Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لفظ مہاجر ہماری شناخت ہے ،کوئی قیامت تک یہ شناخت نہیں مٹاسکتا۔الطاف حسین


 لفظ مہاجر ہماری شناخت ہے ،کوئی قیامت تک یہ شناخت نہیں مٹاسکتا۔الطاف حسین
 Posted on: 12/13/2020
 لفظ مہاجر ہماری شناخت ہے ،کوئی قیامت تک یہ شناخت نہیں مٹاسکتا۔الطاف حسین
 مہاجرہندوستان سے اپنا کلچر، تہذیب وثقافت، رسم ورواج اورزبان بھی ساتھ لیکرآئے تھے 
 سندھ ہمارا وطن ہے ، ہم سندھ کی آزادی کی جدوجہد کرینگے لیکن مہاجر شناخت ختم نہیں کرسکتے 
 اگر سندھیوں اور مہاجروں نے ایک دوسرے کو کھلے ذہن ودل سے تسلیم نہیں کیا تو نقصان
 صرف اورصرف سندھ دھرتی ماں کا ہوگا
 تنقید کرنے والے بتائیں مہاجرنظریہ کس نے دیا؟ مہاجروں کو ایک پرچم تلے کس نے متحد کیا؟ 
 میری سوچ وفکراورخیالات سے اختلاف رکھنا ہرفرد کا جائز حق ہے لیکن بعض لوگ تحریک،
 نظریہ اورنظریہ کے خالق سے برسوں پرانے تعلق کو توڑ کرتحریک کی دشمن قوتوں سے مل گئے ہیں
 اپنی جان اورمال ومتاع بچانے کی خاطر عہدتوڑنے کا عمل حق کے قافلے کوچھوڑ کر یزیدی
 قوتوں سے ملنے کے مترادف ہے
قائدتحریک الطاف حسین کاسوشل میڈیا کے ذریعے کارکنان وعوام سے براہ راست وڈیو خطاب

لندن۔۔۔13، دسمبر2020ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اگر سندھیوں اور مہاجروں نے ایک دوسرے کو کھلے ذہن ودل سے تسلیم نہیں کیا تو نقصان صرف اورصرف سندھ دھرتی ماں کا ہوگا،مہاجر، سندھ دھرتی میں رہتے ہیں، ہمارا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے، ہم سندھ دھرتی کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن الطاف حسین نے قوم کو لفظ مہاجرپر متحدکیا ہے ، لفظ مہاجر ہماری پہچان اور شناخت ہے اورکوئی قیامت تک یہ شناخت نہیں مٹاسکتا۔ 

اب سندھ ہی ہمارا وطن ہے ، ہم سندھ کی آزادی کی جدوجہد کریں گے لیکن اپنی مہاجر شناخت ختم نہیں کرسکتے۔ ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے گزشتہ روز براہ راست وڈیو خطاب میںکیا۔ یہ خطاب جناب الطاف حسین کے آفیشل یوٹیوب چینل Revelations with Altaf Hussain اور آفیشل فیس بک کے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیں دیکھا گیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں 1992ء میں لندن آیا تھا تو آج کے نوجوانوںکی بڑی تعداد یا تو پیدا نہیں ہوئی تھی یا اس وقت ان کی عمر ایک یا دوسال تھی، وہ نوجوان بھی آج جئے مہاجراور جئے ایم کیوایم کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان نوجوانوں نے میری کوئی فکری نشست نہیں سنی لیکن مجھے خوشی ہے کہ وہ بھی میری باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور میرے خیالات سے متفق ہوکر جئے سندھ ، جئے سندھودیش کے نعرے لگارہے ہیں،میں ان تمام نوجوانوںکو شاباش، اپنا پیار اوردعائیں پیش کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری سوچ وفکر، خیالات اورنظریات سے اختلاف رکھنا ہرفرد کا جائز حق ہے لیکن جو عناصر میرے نظریہ اورجدوجہد کے نتیجے میں متحد ہوئے اورانہوںنے اس نظریہ اورجدوجہد کے فروغ کا عہد کیاتھا، آج وہ اپنے عہد کو توڑکر اختلاف کا نام دے رہے ہیں اور تحریک، نظریہ اورنظریہ کے خالق سے اپنے برسوں پرانے تعلق کو توڑ کرتحریک کی دشمن قوتوں سے مل گئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اپنی جان اورمال ومتاع بچانے کی خاطر عہدتوڑنے کا عمل حق کے قافلے کوچھوڑ کر یزیدی قوتوں سے ملنے کے مترادف ہے۔جناب الطاف حسین نے تاریخی قوموں کے ملاپ کے اسباب اوروجوہات پر تفصیلی اظہارخیال کرتے ہوئے پانی میں نمک اور شکر کے حل ہونے کا سائنسی تجربہ بھی کرکے دکھایا۔انہوںنے کہاکہ جولوگ کہہ رہے ہیں کہ سندھیوں اورمہاجروں کا ملاپ کیسے ہوگا ، انہیں سائنس کے تجربے کے ذریعے سمجھاناچاہتا ہوں اور اس کو سندھی اورمہاجر دونوں سمجھنے کی کوشش کریں۔ انہوںنے کہاکہ جب ہم پانی میں تھوڑاسا نمک یا شکر ملائیں اورچمچے سے ہلائیں تو ہم دیکھیں گے کہ کچھ لمحوں میں وہ نمک یاشکرپانی میں حل ہوجاتی ہے لیکن اگرہم نمک یا شکر زیادہ مقدار میں پانی میں حل کرنے کی کوشش کریںگے توہم دیکھیںگے کہ ایک مقام پرآکرنمک یاشکرکاپانی میںگھل جانے یا حل ہونے کاعمل بندہوجاتا ہے۔ جب گھل جانے یاحل ہونے کا عمل بندہوجائے تواس کو Saturation point 

