Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلوچ ، پشتون اور مہاجراکابرین غلامی سے نجات کیلئے اقوام متحدہ میں مشترکہ طورپرحق خودارادیت کامقدمہ پیش کریں اقوام متحدہ سے یہ اپیل کریں کہ سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان اورقبائلی علاقوں میں اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایاجائے۔الطاف حسین


بلوچ ، پشتون اور مہاجراکابرین غلامی سے نجات کیلئے اقوام متحدہ میں مشترکہ طورپرحق خودارادیت کامقدمہ پیش کریں اقوام متحدہ سے یہ اپیل کریں کہ سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان اورقبائلی علاقوں میں اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایاجائے۔الطاف حسین
 Posted on: 2/3/2019 1
بلوچ ، پشتون اور مہاجراکابرین غلامی سے نجات کیلئے اقوام متحدہ میں مشترکہ طورپرحق خودارادیت کامقدمہ پیش کریں
اقوام متحدہ سے یہ اپیل کریں کہ سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان اورقبائلی علاقوں میں اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایاجائے۔الطاف حسین
ہمارے درمیان قیادت کاکوئی مسئلہ نہیں،قیادت کوئی بھی کرے ، مظلوم قوموں کوریاستی مظالم اورغلامی سے نجات دلاناچاہتاہوں 
پاکستان میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ،آپریشن کے نام پر جبری گمشدگیاں اورماورائے عدالت قتل معمول بن گئے ہیں،
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، پارلیمنٹ ، عدالتیں اور میڈیا ’’ ڈیپ اسٹیٹ ‘‘ کے کنٹرول میں ہیں
اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیونٹی پاکستان میں اپنے خصوصی نمائندے بھیجے اور ریاستی مظالم کو بند کرانے کیلئے اپنا اثررسوخ استعمال کرے
وقت آگیاہے کہ پاکستان میں ایک نیاسوشل کنٹریکٹ تشکیل دیاجائے ، ریاستی آپریشن بندکئے جائیں،سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت ختم کی جائے،تمام لسانی ونسلی اکائیوں کے وجود اورحقیقت کوتسلیم کیا جائے، انہیں ان کے جائزحقوق دیے جائیں
ہم کسی سے کچھ چھیننانہیں چاہتے ،ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں، قائدتحریک الطاف حسین کا اہم اورتاریخی خطاب

لندن ۔۔۔ 3 فروری 2019ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اوردیگرمظلوم قوموں پرجس طرح سے ریاستی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، عدالتوں سے بھی کوئی انصاف نہیں مل رہاہے، ایسی صورتحال میں مہاجروں، بلوچوں اور پشتونوں کے پاس اس کے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں رہ جاتاکہ وہ ان مظالم سے نجات کے لئے اقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹائیں، لہٰذا میں بلوچ اور پشتون ر ہنماؤں کودعوت دیتاہوں کہ بلوچ ، پشتون اور مہاجراکابرین ملکر ریاستی مظالم اورغلامی سے نجات کے لئے اقوام متحدہ میں مشترکہ طورپرحق خودارادیت کامقدمہ پیش کر یں ، ہمارے درمیان قیادت کاکوئی مسئلہ نہیں،قیادت کوئی بھی کرے ، میں مظلوم قوموں کوریاستی مظالم اورغلامی سے نجات دلاناچاہتاہوں۔ وقت آگیاہے کہ اب ایک نیاسوشل کنٹریکٹ تشکیل دیاجائے ، ریاستی آپریشن بندکئے جائیں اورسیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت ختم کی جائے ۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارہفتہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اہم اورتاریخی خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب دوگھنٹے پر محیط تھاجوسوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر میں براہ راست نشرکیاگیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے قیام کے اسباب ، مہاجروں پر ہونے والے مظالم کی تاریخ،مختلف ادوارمیں ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے آپریشنز، سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان ، خیبرپختونخوا، قبائلی علاقوں میں ان دنوں جاری ریاستی آپریشنز، ماورائے عدالت قتل ، جبری گمشدگیوں کے واقعات اورپاکستان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی اظہارخیال کیا۔



