Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستانی فوج کے سپہ سالار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے 14 انتہائی اہم سوالات


پاکستانی فوج کے سپہ سالار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے 14 انتہائی اہم سوالات
 Posted on: 9/26/2014
پاکستانی فوج کے سپہ سالار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے 14 انتہائی اہم سوالات 
اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو ایک سب سے بڑا منصب اور طاقتور عہدہ عطا فرمایا ہے، الطاف حسین
رینجرز نے آپریشن کیا ہے اور جگہ جگہ ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاریاں کیں ہیں ان میں سے 41 کارکنان اب تک لاپتہ ہیں، الطاف حسین 
فوج یونیٹی کا سنبل ہوتی ہے یا قوم کو گالیاں دے کر لسانیت اور صوبائیت میں بانٹنے کا کام انجام دینا بھی فوج کے فرائض میں شامل ہیں؟ الطاف حسین
فوج کے خود احتسابی عمل کے دوران تشدد کے ذریعے ایم کیوایم کے کارکنان کو ہلاک کرنے والے کتنے افسران اور سپاہیوں کو سزا دی گئی؟ الطاف حسین 
ماورائے عدالت قتل، چھاپے گرفتاریوں اور دفاتر و گھروں پر چھاپوں کا مرکز صرف اور صرف ایم کیوایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کے دفاتر اور گھروں کو کیوں بنایا گیا، الطاف حسین 
میرے بھائی اور بھتیجے کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا، کس قصور اور جرم میں؟ الطاف حسین
پولیٹیکل ویکٹا مائزیشن کے تحت قتل کرنے کا لائسنس کوئی بھی حکومت نہیں دیتی ہے۔ الطاف حسین
ہم مہاجروں کو Finally آخری بار فوج بتائے کہ ہم کیا کریں؟ ہمارے لئے فوج کے دل میں سب کچھ لٹا دینے کے باوجود آج تک اپنائیت یا قبولیت کیوں نہ آسکی، الطاف حسین 
میرے سوالات ایک ایک مہاجر بزرگ، ماں، بیٹی حتی کہ نواجونوں اور معصوم بچے بچیوں کی آواز ہیں جو چھاپوں کے دوران انتہائی بیہودہ اور غیر قانونی طرز عمل دیکھتے ہیں
لندن۔۔۔26،ستمبر2014ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے اپنے ایک انتہائی اہم بیان میں پاکستانی فوج کے سپہ سالار چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے پیرا ملٹری فورسز اور فوج کے ایم کیوایم کے ساتھ طرز عمل کے حوالے سے 14سوالات کئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ سوالات ایک ایک مہاجر بزرگ ، ماں ، بیٹی حتی کہ نواجونوں اور معصوم بچے بچیوں کی آواز ہیں جو چھاپوں کے دوران انتہائی بیہودہ اور غیر قانونی طرز عمل دیکھتے ہیں ۔ انہوں نے چیف آف آر می اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو ایک سب سے بڑا منصب اور طاقتور عہدہ عطا فرمایا ہے آپ سے میری درخواست ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کے اس عطا کردہ انعام پر اس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے کے بعداپنے منصب سے انصاف کریں اور یہ بھی یاد رکھئے کہ روز محشر حساب کتاب ہوگا تو اس میں چیف آف آرمی اسٹاف ، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہوں کو حساب کتاب سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا ۔
-1 جناب الطا ف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے اپنے پہلے سوال میں کہا کہ جب سے کراچی میں رینجرز نے آپریشن کیا ہے اور جگہ جگہ ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاریاں کیں ہیں ان میں سے 41کارکنان اب تک لاپتہ ہیں ۔ 