کہاجاتا ہے یعنی اب نمک یاشکر پانی میں مزید نہیں گھل سکتے یعنی اب اس عمل میں سیچوریشن پوائنٹ (Saturation point)آگیا ہے۔اس موقع پر اس محلول کوآگ سے حرارت د ینے کے نتیجے میں اگرمحلول میں شکرہوتووہ شیرہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر تاریخی قوموں کے درمیان اتحاد، محبت ، جذبہ اوربھائی چارے میںمزید شدت پیداکی جائے توسائنسی تجربہ کے مطابق محبت وبھائی چارے اوراتحاد کی حرارت سے قوموں کے درمیان بھی ملاپ عمل میں آتا ہے ۔
 انہوںنے کہاکہ جب 1947ء میںہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو ہندوستان سے بہت بڑی تعداد میں لوگوںنے پاکستان سے ہجرت کی ، انڈیاسے آنے والے جب پنجاب پہنچے تو وہاں کے لوگوںنے انہیں کہاکہ پاکستان آگے ہے اوروہ سفر کرتے رہے یہاں تک کہ سندھ آگیا۔ انہوںنے کہاکہ سندھ میں موئن جو دڑو کے دورکا کوئی سندھی نہیں ، یہاں بھیل ، دراوڑ اورنجانے کون کون سی نسلیں آباد تھیں ، سندھ میں راجہ داہر کی بھی حکمرانی تھی اسی طرح بہت سی قومیں اورقبائل تھے جو مٹ گئے ۔ جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ سندھ دھرتی میں پنجاب، بلوچستان ،صوبہ سرحد اورافغانستان سے بھی لوگ آکر آباد ہوئے ، پاکستان کے موجودہ جغرافیہ سے باہر کے لوگ بھی آئے حتیٰ کہ عرب سے بھی لوگ آکر سندھ میں آباد ہوئے ، سائیں جی ایم سیدبھی عرب سے سندھ میں آئے تھے ، (اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور انکے درجات بلند فرمائے ) سائیں جی ایم سید نے سندھ میں بیداری کا نظریہ دیا لیکن بدقسمتی سے سندھ کے لوگوںنے ان کے نظریہ کی قدر نہیں کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہندوستان سے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی، مہاجروں کی بڑی اکثریت سندھ کے شہری علاقوں میں بس گئی جن کی تعداداتنی زیادہ تھی کہ انہیں مقامی آبادی میں ضم ہونے میں کئی رکاوٹوں اورمشکلات کا سامنا رہا۔ اس سچائی کو سندھی اورمہاجردانشوروں کو سمجھنا چاہیے کہ چٹکی بھر لوگوں کو بھی مقامی آبادی میں ضم ہونے میں بہت عرصہ درکارہوتا ہے جبکہ مہاجر تولاکھوں کی تعدادمیں سندھ میں آئے تھے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بھی فوج اورآئی ایس آئی کی جانب سے سندھی مہاجر کی بحث شروع کرکے اور نئے نئے ٹولوں کو مہاجرقوم اورسندھی قوم کا چورن دیکر میری اورسندھ دھرتی سے پیارکرنے والوں کی سندھ میں 

