Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

BBC Urdu: الطاف حسین: زیرو میں زیرو جمع کریں تو زیرو ہی رہے گا


BBC Urdu: الطاف حسین: زیرو میں زیرو جمع کریں تو زیرو ہی رہے گا
 Posted on: 11/9/2017

الطاف حسین: زیرو میں زیرو جمع کریں تو زیرو ہی رہے گا

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کا ملاپ ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر ہو رہا ہے۔

'یہ دونوں جو مل رہے ہیں ان کا مرکز ایک ہی ہے۔ منزل اور مقام ایک ہی ہے اور وہ ہے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ۔'

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک کی واحد اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت ایم کیو ایم ہے اور الطاف حسین واحد اینٹی اسٹیبلشمنٹ لیڈر ہے۔


الطاف حسین سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم ( پاکستان) مل کر انتخابات میں ایک بڑی قوت بن سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ 'عوام کل بھی میرے ساتھ تھے اور آج بھی میرے ساتھ ہیں، ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں۔ یہ زیرو میں زیرو جمع کرتے رہیں، ایک ہزار مرتبہ کریں پھر بھی زیرو تو زیرو ہی رہے گا کبھی ایک نہیں ہو سکتا‘۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین کی میزبان عنبر خیری نے جب اُن سے پوچھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال میں سے بہتر رہنما کون ہے تو الطاف حسین نے کہا کہ اگر کسی کچرے گھر کے دو حصے کر دیے جائیں تو کون سا حصہ اچھا ہو سکتا ہے؟ ’کچرا کچرا ہوتا ہے، دونوں ہی کچرے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ فوج پر تنقید کرنے سے اگر ان کی پاکستان میں سیاست کے راستے مسدود ہوتے ہیں تو انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔

'میں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو یہ شعور دینے میں لگا دی ہے کہ اٹھو، پاکستان کی فوج ہونی چاہیے، فوج کا پاکستان نہیں ہونا چاہیے'


الطاف حسین نے کہا کہ ابھی بھی انہیں عوام کی سو فیصد حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سمیت پاکستان کی ہر سیاسی جماعت جی ایچ کیو میں سجدے کرتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس صورتحال میں ان کی انتخابی حکمت عملی کیا ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت تک جمہوریت نہیں آ سکتی نہ ہی انتخابات سے کچھ ہو گا جب تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم نہیں ہو گی۔

ان اطلاعات کے بارے میں کہ پی ایس پی اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے ایک جماعت بننے کے بعد جنرل پرویز مشرف اس کی قیادت کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے ان کے ساتھ کئی ملاقاتوں میں کہا تھا کہ وہ پنجاب سے سیاست شروع کریں گے لیکن جب پنجاب نے انہیں ٹھینگا دکھا دیا تو اب وہ مہاجروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

Click to read full story


12/12/2017 11:58:50 AM