Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پیکر وفا ۔۔۔دی رائٹ مین تحریر: واسع جلیل

 Posted on: 9/17/2014   Views:714
پیکر وفا ۔۔۔دی رائٹ مین تحریر: واسع جلیل
بشکریہ: روزنامہ جنگ معاشرتی اعتبار سے انسان نے بہت سے انسانی اور جذباتی رشتوں کو شناخت کرکے اختیار کیا۔ ان رشتوں کے مابین تعلق کبھی وفا کے نام پر تو کبھی محبت کے نام پر قائم ہوا۔ عمومی طور پر انسانوں کے مابین تعلق باہمی مفادات کی تکمیل کے لیے قائم ہوئے۔ اسی معاشرے میں کبھی حقوق کی جدوجہد ، کبھی حکومت حاصل کرنے تو کبھی اپنے آپ کو بالادست بنانے کے لیے جدوجہد شروع کی گئی۔ لیکن یاد اور باقی وہ تحریکیں اور جدوجہد رہ گئی جو مظلوم اور حقوق سے محروم لوگوں کی فلاح کے لیے چلائی گئیں۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ جب جب اس قسم کی تحریکوں نے جنم لیا تو سازشوں نے ان تحریکوں میں اپنے ڈیرے جمائے۔ جدوجہد اور سازشیں ایک ساتھ چلتی رہیں۔ یہاں پر کامیابی اس کو ملتی ہے جس کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں اور جو حوصلے کے ساتھ سازشوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ تاریخ میں ایسی تحریکیں بھی موجود ہیں جو اس مقابلے کے دوران تھک ہار کر ختم ہوگئیں لیکن جن تحریکوں نے اپنے مقاصد کو حاصل کیا، انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ ایسی ہی ایک تحریک نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سب سے بڑی درسگاہ میں جنم لیا۔ اس تحریک کے روحِ رواں نے کبھی بھی اپنے ماننے والوں سے محبت کا تقاضا نہیں کیا۔ ہمیشہ اس نے اپنے کارکنان کو وفا کا لفظ کہا۔ شاید اس کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہوگی، وہ یہی ہے کہ محبت ایک غیر اختیاری جذبہ ہے جبکہ وفا ایک اختیاری فعل ہے۔ اسی بنیاد پر تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی اور احساسِ ذمہ داری کو اس سے مشروط کیا گیا۔ یہ وہ کلیہ ہے جو ستمبر2004ء میں اپنی واضح شکل میں سامنے آیا کیونکہ اس تحریک نے ایک طویل دورِ ابتلا کا سامنا کر لیا تھا۔ بہت سی سازشیں بے نقاب ہوچکی تھیں۔ بہت سی کالی بھیڑیں اپنی موت آپ مر چکی تھیں۔ اس کے بعد اس کلیے نے اس راستے کا تعین کیا کہ مظلوموں کی حکمرانی اور ان کے حقوق کے حصول کے لیے ایک ایسے اصول کو اختیار کیاجائے کہ اپنی وفا کو احساسِ ذمہ داری سے منسلک کرلیا جائے۔  یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کے ہر عہد میں تطہیر کا عمل جاری رہا ہے۔ اور یہ واحد تحریک ہے جو ببانگ دہل اپنے اندر موجود خرابیوں کو نہ صرف اظہار کرتی ہے بلکہ ان کے تدارک کے لیے جوطریقہ کار تنظیم کے دستور میں وضع کیا گیا ہے، اسے اختیار کرکے صفائی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس مضبوط اور طاقتور عوامی تحریک کی کامیابی اور اس کے برقرار رہنے کا راز اس کی واحد و یکتا قیادت ہے جس نے ملک کے فرسودہ گلے سڑے نظام کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے آواز بلند کی۔ آج ملک کے دارالحکومت میں جو دو جماعتیں دھررنا دئیے ہوئے ہیں، ان کا مؤقف بھی اصلاحات سے جڑا ہو اہے لیکن شاید انہوں نے اس طاقت کا اندازہ غلط لگایا جو اس ملک پر قابض ہے۔ وہ اس نظام کے تحفظ اور بقاء کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ کراچی کی مادرِ علمی سے اُٹھنے والی اس تحریک کے قائد نے آخری اور حتمی کال نہیں دی ہے اور اس میں دو رائے نہیں کہ جب وہ اس نتیجے کو پہنچ جائیں گے کہ اتنی دراڑیں اس نظام میں پڑ چکی ہیں کہ اس کو گرایا جاسکتا ہے اور وہ اس بات کا بھی ادراک رکھیں گے کہ ان کی عوامی طاقت اور کارکنان کی صلاحیت اس نظام کو گرانے کے لیے تیار ہے تو وہ دیر نہیں کریں گے۔ باالفاظِ دیگر نظرئیے کے خالق اور اس کی دی ہوئی تحریک نظام کو گرانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے تاوقتیکہ قائد کے ماننے والے کارکنان اپنے آپ کو اس کوشش کے لیے تیار کر لیں۔ یہ ذکر اس قیادت کا ہے جسے حال ہی میں بین الاقوامی جریدے نے \"The Right Man\"کے خطاب سے نوازا ہے۔ یہ لفظ اپنے معنوں میں کئی جہتوں کا حامل ہے اور وہ جہات اس شخصیت کی زندگی میں نظر آتی ہیں۔ آج یہ شخصیت اپنی زندگی کے اکسٹھ برس مکمل کر رہی ہے۔ اور اس پوری زندگی میں نظرئیے ، کاز اور مقصد سے اس کی بقاء اور وابستگی اس طرح سے ہے جیسے جسم اور وح کا ساتھ ہے۔ وہ آج بھی اس سفر کی قیادت کرتے ہوئے ان تمام تر حالات کا ادراک رکھتا ہے جو اس وقت وطن عزیز کو درپیش ہیں۔ یقیناًجب بھی کوئی حتمی فیصلہ تبدیلی اور انقلاب کے لیے سامنے آیا تو وہ پاکستان کے سرمایہ داروں ، جاگیرداروں، وڈیروں اور مکروہ عزائم رکھنے والے حکمرانوں کے لیے آخری کال ثابت ہوگی لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے کہ سب اس تحریک میں ہونے والے تطہیر کے عمل کے نتیجے میں تحریک کے کارکنان اپنے نظرئیے اورکاز کو سامنے رکھیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کو بالائے طاق رکھ دیں کیونکہ قائد تحریک الطاف حسین نے اس تحریک کو نہ صرف موروثیت سے بچا کر رکھا بلکہ پاکستان کی وہ بڑی سیاسی جماعت ہے جس نے گزشتہ ستائیس سالوں سے اپنے عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھا ہے اور بتدریج اس میں اضافہ بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ سوچ پاکستان کے طول و عرض مں اس تیزی سے نہیں پھیل رہی جیسے سندھ کے شہری علاقوں میں پھیلی تھی۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس نظرئیے اور اس کاز میں جان نہیں، بلکہ یہ اس نظرئیے کے ماننے والے کارکنان کی کمزوری ہے کہ وہ اس شد و مد کے ساتھ اس کو نہیں پھیلا پا رہے جس کا تقاضا یہ سوچ اور نظریہ کرتا ہے۔ آج غریبوں کو ایوانوں میں بھیجنے کی بات ہوتی ہے۔ مسائل زدہ معاشرے میں مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اور قانونی و آئینی اصلاحات کی بات کی جاتی ہے۔ یہ تمام کام قائد تحریک الطاف حسین نے اپنے محدود مینڈیٹ سے کرکے دکھائے۔ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام اس پلیٹ فارم کو استعمال کریں اور کامیابی ان کا مقدر نہ بن سکے لیکن اس سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہم تمام کارکنان اس معیار پر پورا اتریں جس کا تقاضا ہمارا عہد ، ہماری وفا اور ہمارا احساسِ ذمہ داری ہم سے کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم قائد کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں اور ایک ایسا ماڈل پیش کریں جو تبدیلی کے لیے تمام راستے ہموار کرتا ہو اور یہی تجدیدِ عہدِ وفا ہے۔ آج17ستمبر کا دن بھی ہمیں تجدیدِ عہد وفا کرنے کی طرف مائل کرتا ہے اور حقیقی عہدِ وفا یہی ہے کہ ہم زندگی کے نظرئیے کو قائد تحریک الطاف حسین کے نظرئیے سے تبدیل کردیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تبدیلی اور حقوق کے حصول کی منزل حاصل کرنے کے لیے اپنے قائد کے شانہ بشانہ کام کریں۔