Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سادہ لوح اور معصوم کشمیری عوام کے نام ایم کیوایم کے بانی اور قاأد تحریک جناب الطاف حسین کا پیغام


 سادہ لوح اور معصوم کشمیری عوام کے نام  ایم کیوایم کے بانی اور قاأد تحریک جناب الطاف حسین کا پیغام
 Posted on: 8/19/2019


سادہ لوح اور معصوم کشمیری عوام کے نام

ایم کیوایم کے بانی اور قاأد تحریک جناب الطاف حسین کا پیغام

میرے سادہ لوح اورمعصوم کشمیری عوام !

السلام علیکم

میں تمام کشمیری عوام سے اپنے اس پیغام کے ذریعے مخاطب ہوں،ماضی کے دریچوں کو کھولیں اور کشمیر کی 72 سالہ ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اۤپ کو معلوم ہوگا کہ جب 1947ئ میں برصغیر کی تقسیم دوحصوں میں ہو"ی تو اس و قت برطانوی راج کے تحت کام کرنے والی 650 ریاستیں ایسی تھیں جنہیں Princely States کہاجاتا تھا ۔ ان ریاستوں کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کس ملک یعنی بھارت یا پاکستان کے ساتھ شامل ہوناچاہتی ہیں یا پھر اۤزاد وخودمختار حیثیت سے رہنا چاہتی ہیں ۔ اس وقت ریاست کشمیر کا مسئلہ بھی زیرغوراۤیا کہ وہ کس ملک کے ساتھ، اۤیا بھارت کے ساتھ یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی ہے تو اس وقت مہاراجہ ہری سنگھ کشمیرپر حکومت کرتا تھا ،اس نے فیصلہ کیا کہ وہ Neutral یعنی غیرجانبدار رہے گا۔ اسکے اس فیصلے کو اس وقت دھچکا لگا جب اکتوبر 1947ئ میں پاکستان نے مسلم قباألی علاقوں کے لوگوں سے کشمیرپرچڑھاأی کروادی ۔ اس صورتحال کے پیش نظر مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیاسے مدد طلب کی اور خود انڈیاچلے گئے ۔

26، اکتوبر1947ئ کو مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیا سے معاہدہ کرکے کشمیر کا الحاق انڈیا سے کرنے کی دستاویز پر دستخط کردیئے ۔ پھر کشمیرمیں پاکستان کی جانب سے دراندازی کے عمل نے ایک نئی سورش کو جنم دیا اور اس طرح پاکستان اورانڈیا کے درمیان پہلی جنگ کااۤغاز ہوا جس کا دورانیہ 1947ئ سے 1948ئ کے درمیان تھا ۔ انڈیا نے کشمیرکے مسئلہ کو یکم جنوری 1948ئ کو اقوام متحدہ کے سپردکردیا۔اقوام متحدہ نے 13، اگست1948ئ کو ایک قرارداد کے ذریعہ پاکستان کو متنبہ کیا کہ وہ کشمیرسے اپنے جنگی Troops کوفوراً واپس بلاأے ۔ اس کے بعد انڈیانے بھی اپنی تمام افواج کو کشمیرسے واپس بلوالیا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیاجاأے اور اۤزادانہ اور غیرجانبدارانہ طورپر Plebiscite یعنی راأے شماری کرواأی جاأے گویا کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اۤیا وہ پاکستان یا انڈیاکے ساتھ رہناچاہتے ہیں یاپھراۤزاد رہناچاہتے ہیں۔ اس قرارداد کے تحت انڈیا مسئلہ کشمیرکو دوبارہ اقوام متحدہ لے گیا ، اسے یقین تھا کہ وہ راأے شماری میں کامیاب ہوجاأے گا لہٰذا انڈیا نے 30، اکتوبر1948ئ کوکشمیر کی ایک بہت ہی با اثر سیاسی شخصیت شیخ عبداللہ کو کشمیرکا وزیراعظم بنادیا۔ انڈیا کے برخلاف پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو نظرانداز کرتے ہوے جنگ کو جاری رکھا اوراپنے زیراثرکشمیری علاقے کو اپنے ساتھ شامل کرلیا اور اسے اۤزادکشمیرکا نام دے ڈالا۔ اس کے بعد یکم جنوری 1949ئ کو بالاۤخر اقوام متحدہ کے دباوئ کے تحت جنگ بندی ہوگئی جس کے تحت کشمیر کا 65 فیصد حصہ بھارت اور 35 فیصد حصہ پاکستان کے ساتھ رہے گالیکن اس کی حدبندی یعنی لاأن اۤف کنٹرول (LOC) پر وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہیں اور لاأن اۤف کنٹرول نے بالاۤخر بارڈر کی شکل اختیار کرلی۔ 1957ئ میںکشمیر کو بھارت کے اۤءین کے اۤرٹیکل 370 کے تحت ایک خصوصی حیثیت دے دی گئی ۔