اتحاد ومحبت کی کاوشوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ جو لوگ سندھی دانشوروں کو بہکارہے ہیں کہ مہاجر، سندھی نہیں ہیں ، یہ وقتی طورپر اپنے آپ کو سندھی کہہ رہے ہیں میں ان سے سوال کرتاہوں کہ اردوبولنے والے کہاں سے آئے ؟ سندھی اور اردو زبان کہاں سے آئیں؟ سندھ میں موئن جو دڑو کے دور کی جوتحریریں ملی ہیں ، کیا کوئی سندھی اس کو پڑھ سکتا ہے؟سندھی زبان ہر جگہ بولی جاتی ہے لیکن آپ کو تھر، لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور اورٹھٹھہ سمیت دیگر علاقوں میں بولی جانے والی سندھی زبان کے لہجے میں واضح فرق نظر آئے گا۔ یہ دنیا کافارمولا ہے کہ کسی بھی علاقے کے ہر سو میل کے بعد وہاں کی زبان کا لہجہ تبدیل ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے زبان کے حوالے سے مزیدمثال دیتے ہوئے کہاکہ بھارت میں سنسکرت زبان کا جنم ہوا ، بعض ہندو آج بھی سنسکرت زبان بولتے ہیں لیکن عام ہندو سنسکرت زبان نہ بولتا ہے اورنہ سمجھ سکتاہے ،وہ ہندی بولتا ہے ،بھارتی فلمیں اورڈرامے بھی ہندی زبان میں ہی ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ زبان کاتعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتایا کسی بھی مذہب کی کوئی زبان نہیں ہوتی اور اگر کسی زبان کو کسی مذہب سے جوڑ دیاجائے تو وہ زبان اس خطے کی سرحد کبھی عبور نہیں کرے گی اورمحدودرہے گی ۔ اسی طرح دنیا بھر میں قرآن مجید عربی زبان میں پڑھاجاتا ہے لیکن جنہیں عربی زبان نہیں آتی وہ مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے ترجمے پڑھ لیتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ  کی زبان عبرانی تھی لیکن آج کتنے لوگ ہیں جو عبرانی زبان میں بائبل پڑھتے ہیں؟ اردو زبان ، ہندوستان میں پیدا ہوئی ، ہندوستان میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیا، حضرت خواجہ معین الدین چشتی  اور دیگر ہزاروں بزرگان دین کے مزارات ہیں جو 700/800 سال پرانے ہیں۔حضرت امیرخسرو کا کلام رنگ آپ نے سنا ہوگا یہ 700 سال قبل لکھاگیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی 99 فیصد اکثریت قبول اسلام سے قبل ہندو تھی جوکہ بزرگان دین کی تعلیمات کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ۔ یہ تاریخی حقائق ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم حقیقت کو سننا نہیں چاہتے اور حقیقت کو تسلیم نہ کرنے سے کس اور کا نہیں بلکہ آپ کاہی نقصان ہوتا ہے ۔ علیحدہ مذہبی شناخت کے باوجود ہم ہزاروں سال سے انڈین تھے اورزیادہ تر مذہب کی بنیادپرہی مسئلے کھڑے کیے جاتے رہے اور یہی چورن بیچا گیاکہ مسلمان الگ ہیں اورہندو الگ ہیں۔انہوںنے کہاکہ برصغیر کے عظیم دوراندیش رہنما حضرت 

