Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں کل بھی مسلح افواج اور پاکستان کا ہمدرد تھا اور آج بھی ہوں، الطاف حسین


میں کل بھی مسلح افواج اور پاکستان کا ہمدرد تھا اور آج بھی ہوں، الطاف حسین
 Posted on: 9/25/2014
میں کل بھی مسلح افواج اور پاکستان کا ہمدرد تھا اور آج بھی ہوں، الطاف حسین
مسلح افواج کا کام انصاف کرنا، مساوات قائم کرنا اور ایمانداری سے فیصلے کرنا ہے
ایم کیوایم کے دفتر پر چھاپہ مارنے اور کارکنوں کو گرفتار کرنے والے رینجرز کے اہلکاروں کو برطرف نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے
اگر اردو بولنے والے مہاجر اور سندھی دونوں برابر ہیں تو پر 60:40 کا تناسب کیوں ہے؟
مہاجر عوام 67 سال سے پاکستان بنانے کی سزا بھگت رہے ہیں، انہیں برابر کا پاکستانی نہیں سمجھا جاتا
قرضے معاف کرا کر بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والے دوسروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی تلقین کررہے ہیں
ایم کیوایم، اسٹیٹس کو، توڑ کر ملک پر غریبوں کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے
فوج کے خلاف بات کرنے والے اندر سے ملے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے جرنیلوں کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں
قائد متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کا خصوصی انٹرویو
لندن۔۔۔24، ستمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں کل بھی مسلح افواج اور پاکستان کا ہمدرد تھا اورآج بھی ہوں لیکن میں نے کسی کی ناجائز بات نہ کل مانی تھی نہ آج مانوں گا۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ مسلح افواج کا کام انصاف کرنا، مساوات قائم کرنا اور ایمانداری سے فیصلے کرنا ہے ، رینجرز کے جن اہلکاروں نے ایم کیوایم کے دفتر پر چھاپہ مارکرکارکنوں کو گرفتارکیا ہے اگر ان اہلکاروں کوبرطرف نہ کیا گیا تو ایم کیوایم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے دفتر پر رینجرز کے چھاپے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ کراچی آپریشن کے دوران ایم کیوایم واحد جماعت ہے جس کے درجنوں کارکنوں کوغیرقانونی طورپر گرفتارکرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا، گرفتار کر کے بہیمانہ تشدد کیاگیا اور گالیاں دی گئیں کہ تم اندرا گاندھی کی اولاد ہو انڈیا واپس جاؤ، بعض گرفتارکارکنان کی تشددزدہ اورسربریدہ لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے سندھ میں چوروں، ڈاکوؤں اور پتھاریداروں کو پناہ دینے والوں کی حکومت ہے ، یہی عناصر سندھ کے وزیراورنامی گرامی لوگ بنتے ہیں جو عوام کے ترقیاتی کام کرنے کے بجائے عیاشیوں میں مصروف رہتے ہیں،پولیس ان عناصرکے کرتوت دیکھ کر امن واما ن برقراررکھنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کرتی اور قیام امن کیلئے حکومت نے رینجرز کو تعینات کررکھا ہے جس پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر ایم کیوایم کودوسال کیلئے سندھ کی حکومت دیدی جائے توہمیں سندھ میں رینجرز درکارنہیں ہوگی، ہم قیام امن کیلئے میرٹ کی بنیاد پر پولیس سے کام چلالیں گے پھر میں دیکھوں گاکہ بھتہ خوری، زمینوں پرقبضے، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں اور سڑکوں پر لوٹ مار کیسے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سے کہاجاتا ہے کہ مہاجر اور سندھی دونوں برابر ہیں ، 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو نے دیہی سندھ کے عوام کو شہری آبادی کے برابر لانے کیلئے دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کیا جو 60 سال گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اگر اردوبولنے والے مہاجر اور سندھی دونوں برابر ہیں تو پر 60:40 کا تناسب کیوں ہے ؟ تعصب ، عصبیت اورناانصافیوں کے مسلسل عمل کے باوجود کہاجاتا ہے کہ مہاجروں کو صوبہ کیوں چاہیے۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ ہمیں اپنا صوبہ چاہیے اور اب صوبے کو بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرز کے اہلکاروں نے صوبائی وزیرفیصل سبزواری کو انکے دفتر میں جانے سے روک دیا، اگر فوج کی نظر میں منتخب نمائندوں کی یہ حیثیت ہے تو فوج آج ہی ٹیک اوورکرلے ، اسلام آباد میں دھرنے ختم کرادیں، نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹادیں اور نوازشریف سمیت دیگر لوگوں سے معلوم کیاجائے کہ ان کے پاس اتنے بڑے بڑے محلات اور راجواڑے کہاں سے آئے ۔انہوں نے کہاکہ جنہوں نے اربوں روپے کے قرضے لیکر معاف کرائے ، امریکہ اور برطانیہ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی وہ دوسروں کوپاکستان میں سرمایہ کاری کی تلقین کررہے ہیں تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی برسوں کی کمائی کو دوبارہ لوٹا جاسکے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 19، جون 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا گیاتو اس وقت بھی دھوکہ دیتے ہوئے کہاگیا کہ یہ آپریشن 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف ہوگا کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگامگر اس فہرست میں شامل کسی ایک بھی فرد کو نہیں پکڑا گیا بلکہ آپریشن کا رخ ایک طبقہ آباد ی اردو بولنے والوں یعنی مہاجروں کے خلاف کردیا گیا۔ سابق آرمی چیف آصف نواز کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب دومسلم لیگ ہوسکتی ہے تو ایم کیوایم کے کئی گروپ کیوں نہیں ہوسکتے اور آج کے بعد الطاف حسین کا چیپٹر کلوز ہوگیا لیکن جنوری 93ء میں آصف نواز کا چیپٹر کلوز ہوگیا اور آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکنان کے جسموں میں کئی دفعہ ڈرل کرنے والے آصف نواز کی قبرکھود کرانکے جسم میں ڈرل کی گئی ، بعض فوجیوں کی سمجھ میں یہ مکافات عمل نہیں آرہا ہے اور وہ مہاجردشمنی میں لگے ہوئے ہیں ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، اسٹیٹس کو،کوتوڑنا چاہتی ہے ، ملک پر غریبوں کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے اور ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدارا آپ پاکستان کو بچالیں، مہاجرعوام67 سال سے پاکستان بنانے کی سزا بھگت رہے ہیں، ان پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑے جارہے ہیں اور انہیں برابر کا پاکستانی نہیں سمجھاجاتا۔ ایم کیوایم اور فوج کے درمیان فاصلے ابھی ختم ہورہے تھے کہ چند عناصر ایم کیوایم کے دفاتر، کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارکے اور کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کرکے ایم کیوایم اور فوج میں دوریاں پیدا کررہے ہیں۔ انتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کو ایم کیوایم نے سپورٹ کیا، فوج کے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایم کیوایم کے سوا کسی جماعت نے ون ملین سیلوٹ مارچ نہیں نکالالیکن اس کے باوجود ہمارے ساتھ یہ متعصبانہ اور ظالمانہ سلوک کیاجارہا ہے ، ہمیں بتایا جائے کہ آخرہم سے کیا قصورہوگیا؟دوروزقبل میں نے ایک نجی ٹی وی چینل کی نشریات بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیا آج ایم کیوایم کے دفتر پر چھاپہ اس مطالبے کی سزا ہے ؟جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں انصاف پسند انسان ہوں ، جب سابق چیف جسٹس کی بحالی کیلئے آئی ایس آئی کے پیسوں سے لانگ مارچ ہورہے تھے اور وکلاء برادری فائیواسٹار ہوٹل میں ٹھہرتے تھے ، صبح اسلام آباد شام کو سکھرجاتے تھے پھر کوئٹہ جاتے تھے اور ریاست ہوگی ماں کے جیسی ، نعرے لگاتے تھے اور سابق چیف جسٹس کی گاڑی ڈرائیو کرتے تھے وہ بظاہر فوج کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن اندر سے ملے ہوئے ہیں اورآج بھی بڑے بڑے جرنیلوں کی گود میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں کل بھی مسلح افواج اور پاکستان کا ہمدرد تھا اورآج بھی ہوں لیکن میں نے کسی کی ناجائز بات نہ کل مانی تھی نہ آج مانوں گا، چاہے مجھے بیرون ملک قتل کردیا جائے یا پاکستان میں ظلم وستم کی انتہاء کردی جائے میں سچ بات کہتارہوں گا۔ 

12/8/2016 6:06:26 PM