1965ئ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دوبارہ جنگ کااۤغاز ہوگیا لیکن اقوام متحدہ سمیت دنیاکے دیگر بڑے اور اہم ممالک کی مداخلت کی وجہ سے ستمبر1965ئ میں دوبارہ جنگ بندی ہوگئی اوریکم جنوری 1966ئ کو تاشقند معاہدہ طے پایا جس پر انڈیاکے وزیراعظم لال بہادرشاستری اور پاکستانی فوجی صدرجنرل ایوب خان نے دستخط کیے ۔

1971ئ میں پاکستان اور بھارت کے مابین ایک اور جنگ ہو"ی جس کے نتیجے میں ایک اۤزاد اور خودمختار نیاملک بنگلہ دیش کی شکل میں دنیا کے نقشہ پر ابھر کر سامنے اۤیا ۔ اس جنگ میں 93 ہزار پاکستانی فوجیوں نے دشمن ملک سے لڑنے کے بجاأے بخوشی اوربارضا ہتھیارڈالنے کو غنیمت جانا اور بھارتی فوج کے اۤگے سرینڈر کردیا۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان یہ کشیدگی کبھی پہلی جنگ، کبھی دوسری ، کبھی تیسری ، کبھی چوتھی اورکبھی پانچویں جنگ کی شکل میں سامنے اۤتی رہی اور پاکستان اپنے تیارکردہ غیرفوجی دستوں (Non-state actors) یعنی Proxies کومسلسل انڈین کشمیر میں بھیج کرنہ صرف دراندازی کرتارہا بلکہ کشمیریوںکو یہ تاثر بھی دیتا رہا کہ'' ہم مسلمان ہیں'' اور ''کشمیربنے گا پاکستان ''کے نعرے لگالگا کر۔۔۔۔۔۔ کشمیریوں کو جہاد کا درس دیکر۔۔۔۔۔۔ کشمیرمیں جہادی دستے تیارکرکے۔۔۔۔۔۔ کشمیریوں کے خون سے ہولی بھی کھیلی جاتی رہی اور اس خون کے عوض امداد کے طورپر پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کھربوں روپے دیگر اسلامی ممالک سے بٹورتی رہی اور پاکستانی فوج خود لڑنے کبھی کشمیر نہیں گئی ۔ ہاں البتہ ہمیشہ سادہ لوح اور معصوم کشمیری ، گلگتی ، بلتستانی اور قباألی مسلمانوں کو اسلام کے نام پر بے وقوف بناتی رہی۔

میرے کشمیری بھاأیو!

میں نے کشمیرکی مختصراً تاریخ کا اپنے اس پیغام میں اس لئے تذکرہ کیاہے کہ کشمیریوں اور پاکستانی عوام کو معلوم ہوسکے کہ تاریخ کا سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے ۔کشمیری عوام اورپاکستان کے عوام کو کشمیرکی تاریخ سے اۤگاہ کیاجاسکے اور انہیں اس کا صحیح ادراک بھی ہوسکے تاکہ وہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اصل چہرے اور اس کی لفظی چیرہ دستیوں سے خوب اچھی طرح واقف بھی ہوسکیں۔

پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے معروف نعرے کیاتھے اور اۤج تک ہیں

