Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قلم اپنے پاس نہ رکھیں ,تحریر ارشد حسین

 Posted on: 4/7/2014 1   Views:823

(قلم اپنے پاس نہ رکھیں )
تحریر ارشد حسین
قلم ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جس کے آگے بڑے سے بڑے ہتھیار معمولی ،ذرہ برابر اور بے سود ثابت ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ اس کا استعمال درست کیا جائے ، بظاہر تو یہ ایک بے جان سی اور بہت ہی معمولی سی چیز ہے،بس ایک موٹے تنکے کی ماننداور اس چند انچ کے تنکے میں محض چندقطرے رنگ ہی تو ہوتا ہے ۔ مگر اس معمولی چیز کو انسان چاہے وہ کسی بھی روپ میں ہو یعنی ڈاکٹر،وکیل،قلمکار،سیکیورٹی افسر،دانشور، انجینئر،جج یا کوئی اعلیٰ منصب پر فائز شخص ہو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کر تاہے ۔ اس معمولی چیز کا اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے یا چند سکوں کے عوض جس طرح بے د ریغ استعمال کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ عوام یہ تمام مناظر نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ خاموش تماشاہی بنے ہوئے ہیں ۔ کہیں ایک ملزم کو ایک وکیل اسے مظلوم ثابت کرنے کیلئے خطیر رقم لے رہا ہوتا تو کہیں دوسرا اس کو مجرم ثابت کرکے سخت سز ا دلوانے کی غرض سے اپنی مطلوبہ رقم لیتے ہوئے نظر آتا ہے ، اسی طرح کسی معصوم شہری کو سیکیورٹی اہلکارجھوٹی ایف آئی آر درج کر کے قید کرتے دکھا ئی دیتے ہیں ، کہیں تعلیمی اداروں میں فیل ہوتے ہوئے اس کو اضافی نمبر دے کر امتحانی نتائج تبدل کئے جاتے ہیں یا جعلی ڈگری بنائی جارہی ہوتی ہے ،کبھی کسی معصوم کی رپورٹ کو غلط پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ذریعے خودکشی کاکیس بنادیا جاتا ہے ، اسی طرح چند ضمیر فروش قلمکار او رصحافی کی جانب سے غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط تحریر کرتے ہوئے صفحوں کے صفحے کالے کرتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں اور اپنی تحریروں کے ذریعے سیاق و سباق سے ہٹ کرکسی کے بھی جملوں کو عوام میں پیش کر دیتے ہیں جس کا مقصد ملک میں انار کی اور نفرت پھیلانا ہوتا ہے ۔غرض یہ کہ بظاہر معمولی سی چیز جسے ہم قلم کہتے ہیں اس کی حرمت کا پاس رکھنے کے بجائے اس کے تقدس کو بری طرح سے پامال کیا جارہا ہے۔ اگر اس قلمکار ،دانشور ،ڈاکٹر ز ،انجینئر ز،وکلاء،سیکیورٹی افسران ،سمیت قلم کا استعمال کرنے والے تما م حضرات اسے درست کو درست اور غلط کو غلط لکھنے کیلئے استعمال کر یں تو قومی امید ہے کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوترقی وخوشحالی کی جانب گامزن ہو،فرقہ ورانہ ہم آہنگی وبھائی چارگی ہو،امن وامان کی صورتحال بہتر ہو ،جرائم کا خاتمہ ہو ۔مگر حقیقت یہی ہے کہ چند بے ضمیر لوگوں کی وجہ سے ہمارا ملک تباہی کی جانب چل پڑا ہے، ہم ملک سے غربت کے خاتمہ، اس کی ترقی وخوشحالی کیلئے نعرے اور دعوے توخوب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مگر اس کے لئے سنجید ہ اس لیئے نہیں ہوتے کہ اگر غربت کا خاتمہ ہوگیا تو امیری کہاں دکھا ئی دے گی ،مسائل کا خاتمہ ہوگیا تو سیاست کہاں ہوگی ،حقوق فراہم کر دیئے گئے تو حقوق پر پر ڈاکہ کیسے ڈالا جائے گا ، ملک پرقابض دوفیصدمراعات یافتہ طبقہ اور چندضمیر فروش سیاست دانوں کی سیاست کیسے ہوگی۔ ہم دوسرے ممالک کی مثالیں دینے میں تو ماہر ہیں کہ فلاں ملک میں یہ ہورہا ہے، فلاں ملک میں وہ ہور ہا ہے ۔ مگر ہم اپنی حرکتوں پر نظر نہیں ڈالتے کہ ہم نے اپنے ہی ملک میں بوسنیا،چیچنیا،کشمیر ،فلسطین ودیگر جیسی صورتحال خود بنا رکھی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ کسی بھی ملک کی 

ترقی وخوشحالی کیلئے جہاں سیاسی وسماجی جماعتوں کا کر دار ہوتا ہے وہیں اہل قلم حضرات کا بھی کردار انتہائی اہم ہوتا ہے ۔ بس ذمہ داری کا احساس ہونا چا ہیئے لکھتے، پڑھتے اور بولتے وقت عقل و دانش کی ضرورت ہے ایسا تب ہو سکتا ہے جب ہم سنجیدگی کا مظاہر ہ کریں ، مگر جن لوگوں نے چند سکوں کے عوض ملک کو نقصان پہنچانے کی ٹھان لی ہو تو ان کا کیا کیجئے ۔اتنا ضرو ر ہے کہ ایسے لوگ بہت خطر ناک ہوتے ہیں اور اپنے شعبہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے جملوں اور تحریر کا چناؤ کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جیسے ان سے زیادہ ملک کا خیر خواہ کوئی نہیں ہے ۔یہاں کسی بھی چیز کوحاصل کرنے کیلئے سنجیدگی مظاہرہ کرنے کی اشدضرورت ہوتی ہے ہمیں ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کیلئے سنجیدگی کا مظاہر ہ کرنا ہوگا اور اس کیلئے کسی قسم کے گولہ بارود یا اسلحہ کی ضرورت نہیں بلکہ قلم کا صحیح استعمال کر نے کی ضرورت ہے تمام مسائل اور مطلوبہ نتائج خود بخود حاصل ہوجائیں گے ۔ لہٰذا اہل قلم حضرات قلم کی حرمت کا پاس رکھیں ورنہ قلم اپنے پاس نہ رکھیں ۔