مولاناابوالکلام آزاد نے 1947ء میںہجرت کرنے والے مسلمانوں کوروکنے کی بہت کوشش کی تھی کہ اپنا وطن چھوڑ کر مت جاؤ ، ہندو تمہارا مذہبی مخالف ہوسکتا ہے لیکن وطنی مخالف نہیں ، پاکستان میں تمہاری حیثیت بن بلائے مہمانوں جیسی ہوگی اورپاکستان 25 سال میں دولخت ہوجائے گا۔ یہ ہمارے بزرگوں کی غلطی تھی کہ انہوںنے مولانا ابوالکلام آزاد   کی دوراندیشی کو نہیں سمجھا اوران کی بات نہیں مانی ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اجداد نے ہندوستان کوتقسیم کیالیکن اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان بنانے کا فائدہ کس کو ہوا؟ہمیں ہزاروں سال کی دھرتی کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے تھا، اب ہم ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آگئے ہیں ، سندھ میں آباد ہوچکے ہیں اور اب سندھ دھرتی کو چھوڑ کر ہم کہاں جائیں گے ؟ سندھی بھائیوں کو سمجھنا چاہیے کہ مہاجروں نے ہندوستان سے صرف جسمانی طورپر ہی ہجرت نہیں کی تھی بلکہ وہ اپنے ساتھ اپنا کلچر، تہذیب وثقافت، رسم ورواج ، رہن سہن کا طریقہ کار اورزبان بھی لیکرآئے تھے۔مہاجروں کی اکثریت سندھ کے شہری علاقوں میں آباد ہوگئی لیکن مہاجراندرون سندھ میں جہاں جہاں آباد ہوئے وہ سندھی زبان بولنا ، لکھنا اورپڑھنا جانتے ہیں ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرمہاجر پانی کے گلاس میں ایک چمچ نمک کے برابر ہوتے تو قدرتی طورپر مقامی آبادی میں ضم ہوجاتے ، حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں دوبڑی قومیتیں آباد ہیں اورجب ہجرت کرکے آنے والی کوئی آبادی بہت بڑی تعداد میں کہیں جائے تواسے مقامی آبادی میں ضم ہونے میں برسوںلگتے ہیں۔یہ بات سائنسی تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ حرارت ملنے پر یہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں گی ، پھرپانی میں شکر، شکرنہیں رہے گی بلکہ شیرہ بن جائے گا۔ میں سندھی دانشوروں کو یہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ سندھی اورمہاجر اب سندھ دھرتی سے جانے والے نہیں ہیں ، فوجی اورآئی ایس آئی چند لوگوں کو تو قتل کرسکتی ہے لیکن وہ کروڑوں مہاجروں کو ختم نہیں کرسکتی 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجر ایک شناخت ہے ،اب مہاجروں کا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے اور باہمی اتحاد واحترام کا یہ عمل جاری رہا توکل مہاجروں کو سندھی بھی پوری طرح تسلیم کرلیں گے، لہٰذا میں مہاجروں کو یہی مشورہ دوں گا کہ اب آپ کو سندھ دھرتی میں ہی رہنا ہے ، یہیں جینا مرنا ہے ، یہیں پر کمانا اور خرچ کرنا ہے ، الطاف حسین نے قوم کو لفظ مہاجرپر متحدکیا ہے ، لفظ مہاجر آپ کی پہچان اور شناخت ہے اورکوئی قیامت تک مہاجر 

شناخت کونہیں مٹاسکتا۔ہم سندھ میں رہتے ہیں ، ہمارا جینا مرنا بھی سندھ دھرتی سے وابستہ ہے ، ہم سندھ سے کہیں اورنہیں جائیں گے، ہم سندھ دھرتی کو تقسیم کرنا نہیں چاہتے اوروہ غلطی دہرانا نہیں چاہتے جو ہمارے بزرگوںنے کی تھی ۔ اب سندھ ہی ہمارا وطن ہے ، ہم سندھو دیش اور سندھ کی آزادی کی جدوجہد کریں گے لیکن اپنی مہاجر شناخت ختم نہیں کرسکتے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ الطاف حسین رہے یا نہ رہے ، مہاجروں نے ذہن اوردل
 سے سندھ کو دھرتی ماں تسلیم کرلیا تو پھرسندھو دیش کی آزادی کے بعد کوئی بھی سندھی آپ کا حق نہیں مارے گا اور جو حق مارے گاتو یہ اس کی غلطی ہوگی اورسندھ دھرتی کے مفاد کے خلاف ہوگا ۔ انہوںنے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ مہاجرشناخت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور یہ حقیقت سندھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایم کیوایم کے نمائندے لفظ مہاجر پر قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان بنے ۔مہاجروں کو صوبہ نہیں آزادی چاہیے ، سندھ میں جوبھی رہے گا اس کا مذہب، مسلک اورزبان کچھ بھی ہو وہ سندھی ہی کہلائے گا۔ انہوںنے کہاکہ میں سندھ کی آزادی کیلئے جوکچھ ممکن ہوگا جدوجہد کروں گا لیکن اگر کوئی لفظ مہاجر کو برا کہے گا تو اس سے بحث ومباحثہ کروں گا۔ انہوںنے کہاکہ جب مہاجر اور سندھی ایک دوسرے سے گھل مل جائیں گے تو ایک دوسرے کی اچھی چیزیں رضاکارانہ طورپر اپنائیں گے اور سائنسی رحجان کے تحت پھر ایک ملی جلی نئی ثقافت اور زبان کا جنم ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ سندھی اورمہاجر ایک دوسرے کو کھلے دل سے تسلیم کریں ، اگر سندھیوں اورمہاجروں نے ایک دوسرے کو کھلے دل سے تسلیم نہ کیا تو نقصان صرف سندھ دھرتی کا ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے کاکہاکہ آج مہاجروں کو فیصلہ کرنا ہے وہ مہاجرچورن بیچنے والوں کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے ، یہ جعلی لوگ کہتے ہیں کہ اب الطاف حسین ، آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن خدا گواہ ہے کہ ان سب کو پتہ تھا کہ ہماری منزل کیا ہے، انشاء اللہ ہم آزادی حاصل کرکے ہی دم لیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ سندھی دانشور میدان میں آکر اعتراف کریں گے کہ سائیں جی ایم سید نے پیش گوئی کی تھی کہ سندھ دھرتی کوآزادی الطاف حسین دلائے گا۔
جناب الطاف حسین نے مہاجروں سے سوال کیاکہ مہاجر شناخت کانظریہ کس نے دیا؟ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجروں کو ایک پرچم تلے کس نے متحد کیا؟ تمام ترکڑے اورمشکل وقت میں بھی الطاف حسین 