جناب الطاف حسین نے حق خودارادیت کے مطالبہ کے پس منظرپرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس وقت کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں گزشتہ ساڑے پانچ سال سے ریاستی آپریشن جاری ہے جس کے دوران10 ہزارسے زائد مہاجرنوجوانوں کوگرفتارکیاگیا، 500سے زائد لاپتہ ہیں جبکہ 200 سے زائدماورائے عدالت قتل ہیں، فوج، رینجرز، پولیس اور ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے گھرگھربغیروارنٹ کے چھاپے مارے جارہے ہیں، چھاپوں کے دوران خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، بزرگوں تک کو نہیں بخشاجارہاہے، چھاپوں کے دوران نقدی، زیورات اورقیمتی سامان کی لوٹ مار بھی کی جارہی ہے ۔ اسی طرح بلوچوں کے خلاف بھی فوج کی جانب سے بدترین اورسفاکانہ آپریشن جاری ہے ، ہزاروں بلوچوں کوشہید کیاجاچکاہے ، بلوچوں کی اجتماعی قبریں اورمسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، ہزاروں بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں جن کے بارے میں ان کے اہل خانہ کوکچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یاماردیے گئے،



بلوچ آبادیوں کومسمار کیاجارہاہے، چھاپوں کے دوران خواتین تک کو حراست میں لیکرغائب جارہاہے، بلوچستان کے کالجوں اوریونیورسٹیوں سے بلوچ بہنوں بیٹیوں کو کینٹ کے علاقوں میں لے جاکر ان کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اورقبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پرعام پشتونوں کے ساتھ جوظلم کیاجارہاہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے، پشتونوں کو ان کی آبادیوں سے بے دخل کیاجارہاہے،مظالم کے خلاف آوازاٹھانے والے پشتون نوجوانوں کوگرفتارکرکے غائب کیاجارہاہے ،چھاپوں کے دوران پشتون ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، انہی مظالم کی وجہ سے پشتون تحفظ موومنٹ جیسی تنظیموں نے جنم لیا ہے لیکن ان کی باتوں کوسننے اوراس پر غورکرنے کے بجائے ان کے رہنماؤں اورکارکنوں گرفتارکیاجارہاہے، ان کاقتل کیاجارہاہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ریاست ان مظالم کوبند کرنے کے لئے تیارنہیں ہے جبکہ عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہاہے، کوئی بھی سیاسی جماعت ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے تیارنہیں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اوردیگرمظلوم قوموں پرجس طرح سے ریاستی مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، ایسی صورتحال میں مہاجروں، بلوچوں اور پشتونوں کے پاس اس کے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں رہ جاتاکہ وہ ان مظالم سے نجات کے لئے اقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹائیں اوراقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق حق خودارادیت کامطالبہ کریں۔انہوں نے کہاکہ میں بلوچ اور پشتون ر ہنماؤں کو دعوت دیتاہوں کہ وہ اپنے اکابرین کے نام پیش کریں،



میں مہاجر اکابرین کے نام پیش کروں گا، بلوچ ، پشتون اور مہاجراکابرین ملکرآپس میں ایک سوشل کنٹر یکٹ تشکیل دیں اورپھر ریاستی مظالم اورغلامی سے نجات کیلئے اقوام متحدہ میں مشترکہ طورپرحق خودارادیت کامقدمہ پیش کر یں ۔ ہمارے درمیان قیادت کا کوئی مسئلہ نہیں،قیادت کوئی بھی کرے ، میں مظلوم قوموں کوریاستی مظالم اور غلامی سے نجات دلاناچاہتاہوں۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھے اس سلسلے میں بلوچوں، پشتونوں کاجواب چاہیے ، ہم بین الاقوامی سطح پر مشترکہ جدوجہد کریں گے اورعالمی ضمیرکوجگائیں گے۔انہوں نے کہاکہ میں پشتون تحفظ موومنٹ اوربلوچ لیڈرشپ سے کہتاہوں کہ اب محروم ومظلوم قوموں کومتحد ہوجاناچاہیے



