Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آزادی صحافت مگر احساس ذمہ داری شرط ہے

 Posted on: 5/5/2014 1   Views:673
آزادی صحافت مگر احساس ذمہ داری شرط ہے
تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ 
ہم نہ کہتے تھے کہ آپ جو عمل کررہے ہیں اس کاردعمل بھی آسکتا ہے اور مکافات عمل بھی ہوسکتا ہے لیکن صاحب ، پروفیشنلزم کی جگہ کمرشلزم کی سوچ پروان چڑھ جائے ، ہرسمت سے ڈالرز ، پاؤنڈز اور دیگر کرنسی گھرکی لونڈی لگنے لگے، عوامی رائے بنانے والے خود کو’’ بادشاہ گر‘‘سمجھنے لگ جائیں ، کسی صائب اور بھلا مشورہ دینے والوں کو خاطر میں نہ لائیں، مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم قراردیا جانے لگے ، غداری اور حب الوطنی کے ٹھیکیدار بن جائیں، قانون ، آئین اور انصاف کی سربلندی کے واحد امین اوروارث کہلوائیں، اپنے قدم زمین پر رکھنے کے روادار نہ ہوں، خلق خدا کی خدمت کے بجائے خلق خدا سے خدمت کرائیں اور اشرف المخلوقات کے منصب سے گر کر معاذاللہ خود کوزمینی خدا سمجھنے لگیں توپھر قدرت کی بے آواز لاٹھی کی ضرب سے ہوش ٹھکانے پر آتے ہیں۔ زمین پر رہتے ہوئے آسمانوں پر اڑنے والے یہ لوگ خود کوزمینی خداکیوں سمجھتے ہیں ، اس کا جواب میرے نزدیک سیدھا سادہ ہے کہ جب کوئی یہ سمجھنے لگے کہ وہ صحیح ہے اور باقی سب غلط ہیں تو تمام خرابیوں کی شروعات ہوجاتی ہے۔ ہم کہتے رہے کہ ایک مقدس پیشے کو تجارت بنانے کا عمل اپنے عہد، پیشہ، ضمیراور عوام سے غداری کے مترادف ہے۔ آپ کو لاکھوں کروڑوں عوام دیکھتے ہیں ، سنتے ہیں لہٰذا آپ فریقین کا مؤقف ایمانداری سے پیش کرکے عوام کو فیصلہ کرنے دیں اور خود منصفی کا بوجھ اٹھانے کی زحمت نہ کریں تو واویلا مچادیا گیا کہ ’’اظہار رائے پرپابندی لگائی جارہی ہے اور آزادی صحافت کو مسدود کیاجارہا ہے‘‘ اور پھراظہاررائے کی آزادی کی آڑ اور آزادی صحافت کے نام پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا اورلوگوں کی ذاتیات پر باتیں کی جانے لگیں ، کسی کو ملک دشمن اورکسی کو غیرملکی ایجنٹ گردانا گیا ۔ اب اسے مکافات عمل نہ کہیں تو پھر کیا کہیں کہ آج وہ میڈیا گروپ اور اس سے وابستہ آزادی صحافت کے چند علمبردار کو انہی بہتان تراشیوں کا سامنا ہے جو وہ دوسروں پر کرتے رہے ہیں۔ 
میری رائے میں آزادی اظہار اورآزادی صحافت پر کسی بھی قسم کی قدغن نہیں ہونی چاہیے لیکن کسی میڈیا اوراس سے وابستہ افرادکو بھی مادرپدر آزادی اور یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی رائے زبردستی کسی پر مسلط کریں اور یہ تصور کریں کہ ان کی بات حرف آخر ہی تسلیم کی جائے۔ مخلصانہ رائے ہے کہ میڈیا کی طاقت کو ذمہ داری کے احساس کی لگام دیکرصحافتی اصول اورآداب کے ٹریک پر ہی رکھنا چاہیے تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ آج ایک طاقت کے ناخداؤں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اسے مکافات عمل کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا اور شائد خود کو ’’بادشاہ گر‘‘ سمجھنے والے کو بھی یہ احساس ہوگیا ہے کہ قلم اور دولت کی طاقت رکھنے کے باوجود وہ ایسا زرہ ہے جو آسمان کے ستارے سے نہیں مل سکتا اور حالات حاضرہ پر نظررکھنے والے بتاتے ہیں کہ’’ کچھ لو، کچھ دو‘‘ کے اصول کے مطابق مفاہمت کی کوئی راہ نکل جائے گی تو یہ بہت اچھا ہے کہ اداروں کے درمیان مخاصمت سے ملک دشمن قوتوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ جن ستونوں کی استقامت اور مضبوطی میں ریاست کا استحکام پنہاں ہے ان ستونوں کو کمزورکیا جائے تو انجام تباہی اورتخریب کے سوا کیا ہوگا۔ کائنات میں مکمل ذات صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہے ، انسان بشری خامیوں کا مجموعہ ہے اور غلطی ہرکسی سے ہوتی ہے لیکن اگر ہم ایک ترقی یافتہ پاکستان اور خوشحال قوم کی بنیاد رکھنے جارہے ہیں تو ہمیں غلطی اور جرم میں تمیز کرنی ہوگی اور خلوص نیت کے ساتھ اپنی اصلاح کا عمل جاری رکھنا ہوگا تاکہ بہتری کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے ۔ میری التجاہے کہ میڈیا سے وابستہ افراد کے ہاتھوں میں کیمرہ ، سامنے مائیک اور لاکھوں کروڑوں قارئین ، سامعین اور ناظرین ہوں تو انہیں اس سعادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر اورعوام کا شکریہ ادا کرنا چاہیے نہ کہ یہ طاقت پاکر خود کوزمینی خدا سمجھنے لگیں، ان کا کام ایشوز پر مختلف مؤقف کو عوام کے سامنے ایمانداری سے پیش کرنا ہے ، اس پر دلائل سے بات کرنی ہے لیکن فیصلے سنانے یا اپنی بات منوانے کی ہٹ دھرمی نہیں کرنی چاہیے اورمقدس پیشہ کا سہارا لیکراپنی حد سے تجاوزبھی نہیں کرنا چاہیے ۔ 
*****