Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

الطاف حسین کے خلاف قرارداد مذمت کیوں؟ ۔۔۔۔تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ

 Posted on: 3/19/2014   Views:525
الطاف حسین کے خلاف قرارداد مذمت کیوں؟
تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ 
سچ بہت تلخ ہوتا ہے، ایسے معاشرے میں جہاں طرزعمل یہ ہوجائے کہ جھوٹ بولو اوراتنا بولو کہ سچ لگنے لگے، اس معاشرے میں سچائی بیان کرنا اندھوں کے شہر میں آئینے فروخت کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔ تلخ چیز آسانی سے حلق سے نہیں اترتی لہٰذا مکروفریب اورجھوٹ کے ماحول میں سچی باتیں بھی آسانی سے قبول نہیں کی جاتیں اور جو لوگ نتائج کی پرواہ کیے بغیر سچائی بیان کرتے ہیں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے ایک سچائی بیان کی کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکومت اور مسلح افواج میں ہم آہنگی نہیں ہے اور جب تک یہ ہم آہنگی نہیں ہوگی ملک وقوم کو دہشت گردی اورقتل وغارتگری سے نجات نہیں دلائی جاسکتی ۔انہوں نے 25 ، فروری 2014ء کو ایک نجی ٹی وی کیلئے اپنے انٹرویو میں جراتمندانہ مؤقف اختیار کیا تھا جس پرایم کیوایم کے مخالفین کی جانب سے طوفان بدتمیزی مچادیا گیا ،یہی نہیں بلکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعت کی جانب سے قرارداد مذمت پیش کی گئی جسے متفقہ طورپرمنظور کرلیا گیا۔ حالانکہ جناب الطاف حسین نے اپنے انٹرویو میں فلسفیانہ گفتگو کرتے ہوئے واضح طورپر کہاتھا کہ ’’ پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے اور ملک کی سلامتی کیلئے وزیراعظم اورآرمی چیف کو ایک پیج پر آجانا چاہیے ،اگر حکومت اورفوج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پر نہیں آتے تو پھر میں فوج سے کہوں گاکہ وہ ریاست کی رٹ قائم کرنے ، ملک کودہشت گردوں سے نجات دلانے اورملک کوبچانے کیلئے آگے بڑھے اورٹیک اوورکرلے، میں آمریت پسند نہیں،میں فوج کودعوت نہیں دے رہا لیکن آج ملک کی سلامتی کو جس قسم کے خطرات لاحق ہیں تو ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکہ ملک کوبچایا جائے یاجمہوریت کو ۔ملک ہوگاتوجمہوریت ہوگی‘‘
اسی طرح 18، مارچ 2014ء کوپاکستان کے 37 سے زائد شہروں میں ایم کیوایم کے 30 ویں یوم تاسیس کے اجتماعات سے ٹیلی فونک خطاب میں جناب الطاف حسین نے یہ سچائی بیان کی کہ’’یہ تاریخ کی تلخ حقیقت ہے کہ دنیا میں کرپٹ سیاسی نظام کو اگر کسی نے بدلا ہے تو بدلنے والا فوج سے ہی نکل کر سامنے آیا ہے ‘‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جناب الطاف حسین کے بیان کو دلائل کی روشنی میں رد کیا جاتا اور دلیل کے جواب میں دلیل پیش کی جاتی لیکن شومئی قسمت اس کے بجائے واویلا مچایا جارہا ہے کہ جناب الطاف حسین نے ایسا کیوں کہہ دیااورایک مرتبہ پھر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی جانب سے قرارداد مذمت جمع کرادی گئی جس میں کہاگیا ہے کہ الطاف حسین کے فوج کو بغاوت پر اکسانے کے بیانات کی ایوان مذمت کرتا ہے۔
جاگیرداروں ، وڈیروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کی وکالت کرنے والی یہ جماعتیں اگر تاریخی سچائی کو نظرانداز کرکے سچ بیان کرنے کے عمل کی مذمت کرتی ہیں تو کرتی رہیں ان کی کھوکھلی باتوں اوردعوؤں سے حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے لیکن اب پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے غریب محنت کشوں، کسانوں اور حقوق سے محروم عوام کو غورکرنا چاہیے کہ وہ کونسے عوامل ہے جن کی بنیاد پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایم کیوایم ، فرسود ہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف ہے اورملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کے قیام کیلئے کوشاں ہے ۔ جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والے یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین کا یہ پیغام پنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام تک پہنچیں اورپنجاب کے عوام فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں لہٰذا ایم کیوایم اورجناب الطاف حسین کی ہربات کو رد کرنا اور تنقید کا نشانہ بناناجاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والوں وطیرہ بن چکا ہے۔