کافیصلہ کیاتواللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی قبول کرلی اورحضرت اسماعیل ؑ کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا ، جب اللہ کی راہ میں قربانی کا مرحلہ آیاتومیں نے اپنے بڑے بھائی اورجواں سال بھتیجے کواللہ کی راہ میں قربان کردیا۔تحریک کے شہداء کی بدولت ایم کیوایم آج سلامت ہے ،تحریک کے شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ایم کیوایم اس مقام پرہے ۔انہوں نے حق پرست شہداء کی ارواح کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے شہید ساتھیوں کونہیں بھولا،آج حج اکبرکے موقع پرشہداء کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں اوران کے بلنددرجات کیلئے دعاکرتاہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنی زندگی کے24سال اللہ کی راہ میں گزارے ہیں، اپنی ذات یااپنے خاندان کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے مظلوموں اوران کے بہترمستقبل کیلئے گزارے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کلمہ طیبّہ کادردکرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم ،پاکستان کی واحدجماعت ہے جوغریب کسانوں، ہاریوں،محنت کشوں اور محروموں کوزندگی کے ہرشعبے میںآگے بڑھتے دیکھناچاہتی ہے اوران کی ترقی وخوشحالی کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ،پاکستان سے گلاسڑافرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام اوروی وی آئی پی کلچرکاخاتمہ چاہتی ہے ،ایم کیوایم کے ذمہ داران اوروزراء کوبھی کہاجاچکاہے کہ وہ وی آئی پی کلچرسے دوررہیں۔میں نے غریب ومظلوم عوام کے حقوق کیلئے صرف زبانی جمع خرچ نہیں کی بلکہ پاکستان کی 67سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف ایم کیوایم نے غریب ،تعلیم یافتہ فردکوانتخابات میں کامیاب بناکر جاگیرداروں ، وڈیروں اورسرداروں کے برابرمیں بٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کی خدمت کرناعبادت ہے اورایم کیوایم عوام کی خدمت عبادت سمجھ کراداکررہی ہے اورہم حقوق العبادکی ادائیگی کرتے رہیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چارروزقبل میں نے آرمی چیف کے نام ایک کھلاخط تحریرکیاتھااگرمیرے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تومیں ایک مرتبہ پھران سے معذرت خواہ ہوں اور مسلح افواج کویقین دلاتاہوں اگرخدانخواستہ پاکستان پرمشکل وقت آیاتوایم کیوایم کے کارکنان مسلح افواج کے شانہ بشانہ ملک دشمن قوتوں کامقابلہ کریں گے،ہم پاکستان کی سلامتی وبقاء اوراستحکام کی خاطر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے ساتھ بہتراورخوشگوارتعلقات چاہتے ہیں۔اسی طرح ہم ملکی استحکام کی خاطر مسلح افواج سے بھی بہترانڈراسٹینڈنگ چاہتے ہیں،اس پراگرکچھ لوگ یہ کہیں کہ ایم کیوایم فوج کو کیوں درمیان میں لارہی ہے یہ عوام کے ٹیکسوں پرپلتے ہیں توملک کی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں،وکلاء انجمنوں اورانسانی حقوق کی تنظیموں سے کہتاہوں کہ اگر اس نکتہ پر انہیں مجھ سے مناظرہ کرناہے تومیں ان سب سے ایک ساتھ مناظرہ کرنے کیلئے تیارہوں۔اب توایم کیوایم کے پاس آئینی ماہرین موجودہیں اس کے باوجودمیں ان تمام انجمنوں سے تنہاء مقدمہ لڑنے کیلئے تیارہوں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ وہ وقت آنے والاہے جب غریب ومتوسط طبقہ کے پنجابی ، پختون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی ، بلتستانی تمام لوگ ایم کیوایم کے پرچم تلے متحدہوں گے۔ملک بھرکے مظلوموں کے حقوق کیلئے جدوجہدکوآگے بڑھائیں گے، بلوچستان کے لوگوں پر بہت ظلم ہواہے جسے دیکھ کرمیرادل خون کے آنسوروتاہے، اگرہمیں موقع ملاتو بلوچستان کے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، جتنے ناراض لوگ ہیں انہیں منائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ سسٹم جمہوریت کیلئے لازمی ہے، ایم کیوایم کی حکومت آئی توہم لوکل گورنمنٹ سسٹم رائج کریں گے ، محروم لوگوں کوپینے کاصاف پانی فراہم کریں گے جن سے وہ آج کے اس جدیددورمیں بھی محروم ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کوبہتراندازمیں چلانا ہے تونئے انتظامی یونٹس بناناہوں گے اوراختیارات کونچلی سطح پر تقسیم کرناہوگا،ناانصافیوں اورزیادتیوں کوختم کرناہوگااورسب کے ساتھ مساوی سلوک کرناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کاایک صوبہ ہے اوربعض رہنمااورسندھی دانشوراورقوم پرست کہتے ہیں کہ سندھ میں رہنے والے سب سندھی ہیں اور ہم اردوبولنے والوں کوبرابرکاشہری سمجھتے ہیں لیکن یہاں فیصلے اس سوچ کے برعکس ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں حکومت سندھ نے کراچی میں کالجوں میں داخلو ں کیلئے الگ اورمخصوص نظام نافذ کیاہے کہ کراچی کے انٹرمیں داخلوں کے خواہشمند طلبہ وطالبات سندھ کے محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ سے 100صفحات پر مشتمل داخلہ فارم ڈاؤن لوڈ کریں اوراسے بھرکرصرف سندھ بینک میں جمع کرائیں ۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاکراچی کے ہرگھرمیں کمپیوٹرہے ؟ کراچی کے غریب طلبہ وطالبات اس 100صفحہ کے داخلہ فارم کوکس طرح ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں؟یہ نیاسسٹم رائج کرکے اورطلبہ کے داخلہ فار م میں گڑبڑ کرکے کراچی کے طلبہ وطالبات کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگراس طرح کے غیرمنطقی فیصلے کئے جائیں گے اوراس کورائج کرنے کیلئے حکمراں زیادہ اکڑیں گے تولوگ میدان میں آنے پر مجبورہوں گے اورپھر’’ سندھ بینک ‘‘ کے جواب میں ’’کراچی بینک ‘‘ بھی ہوگا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم جب اس کھلے ظلم وناانصافی اورحق تلفی کے خلاف آوازبلند کرتے ہیں توپنجاب کے بعض وہ دانشور بھی میدان میں آجاتے ہیں جودراصل ’’ دانش خور ‘‘ ہیں۔ یہ دانش خورسندھ میں بڑے بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں کے ہاں قیام کرتے ہیں، ان کے ساتھ شکار کرتے ہیں اوررنگین رنگین شربت بھی پیتے ہیں وہ لکھناشروع کردیتے ہیں کہ الطاف حسین اچانک مہاجرکی بات پر کیسے اترآیا؟ جی ایچ کیو میں بیٹھے ہوئے وردی والے بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اچھاخاصہ ’’اردوبولنے والے‘‘ چل رہاتھا ، الطاف حسین نے پھرمہاجر، مہاجر شروع کردیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم کیاکریں، ہم پوری کوشش کرکے لوگوں کوجوڑتے ہیں لیکن حکمراں مہاجروں کے ساتھ کھلی ناانصافیوں اورزیادتیوں کے ذریعے ہمیں مہاجرکی بات دوبارہ کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔اب اس پر فوج والے کہیں گے کہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ کاہے، وہاں حل کرائیں توپارلیمنٹ میں یہ مسائل کیسے حل ہوں ، وہاں تویہی جاگیردار، وڈیرے اورسرداربیٹھے ہیں بظاہر توان کی قومیتیں مختلف ہیں لیکن دراصل یہ آپس میں ایک ہی خاندان کی حیثیت رکھتے ہیں،انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کوبیٹیاں دے رکھی ہیں، ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ان جاگیرداروں وڈیروں کے بچوں کے پڑھنے کیلئے اسکول اورکالج الگ ہیں جبکہ غریبوں کے بچوں کیلئے تعلیمی ادارے الگ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہوناچاہیے ، ایک ہی طرح کے اسکول اورکالج ہونے چاہئیں جہاں امیرکابچہ بھی پڑھے اورغریب پیازوالے کابچہ بھی پڑھے۔ انہوں نے کہاکہ گورنر پنجاب چوہدری محمدسروربہت ہی اچھے انسان ہیں،اللہ انہیں خوش رکھے اوران پر اپنی رحمت ناز ل کرے، انہوں نے لاہورکے ایچی سن کالج میں داخلوں کیلئے کوٹہ ختم کرکے میرٹ کانظام نافذ کیا، جب داخلوں کیلئے ٹیسٹ ہوئے توتمام مراعات یافتہ طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے بچے فیل ہوگئے ، بدقسمتی سے یہی لوگ ہمارے حکمراں بنتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے پاکستان بھرکے عوام سے ا پیل کی کہ وہ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں ایم کیوایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کودیں جو غریب ومستحقین کی بلاامتیاز خدمت کررہی ہے، جس نے ایمبولینس سینٹر،میڈیکل سینٹر،اسپتال، اسکول ، یونیوسٹی اوردیگرادارے قائم کئے ہیں۔خدمت خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولینس اورمیت بس سروس صرف کراچی یاسندھ تک ہی محدودنہیں بلکہ اس کادائرہ ملک کے کئی شہروں میں ہے اورہم اس کوملک کے ہر شہر میں قائم کرنا چاہتے ہیں لہٰذامخیرحضرات اس مقصدکیلئے ایمبولینسیں اورمیت بسیں عطیہ کریں ۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تمام کارکنان کو تلقین کی کہ وہ عیدالاضحی کے موقع پربھی تنظیمی نظم وضبط کی سختی سے پابندی کریں ،دھونس دھمکی یازبردستی کسی سے قربانی کے جانوروں کی کھالیں نہ لیں۔اگرکسی کے خلاف یہ شکایت ملی تواسے تنظیم سے خارج کردیاجائیگا۔انہوں نے کراچی کے ایک علاقے میں عوام کی جانب سے ڈاکوؤں کوپکڑنے کے عمل کوسراہتے ہوئے کہاکہ اگرہرعلاقے اورہرشہر کے لوگ اسی طرح چوکس اورہوشیار ہوجائیں تو انہیں پولیس کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ 


12/9/2016 8:58:56 PM