Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

’’ پاکستان بچانا ہے یا جمہوریت ‘‘ ۔۔۔جواب آں غزل

 Posted on: 3/8/2014 1   Views:368
(تحریر۔۔۔ مصطفےٰؔ عزیز آبادی )

قومی سیاسی رہنماؤں، اکابرین دانشوروں او رقلمکاروں سے ایک جملہ اکثر سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ ’’ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے ‘‘اس بات سے یقیناکسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا ، ہر فرد کوکسی دوسرے فر د کی رائے سے اختلاف کرنے کاپورا حق ہے لیکن کسی کی رائے سے محض اختلاف ہی کافی نہیں بلکہ اس کی رد میں دلا ئل بھی دیئے جانے چاہئیں کیونکہ دلا ئل اور جوابی دلا ئل سے ہی ہم کسی کے مؤ قف کو درست یا غلط ثابت کر سکتے ہیں ۔ یہی ایک جمہوری اور صحت مند معاشرے کی علامت ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ٹی وی ٹاک شو ز ہوں یااخباری کالم ،کسی کی رائے کی مخالفت میں جوابی دلائل پیش کرنے کے بجائے الزامات اور گالم گلوچ کی بوچھا ڑ شروع کر دی جاتی ہے اور متعصبانہ رویہ کا اظہار کیا جاتا ہے جیسا کہ آج بعض متعصب سیاسی ومذہبی رہنماؤ ں،تجزیہ نگاروں او رقلمکاروں کی جانب سے کیا جارہاہے یہ طرز عمل سامنے والے کو اپنے دفاع میں جواب دینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ مورخہ 27فروری 2014ء کو روز نامہ جنگ میں سینئر صحافی اور اینکر حامد میر کا شائع ہونے والا کالم بعنوان ’’ پاکستان بچانا ہے یا جمہوریت ‘‘ پڑھا ۔ اس کالم کو پڑ ھ کر انداز ہ ہوا کہ نفر ت اور تعصب کس کس شکل میں اور کس کس انداز میں سامنے آیا کرتا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے ایم کیوایم او رقائد تحریک الطاف حسین کے بارے میں اپنی روایتی زہر افشانی کیلئے جناب الطاف حسین کے اس خصوصی انٹرویو کو بنیاد بنا یا ہے جو انہوں نے مورخہ 25فروری 2014ء کو سما ء ٹی وی کے اینکر ندیم ملک کو دیا ۔اگرچہ اس 50منٹ کے انٹرویو میں جناب الطاف حسین نے ملک کو لاحق اندرونی وبیر ونی خطرات ، دہشت گردی ،طالبانائز یشن او راس کا پس منظر ،طالبان حکومت مذاکرات پر تفصیلی بات کی اورمسئلے کا حل بھی پیش کیا ۔ اس انٹرویو میں جناب الطاف حسین نے ملک کے موجود ہ سنگین حالات پر اپنے گہرے دکھ اور شدید کرب کا بھی اظہار کیا لیکن حامد میر نے اپنے کالم میں جناب الطاف حسین کے 50منٹ کے انٹر ویو کے آدھے جملے کو بنیاد بنا کر ایم کیوایم اور جناب الطاف حسین پرصرف تنقید نہیں بلکہ اپنی نفرت کے زہر میں بجھے ہوئے تیر وں کی بارش بھی کی ہے ۔اگر چہ اس وضاحت کی قطعی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جن کے دلوں پر مہر اور سماعتوں اور بصارتوں پر تالے پڑے ہوں ان کے سامنے کتنی ہی وضاحت کر دی جائے ان کی تسلی وتشفی نہیں ہوتی لیکن ہم یہاں ریکارڈ کی درستگی کیلئے یہ بات رقم کر رہے ہیں کہ جناب الطاف حسین نے صاف او رواضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ میں چیف آف آرمی اسٹاف او رنواز شریف صاحب سے کہوں گا کہ پلیز دونوں ایک پیچ پر آجائیں او راگر منتخب حکومت فوج کے ساتھ دہشت گردوں سے نجات کیلئے ایک پیچ پر نہیں آتے تو پاکستان کی افواج سے کہوں گا کہ آگے بڑھے پھر اسٹیٹ کی طاقت کو ٹیک اوور کر لینا چاہئے اورپاکستان کو بچانا چاہئے ، مجھے وطن عزیز ہے، وطن ہے تو حکومتیں ہیں ،وطن نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے ،لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ وطن ختم ہو جائے اور جمہوریت رہے ،وطن ہوگا تو جمہوریت ہوگی ‘‘۔