جناب الطاف حسین نے اپنی تقریر میں تاریخی حوالوں سے حقائق بیان کیے ہیں کہ دنیا کے کئی ممالک میں فوجی افسران نے کرپٹ جاگیردارانہ نظام کی تبدیلی لانے کیلئے کردارادا کیا ہے ۔ تاریخ میں امریکہ میں انقلاب لانے والے جارج واشنگٹن ایک فوجی جرنیل تھے ، فرانس میں فوجی جرنیل نپولین نے انقلاب کی داغ بیل ڈالی جبکہ ترکی میں مصطفی کمال اتاترک انقلاب لائے جوکہ ایک فوجی جرنیل تھے ۔ کیا ۔ ان فوجی جرنیلوں نے اپنے معاشرے میں کرپشن کے خاتمے کیلئے انقلاب کی بنیاد رکھی، کرپٹ عناصر سے اپنے معاشرے کو پاک کیا اور آج یہ ممالک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہیں۔کیاجناب الطاف حسین کے حقائق کوتنقید کا نشانہ بنانے والے ان تاریخی حقائق کو نظرانداز کرسکتے ہیں اورتاریخی حقائق بیان کرناکونسی بغاوت ہے ؟جمہوریت کے نام پر پاکستان میں جس طرح آمرانہ اقدامات کیے جارہے ہیں ، جمہوری روایات کو مسخ کیاجارہا ہے، قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹاجارہا ہے اور عوام کے جمہوری ، آئینی ، قانونی اور انسانی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔کیا ہمارے ’’جمہوریت پسند‘‘ سیاستداں کے نزدیک یہی جمہوریت ہے ؟ اگر ایسی جمہوریت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا جرم ہے تو پھر ہرسچے اور محب وطن پاکستانی کویہ فخرکے ساتھ یہ جرم کرنا چاہیے ۔
ڈھکوسلے اورڈرامے کرنے والے ان سیاستدانوں کو نہ پاکستان کی بقاء وسلامتی سے غرض ہے اور نہ ہی پاکستان کے مظلوم ومحکوم عوام سے ہمدردی۔یہ ظالم سیاستداں مظلوم عوام کو سبزباغ دکھاکر ، انہیں ڈرا دھمکا کر،’’ سستی ‘‘روٹی اور’’ تبدیلی ‘‘کا لالچ دیکر ان کے جذبات سے کھیلتے رہے ہیں ، کئی نسلوں سے جونک بن کر غریب عوام کاخون چوستے رہے ہیں اور مزیدکئی نسلوں تک خون چوسنا چاہتے ہیں۔ ان ڈھکوسلے بازوں اورنوسربازوں سے پنجاب کے عوام کو سوال کرنا چاہیے کہ انکے پاس جناب الطاف حسین کے خلاف قرارداد مذمت پیش کرنے کیلئے وقت میسر ہے لیکن غریب عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انکے بنیادی حقوق غصب کرنے کے حوالہ سے قرارداد مذمت پیش کرنے میں انہیں کیوں موت آجاتی ہے؟ جب قوم کی معصوم بچیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے توان کے ضمیرکیوں مردہ ہوجاتے ہیں؟
جوسفاک درندے مساجد ، امام بارگاہوں، حساس قومی تنصیبات، بازاروں ، اسکولوں اور بزرگان دین کے مزارات پر بم دھماکے اورخودکش حملے کرکے مسلح افواج ، ایف سی ،رینجرز، پولیس اور عام سویلین کو دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں اورفوجی افسران واہلکاروں کے گلے کاٹ کر ان کے سروں سے فٹ بال کھیل رہے ہیں اورپھر اعلانیہ اپنے سیاہ کارناموں کی ذمہ داریاں بھی قبول کرتے رہے ہیں لیکن ان دہشت گردوں کے خلاف قومی یاصوبائی اسمبلیوں میں قرارداد مذمت پیش نہیں کی جاتی کیا یہ شرمناک بات نہیں؟ اسلام آباد ایف ایٹ کی عدالت میں مسلح دہشت گرد بم دھماکے اورفائرنگ کرکے قتل وغارتگری کابازارگرم کرتے ہیں ، برطانیہ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی جواں سال خاتون وکیل فضاء ملک کو گولیاں مارکرشہید کرتے ہیں ،لیکن ہمارے جمہوریت پسندوں کو اکلوتی بیٹی کی شہادت پر اس کے والدین کی آہ وبکا دکھائی نہیں دیتی اور ا س ظلم کے خلاف پنجاب کے عوامی نمائندوں کی جانب سے کوئی قرارداد مذمت پیش نہیں کی جاتی ۔ مظفرگڑھ کی طالبہ آمنہ کو علاقے کے جاگیردار وڈیرے اجتماعی زیادتی کانشانہ بناتے ہیں ، پولیس کی جانب سے سفاک بھیڑیوں کو بے گناہ قراردے دیا جاتا ہے اور انصاف کی امید سے مایو س ہوکر یہ غریب بچی اپنے آپ کو آگ لگاکرموت کی وادی میں چلی جاتی ہے لیکن پنجاب اسمبلی کے ’’باضمیر‘‘ارکان اسمبلی کی جانب سے کوئی قرارداد مذمت پیش نہیں کی جاتی ۔ پسند کی شادی اور غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کیاجارہا ہے ، ونی کی منحوس اورفرسودہ رسم کی بھینٹ چڑھایاجارہا ہے لیکن عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ’’محب وطن‘‘ ،’’ جمہوریت پسند‘‘اور ’’انصاف‘‘ کے داعی بے شرمی کی چادرتان کرسوئے ہوئے ہیں اور انہیں اس ظلم وبربریت کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد مذمت پیش کرنے کا خیال تک نہیں آتا۔آخراس دہرے معیار اوردوغلے کردار کو کیانام دیا جائے ؟ 

*****