Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’وقت کے ساتھ عناصر بھی رہے سازش میں‘‘ تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ

 Posted on: 3/13/2014   Views:462
’’وقت کے ساتھ عناصر بھی رہے سازش میں‘‘
تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ 
صحراتے تھر ۔۔۔بھوک ، افلاس اور غربت کی منہ بولتی تصویر۔۔۔جہاں خشک سالی اور قحط سالی کوئی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے ، جب جب مالک دوجہاں آسمان سے اپنی رحمتوں کی بوندیں اس دھرتی پر نہیں برساتا یہاں سبزہ ناپید ہوجاتا ہے، غریب ومفلس عوام جاگیرداروں اوروڈیروں کے مظالم کی طرح قدرتی آفات کو بھی اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر صبر کرلیتے ہیں، بھوک اورپیاس کی شدت کو اپنا مقدر سمجھ کر خاموش ہوجاتے ہیں۔ بھوک وپیاس کی شدت بھی ایسی کہ انسان تو انسان ، جانور تک اپنی چوکڑی بھول جائے، حضرت انسان کی طرح جانوروں کے حلق سے بھی آواز نہیں نکلتی۔تھر میں قحط سالی اور خشک سالی کے باعث سینکڑوں گھروں میں کیا قیامتیں ٹوٹ گئیں کسی کو معلوم تک نہ ہوتا اگر میڈیا ان حقائق کو اجاگر نہ کرتا۔ تھر میں غذائی قلت اور طبی امداد کی عدم فراہمی کے باعث 130 سے زائد معصوم بچوں کی ہلاکتیں کوئی معمولی واقعہ ہے ؟ مگر حکمرانوں کے رویے سے لگتا ہے کہ انہیں اس کرب کا اندازہ ہی نہیں جو ایک ماں کو اپنے لخت جگر سے بچھڑجانے کے باعث ہوا۔ سب کے سب اپنی اپنی صفائی اورصفائیاں دینے میں مصروف ہیں لیکن بے شرمی اورڈھٹائی دیکھئے کہ کہتے ہیں کہ یہ معصوم بچے ایسے نہیں ۔۔۔ویسے مرے ہیں، یہ بچے غذائی قلت کے باعث نہیں مرے بلکہ ان کی اموات سردی کے باعث ہوئی، کوئی کہتا ہے کہ تھر میں گائناکولوجسٹ کی کمی ان ہلاکتوں کا سبب بنی ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تھر میں کوئلہ پراجیکٹ روکا گیا ، چائنا کے ماہرین کو تھر سے بھگایا گیا جس کے باعث یہ المناک واقعات رونما ہوئے ۔ یعنی سب مانتے ہیں کہ اموات ہوئی ہیں البتہ اختلاف موت کی وجوہات پر ہے ۔ ہمارے حکمراں ، میڈیاپر آکر تھر میں غذائی قلت اور بچوں کی اموات کے حوالہ سے اپنی نااہلی، کوتاہی اورمجرمانہ غفلت کااعتراف کررہے ہیں لیکن کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اپنی کرسی کو لات مارسکے ۔غربت کے مارے تھر کے عوام کبھی بھوک وپیاس کی شدت سے مرجاتے ہیں اور کبھی علاج ومعالجہ کی سہولیات سے محرومی ان کی جان لے لیتی ہے اور اگر وہ زمینی وآسمانی آفات سے بچ جائیں تو جاگیردار وڈیرے ان کے جسم کا خون نچوڑلیتے ہیں۔یہ صرف تھر کا قصہ نہیں ہے ، سندھ دھرتی کے گاؤں گاؤں ، قصبات اوردیہات میں جاکر دیکھ لیں امیرتر اورغریب تر کا مطلب سمجھ میں آجائے گا۔ 
ایک صاحب نے سیکھ لیا کہ ’’مرسوں مرسوں ، سندھ نہ ڈیسوں‘‘آج وہ اوران کا جاگیردارطبقہ زندہ ہے اورسندھ دھرتی کو سجانے اوربسانے والے غریب سندھی عوام بھوک وافلاس ، بیماری اور ظلم کا شکار ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھورہے ہیں۔ جس وقت سندھ کلچر کے نام پر انگریزی گانوں پرعجیب اوربے ہنگم رقص کیاجارہا تھا اورذاتی وسیاسی نمود ونمائش کیلئے قومی خزانے کے اربوں روپے دونوں ہاتھوں سے لٹائے جارہے تھے اسی وقت تھرکے معصوم بچے غذا اور دوا نہ ملنے کے باعث موت کی ابدی نیند سورہے تھے ،اب کوئی ان حضرت سے پوچھے کہ موصوف!! ٹھیک ہے آپ کسی کوسندھ نہیں دیں لیکن اپنی سندھ دھرتی پر بسنے والے غریب ہاری کسان اور مزارعوں کو گندم تو دیدیں،آپ کے جمع خرچ اورزرہ نوازی سے اگر خلق خدا ہی ختم ہوجائے گی تو سندھ کے ویرانے لیکرآپ کہاں حکومت کریں گے ؟میری حیرت اس وقت دوچند ہوجاتی ہے جب سندھ کے نام نہادقوم پرست اس ظلم وستم اور بربریت کے خلاف خاموش تماشائی بن جاتے ہیں ،سندھ کے حقوق کیلئے کٹنے مرنے کے بلندوبانگ دعوے کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ کیا تھرکے غریب بچے سندھ دھرتی کے بیٹے نہیں تھے ، ان کی ناگہانی اموات پر ان کی غیرت ایمانی ستو پی کرکیوں سوجاتی ہے ؟
*****

مزید تفصیل کیلئے کلک کریں