٭    کشمیر بنے گا پاکستان

٭    ہم لے کے رہیں گے اۤزادی

٭    اۤزادی کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔لاالہ الاللہ

٭    کشمیر، پاکستان کی شہ رگ ہے

٭    پاکستانی فوج قدم بہ قدم، لمحہ بہ لمحہ اپنے کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے

٭    پاکستانی فوج ،کشمیری عوام کے شانہ بشانہ لڑے گی

٭    ہمارے پاس ایٹم بم ہے ، ہم کشمیری عوام پر بھارت کے مظالم نہیں ہونے دیں گے

٭    پوری فوج کشمیری عوام کی جدوجہد کے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ

میرے سادہ لوح اورمعصوم کشمیری عوام!

اب اۤپ نے خود اپنی اۤنکھوں سے دیکھ لیا کہ 5، اگست2019ئ کوبھارت نے اپنے اۤءین کے اۤرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے جموں کشمیراور لداخ کو اپنی یونین میں شامل کرلیا۔

یہاںمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کاوشوں کے حوالے سے اپنے کشمیری عوام کے علم میں یہ بات بھی لارہاہوں کہ پاکستان میں ہردورحکومت میں کشمیرکے معاملات ومساأل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسے حل کرانے کیلئے ہمیشہ سے دنیابھرمیں نہ صرف کشمیریوںکے نام پر سفارت کاری کے بظاہرجوہر دکھاأے جاتے رہے بلکہ کشمیر کے معاملہ کو مزیدفعالیت دینے کیلئے ہردورحکومت میں علیحدہ سے کشمیرکی کمیٹی بھی قاأم کی گئی جس کا درجہ وفاقی وزارت کے برابر ہوتارہا ہے ۔اس کمیٹی کے ارکان بشمول سربراہ کشمیرکے نام پر دنیا بھرکے دورے کرتے رہے اور پاکستانی حکومت کے وفاقی وزراأ بھی کشمیرکے معاملے پر اقوام متحدہ اور دیگرعالمی اداروں کے دورے کرتے رہے ۔ کشمیرہی کے مسئلہ پر اقوام متحدہ میں علیحدہ سے عملہ بھی مقرر کیاگیا ۔ کشمیر کے نام پر کئے جانے والے ان دوروں پرقوم کے اربوں روپے خرچ کیے جاتے رہے ہیں لیکن کو"ی قابل تعریف نتیجہ اۤج تک حاصل نہیں کیاجاسکا ۔ حکومتی اور کشمیر کمیٹی کے اراکین جن جن ممالک کے دورے کرتے رہے کہ وہاں جاکر وہ کشمیرکے مسئلہ کو پہلے سے زیادہ موئثر انداز میں اجاگر کریں گے لیکن یہ صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے اوراپنے دوروں کی اۤڑ میں ہرملک سے قیمتی اشیاأ خرید کراپنے اپنے گھروں کی تزئین واۤراأش کو مزیداجاگرکرنے کاسامان بھی کرتے رہے ۔ من جملہ یہ کہ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کی 72 سالہ خارجہ پالیسی اورسفارتکاری کی تاریخ زیروجمع زیرو ۔۔۔۔۔۔برابر ڈبل زیرو کے مصداق کے سوا کچھ نہ رہی اور کشمیرکے ایشو پر پاکستان کی 72 سالہ سفارتکاری اور خارجہ پالیسی کی بری طرح ناکامی کا نتیجہ 5، اگست 2019ئ کو سامنے اۤیا۔

پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تمام نعرے اور دعوے کہاں چلے گئے ؟ اب تک پاکستان کی فوج نے کشمیریوں کی مدد کیلئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کے دعووئں پر عمل کیوں نہیں کیا؟پاکستانی فوج اۤگے بڑھ کر اورانڈیا پر فوج کشی کرکے کشمیری عوام کو بھارت سے اۤزاد کرانے کیلئے جہاد کا اۤغاز کیوں نہیں کررہی ہے ؟ اب یہ پاکستانی فوج ''جہاد فی سبیل اللہ '' کے نعروں پر عمل دراۤمد کیوں نہیں کررہی ہے ؟کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے دعوے کہاں گئے ؟ اۤخر یہ سینکڑوں میل دورکھڑے رہ کر کشمیری عوام کی کیاخاک مدد کریں گے ۔

میرے مظلوم اورسادہ لوح کشمیری عوام!