۔انہوں نے کہاکہ مہاجروں کا پشتونوں اوربلوچوں سے نہ کوئی جھگڑا ہے اورنہ ہی جھگڑابنتاہے، ہمارے درمیان تفریق بھی فوج ہی نے سازش کے تحت پیداکی، ہمیں اب ہرقسم کی تفریق کاخاتمہ کرتے ہوئے آپس میں متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچوں،پشتونوں کی بیٹیوں بہنوں کوبھی میں اپنی بہنیں بیٹیاں سمجھتاہوں اورجب ان پر کوئی ظلم ہوتاہے تومیں اسی طرح روتاہوں جیسے مہاجرماؤں بہنوں پر ظلم پردکھی ہوتاہوں۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ جولوگ آج بھی اپنی قوم پر ہونے والے مظالم اوراپنی ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کے واقعات پر خاموش بیٹھے ہیں اگر انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے توان کی آنے والی نسل کے نوجوان غلام اورقوم کی بہنیں بیٹیاں قابضین کی لونڈی بنیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے نام پر پاکستان کاچائناسے معاہدہ ہوچکاہے، آدھابلوچستان چین کے ہاتھوں میں جاچکاہے، کراچی میں بھی تجاوزات کے نام پر مہاجروں کے گھروں اوردکانوں کو جومسمار کیاجارہاہے وہ بھی سی پیک کاحصہ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ اورانٹرنیشنل کمیونٹی کومخاطب کرتے ہوئے سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان، خیبرپختونخوااورقبائلی علاقوں میں عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات بیان کیں اورکہاکہ پاکستان میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ،آپریشن کے نام پرفوج، رینجرز، پولیس ، ریاستی اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیاں اورماورائے عدالت قتل معمول بن گئے ہیں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، پارلیمنٹ ، عدالتیں اور میڈیا ’’ ڈیپ اسٹیٹ ‘‘ کے کنٹرول میں ہیں،لوگوں سے اظہاررائے کاحق چھین لیاگیا ہے، صحافی ،قلم کار، وکلاء، حتیٰ کہ انسانی حقوق اورسول رائٹس کیلئے کام کرنے والے افراد کوبھی کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔لہٰذا اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کمیونٹی پاکستان میں اپنے خصوصی نمائندوں کوبھیجیں جووہاں مہاجروں ، بلوچوں اور پشتون قوم کے لوگوں سے ملاقات کریں اوروہاں کی صورتحال کے بارے میں حقائق معلوم کریں اوروہاں ہونے والے ریاستی مظالم کو بند کرانے کیلئے اپنا اثررسوخ استعمال کریں۔جناب الطا ف حسین نے تمام جمہوری ممالک سے کہاکہ وہ پاکستان کودی جانے والی ہرقسم کی امداد کووہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمہ سے مشروط کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اس صورتحال میں بلوچوں، پشتونوں اورمہاجروں کے پاس اس کے سوا اورکیا آپشن رہ جاتا ہے کہ ہم اقوام متحدہ سے یہ اپیل کریں کہ سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان اورقبائلی علاقوں میں اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایاجائے اور عوام سے رائے لی جائے کہ کیاوہ انہی حالات میں رہناچاہتے ہیں یااس ظلم سے نجات اورغلامی سے آزادی چاہتے ہیں ۔



جناب الطا ف حسین نے انٹرنیشنل کمیونٹی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں مہاجروں کے ساتھ دوسرے تیسرے درجے کے شہریوں جیساسلوک کیا جارہاہے، کوٹہ سسٹم جیسے کالے قوانین کے ذریعے مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندہیں، مہاجروں کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی آپریشن جاری ہے ، مہاجروں کے حقوق کے لئے آوازبلندکرنے والی جماعت ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے، ہمارے کارکنوں کوماورائے عدالت قتل اورجبری گمشدہ کیاجارہاہے، عدالتیں بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔انہوں نے پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف اورسیدعلی رضاعابدی کے ماورائے عدالت قتل اوربزرگ رہنمامومن خان مومن اوران کے صاحبزادے کی گرفتاری کابھی خصوصی ذکرکیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کوئی بھی ہماری دادفریاد سننے والا نہیں ہے، ایسی صورتحال میں ہمارے پاس اورکوئی آپشن نہیں کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت حق خودارادیت کامطالبہ کریں۔



جناب الطاف حسین نے کہا کہ وقت آگیاہے کہ پاکستان میں ایک نیاسوشل کنٹریکٹ تشکیل دیاجائے ،تمام لسانی ونسلی اکائیوں کے وجود اورحقیقت کوتسلیم کیا جائے، انہیں ان کے جائزحقوق دیے جائیں، سندھ کے شہری علاقوں، بلوچستان ، خیبرپختونخوا،قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں جاری ریاستی آپریشن بند کئے جائیں،سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت ختم کی جائے ،ملک میں اسٹریٹوکریسی کے بجائے حقیقی معنوں میں ڈیموکریسی قائم کی جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم کسی سے کچھ چھیننانہیں چاہتے ، ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں، ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے، کسی سے لڑنانہیں چاہتے ، ہم افغانستان سمیت تمام پڑوسی ممالک سے بہترتعلقات چاہتے ہیں۔انہوں نے تمام مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اوردیگر مظلوم قومیتوں کے عوام سے کہاکہ وہ اپنے حقوق کے حصول اورظلم سے نجات کے لئے ہرقسم کی قربانی دینے کے لئے تیارہوجائیں اورمتحدہوجائیں۔ 

*****

7/23/2019 12:20:32 AM