نے قوم کاسودا نہیں کیا، فوج کے ہاتھوں نہیں بکالیکن قوم کے غدار ٹھاکر کے آگے بک گئے ، انہوں نے بے ایمانی کی ، تحریک کو دھوکے دیے، عیاشیاں کیں اور جب ان کوان کے سیاہ کرتوت دکھائے گئے تو یہ غدار بن گئے ۔ کوئی کہتا تھاکہ ہم مہاجرسیاست کو دفن کردیں گے ، شہداء قبرستان پر تالا ڈال دیں گے اور کوئی اپنے عہد کو توڑ کر بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قائد کے مقابل آکر یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ الطاف حسین ، سندھو دیش کی باتیں کررہے ہیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ مہاجرحقوق کے دعویداربہادرآباد ٹولے اور پی آئی بی ٹولے نے شاہدکلیم کی 
شہادت پر کوئی احتجاج نہیں کیا، یہ شہیدوں کی قربانیوں کی بدولت سینیٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز بنے لیکن انہیں توفیق نہ ہوئی کہ یادگارشہداء اورشہداء قبرستان جاکر اپنے شہیدوں کو یاد کریں۔انہوںنے کہاکہ آج فوج کے ہاتھوں ظرف وضمیرکا سودا کرنے والے غدار کہہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم کو پیپلزپارٹی کو توڑنے کیلئے لایا گیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد 14، اگست1979ء کو محصورین بنگلہ دیش کی وطن واپسی کیلئے پرامن مظاہرہ کرنے کی پاداش میں مجھے جنرل ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ سے 9 ماہ قید اور 5 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ، حراست کے دوران فوج کے افسران بیہودگی کامظاہرہ کرتے ہوئے ہم سے کہاکرتے تھے کہ کلمہ پڑھ کر سناؤ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کی شناخت کوئی چھین نہیں سکتا لیکن ہم سندھ دھرتی کے بیٹے ہونے کے ناطے سندھی ہیں ، چاہے آپ خود کو مہاجرسندھی کہیں یا اردو بولنے والا سندھی کہیں۔ ان حقائق کے باوجود اگرقوم، فوج کے بوٹ چاٹنے والے بہادرآباد ٹولے کی باتوں میں آکربہکنا چاہتی ہے تو پھر قوم جانے اور میرا رب جانے۔ جناب الطاف حسین نے آخرمیں ایم کیوایم کے شہیدوں کے بلند درجات، لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی اور اسیر کارکنان کی رہائی کیلئے خصوصی دعا کی اور یوم شہداء کے موقع پر پرسوز اورپراثر نوحہ تیارکرنے والے تحریک کے گمنام کارکنان کو سلام تحسین، شاباش اوراپنا پیار بھی پیش کیا۔
٭٭٭٭٭

3/8/2021 10:22:58 AM