انہوں نے اس انٹر ویو میں انتہائی دکھ او ر کرب کے لہجے میں یہ بھی کہا تھا کہ’’ میں پاکستان کی خدمت کیلئے پید اہوا ہوں ، میں پاکستان پر اپنی جان قربان کرنے کیلئے پیدا ہوا ہوں ‘‘مگر حامد میر جیسوں کے دل نہیں پسیجے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ مجھے آمریت پسند نہیں ،میں فوج کو دعوت نہیں دے رہا ،میں ملک کو بچانا چاہتا ہوں ‘‘لیکن ان کے ان جملوں کے بجائے بات کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا جارہا ہے اوران کاوہ جملہ جو’’ اگر‘‘ سے شروع ہوا یعنی مشروط بات تھی اس ایک جملے کو لیکر ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے کہ الطاف حسین نے فوج کو ٹیک اوور کرنے کی دعوت دی ہے۔ 
قرآن مجید کے پانچویں سپارے میں سورہ النساء کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ ہے ’’ اے ایمان والو ! تم نماز کے قریب مت جاؤ جبکہ تم حالت نشے میں ہو ‘‘۔ ایک مکار شخص نے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے ان سے کہا کہ مولوی حضرات نماز کی طرف بلاتے ہیں جبکہ قرآن میں تو نماز سے منع کیا گیا ہے۔ اس گمراہ کن بات کے ثبوت کے طورپر اس نے قرآن مجید کی مذکورہ آیت کا پہلا حصہ سنا دیا جس میں فرمایا گیا تھا’’ اے ایمان والو ! تم نماز کے قریب مت جاؤ‘‘ ۔اس نے اس آیت کے اگلے حصے کو اپنا انگھوٹا رکھ کر چھپا دیا، جب کسی نے اس سے کہا کہ انگوٹھا ہٹاؤ تو آیت کا اگلا حصہ سامنے آگیا جس کا ترجمہ تھا ’’ جبکہ تم حالت نشے میں ہو ‘‘۔ یعنی سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرکے اس نے فرمان الہٰی کے معنی ومفہوم بدل دیے۔ کچھ ایسا ہی حامد میر، قائد تحریک الطاف حسین کی نومبر2004ء میں دہلی میں انٹر نیشنل کانفرنس میں کی جانے والی تقریر کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ حامد میر الطاف بھائی کی تقریر کا یہ جملہ تو بار بار پیش کرتے ہیں کہ ’’برصغیر کی تقیسم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی ‘‘ لیکن اس کے بعد اس کا جو اگلا حصہ ہے وہ حامد میر ہمیشہ جان بوجھ کر گول کر جاتے ہیں جس میں قائد تحریک الطاف حسین نے کہاتھا ’’اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اور انڈیا اور پاکستان دو علیحدہ علیحدہ مملکتوں کی شکل میں دنیا کے نقشہ پر وجود میں آچکے ہیں تو دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی آزادی ،خود مختار ی اور ایک دوسرے کی جغرا فیائی حدود کو تسلیم کرنا چاہئے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی سرحدوں کو تسلیم کرنا چاہئے، آپس میں اچھے پڑوسیوں کی طرح مل جل کر امن سے رہنا چاہئے او رآپس میں دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہئیں ‘‘۔ قارئین کرام! پاکستان کا کونساایسا صدر ، وزیر اعظم ، وزیر خارجہ یا قومی رہنما ء ہے جس نے پاکستان او ربھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے یہ جملے ادانہ کئے ہوں بلکہ یہ تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جز و ہے لیکن حامد میرہمیشہ آدھاسچ بیان کرتے ہیں جوپورے جھوٹ سے بھی زیادہ سنگین اورگمراہ کن ہوتاہے، حامدمیر ہمیشہ آیت کے دوسرے حصہ کو انگھوٹے سے چھپاکرلوگوں کو گمراہ کرنے والا کام کرتے ہیں اور اپنی بیجا نفرت وتعصب کی بناء پر ہمیشہ جناب الطاف حسین کو پاکستان دشمن ثابت کرنے کی انتہائی گھناؤنی کو شش کرتے ہیں جو انتہائی افسوسنا ک بلکہ قابل مذمت عمل ہے ۔ اسی طرح کا متعصبانہ طرز عمل لوگوں کو باغی بناتاہے۔دراصل متعصبانہ اور شاؤنسٹ ذہنیت نے محب وطن بنگالیوں کو بھی غدار ی کے سرٹیفیکٹ دے کر انہیں دیوار سے لگایا اور ان میں بغاوت کے بیج بوئے جس کا نتیجہ 1971ء میں ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں سامنے آیا مگر افسوس کہ حامد میر اور ان جیسے لوگوں نے سانحہ مشرقی پاکستان سے آج تک کوئی سبق نہیں سیکھا اور وہ آج بھی اسی روش پر چلتے ہوئے غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہیں ۔ یقیناایسے لوگوں کو وطن کی قدر نہیں ہوسکتی ۔ وطن کی قدر انہی کو ہوتی ہے جنہوں نے وطن کے حصول کیلئے جدوجہد کی ہو، قربانیاں دی ہوں جنہوں نے آگ اور خون کے دریا عبور کئے ہوں ،مگر جنہوں نے صبح اٹھ کر ریڈیو پر پاکستان کی آزادی کا محض اعلان سنا ہو انہیں پاکستان کی قدر کیسے ہوسکتی ہے ۔محنت ومشقت سے حاصل ہونیوالی کمائی اور سڑک پر چلتے ہوئے ملنے والے پیسوں کی قدرمیں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔
حامد میر نے خود کو جمہوریت پسند ظاہر کرنے کے لئے فوجی آمروں پر تبریٰ بھیجتے ہوئے صرف جنرل ایوب خان ، جنر ل یحییٰ خان اور جنرل پرویز مشرف کا ذکر کیا ہے ۔ لیکن جنرل ضیاء الحق کے دور کا ذکر کرنا تو دور کی بات ہے جنرل ضیاء الحق کانام تک نہیں لیا۔ نجانے حامد میر کا جنر ل ضیاء الحق سے کیا رشتہ ہے کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی شان میں گستاخی کرنے کی جسارت نہیں کی ۔ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق وہ فوجی آمر تھا جس نے 1977ء میں پاکستان پر مارشل لاء نافذ کیا اس وقت کی پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا ، اسمبلیوں کو برطرف کیا اورپیپلز پارٹی کے بانی اور اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی، دی پورے ملک خصوصاً سندھ میں ظلم کے پہاڑ توڑے۔ جنرل ضیاء الحق کا دور پاکستان کا ایسا بدترین اورسیاہ ترین دورتھا کہ جس دور آمریت میں پاکستانی جسم پر جو گھاؤ لگے وہ آج تک نہ بھر سکے اور ان سے آج تک خون بہہ رہا ہے ۔ پاکستان میں کلا شنکوف کلچر ،اسلحہ ،ہیروئن کی لعنت اسی دور آمریت کا تحفہ ہیں۔ پاکستان میں لشکر جھنگوی ،سپاہ صحابہ اورسپاہ محمد ، اور شیعہ سنی فساد اسی جنرل ضیاء کی مارشل لا کی پید وار ہیں ۔ متعصب اور شاؤ نسٹ عناصر جنرل پرویز مشرف پر اٹھتے بیٹھتے تبریٰ بھیجتے ہیں اور ان پر پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں جھونکنے کا الزام لگا تے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ جنرل ضیاء الحق ہی تھا کہ جس کے دور آمریت میں پاکستان کوافغانستان میں سویت یونین کے خلاف امریکہ کی جنگ میں دھکیلا گیا ، امریکہ کی جنگ کیلئے پاکستان بھر میں جہادی تنظیمیں تشکیل دی گئیں ، جہادی مدرسے اورٹریننگ کیمپس قائم کئے گئے جہاں پاکستان کے سادہ لوح نوجوانوں کی برین واشنگ کی گئی اور انہیں تربیت دے کر جہاد کے نام پر افغانستان بھیجا گیا اور ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو امریکی مفادات کی جنگ کا ا یند ھن بنایا گیا ، پورے پاکستان کو امریکی سی آئی اے کے گھر کا آنگن بنا دیا گیا ۔ افغانستان ،عرب ، افریقہ اور ایشیاء کے مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو امریکہ کی اس جنگ کا حصہ بنانے کیلئے پاکستان لایا گیا اور اسلام کے نام پر امریکہ کی جنگ میں جھونکا گیا ۔ان تمام ’’ خدمات ‘‘ کے عوض امریکہ سے بوریا ں بھر بھر کے ڈالر وصول کئے گئے اور یوں ڈالر وں کے عوض پاکستان کی آزادی ،خود مختاری ، عزت اورحرمت کا سودا کیا گیا مگر بے شرمی کی انتہا یہ کہ پھر بھی’’ مر د مومن، مرد حق ۔۔۔ضیاء الحق‘‘ کے دیوانہ وار نعرے لگائے گئے ۔ ایم کیوایم اور الطاف حسین نے اس وقت بھی اس نام نہاد جہاد کی مخالفت کی اور اس کے بعد بھی ہر دور میں طالبان اور طالبائز یشن کے خلاف کھل کر آواز بلند کی خواہ وہ بے نظیر کا دور ہو یا میاں نواز شریف کا ، جنرل پرویز مشرف کا دور ہو یا صدر زرداری کا ۔ ایم کیوایم ہی وہ واحد جماعت اور الطاف حسین ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو اس فتنہ کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے بلکہ قوم کو اس خطر ے سے مسلسل آگا ہ کرتے رہے جبکہ حامد میر اور ان جیسے لوگ نہ صرف طالبان اور طالبائزیشن کی حمایت میں صفحے کے صفحے کالے کرتے رہے بلکہ ایم کیوایم اور الطاف حسین کو معطون کرتے رہے اور قوم کو گمراہ کرتے رہے۔ طالبان کا سربراہ ملا عمر ہو یا القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن ہوان تک ایم کیوایم اور الطاف حسین کی پہنچ تو نہ تھی البتہ ان شخصیات تک پہاڑوں ،غاروں اور تمام خفیہ مقامات پر حامد میر کی رسائی ضرور تھی اور یقیناًیہ تعلق خا ص کے بغیر قطعاًممکن نہیں ۔مجھے یہ پڑھ کر حیر ت ہوئی کہ حامد میر نے جنرل پرویز مشرف کو اپنی عصبیت کانشانہ بناتے ہوئے طالبان کے قیام کی تہمت بھی جنر ل مشرف کے سر پر ڈال دی جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ طالبان بے نظیر کے دوسرے دور حکومت (1993-96 ء)میں وجود میںآئے ۔ اس وقت کا وفاقی وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر بڑے فخر یہ انداز میں کہتا تھا کہ’’ طالبان میرے بچے ہیں ‘‘یقیناًاس وقت بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ کا شوق در اندازی زوروں پر تھا اور افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی دھن میں ہم نے اکوڑہ خٹک کے مدرسوں میں زیر تعلیم ان طلبہ کو مسلح جہاد کے زیور اور اسلحہ سے لیس کرکے افغانستان بھیجا جوتا تاری لشکر کی طرح افغان شہر وں کو تاراج کرتے ہوئے افغان دارالحکومت کابل تک پہنچے اور جنہوں نے ہماری آشیر باد سے 1996ء میں برہان الدین ربانی کی حکومت کاخاتمہ کر کے وہاں اپنا قبضہ کر لیا ۔ یوں جنرل ضیاء الحق کے دور میں بویا ہوا بیج 1996ء میں ایسا تناور درخت بن گیا کہ اس کی منحوس جڑیں آج کابل سے کراچی تک پھیل گئی ہیں اور جن کا زہر یلا پھل آج پوری پاکستانی قوم کھانے پر مجبو ر ہے ۔ جنرل ضیاء الحق کے ددر میں پید ا کیا جانے والامرض آج کینسر بن کر پاکستان کے پورے بدن میں پھیل چکا ہے اور قوم تل تل مر رہی ہے مگر کچھ لوگوں کے دلوں پر مہریں اور سماعت و بصارت پر آج بھی تالے پڑے ہیں ، مگر نفر ت ،تعصب اور شاؤ نزم ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا بلکہ کسی زہر یلے چشمے کی طرح مسلسل رواں ہے ۔