دوروز قبل 16، اگست2019ئ بروز جمعہ کوچاأنا کی درخواست پر طلب کیے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کوسفارتکاری اورخارجہ پالیسی کی ناکامی کے سواکیا دیکھنا پڑا؟یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو پھرکیاہے کہ کسی ایک اسلامی ملک نے پاکستان کے موئقف کی حمایت نہیں کی اور دنیاکے کسی بھی جمہوری ملک نے کشمیرایشوپرپاکستان کاساتھ نہیں دیا۔ اب پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکست کھاجانے کے بعد کشمیری عوام کو ایک نیاچورن بیچ رہی ہے کہ ہم دنیا کے ہرفورم پر کشمیرکامسئلہ لیکر جاأیں گے اور یہ طویل جنگ ہے ، ایک ایک کشمیری کے مرجانے تک پاکستان کی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ دنیا کو کشمیریوں پر ڈھاأے جانے والے مظالم سے اۤگاہ کرتی رہے گی ۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ 5، اگست2019ئ سے کشمیرمیں کرفیو نافذ ہے ، کشمیری عوام علاج ومعالجہ کی سہولت سے محروم ہیں ، بچے بھوک سے بلک رہے ہیں ، بوڑھے دوا دارو سے محروم ہیں اور دوسری طرف 14، اگست کو پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ جشن اۤزادی مناکر خوب ناچ گانوں کے مزے لیتی رہی ہے اور دوسری طرف کشمیری عوام یامدد ۔۔۔۔۔۔یامدد کی دہاأیاں دیتے ہوے ماتم کررہے ہیں ۔

میرے کشمیری عوام !

میں اۤپ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ خداراپاکستانی حکومت اور پاکستان کی فوج کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں ، جن پاکستانی سول حکومتوں اورفوجی حکومتوں نے کشمیریوں کو 72 سال سے دھوکہ دیا اوراۤج بھی دے رہے ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اوربھڑک بازیوں میں ہرگزنہ اۤءیں اسی میں کشمیری عوام کی بھلاأی ہے ۔ میں خود بھی کشمیری عوام کی 72 برسوں سے کسمپرسی کی حالت دیکھ کر دل گرفتہ ہوں ۔۔۔۔۔۔ غم زدہ اور دکھی ہوں اور اللہ کے حضور دعا گو ہوں کہ

یاالہی!۔۔۔۔۔۔کشمیری عوام کیلئے کو"ی ایسی مدد کردے جو کشمیری عوام کی تاقیامت سلامتی اور امن کی ضامن ہو۔ (اۤمین ثمہ اۤمین)

لیکن ایک بات یادرکھیں ۔۔۔۔۔۔خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش اور جدوجہد نہ کرے ۔ خدارا۔۔۔۔۔۔اب پاکستان کی حکومت اور پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیں ۔ ماضی کی تاریخ کے حقاأق دیکھ کر اۤءندہ کے مستقبل کا لاأحہ عمل بناأیں ، اپنی اوراپنی اۤنے والی نسلوں کے بہتر اور شاندار مستقبل کا سوچیں اور بہتر سے بہتر حکمت عملی بنانے کیلئے اۤپس میں اتحاد قاأم کریں ۔ کشمیری شہدا ء کی قربانیوں کا ثمر لانے کی اور شہداأے کشمیر کی روحوں کو تسکین پہنچانے کیلئے عملی اور ساأنسی بنیادوں پر مبنی منصوبہ بندی کریں ۔

(اللہ تعالیٰ اۤپ سب کا حامی وناصر ہو ۔(اۤمین

والسلام

فقط اۤپ کا ہمدرد

الطاف حسین

18 اگست2019ئ

(لندن)


11/17/2019 1:54:14 AM