-2 رینجرز کی حراست کے دوران ایم کیوایم کے وہ کارکنان جو بہیمانہ تشدد کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے ا ن کی لاشیں کراچی کے دور دراز علاقوں، جنگلوں او ر سڑکوں پر پھینک دی گئیں ، فوج کے خود احتسابی عمل کے دوران تشدد کے ذریعے ایم کیوایم کے کارکنان کو ہلاک کرنے اولے کتنے افسران اور سپاہیوں کو سزا دی گئی ؟
-3 سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی بدامنی کیس پر سپریم کورٹ کی بینچ نے فیصلہ دیا کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں ، تنظیموں کے عسکری ونگز ہیں جن میں عوامی نیشنل پارٹی ، سنی تحریک ، جماعت اسلامی ، متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان پیپلزپارٹی اور دیگر چند مذہبی اورمسلک کے نام پر قائم کی گئی جماعتیں شامل ہیں لیکن ماورائے عدالت قتل ، چھاپے گرفتاریوں اور دفاتر و گھروں پر چھاپوں کا مرکز صرف اور صرف ایم کیوایم کے رہنما ؤ ں اور کارکنوں کے دفاتر اور گھروں کو کیوں بنایا گیا ؟ 
-4 کسی بھی ملک کی فوج یونیٹی کا سنبل ہوا کرتی ہے لیکن 19جون 1992ء کو جب فوج نے 72بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر آپریشن کا رخ صرف اور صرف ایم کیوایم کی جانب موڑا ؟۔ فوج کے سربراہ سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آصف نواز مرحومم نے یہ کیوں کہا کہ الطاف حسین کا چیپٹر آج سے کلوز ہوگیا ؟۔اسی جنرل نے یہ کیوں کہا کہ جب دیگر جماعتوں میں دو ، تین گروپ ہوسکتے ہیں تو ایم کیوایم میں دو یا اس سے زائد گروپ کیوں نہیں ہوسکتے ؟ کیا فوج کے فرائض منصبی میں یہ سب کچھ کہنا آئینی ، قانونی اور فوجی اصولوں کے مطابق تھا؟ اگر نہیں تو فوج نے جنرل آصف نواز کو سزا کیوں نہیں دی ؟ 
-5 فوج کے بریگیڈیئر آصف ہارون نے پنجاب سے صحافیوں کو بلا کر جناح پور کا خود ساختہ جعلی نقشہ صحافیوں میں تقسیم کیا کہ یہ چھاپے کے دوران ایم کیوایم کے دفتر سے برآمد ہوئے ہیں یہ الزام سراسر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی تھا جس کے شواہد آج بھی فوج میں تو نہیں لیکن ریٹائرڈ فوجیوں کی حیثیت سے زندہ ہیں ۔ اقوام متحدہ کی عدالت لگا لی جائے یا GHQمیں عوامی عدالت لگا لی جائے تو وہاں ایسے عینی شاہدین اور عینی سابقہ فوجی افسران کو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اس گارنٹی کے ساتھ کہ ان کی گواہی کے بعد کہ ان کے خلاف یا ان کے خاندان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوگی ۔
-6 19جون 1992ء کو شروع کئے جانے والے ایم کیوایم اور مہاجر وں کے خلاف آپریشن میں اس دن سے لیکر آج کے دن تک پندرہ ہزار سے زائد کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے یہاں میں اس نسبت سے ایک اور سوال یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اس جاری قتل عام کے دوران میرے بڑے بھائی 70سالہ ناصر حسین جنہوں نے پوری زندگی حکومت پاکستان کی خدمت کی اور ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے ان کے بیٹے یعنی میرے بھتیجے 28سالہ عارف حسین نے این ای ڈی یونیورسٹی سے گریجویشن کی تھی ، ٹیوشن اور باپ کی پنشن ملا کر گھر کا خرچ چلایا جاتا تھا ، دونوں کو رینجرز نے پولیس کے ساتھ گرفتار کیا ، 5، 6دسمبر1995ء کو 3روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں لے کر میرے ایک ایک بھائی اوربہن کے گھر گئے اور 9دسمبر 1995کو انہیں کراچی کے ایک مضافاتی علاقے گڈاپ میں لے جاکر گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ، کس قصور اور جرم میں ؟ جبکہ وہ نہ تو ایم کیوایم کے ممبر تھے اور نہ ہی وہ کسی اور سیاسی و سماجی جماعت کے ممبر تھے ان کے قاتلوں کو فوج آج تک تلاش کرنے میں ناکام کیوں رہی؟ اگر اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کام فوج کا نہیں حکومت کا ہوتا ہے تو جب حکومت فوج کو گرفتار کرنے کا آرڈر دیتی ہے بے گناہ لوگوں کو ۔ پولیٹیکل ویکٹا مائزیشن کے تحت قتل کرنے کا لائسنس کوئی بھی حکومت نہیں دیتی ہے ۔ 
-7 کیا فوج کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ جب کہیں آپ آپریشن کریں ، چھاپے ماریں ، گرفتاریاں کریں تو وہاں ماؤں ، بہنوں کو زدو کوب کریں ، ان کی بے حرمتی کریں ، حتیٰ کہ ان کے ساتھ زیادتی کا عمل کریں اور کھلم کھلا بزرگوں کو بھی ماریں ، گالیاں بکیں کہ تم انڈین ایجنٹیوں ، راجیو کی الادوں ، گاندھی جی کی اولادو، ’’را‘‘ کے ایجنٹوں تمہیں کس نے پاکستان بلایا تھا اے مہاجروں تم غدار ہو واپس انڈیا جاؤ کیا فوج یونیٹی کا سنبل ہوتی ہے یا قوم کو گالیاں دے کر لسانیت اور صوبائیت میں بانٹنے کا کام انجام دینا بھی کیا فوج کے فرائض میں شامل ہیں ؟ 
8 اس کے علاوہ مظالم کی طویل فہرست میں جسے میں تو بیان کرسکتا ہوں لیکن اسے آپ کے پورے ادارے کے پاس پڑھنے کی توفیق نہیں ہوسکتی ۔ میں نے فوج کے بریگیڈیئر ، جنرلز اور افسران جن سے ملاقات ہوئی ان سے کہا کہ 19جون 1992ء کے بعد گھر گھر ، آفس آفس اور جہاں جہاں ساتھیوں نے حفاظت کیلئے ویڈیو ، فوٹو اور لٹریچر چھپایا تھا وہاں بھی انہیں مار مار کر اتنا مجبور کیا کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ بتادیتے ۔ انہوں نے بتایا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں ویڈیو ز ، آڈیوز اور فوٹو گراف و لٹریچر لے گئے ۔ میں نے صرف 3کی درخواست کی تھی کہ چلیں کاغذات آپ اپنے پاس رکھ لیں اور ویڈیوز ، آڈیوز ، فوٹو گراف اور لٹریچر کی کاپیاں بنا کر وہ بھی رکھ لیں یہ پارٹی کا تاریخی ورثہ ہے خدارا ، للیٰ اسے پارٹی کو اوپس کردیں لیکن آج تک پارٹی کا جو سامان گھروں اور دفاتر سے لیا گیا واپس نہیں کیا گیا آخر کیوں ؟ 
-9 یوں تو ہزاروں دردناک ، المناک باتیں سنانے اور لکھنے کیلئے ہیں مگر شاید کہ آپ کی پوری فوج کے پاس اتنا وقت نہ ہو کہ اسے پڑھ سکے ۔ دہشت گردوں کے خلاف جنہوں نے GHQ، کامراہ بیس ، بحریہ بیس کراچی ، آئی ایس آئی کی بلڈنگ پر حملے کئے ، جنہوں نے جرنیلوں ، افسرا ن پر حملے کرکے انہیں قتل کیا ، جنہوں نے فوجی قافلوں کو بموں سے اڑایا ، بچیوں کے اسکولوں کو تباہ کیا ، مساجد ، امام بارگاہوں ، اولیائے کرام اور بزرگان دین کے مزارات کو بموں سے اڑایا گیا ان دہشت گردوں کے خلاف جب جب فوج نے عزم کیا ایکشن لینے کا تو واحد ملک کی اگر کوئی جماعت تھی تو وہ ایم کیوایم تھی جو تمام تر آنسوؤں، دکھوں اور زخموں کو چھپا کر میدان میں آئی اور ایک ملین مارچ فوج کی حمایت میں کیا اور فوج کو خراج عقیدت اور سلام تحسین پیش کرتے ہوئے ایم کیوایم نے سیلوٹ کیا۔ اس کے علاوہ کسی جماعت کے مائی کے لعل لیڈر میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ ہزار لوگوں پر مبنی مارچ ہی فوج کی حمایت میں نکال دیتے ۔ ہر لمحہ میں (الطاف حسین ) نے ایم کیوایم کا نام لیکر فوج کے ذمہ داران کو بار بار غیر مشروط پیشکش کی کہ جب ضرورت ہو میں ایک لاکھ ساتھی ملک کی بقاء و سلامتی اور فوج کے ساتھ تعاون کیلئے دینے کو تیار ہوں جبکہ یہ پیشکش کوئی اور مائی کا لعل لیڈر اورجماعت پیش نہیں کرسکی ۔ 
-10 حال ہی میں اسلام آباد میں دھرنا دینے والی جماعتوں کے لوگوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر حملہ کیا ، کیمرے لے گئے ، توڑ پھوڑ کی اور دیگر مقامات پر حملے کئے مگر وہاں تو رینجرز کی کوئی چڑیا بھی آگے بڑھ کر انہیں روکنے کیلئے حرکت میں کیوں نہیں آئی ؟
-11 گزشتہ روز جب رینجرز نے اسکیم 33کراچی میں چھاپہ ماررہی تھی اس دوران حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل سزواری و دیگر ذمہ داران وہاں پہنچے تو چاروں طرف سے علاقہ بند تھا وہ گاڑی سے باہر آئے انہوں نے چیخ کر اپنا تعارف کروایا کہ ہم علاقے کے منتخب صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں ہم رینجرز کے کسی ذمہ دار سے ملنا چاہتے ہیں ، رینجرز کا ایک سپاہی ان کے قریب آیا تعارف کے بعد اس نے کہا کہ یہیں کھڑے رہیں آگے جانے کی اجازت نہیں ۔ ان سے فیصل سبزواری نے کہا کہ میں میجر صاحب سے ملنا چاہتا ہوں ان کے ساتھ ایک اور سپاہی واپس آیا اور فیصل سبزواری کو جواب دیا کہ میجر آپ سے اس وقت نہیں مل سکتے بہتر ہے آپ مزید بحث کے بجائے گاڑی موڑ کر واپس چلے جائیں تو اسی میں بہتری ہوگی وہ شریف بچہ گاڑی موڑ کر واپس آگیا ۔ کیا منتخب نمائندوں سے رینجرز کے میجر ، کیپٹن ، بریگیڈیئر اور افسران کا درجہ آئینی اعتبار سے کیا زیادہ بڑا ہوتا ہے ؟ 
-12 چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب ، کو کمانڈر ز اور مسلح افواج کے سربراہاں ہمارے بزرگوں نے وطن بنایا ، ہجرت کی ہم یہیں پاکستان میں پیدا ہوئے اور ہمیں ابھی بھی انڈیا کے بھگوڑوں ، انڈیا کے ایجنٹوں ، ’’را‘‘ کے ایجنٹوں ، انڈیا واپس جاؤ کہ طعنے پیرا ملٹری اور فوج کے سپاہی اور افسران دیتے رہے ہیں ہم مہاجروں کو Finallyآخری بار فوج بتائے کہ ہم کیا کریں ؟ ہمارے لئے فوج کے دل میں سب کچھ لٹا دینے کے باوجود آج تک اپنائیت یا قبولیت کیوں نہ آسکی ؟۔ اگر یعنی لوگوں کے دلوں میں نہ 
آسکی تو فوج کے لوگوں کے دلوں میں بھی ہمارے لئے ایسے نفرت انگیز جذبات پوری طرح سے کیوں نہ نکل سکے ؟ اس لئے پوری طرح کا لفظ استعمال کیا ہے کہ سارے فوجی ایسے نہیں ہیں لیکن جنرل صاحب ! چند مچھلیاں ہی تو تالاب کو گندا کرتی ہیں ۔ 
-13 40، 40دن ہوگئے ہیں کچھ جماعتوں کو ریڈ زون جانے اور دھرنے دینے کی اجازت ہے بڑی خوشی کی بات ہے ۔
-14 اگر ایم کیوایم ، اسلام آباد ، ریڈزون میں ایک ہفتہ بعد دھرنے دینے کا بھر پور اعلان کریں تو فوج ، رینجرز اور پولیس حرکت میں تو نہیں آئیں گے ؟۔
محترم جنرل صاحب جو میں نے لکھا ہے یہ ایک ایک مہاجر بزرگ ، ماں ، بہن ، بیٹی حتیٰ کہ نوجوان معصوم بچے بچیوں جو چھاپہ لے دوران منفی طرز عمل دیکھتے ہیں ان کی آواز ہے اور یہ سوالات سب کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر رہے (آمین) 

12/9/2016 11:56:25 AM