حامد میر نے اپنے مذکورہ کالم میں ایم کیوایم اور قائد تحریک الطاف حسین کو فوج کے حبیب اور ایک آمریت پسند سوچ رکھنے والا رہنماء قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ ایم کیوایم اپنے قیام کے روز اول سے ہی فوج ،اسٹیبلشمنٹ اور سرکاری ایجنسیوں کے زیر عتاب رہی۔ قائد تحریک الطاف حسین نے جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت میں تین مرتبہ گرفتاریاں،قید وبند کی صعوبتیں اور سمری ملٹر ی کورٹ سے سزائیں بھگتیں مگردوسروں کی طرح معافی مانگ کرباہرنہیں آئے بلکہ اپنی سزا پوری کی۔1991ء میں جب اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور سرکاری ایجنسیوں نے ایم کیوایم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشیں کی اس وقت واحد ایم کیوایم ہی تھی جس نے پارلیمنٹ کے ایوانوں او رہر فورم پر کھل کر فوج اور سرکاری ایجنسیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی کھل کر مخالفت کی تو اس وقت کیا مسلم لیگ ، کیا پیپلز پارٹی ،کیا اے این پی ،کیا جماعت اسلامی، کیا نام نہاد جمہوریت پسند سیاستداں، کیا قلم فروش صحافی سب نے ایم کیوایم کو الزامات کے پتھروں سے سنگسار کرنا شروع کردیا ، پورا ملک ایم کیوایم پر چڑھ دوڑ ا کہ ایم کیوایم ملک کے مقدس اداروں کی کردار کشی کر رہی ہے اس وقت ایک طرف تن تنہا ایم کیوایم تھی اور دوسری طرف تمام نام نہاد ’’جمہوریت پسند‘‘سیاسی ومذہبی جماعتیں اورحامدمیر جیسے لکھاری ۔مہاجروں پر فوج کشی کی گئی ،مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، ایم کیوایم کے ہزاروں معصوم وبے گناہ کارکنان گرفتار کر کر کے انسانیت سوزتشددکانشانہ بنانے کے بعد بیدردی سے ماورائے عدالت قتل کردیے گئے مگر سارے نام نہاد جمہوریت پسند اس ریاستی ظلم و بربر یت کے حامی ومدد گا ربنے رہے ۔ حکومتیں بدلتی گئیں مگر یہ روش نہ بدلی ۔برسوں تک اس سول اور فوجی آمریت کاسامنا کسی اور نے نہیں بلکہ تن تنہا ایم کیوایم نے کیا ۔1998ء میں جب میاں نوازشریف نے سندھ میں گورنرراج نافذ کیااورفوجی عدالتیں قائم کیں تواس وقت ایم کیوایم اورالطاف حسین ہی تھے جنہوں نے اس غیرآئینی اورغیرجمہوری اقدام کے خلاف آئینی وقانونی جنگ لڑی۔ اس وقت آئین،قانون اورجمہوریت کے تمام نام نہادعلمبرداروں پر سناٹاطاری تھا۔وہ تمام حضرات جو آج جناب الطاف حسین پر اپنی نفرت کے تیرو نشتر چلا رہے ہیں اور جمہوریت کے چیمپئن بن رہے ہیں ان میں سے زیادہ ترتوخودجنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی پیداوارہیں۔جنرل ضیاء کے مارشل لاء دورمیں جب جناب الطاف حسین سمری ملٹری کورٹ سے ناکردہ گناہوں کی سزائیں بھگت رہے تھے اس وقت جمہوریت کے نام نہاد چیمپئن جنرل ضیا ء کی فوجی کابینہ میں وزارتوں کے مزے لوٹ رہے تھے مگرآج وہ جمہوریت کے چیمپئن بنکر قوم کو جمہوریت کے نام پر گمراہ کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ یہ بھی عجب مذاق ہے کہ ملک کوبچانے کیلئے پاکستانی فوج کوپکارنے پر جناب الطاف حسین کو تو آئین سے انحراف کا مرتکب قراردیکرانکے خلاف آرٹیکل 6کے تحت غداری کامقدمہ قائم کرنے کی بات کی جارہی ہے، مگرجوطالبان پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کو ہی سرے سے نہیں مانتے ان سے مذاکرات کئے جارہے ہیں۔لا ل مسجدکے مولاناعبدالعزیز جوفرماتے ہیں ’’پاکستان کاآئین کفرکاآئین ہے، ہم اس کفرکے نظام کونہیں مانتے‘‘ ان مولانا عبدالعزیزکے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں اور انہیں بھرپور سرکاری سیکوریٹی فراہم کی جاتی ہے اور حامدمیرانہیں اپنے پروگرام میں بٹھاکران کاوعظ سنتے ہیں۔