Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میرِکا ررواں تحریر : عشرت علی خان

 Posted on: 9/17/2014   Views:416
میرِکا ررواں تحریر : عشرت علی خان نشانِ پابھی پہنچا تو دیا کر تے ہیں منزل تک  مگر فیضانِ میرِ کا ررواں کچھ اور ہو تا ہے  دورِجدید میں دنیا بھر کے غریب عوام ، اقوام اور ممالک کے زیادہ تر مسائل میں مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے۔ محرومی کی شکلیں تو مختلف ہو سکتی ہیں مگر نتیجہ سب کا تقریباً یکساں ہی ہو تا ہے یعنی مفلسی ، ناداری اور غلامی۔ دنیا بھر کے نادار اور غریب طبقات اور اقوام اپنے اپنے انداز میں ایک ہی قسم کے سنگلاخ اور کا نٹوں بھرے راستوں پر نئی منزل اورر وشن مستقبل کی تلاش میں سر گر داں ہیں ۔یادرہے کہ عوام ظلمتوں کو بھگانے اور اُجالوں کو سجانے کے لئے سورج تلاش کر تے پھر تے ہیں اور حقیقی قائدان کی دلی مراد بر لانے کے لئے ان کی زندگی میں اُجالے بکھیرنے کے لئے سورج ترا شتا ہے ۔کیو نکہ اُسے ارادے کو عمل میں ڈھالنے میں دیر نہیں لگتی ۔یو ں تو دنیا کے تمام انقلابیوں اور قائد انہ صلاحیت رکھنے والوں کی اپنی منفرد اور جداگانہ سوچ ہوتی ہے ، راہ نمائی کا اپنا انداز ہو تا ہے لیکن اس کے باوجود کم و بیش تمام قائدین کا نصب العین قریب قریب ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ سب قائد اپنی قوم کی فلاح و بہبو د ، فکری آزادی ، انقلابی اقدامات ، معاشی و سیاسی نظام میں بہتری اور امن و آشتی کی آفاقی آرزوؤ ں کے خواب دیکھتے ہیں ۔ہر قیادت انفرادی ، علاقائی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود ، آدرشوں اور خواہشوں کی تلاش میں سر گرادں رہتی ہے ۔ پھر ہو تا یہ ہے کہ اگر قائد میں صلاحیت ، قابلیت ،لیاقت، معاملہ فہمی ، دلیری اوربصیرت مو جود ہو تو اس کے ماننے والے ، اسکے پیروکار ، اسکی قوم مطلوبہ نتائج یا ہدف باآسانی حاصل کر لیتے ہیں اور مذکورہ بالا اوصاف میں کمی ہو تو پھر اس کے پیچھے چلنے والے تمام عمر منزل کی تلاش میں بھٹکتے اور صعوبتیں برداشت کر تے رہتے ہیں ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت پاکستان کے اصل وارثوں کو اور ہر معاملے میں نادار اور محروم طبقے کو نہ صرف جینے کی اُمنگ دی بلکہ غصب شدہ حقو ق مانگنے کا حو صلہ عطاکیا ۔وہ پاکستان کی نئی نسل کے اولین رہنما ہیں جنہوں نے اس ملک میں آکر بسنے والے طبقے کو حقوق دلوانے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی یہی نہیں بلکہ اس ملک میں رہنے والے ہر اُس فر دکے لئے آواز اُٹھائی جسے یہاں کے زور آور طبقات نے تمام مراعات سے محروم کر رکھا ہے ۔انہوں نے پوری قوت اورہمت سے ان قوتوں کی مخالفت کی جو عام لو گوں کو ان کے حقو ق نہیں دینا چاہتیں ۔جو لو گ اس بے درد اور سنگدل معاشرے میں جئیے جانے کا جان لیوا عذاب جھیل رہے ہیں جناب الطاف حسین نے ان کی بات کی ۔ملک میں رکن قومی یا صوبائی اسمبلی بننا کو ئی آسان کھیل نہیں خاص طور پر ان کے لئے جو نادار یا غریب کہلاتے ہیں ۔الطاف حسین نے ایسے سینکڑوں لو گوں کو ایوانوں میں پہنچاکر غریب دوست اور محروم طبقات کے ہم نوا ہونے کا ثبوت دیا اور صرف امیر لوگوں کے منتخب ہونے کی روش کو بدلا حالانکہ اس کی پادا ش میں انہیں مراعات یافتہ طبقے کی جانب سے مشکلات بھی دیکھنا پڑیں۔ زندگی بڑھتی ہے آگے اس کے تیور دیکھ کر  وقت بھی پہچا نتاہے تیرے دیوانوں کا رخ  کیا ہوا ہم کو اگر دو چار مو جیں چھو گئیں  ہم نے بدلا ہے نہ جانے کتنے طو فانوں کا رخ (قابل اجمیری ) الطاف حسین جانتے ہیں کہ انقلاب یو نہی نہیں آیا کر تے سینکڑوں روشن و ماہتاب چہروں کی فصل کٹتی ہے ، لا تعداد مشکلات اور ان گنت صعوبتیں برداشت کر نا پڑتی ہیں تب جاکر منزلِ حیات پھولوں سے بھر پاتی ہے ۔الطاف حسین کی حیثیت ایک ایسے رہنما کی ہے جو لو گوں کو شعور و آگہی عطا کر تا ہے جو اپنے ماننے والوں کو بتاتا ہے کہ دنیا کا دل جیتنے کے لئے لہجے میں مٹھاس اور کر دار میں سِپاس ضروری ہے ۔خود الطاف حسین نے کسی قسم کی حکو متی طاقت اور پاور کے نہ ہو تے ہو ئے بھی ہمیشہ دکھی دلوں پر مرہم رکھنے کی کو شش کی اور یہ کام انہوں نے بلارنگ و نسل اور بلا تفریق مذہب و ملت خوش اسلو بی سے انجام دیا اور اب تک مسلسل دے رہے ہیں وہ ہمیشہ لو گوں کو امن کی تلقین کر تے ہیں کیو نکہ انہیں اچھی طر ح معلوم ہے کہ امن کی فاختہ اُسی پیڑ پر بیٹھتی ہے جس پر سکھ کی دھو پ پھیلی ہو ۔ الطاف حسین کا فلسفہ حیات محبت اور جدوجہد سے معمور ہے ۔ ان کے بے باک اور جرات مندانہ مو قف کا کیا اپنے کیا پر ائے سبھی قائل ہیں سبھی سراہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ زور آور طبقات اور استحصالی قوتیں ان کے سخت خلاف رہتی ہیں اور ریشہ دوانیاں کر تی رہتی ہیں ۔ اس کے باوجود وہ اپنا کام ثابت قدمی سے کئے جا رہے ہیں حو صلہ مندی سے غریب عوام کی خدمت کئے جا رہے ہیں محروم طبقات کی ہمت بڑھائے جا رہے ہیں کیو نکہ و ہ جانتے ہیں ۔ ظلمتوں کو فروغ پانے دو  اور چمکے گی منزلِ جاناں  وہ شخص جو محروموں کے کا م آئے مظلوموں کا دکھ بٹائے اور مجبو روں کا ساتھ نبھا ئے جی چاہتا ہے کہ وہ اپنی ہزاروں سالگرائیں منائے اور چمن میں بکھرے کانٹوں کو سمیٹتا جائے کہ ابھی چمن میں صحیح معنی میں صبح ہو ئی ہی نہیں ہے ۔ نگارِ صبح طرب کا دامن قدم قدم پر اُلجھ رہا ہے  ابھی میں کیسے یقین کر لوں کہ چمن سے کانٹے نکل گئے ہیں