اسی طرح ایک بلوچ رہنمانیٹوافواج کوبلوچستان ٹیک اوورکرنے کی دعوت دیتاہے مگرحب الوطنی کے تمام ٹھیکیداروں کوسانپ سونگھ جاتاہے۔جناب الطاف حسین ملک بچانے کی خاطرپاک فوج سے مددمانگیں توحامدمیر اورانکے قبیلے کی نظرمیں سزاوارٹھہریں مگر طالبان کاترجمان شاہداللہ شاہدجوکھلے عام کہتاہے کہ ہماری جنگ پاکستانی فوج سے ہے، وہ حامدمیر اوران کے قبیلے کی آنکھ کاتاراہے اوروہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں ، افسروں اورہزاروں جوانوں اور معصوم پاکستانیوں کے قاتل شاہداللہ شاہداورملافضل اللہ کانام بھی نہایت عزت و احترام سے لیتے ہیں اوران سفاک لوگوں کو اپنے پروگراموں میں’’شاہداللہ شاہدصاحب‘‘ اور ’’ فضل اللہ صاحب ‘‘ کہہ کرمخاطب کرتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین پر بیجاتنقید کرنے والے ان حالات پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں جن کی وجہ سے جناب الطاف حسین نے فوج کو مخاطب کیا ۔ طالبان نے پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ رکھی ہے ،وہ ریاست کی رٹ کومسلسل چیلنج کررہے ہیں،وہ آرمی ، نیوی ،ائیر فورس کے ہیڈ کوارٹر ز اوردفاعی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں ،مسلح افواج کے اثاثوں کو تباہ کر رہے ہیں ، ان دہشت گردوں نے جی ایچ کیو تک پر حملہ کیااور پورے ملک میں مساجد ،امام بارگاہوں ، بزرگان دین کے مزارات ، بازاروں میں خود کش حملے کر کے ہزاروں فوجیوں ، پولیس والوں اور معصوم شہریوں کو شہید کیا،ایف سی کے اہلکاروں کے سرتن سے جداکئے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کارروائی کی جاتی لیکن حامد میر اور ان جیسے عناصر نے طالبان سے مذکرات کی دہائیاں دیں ،اے پی سی میں تمام جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کی رائے دی جس پر ایم کیوایم نے بھی امن کی خاطر اس کا ساتھ دیا ۔لیکن طالبان نے اس کاجواب اس طرح دیا کہ اسے ریاست کی کمزوری سمجھتے ہوئے اپنے حملے شدید کر دیئے ،حتیٰ کہ فوج کے جنرل ثنااللہ نیازی تک کو شہید کردیا ، طالبان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ یہی نہیں بلکہ اپنے وڈیوپیغام میں پاکستان کے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی کوبھی قتل کرنے کی دھمکی دی ۔ایک طرف طالبان دہشت گردریاست کی رٹ کواپنے پیروں تلے روند رہے ہوں،پولیس ، فوج ،ایف سی ، رینجرز پر مسلسل خود کش حملے اور دھماکے کررہے ہوں ، تھانوں ،پولیس چوکیوں ،رینجرز ہیڈ کوارٹر ، ٹی وی چینلز کے دفاتر کو بموں سے اڑارہے ہوں ، صحافیوں کو شہید کر رہے ہوں ، صحافیوں اینکر ز کی ہٹ لسٹ جاری کر کے انہیں قتل کی کھلی دھمکیاں دے رہے ہوں، ایف سی کے جوانواں کو بیدردی اور سفاکیت سے ذبح کر کے انکے سرقلم کر کے ان کی سربریدہ لاشوں کو سڑک پر گھسیٹ رہے ہوں ، انکے سروں سے فٹبال کھیل رہے ہوں حکومت پھر بھی ان انسانیت دشمن طالبان کے خلاف کارروائی کے بجائے ان سے مذاکرات کے اعلانات کر رہی ہو اور طالبان کے پیر وں میں گر کران سے امن کی بھیک مانگ رہی ہو ۔ پورے ملک میں خوف ودہشت کا ماحول ہو،طالبان ہر طرف فوجیوں ،پولیس والوں او رشہریوں کا خون بہارہے ہوں اور حکومت ’’ پالیسی پالیسی ‘‘ کھیل رہی ہو تو عوام کہاں جائیں؟ کس سے فریاد کریں؟ عوام اور فوجیوں میں اس وقت کیا جذبات پائے جاتے ہیں حامد میر کوتو اس کاخوب انداز ہ ہونا چاہئے اور اس کا مظاہرہ وہ خود دیکھ چکے ہیں جب وہ وزیر اعظم نواز شریف ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیر دفاع ،خواجہ آصف کے ساتھ راولپنڈی کے ایک سرکاری اسپتال گئے تھے اور خود کش دھماکے کے زخمی شدیدغصہ میں وزیر دفاع خواجہ آصف پر لپکے تھے ، ایک زخمی فوجی نے وزیر اعظم سے کس قدر سخت لہجے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا ۔طالبان کے مسلسل خونی حملوں،دھماکوں،دہشت گردی کی وارداتوں اوراس پرحکومت کی مصلحت پسندانہ خاموشی کے باعث جب پورے ملک میں خوف اور جبروگٹھن کاایساماحول پیدا ہوگیا اور حکومت، اپوزیشن ، سیاسی ومذہبی جماعتیں ، میڈیاکوئی بھی طالبان کی دہشت گردی کے خلا ف ایک لفظ تک کہنے کیلئے تیارنہیں تھاتوخوف ودہشت اورجبروگھٹن کے ایسے ماحول میں بھی اگرکوئی خطرات مول لیتے ہوئے میدان میں آیاتووہی الطاف حسین جسے حامدمیراوران کے قبیلے نے قابل نفرت جانااورالزامات لگائے مگراس نے ان الزامات کی پرواہ نہ کی اور 23فروری کوکراچی میں مسلح افواج، ایف سی ، رینجرز،پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے اظہاریکجہتی کیلئے ایک عظیم الشان ریلی نکالی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکے طالبان دہشت گردوں کو پیغام دیاکہ قوم ان کی دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج کے ساتھ ہے ۔ اس ریلی نے خوف ودہشت کے پرسکوت ماحول میں پہلا پتھر پھینکا اور دیگرلوگوں کوہمت دی۔
الطاف حسین پرالزامات لگانے والے اپنی نفرت کے نشے میں مدہوش ہیں مگرپاکستان کے بارے میں سوچنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔آج ملک کی صورت حال یہ ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے، وہ تقریباً ہاتھ سے نکل چکا ہے ، قبائلی علاقوں میں طالبان کی امارت یعنی ریاست قائم ہوچکی ہے اور اب ان کی عملداری قبائلی علاقوں سے نکل کر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی کے ایک تہائی علاقوں تک قائم ہو چکی ہے، دیہی سندھ میں علیحدگی پسند زور پکڑ رہے ہیں، خود وزارت داخلہ کی رپور ٹ کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد خطرناک ترین شہر بن چکا ہے ۔ پنجاب کونسا محفوظ ہے، وہاں دہشت گردی کا خطرہ اسقدر ہے کہ لاہور میں عین وقت پر وزیر اعظم کو قومی پر چم کی یادگاری تقریب ملتوی کرنا پڑی ،پھر رہ کیا جاتا ہے؟یہ ساری صورتحال آخر کس جانب اشارہ کر تی ہے ؟ دوسری جانب امریکہ اورسوویت یونین کے مابین برسوں تک ہونے والی سردجنگ کی طرزپرہمارے ’’ برادر اسلامی ‘‘ملکوں کی سردجنگ بھی اس وقت پشاور سے کراچی تک پھیل چکی ہے ،فرقہ وارانہ قتل اور ایرانی قونصلیٹ پر حملے بھی اسی کی کڑیاں ہیں۔یہ سب کیا ہے ؟واشنگٹن کے ایوانوں میں بلوچستان کی آزاد ی اور پاکستان توڑنے کے منصوبوں پر کھلے عام بحث ہورہی ہے، کیا ہمارا ملک ،ہماری ریاست خطرے میں نہیں ؟ ایسے میں کیا ہم آئین کی کتاب اور جمہوریت کے نام پر حکومت کو بچائیں یا ملک کو ؟ ملک بچے گا تو حکومتیں بھی بنتی رہیں گی اور آئین بھی۔ لیکن اگر خدانخواستہ ملک ہی نہیں بچے گا تو حکومت کہاں بنائیں گے ؟جمہوریت کیا خلاؤں میں رائج کریں گے ؟آئین کیا فضاؤں میں نافذ کریں گے ؟ نظام خواہ جمہوری ہو ، تھیوکریٹک ہو، سوشل ازم ہو یا کمیونزم یا کوئی بھی نظام ہو ملک ہے تو نظام ہے ،ملک نہ ہو تونہ کسی نظام کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی کسی آئین کی ۔ہمارا ملک پاکستان تو اس تجربہ سے بھی گزر چکا ہے ۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان اگرچہ 1947ء میں قائم ہوا لیکن 9سال تک پاکستان میں کوئی آئین نہیں تھا، پاکستان کا پہلا آئین 1956ء میں تشکیل پایا ۔ 9سال تک پاکستان بغیر آئین کے چلتا رہا ۔گو یا کوئی بھی ملک بغیر آئین کے تو زندہ رہ سکتا ہے مگر ملک کے بغیر کوئی بھی آئین بے معنی ہے خواہ وہ کتناہی اچھا کیوں نہ ہو ۔ملک سے آئین ہوا کرتا ہے آئین سے ملک نہیں ہوا کرتا ۔ملک صرف آئین سے نہیں بچا کرتے، ملک اسی صورت میں بچا کرتے ہیں جب اندر سے بھی مضبوط ہوں ، ملک میں بسنے والے عوام کو ان کے تمام حقوق میسر ہوں ۔ 1970ء میں بھی پاکستان میں لولا لنگڑا جیسا بھی تھا آئین موجود تھا جس کے تحت70ء کے عام انتخابات ہوئے مگر وہ آئین 1971ء میں پاکستان کو ٹوٹنے سے نہ بچا سکا ۔پاکستان آئین کی وجہ سے نہیں بلکہ مشرقی پاکستان کے محروم بنگالی عوام کو ان کا حق نہ دینے اور ریاست کی رٹ ختم ہونے کی وجہ سے ٹوٹا ۔قارئین کرام کو معلوم ہو کہ برطانیہ جس نے آدھی سے زیادہ دنیا پر حکمرانی کی وہاں اگرچہ پارلیمانی طر ز جمہوریت ہے لیکن وہاں کوئی باقاعدہ تحریری آئین نہیں ہے پھر بھی برطانیہ قائم اورمضبوط ہے اسلئے کہ ریاست کی رٹ پورے ملک پر قائم ہے اور عوام کو ان کے حقوق میسر ہیں ۔گویا ملک بغیر آئین کے بھی چلا ئے جاسکتے ہیں ۔آج جو لوگ جمہوریت او رآئین کی دہائیاں دے رہے ہیں ان سب نے اپنے اپنے دور حکومت میں ایسے ایسے غیر جمہوری اور غیر آئینی کام کئے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ کیا بھٹونے1974ء میں بلوچستان کی حکومت برطر ف کر کے وہاں گورنر راج نافذ نہیں کیا ؟کیا نواز شریف نے 1998ء میں سندھ کی حکومت او راسمبلیاں معطل کر کے وہاں گورنر راج نافذ نہیں کیا؟ وہاں فوجی عدالتیں قائم نہیں کیں جنہیں سپریم کورٹ نے بعدمیں غیر آئینی قرار دیدیاتھا؟کیاپیپلز پارٹی نے اپنے پچھلے دور حکومت میں 2012ء میں پنجاب میں گورنر راج نافذ نہیں کیا ؟ کیا یہ سارے اقدامات جمہوری اور آئینی تھے ؟شہری حکومتیں یا بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری قراردیئے جاتے ہیں مگر جمہوریت کے ان نام نہاد علمبرداروں نے جمہوریت کی اس نرسری پربرسوں سے تالے کیوں ڈالے ہوئے ہیں ؟دراصل انہیں جمہوریت نہیں حکومت کی فکر ہے ، اپنے دھندوں کی فکر ہے ،انہیں ملک اور ریاست کی کوئی فکر نہیں ۔
آخری بات ۔۔۔ہمارے اکثر دانشور اور قلمکار اپنے تبصروں اور تجزیوں میں ملک کی بدحالی کا رونا روتے ہوئے پاکستان کی بہتری اورترقی کیلئے جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتا تر ک کے پیدا ہونے کی دعائیں مانگتے ہیں، حضور والا ! کمال اتاترک کسی سیاسی جماعت کارہنما نہیں بلکہ سلطنت عثمانیہ کی فوج کا جرنیل تھا جس نے نہ صرف ملک کو بیرونی حملہ آور وں سے بچایا بلکہ صدیوں تک نسل درنسل حکمرانی کرنے والے عثمانی خاندان کی بادشاہت سے ترکی کونجات دلا کر اسے ترقی کی راہ پر ڈال دیا ۔ ملک کی ترقی عزیز ہے تو پھر یہ شر ط کیوں کہ و ہ مصطفی کمال اتاترک کس شعبہ یا صوبے سے ہو ؟ حضور والا !ترکی کے دور ے کرلینے اور ترکی کے وزیر اعظم کو پاکستان کے دورے کرالینے سے پاکستان ترکی نہیں بن جائے گا ،پاکستان کو ترکی بنانا ہے توکسی کمال اتاترک کو قبول کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہونا ہوگاخواہ ہو کسی شکل میں بھی ہو اورکسی بھی صوبہ سے ہو ۔